1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گلاب اگانے کا موسم آیا

'زراعت' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏24 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,722
    موصول پسندیدگیاں:
    206
    ملک کا جھنڈا:
    گلاب اگانے کا موسم آیا
    upload_2019-10-24_2-13-20.jpeg
    نسرین شاہین
    موسم سرما اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہونے کو ہے۔ کئی طرح سے یہ ایک شان دار موسم ہے۔ اس موسم میں بے شمار رنگ اور خوشبو دار پھول کھلتے ہیں۔ اس لحاظ سے باغبانی کے لیے یہ انتہائی موزوں وقت ہوتا ہے۔ آپ اپنے باغ میں یا صحن میں پھول کے پودے لگانے کے لیے پہلے کیاری تیار کر کے اس میں بیج ڈالیں اور مٹی سے ڈھک کر پانی دیں اور مناسب دیکھ بھال کریں۔ تھوڑے ہی دنوں میں آپ کے آنگن میں نہایت ہی خوب صورت پھول کھلے ہوں گے، جن کی خوشبوؤں سے آپ کا گھر اور آپ کا ذہن معطر رہے گا۔ آپ موسم سرما میں کھلنے والے پھولوں اور پودوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ باغ یا صحن نہ ہونے کی صورت میں گھر کی بالکونی میں گملوں میں پھول لگائیں۔ ویسے تو پھول بے شمار ہیں، مگر گلاب، گلاب ہے۔ پھولوں کا بادشاہ، گلاب دیکھنے میں نہایت خوش نما اور کسی بھی باغ یا گھر کی زینت ہوتا ہے۔ گلاب کا تعلق ’’روزیشیائی‘‘ (Roseceae) خاندان سے ہے۔ گلاب کے خاندان میں کم و بیش دو ہزار پودوں کی اقسام شامل ہیں۔ گلاب ہر رنگ کا مل جاتا ہے، علاوہ ہرے رنگ کے۔ ان میں بیک وقت دو تین شیڈز بھی ہوتے ہیں۔ ان میں ایک خاص قسم کی کشش ہوتی ہے۔ اگر گلاب کی کوئی قسم نایاب ہے تو وہ ہے سیاہ گلاب۔ مئی جون چونکہ گرم ہوتے ہیں اس لیے ان دو مہینوں کو چھوڑ کر پورا سال ہی گلاب کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ ویسے تو ستمبر اور اکتوبر ان کو لگانے کے لیے مناسب تصور کیے جاتے ہیں، لیکن دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں گلاب کی خوب افزائش ہوتی ہے اور یہ سردی کے موسم میں اپنی خوب بہار دکھاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے گلاب کو لگانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا آسان ہے۔ پتوں کی کھاد والی مٹی اس کی افزائش کے لیے بہترین ہے۔ کچھ گلاب کی قسمیں ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ گہرائی میں لگائی جاتی ہیں اور زیادہ پانی بھی انہیں درکار ہوتا ہے۔ گلاب کو بیج، شاخ، قلم اور کونپل کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے۔ کونپل اس سلسلے میں بہترین ثابت ہوتی ہے۔ قلم کے ذریعے نئے پودے اگائے جا سکتے ہیں اور قلم لگانے کا یہ بہترین وقت ہوتا ہے۔ اکثر گلاب کٹنگ کے ذریعے اگائے جاتے ہیں۔ گلاب کے زیادہ تر عمدہ پودے وہ ہیں جو دو گلابوں کو ملا کر بنائے جاتے ہیں۔ گلاب کی زیادہ تر قسموں میں بھینی بھینی خوش بو ضرور ہوتی ہے۔ گلاب کو عموماً شام کے وقت لگایا جاتا ہے۔ آب پاشی موسم کی صورت حال، پودوں کے سائز اور نشوونما کے مراحل پر منحصر ہوتی ہے۔ شروع میں زیادہ پانی دیا جاتا ہے۔ اسی طرح موسم گرما میں گلاب کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرما میں پانی کم دینا چاہیے۔ گلاب کے آس پاس کی زمین نہ زیادہ گیلی ہو اور نہ زیادہ خشک، کیونکہ دونوں کی کثرت پودے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ خاص طور پر ان اقسام کے گلاب جو ولایتی یا انگریزی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ گلابوں کی بیل بھی ہوتی ہے۔ بہت سے پودے سیدھے کھڑے رہتے ہیں اور افزائش پاتے ہیں اور چاروں اطراف میں پھیل جاتے ہیں۔ بیل کی طرح چڑھنے والے گلابوں کو جالی اور مچان بنا کر اوپر چڑھا دیا جاتا ہے۔ کچھ میں بڑے بڑے پھول لگتے ہیں، مگر زیادہ تر چھوٹے گلاب ہوتے ہیں۔ گلاب کی جھاڑیاں چھوٹی اور گھنی ہوتی ہیں اور ان میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، تاکہ گلاب جانوروں کی دسترس سے محفوظ رہیں۔ کچھ گلاب اپنی ذات میں بالکل مختلف اور یکتا ہوتے ہیں۔ اکثر کاشت کردہ گلابوں میں دوبارہ پھول آتے ہیں۔ ان کے پھولوں کی پتیوں کی کئی کئی تہیں ہوتی ہیں۔ پوری دنیا میں مختلف طرح کی اراضی اور موسموں میں گلاب اگائے جاتے ہیں۔ گلاب ایسے علاقوں میں اچھے معیار کے پھول پیدا کرتا ہے جہاں دن کا درجہ حرارت 25 سے 27 سینٹی گریڈ ہو اور رات کا درجہ حرارت 15 سے 18 سینٹی گریڈ ہو۔ 30 سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر پھول جلدی کھل جاتا ہے اور پتیوں میں خوشبو بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کی ہزار ہا اقسام پیدا کی گئی ہیں اور ان کو نہایت خوبصورت نام بھی دیے گئے ہیں۔ مثلاً صوفیہ لارین، گولڈن شاور اور نیوڈان وغیرہ۔ گلاب کو بہت عمدہ فرٹائل ایسیڈک سوائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بڑے گملوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے۔ مٹی کے پختہ گملے 30 سینٹی میٹر کے ڈائی میٹر سے زیادہ کے نہ ہوں۔ گملے میں کھاد ملی مٹی ڈالی جائے، جس میں ایک حصہ مٹی، ایک حصہ گوبر کی ٹھنڈی کھاد اور ایک حصہ پتی کی کھاد ہو۔ گملے میں پانی کا نکاس اچھا ہونا چاہیے، پانی مسلسل رہنے کی صورت میں گلاب کا پودا مر جائے گا۔ اسے ہلکا سا گیلا کر دیں۔ پودے کو اس میں لگاتے وقت کونپل، قلم (graft) مٹی سے اوپر ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہاتھوں سے مٹی کو آہستہ آہستہ دبائیں۔ گملے کو پانچ سینٹی میٹر خالی رکھیں، تاکہ پانی ڈال سکیں۔ پودے کو جراثیم اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھیں۔ اس مقصد کے لیے ایسی ’’دوائیں‘‘ بھی آ گئی ہیں جنہیں پانی میں ملا کر پودوں پر چھڑک دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار پودوں کی کاٹ چھانٹ بھی ضروری ہوتی ہے۔ گلاب اگائیے اور گھر کی رونق بڑھائیے۔ گلاب کو ملی بگ، اسکیل انسیکٹ، بلیک مائٹ جیسے کیڑوں سے بچائیں جو گلاب کے موذی دشمن ہوتے ہیں۔ کیمیائی کھاد، کرم کش کیمیکلز کو بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں