1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہان سلسلۂ شاہی کی حیران کن ایجادات

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏26 ستمبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,402
    موصول پسندیدگیاں:
    188
    ملک کا جھنڈا:
    ہان سلسلۂ شاہی کی حیران کن ایجادات
    [​IMG]
    محمد شاہد

    لیو بانگ نامی ایک عام شخص 206 قبل مسیح میں چین میں ہان شاہی سلسلے کا پہلا بادشاہ بنا۔ اس کے بعد 400 برس سے زیادہ عرصے پر محیط ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جس میں ہر میدان میں ترقی ہوئی، اس میں ریکارڈ ترتیب دینے سے لے کر زراعت اور صحت تمام شامل ہیں۔ مونٹریال (کینیڈا) میں واقع میک گِل یونیورسٹی میں تاریخ اور کلاسیکل سٹڈیز کے پروفیسر رابن ڈی ایس یاٹس کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ایجادات ہوئیں اور اضافے ہوئے، البتہ ان تمام میں سے کچھ دوسرے علاقوں میں نئے سرے سے ایجاد ہوئیں۔ بعض اوقات بہت دیر بعد ایسا ہوا۔ ذیل میں ہان بادشاہتوں کے دور میں ہونے والی چند ایسی ایجادات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کاغذ کی ایجاد ابتدائی کاغذ کے ٹکڑے آج تک موجود ہیں۔ یہ خام مواد، جس میں زیادہ تر سن (ہیمپ) کے دھاگے شامل تھے، سے بنایا جاتا تھا۔ 1957ء میں چین کے ایک مقبرے سے یہ ابتدائی کاغذ ملے ہیں جو 140 سے 87 قبل مسیح کے ہیں۔ معیاری کاغذ کا موجد ہان سلسلۂ شاہی کے دربار میں 105ء میں کام کرنے والے خواجہ سرا کائی لون کو مانا جاتا ہے۔ لی شن نے اپنی کتاب ’’چن اور ہان سلسلۂ شاہی کی تاریخ سائنس و ٹیکنالوجی‘‘ میں بتایا ہے کہ اس نے ان کاغذوں کو درختوں کی کھال، سن، ململ کے ٹکڑوں اور بچے کچھے مچھلیوں کے جالوں کو کچل کر اور ملا کر ایک مرکب سے بنایا جسے اس مقصد کے لیے لائی (lye) کی مدد سے نفیس دھاگوں کی صورت دی جاتی۔ پروفیسر یاٹس کے مطابق ’’انتظامی دستاویزات کئی صدیوں تک لکڑی کے تختوں اور بانس کے ٹکڑوں پر لکھی جاتی رہیں، شاید اس طرح وہ زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔‘‘ معلق پل چینی ایجادات کی تاریخ پر رابرٹ ٹیمپل کی معتبر کتاب کے مطابق ہان سلسلۂ شاہی میں معلق پلوں کا آغاز ہوا، یہ ایک ایسی گزرگاہ ہوتی جسے لٹکانے کے لیے رسیوں کی مدد لی جاتی۔ 90ء تک ہان انجینئرز عمدہ معلق پُلیں تعمیر کرنے لگے تھے جن میں لکڑی کے تختوں کے ذریعے راستہ بنایا جاتا تھا۔ گہری کھدائی پہلی صدی قبل مسیح میں ہان سلسلۂ شاہی میں نمک کے کان کنوں نے ایسے آلات ایجاد کیے جن کی مدد سے وہ زمین کے اندر 4800 فٹ گہرائی تک کھدائی اور سوراخ کرنے کے قابل ہوئے۔ وہ آب شور (برائن) کی تلاش میں ایسا کرتے، وہ اسے نالیوں کی مدد سے نکالتے۔ انہوں نے جو تکنیک استعمال کی وہ بعد ازاں تیل اور گیس کی تلاش میں کام آئی۔ ہتھ ریڑھی ایم جے ٹی لوئس کے جریدہ ’’ٹیکنالوجی اینڈ کلچر‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق ہتھ ریڑھی چین میں غالباً 100قبل مسیح میں ایجاد ہوئی۔ جھکڑ بھٹی چینی ٹیکنالوجی کی تاریخ کے ماہر ڈونلڈ بی واگنر کے مطابق ہان سلسلہ شاہی کے آغاز ہی میں چینی دھات کاروں نے پہلی جھکڑ بھٹی (بلاسٹ فرنس) بنا لی جس کی مدد سے لوہا بنایا جاتا تھا۔ زلزلہ پیما اولین سائنس دانوں میں شمار ہونے والے زینگ ہینگ نے فلکیات سے لے کر گھڑی بنانے تک مختلف شعبوں میں تجربات کیے۔ البتہ اس کی وجۂ شہرت ایک ایسے آلے کی ایجاد ہے جس کی مدد سے دور کے زلزلوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ اس نے یہ آلہ 132ء میں ہان دربار میں پیش کیا۔ اس کا ڈیزائن سادہ ہے اور ایک صراحی میں پینڈولم نصب کیا گیا ہے۔ جب ارتعاش پیدا ہوتا ہے تو دھات کے بنے ڈریگن کے منہ سے گیند دھاتی کے بنے مینڈک میں گر پڑتی ہے جس سے اونچی آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب پہلی مرتبہ ایسا ہوا تو دربار میں کسی کو کچھ محسوس نہ ہوا، چند دن بعد 400 میل دور گاؤں سے ایک پیغام رساں آیا اور بادشاہ کو اطلاع دی کہ اس کے علاقے میں زلزلہ آیا ہے۔ مطابقت پذیر رینچ پہلی صدی قبل مسیح میں چینی کم و بیش ویسا آلہ استعمال کرتے تھے جیسا آج کل پلمبر کرتے ہیں جس میں ایک طرف موجود چاپ کش یا کیلیپر سے مطابقت پیدا کی جاتی ہے۔ ابتدا میں بظاہر رینچ جیسے آلے کو پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا پھر انہیں ڈھیلے پیچ وغیرہ کسنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ ہل کا پھل رابرٹ گرین برگر کی کتاب ’’دی ٹیکنالوجی آف اینشی اینٹ چائنا‘‘ کے مطابق چینی چھٹی صدی قبل مسیح میں کاشت کاری کے مقصد کے تحت لوہے کے پھل استعمال کرتے تھے۔ چند سو برس بعد ذہین ہان موجدوں نے ہل کا خاص پھل (moldboard ) ’’کوان‘‘ ایجاد کیا۔ اس تیز دھار آلے کو ایسا بنایا گیا تھا کہ اس سے زمین کی رگڑ کم ہو جاتی اور ہل چلانا سہل ہو جاتا۔ اس آلے کی مدد سے چینیوں کو کاشت کاری میں آسانی ہوئی۔ رکاب قدیم دور میں گھڑ سوار اپنی ٹانگوں کو لٹکائے رکھتے تھے۔ اس سے توازن قائم کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اس کا آسان حل ہان سلسلۂ شاہی کے موجدوں نے نکالا۔ انہوں نے لوہے یا تانبے کا ایک آلہ پاؤں رکھنے کے لیے بنایا جسے رکاب کہتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی ایجاد تھی جو آئندہ صدیوں میں پورے ایشیا اور یورپ میں پھیل گئی۔ بحری جہاز چلانے اور رخ بدلنے والا پتوار چینی ٹیکنالوجی کے تاریخ دان یونگ زیانگ لو کے مطابق بحری جہاز چلانے اور رخ بدلنے والا پتوار (rudder )چینیوں نے پہلی صدی عیسوی میں ایجاد کیا۔ اس کے بعد بحری جہازوں کا رخ بدلنے کے لیے چپو کی ضرورت باقی نہ رہی اور یہ کام بہت آسان ہو گیا۔ یہ ایجاد ایک ہزار برس بعد مغرب پہنچی۔ اسی کی مدد سے کرسٹوفر کولمبس اور دوسرے مہم جُو سمندروں میں دور تک سفر کرنے کے قابل ہوئے۔ ۔۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں