1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,155
    موصول پسندیدگیاں:
    236
    ملک کا جھنڈا:
    ہر مشکل آسان بنانے والا تھا
    میں پتھر کے پان بنانے والا تھا
    خوابوں کی تاویل سمجھ سے باہر تھی
    جب میں پاکستان بنانے والا تھا
    میری موت نے رستہ روکا ورنہ میں
    لیّہ کو یونان بنانے والا تھا
    حق باہو، حق باہو کہہ کر ایک فقیر
    باہو کو سلطان بنانے والا تھا
    مجھ ایسا بہلول کہاں سے لاؤ گے
    نار سے جو ناران بنانے والا تھا
    شہزادی نے جس کی خاطر زہر پیا
    اک دیہاتی، نان بنانے والا تھا
    آپ نے میرا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو
    میں خود کو شیطان بنانے والا تھا
    دروازوں کی شاکھ بچانے کی خاطر
    دیواروں کے کان بنانے والا تھا
    آپ کی اک اک بات غزل میں ڈھال کے میں
    آن کی آن میں تان بنانے والا تھا
    افتخار فلک​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں