1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہمارا فخر ہماری اردو

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏4 اگست 2016۔

  1. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,568
    ملک کا جھنڈا:
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:
    زبانیں باہم ابلاغ کا زریعہ ہوتی ہیں ، اور اپنی زبان سے ابلاغ کا سب سے موئثر زریعہ ہے ۔ ۔ ۔
     
    پاکستانی55 اور حنا شیخ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,568
    ملک کا جھنڈا:
    جی درست فرمایا آپ نے ،،، ہمارا بھی یہ خیال ہے ۔۔ اپنے ملک کی زبان سب سے اعلی زبان ہے ، اور اردو ایسی زبان ہے جو اپنے ملک کے ہر خطہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔۔ اور ہمسایہ ملک میں بھی اسکو اچھا درجہ حاصل ہے ۔۔۔
     
    آصف احمد بھٹی، نظام الدین اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,049
    ملک کا جھنڈا:
    خود دار اور با وقار قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی زبان کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں۔ اس کی قدر کرتی ہیں اور ان پر فخر کرتی ہیں۔ دنیا میں جن اقوام نے ترقی کے مدارج تیزی سے طے کئے ہیں۔ سبھی نے ہمیشہ اپنی ثقافت اور قومی زبان کو فوقیت دی ہے۔
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,049
    ملک کا جھنڈا:
    ایک لطیفہ بھی پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ یہ صرف بطور مزاح ہے۔

    پرانے زمانے کے ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور ان کی اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت تھی کہ جب بھی بات کرنی ہو تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب المثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔
    ایک بار دوران تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رہے تھے۔ انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جاپڑی۔
    ایک شاگرد اجازت لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا:
    ’’حضور والا! یہ بندۂ ناچیز حقیر فقیر، پرتقصیر ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کررہا ہے۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقِ حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔ چند ثانیے قبل ایک شرارتی آتشی پتنگا آپ کی چلم سے بلند ہوکر چند لمحے ہوا میں ساکت رہا اور پھر آپ کی دستار فضیلت پر براجمان ہوگیا۔ اگر اس فتنہ کی بروقت اور فی الفور سرکوبی نہ کی گئی تو حضور والا کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔‘‘
     
    آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,028
    ملک کا جھنڈا:

    ترسیل ابلاغ کی حد تک تو میں آپ سے بلکل متفق ہوں ، اردو زبان بلا شبہ بہت گہرائی اور گیرائی لیے ہوئے ہیں ، پوری دُنیا اور خصوصا ہند و پاک کے ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر یاد رہے کہ ایک بری تعداد میں لوگ موجود ہیں کہ جو اردو کو بحیثیت قومی زبان کے رواج اور رائج ہونے کے سخت خلاف ہیں ، اسی سبب آج تک ہمارے ملک کی سرکاری زبان انگریزی ہے ۔ ۔ ۔ بنگلہ دیش کے قیام میں بھی بنیادی اختلاف یہی تھا ، ہمارے بنگالی بھائی اردو کی بالا دستی قبول کرنے کو تیار نہ تھے ، اور پھر وہاں سیاسی غلطیاں بھی کی گئی ۔ ۔ ۔ اسی طرح سندھ کی کم و بیش تمام قوم پرست جماعتیں آج بھی اردو کو بحیثیت قومی زبان کے رائج کرنے کے خلاف ہیں ۔ ۔ ۔
     
    حنا شیخ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں