1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گڑیا آج بھی اندھی ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از لاحاصل, ‏22 ستمبر 2006۔

  1. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    تمہیں سوچا ہے سپنوں میں
    چھڑا لو ہاتھ تو جانیں
    تمہیں باندھا ہے سانسوں مین
    تمہیں پاتی ہوں ساتھ اپنے
    جہاں سے بھی گزرتی ہوں
    میں خوشبو کی طرح پل پل
    تمیں محسوس کرتی ہوں
    تم میرے دل کے اندر ہو
    وہ وادی جس جگہ تم ہو
    تمہارا اب جدا ہونا تمہارے بس سے باہر ہے
    ادھر دنیا ادھر تم ہو
    ادھر سب کچھ ادھر دل ہے
    مجھے دنیا سے لینا کیا ادھر میں ہوں جدھر تم ہو
    میرے احساس میں تم ہو
    میرے چاروں طرف تم ہو
    میں خوشبو کی طرح پل پل تمیں محسوس کرتی ہوں
    تمہیں رکھا ہے پلکوں میں‌
    تمہیں سوچا ہے سپنوں میں
     
  2. شیرافضل خان
    آف لائن

    شیرافضل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏20 نومبر 2006
    پیغامات:
    1,610
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    بہت خوب لاحاصل جی ۔ بہت پیاری نظم ہے ۔
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    لاحاصل جی ۔ بہت اچھا کلام ہے۔ نازک محسوسات کی خوبصورت عکاسی ہے۔

    بہت خوب۔

    ---------------------

    اور ہاں اب یہ “ بدھو جی “ والا معاملہ کیا شروع ہو گیا ؟؟؟
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    احمد فراز کی ایک غزل “ اندھی گڑیا “ کی نذر جو پڑھ نہیں‌ سکتی صرف سن سکتی ہے

    دل بہلتا ہے کہاں‌ انجم و مہتاب سے بھی
    اب تو ہم لوگ گئے دیدہء بےخواب سے بھی

    رو پڑا ہوں تو کوئی بات بھی ایسی ہوگی
    میں کہ واقف تھا ترے ہجر کے آداب سے بھی

    کچھ تو اُس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہوجانا
    اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی

    اے سمندر کی ہوا تیرا کرم بھی معلوم
    پیاس ساحل کی تو بجھتی نہیں سیلاب سے بھی

    کچھ تو اُس حُسن کو جانے ہے زمانہ سارا
    اور کچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی


    (احمد فراز)​
     
  5. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    عشق

    اے دل نادان یوں پاگل نہ بن
    ان گنت ہیں خواہشیں
    جس طرح اڑتی ہوئی ہوں تتلیاں
    کس قدر ہم کو بھگائیں
    ہاتھ گر آئیں تو ان کے رنگ بس ہاتھوں پہ آئیں
    عشق بھی تتلی سی اک خواہش تو ہے
    روگ ہے دل کا
    جو ہر اک کو رلائے
    عشق بھی بے درد اور دنیا بھی یہ بے درد ہے
    پھر بھلا کیوں اس جہاں میں کوئی آخر گھر بنائے؟
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب لاحاصل جی ۔ اچھا کلام ہے۔

    لیکن یہ کلام ہے کس کا؟؟ کیا ہی اچھا ہو اگر شاعر کا نام بھی ساتھ لکھ دیا جائے۔
     
  7. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    میری ڈائری میں بہت کچھ ہے اور وہ سب اخباروں میں سے لکھا ہے اور افسوس کہ بہت کم نظمیں یا غزلیں ایسی ہیں جن مین شاعر کا نام موجود ہو
    اس کمی کے لئے میں معافی چاہتی ہوں
    میں نے کبھی اپنی ڈائری پر لکھتے ہوئے یہ نہین سوچا تھا کہ یہ سب کبھی میں ہماری اردو پر بھی لکھوں گی اور مجھے کہا جائے گا کہ شاعر کا نام بھی لکھ دیں تو اچھا ہو :84:
     
  8. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    دیا جلانا

    میں جاتنی ہوں کہ اب چھتوں پر
    دیئے جلانے کی رسم باقی نہیں رہی ہے
    مگر تمہیں ‌میری یاد آئے
    تو یاد رکھنا۔۔۔۔
    تم اپنی آنکھون سے
    آنسووں کے چمکتے موتی نہ گرنے دینا
    بس اتنا کرنا
    کہ اپنی چھت پر
    میری محبت کی نظم گا کر
    میری رفاقت کو یاد کر کے۔۔۔۔۔ دیا جلانا
    تم اپنی چھت پر کسی بھی کونے میں بیٹھ کر
    اک دیا جلانا۔۔۔۔
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب لاحاصل جی ۔ دل کو چھو لینے والی نظم ہے
     
  10. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    واقعی بہت عمدہ نظم ہے۔
    ---------------------------------------------

    اتنا ہی یاد رکھنا

    اتنا ہی یاد رکھنا مجھے
    جیسے کسی کتاب میں
    بیتے دنوں کے دوست کا
    اک خط پڑا ہُوا ملے
    لفظ مِٹے مِٹے سہی
    رنگ اُڑا اُڑا سا ہو
    لیکن وہ اجنبی نہ ہو
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    عبدالجبار بھائی کی مختصر نظم بہت اچھی لگی۔

    کچھ ہم بھی عرض کریں۔۔۔۔

    یادوں کا رابطہ

    ندیا نے کہا کناروں سے
    اے کنارو !
    مل نہ پاؤ‌گے بس یہی ڈر ہے
    ساتھ چلنا تو اب مقدر ہے
    دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف
    چلتے رہنا یونہی قدم بقدم
    ہاتھ میں ہاتھ گو نہ ڈال پاؤ گے
    فرقتیں بیچ کی نہ نکال پاؤ گے
    خواہشیں گلے لگنے لگانے کی
    ایک دوجے کو پاس پانے کی
    حسرتوں میں بدل سی جائیں گی
    ساری عمریں گذر بھی جائیں گی
    لیکن اتنا دھیان رکھ لینا
    اک کنارے سے اس کنارے تک
    میری موجیں تمہیں ملائیں گی
    اک رابطہ بیچ کا بنائیں گی
    تم کو واحد تو کر نہ پائیں‌گی
    حدِ فاصل نہ گر مٹائیں گی
    لیکن۔
    تمھارا رابطہ قائم رکھیں‌گی
    تم کو رشتے میں باندھ رکھیں‌گی

    کہ یہی امید ، زندگی کا نشاں
    جو چراغِ حیاتِ قلب و جاں
    گو نہیں‌ملتے کبھی کہیں‌دو دل
    یاد کرتے ہیں‌ پھر یہی دو دل

    (نعیم رضا)
     
  12. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    بہت خوب۔ نعیم بھائی!
     
  13. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    کومل جی کی اندھی گڑیا کے لیے بہت پیارے پیارے “کلام“ آ رہے ہیں۔

    کومل جی ۔ اپنی اندھی گڑیا کی کسے اچھے سے کلام والے گڈے کے ساتھ بات پکی کردیں :p
     
  14. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    دل ہی تھے ہم دُکھے ہوئے تم نے دُکھا لیا تو کیا
    تم بھی تو بے اماں ہوئے ۔ ہم کو ستا لیا تو کیا ؟

    آپ کے گھر میں ہر طرف منظرِ ماہ و آفتاب
    ایک چراغِ شام اگر میں نے جلا لیا تو کیا

    باغ کا باغ آپ کی دسترسِ ہوس میں ہے
    اک غریب نے اگر پھول اٹھا لیا تو کیا

    لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو
    موجِ ہوائے رنگ میں آپ نہا لیا تو کیا

    اب کہیں بولتا نہیں ، غیب جو کھولتا نہیں
    ایسا اگر کوئی خدا تم نے بنا لیا تو کیا

    جو ہے خدا کا آدمی اس کی ہے سلطنت الگ
    ظلم نے ظلم سے اگر ہاتھ ملا لیا تو کیا ؟

    آج کی ہے جو کربلا ، کل پہ ہے اس کا فیصلہ
    آج ہی آپ نے اگر جشن منا لیا تو کیا ؟

    لوگ دُکھے ہوئے تمام ، رنگ بجھے ہوئے تمام
    ایسے میں اہلِ شام نے شہر سجا لیا تو کیا ؟

    پڑھتا نہیں‌ ہے اب کوئی ، سنتا نہیں اب کوئی
    حرف جگا لیا تو کیا، شعر سنا لیا تو کیا

    (عبید اللہ علیم)​
     
  15. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

    اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
    ویرانیء دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

    ہاں تلخیء ایام ابھی اور بڑھے گی
    ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

    منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا
    دم ہے تو مُداوائے الم کرتے رہیں گے

    مئےخانہ سلامت ہے تو ہم سرخیء مے سے
    تزئیںِ دروبامِ حرم کرتے رہیں گے

    باقی ہے لہو دل میں‌تو ہر اشک سےپیدا
    رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے

    اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
    اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

    (فیض)​
     
  16. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
    تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے

    روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو
    ہم نے یہ سوچ کر ہی تم کو خفا رکھا ہے
     
  17. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
    تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
    روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو
    ہم نے یہ سوچ کر ہی تم کو خفا رکھا ہے

    بہت اچھے لاحاصل جی ۔ کیا خوبصورت قطعہ ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
    صفحہء زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
    اس میں شامل ہے مرے بخت کی تاریکی بھی
    تم سیاہ شال کو پہنو گے تو یاد آؤں گا


    (وصی شاہ)​
     
  18. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    آدھا چہرہ
    تمہیں کیسے میں لکھ بھیجوں
    کہ میری آنکھ میں سپنے
    محض کچھ کرچیاں بن کر
    بصورت درد بیٹھے ہیں
    محض اک گرد میں لتھڑی
    کتاب زیست ہاتھوں میں
    ابھی محفوظ ہے جس مین
    میرا آدھا حسین چہرہ
    ابھی آدھا حسین چہرہ
    کسی پیارے سے چہرے سے
    ابھی مجھ کو چرانا ہے
    ابھی کیسے میں لکھ بھیجوں
    کہ تم سپنے سمیٹو بھی
    مجھے محتاط رہنا ہے
    ابھی کیسے میں لکھ بھجوں
    کہ بنجر ہے زمیں ساری
    ابھی تم بیچ نہ لکھنا
    میرے اس آدھے چہرے پر
    جو تیرے پاس رکھا ہے
    ابھی آدھے ہیں ہم دونوں
    تو پھر آدھے کا حصہ بھی
    ہوا آدھا
    ابھی آدھا
    ابھی کیسے میں لکھ بھیجوں
    میرے چہرے کا وہ حصۃ
    تمہیں بخشا جو مالک نے
    مجھے دے دو
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب
     
  20. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
  21. سجیلا
    آف لائن

    سجیلا ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جنوری 2007
    پیغامات:
    110
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    :


    بہت خوب!محنت رائیگاں نہیں گئی!
     
  22. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    شکریہ سجیلا
    لیکن یہ محنت کیسی؟ :?
     
  23. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    ‘محبت‘
    محبت بول سکتی ہے
    یہ دکھڑا کھول سکتی ہے
    جو باتیں سب سے چھپ کر ہوں
    یہ ان کو بول سکتی ہے
    جو بے پرواہ ہو اس کو بھی
    محبت رول سکتی ہے
    کوئ سچا ہے کس درجہ
    محبت تول سکتی ہے
    یہ بس باتیں نہیں کرتی
    یہ بک بن مول سکتی ہے
    زہر ہو جس کی نس نس میں
    یہ رس بھی گھول سکتی ہے
    محبت بول سکتی ہے
    یہ ساری ان کہی باتیں
    یہ سارے ان کہے جزبے
    محض انکھوں کے رستے سے
    لہو میں گھول سکتی ہے
    محبت بول سکتی ہے
     
  24. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بڑی سچائی بیان کی ہے۔ بہت خوب :87:
     
  25. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    کومل، سجیلہ ۔ آپ سب کی ارسال کردہ شاعری بہت اچھی ہے۔ بہت خوب‌ !
     
  26. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    آندھیاں تو چلتی ہیں

    آندھیاں‌ تو چلتی ہیں
    خشک زرد پتّوں کو
    شاخ سے اُڑانے کی
    کوششیں بھی ہوتی ہیں
    سازشیں بھی ہوتی ہیں
    بخت کے ستارے کو
    اک خوشی کے لمحے سے
    ضرب دیتے رہتے ہیں
    آرزو بھی ہوتی ہے
    جستجو بھی ہوتی ہے
    ہاں! مگر۔۔۔ کیا کہیئے
    کیسی بد نصیبی ہے
    سازشوں سے لڑ جانا
    پھر بھی سہل ہوتا ہے
    بخت کے ستارے کو
    اک خوشی کے لمحے سے
    ضرب دینا مشکل ہے
     
  27. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    عبدالجبار صاحب میری لری میں اتنی پیاری نظم لکنے کا بہت شکریہ :)
     
  28. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    یہ دل بھلاتا نہیں ہے محبتیں اس کی
    پڑی ہوئی تھیں مجھے کتنی عادتیں اس کی

    یہ میرا سارا سفر اس کی خوشبووں میں‌کٹا
    مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں اس کی

    گھری ہوئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں‌لیکن
    کہیں نظر نہیں آئیں شباہتیں اس کی

    میں دور ہونے لگی ہوں‌تو ایسا لگتا ہے
    کہ چھاؤں جیسی تھیں مجھ پہ رفاقتیں اس کی

    یہ کس گلی میں یہ کس شہر میں نکل آئے
    کہان پہ رہ گئیں لوگو صداقتیں اس کی

    میں بارشوں میں جدا ہو گئی ہوں‌اس سے مگر
    یہ میرا دل میری سانسیں امانتیں اس کی
     
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    دعائے فیض

    دعا از فیض احمد فیض

    آئیے ہاتھ اٹھائیں ھم بھی
    ھم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
    ھم جنہیں سوز محبت کے سوا
    کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں

    آئیے عرض گزاریں کہ نگار ھستی
    زھر امروز میں شیرینی فردا بھر دے

    وہ جنہیں تاب گراں باری ایّام نہیں
    ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ھلکا کر دے

    جن کا دیں پیروی کزب و ریا ھے، ان کو
    ھمت کفر ملے جراءت تحقیق ملے

    جن کے سر منتظر تیغ جفا ھیں ان کو
    دست قاتل کے جھٹک دینے کی توفیق ملے

    عشق کا سر نہاں جان تپاں ھے جس سے
    آج اظھار کرے اور خلش مٹ جائے

    (فیض )
     
  30. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    خوب نعیم صاحب
     

اس صفحے کو مشتہر کریں