1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گر ہے نیت جو ملنے آنے کی

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از مرید باقر انصاری, ‏23 اپریل 2015۔

  1. مرید باقر انصاری
    آف لائن

    مرید باقر انصاری ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اپریل 2015
    پیغامات:
    151
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    ملک کا جھنڈا:
    گر ہے نیت جو ملنے آنے کی
    چھوڑ دے فکر پھر زمانے کی

    میں کبھی روٹھ ہی نہیں سکتا
    مجھکو کوشش نا کر منانے کی

    جاگ اٹھے ہیں سوۓ ہوۓ زخم
    کوئ کر اب انہیں سلانے کی

    وہ کسی کا بھی ہو نہیں سکتا
    جس کو عادت ہو دل چرانے کی

    آج پھر یاد مجھکو آ گئ ہے
    رسم مٹی کے گھر بنانے کی

    شجر اُجڑے تھے منتظر جس کے
    دھوم ہے پھر بہار آنے کی

    کاسہ باقرؔ نا مجھسے چھینوں تم
    یہ ہی جاگیر ہے دیوانے کی

    مُرید باقرؔ انصاری
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    واہ جی واہ۔۔۔نائس
    :zabardast:
    اچھی شاعری کرتے ہیں آپ۔۔
    :)
     
    مرید باقر انصاری اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. مرید باقر انصاری
    آف لائن

    مرید باقر انصاری ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اپریل 2015
    پیغامات:
    151
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    ملک کا جھنڈا:
    بهت شکریه ۔۔۔
    :dilphool:
     
    دُعا نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں