1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گو قیدِ ناروا ہے مگر کاٹنی تو ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏3 دسمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,400
    موصول پسندیدگیاں:
    776
    ملک کا جھنڈا:

    گو قیدِ ناروا ہے مگر کاٹنی تو ہے
    زنجیرِ جسم و جاں میں یہ ہم رشتگی تو ہے
    جانے دیا کلاہ نہ خلعت کو ہاتھ سے
    اس پر گماں کہ سر میں کہیں سرکشی تو ہے
    لوٹا نہیں ہوں کوئے مقاصد سے بے مراد
    مال و منال گر نہیں، بے چہرگی تو ہے
    کیسے ہوں خوئے خانہ خرابی سے دست کش
    لے دے کے اپنے پاس یہی خودسری تو ہے
    خود سے مغائرت پہ بھی اے چشمِ کم لحاظ
    افسوس ہو نہ ہو مجھے شرمندگی تو ہے
    ٭......٭......٭
    حسین مجروح​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں