1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از جبار گجر, ‏27 جنوری 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. جبار گجر
    آف لائن

    جبار گجر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2010
    پیغامات:
    377
    موصول پسندیدگیاں:
    185
    ملک کا جھنڈا:
    بازار میں جشنِ آمد مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی تیاری میں رنگ بِرنگی لیڈ لائیٹس خریدتے ہُوئے ایک چہرے نے مُجھے اپنی جانب ایسا متوجہ کیا کہ ہزار کوشش کے باوجود بھی اُس چہرے سے نِگاہ ہٹانا بُہت مشکل اَمر نظر آرہا تھا میرے بار بار دیکھنے پر و ہ صاحب بھی میری جانب متوجہ ہوگئے کُچھ دِیر و ہ صاحب میری جانب دِیکھتے رَہے اور پھر میرے قریب چلے آئے اور یُوں گُویا ہُوئے کیا آپ کا نام عشرت اقبال ہے؟

    اُس خُوبرو باریش نوجوان کے مُنہ سے اپنا نام سُن کر مجھے مزید حیرت ہوئی اور اب مُجھے اس بات کا قوی یقین ہوچلا کہ ضرور وہ خُوبرو نوجوان میرا سناشا ہے ورنہ میرا نام کیسے پُکارتا میں نے خندہ پیشانی سے مُسکراتے ہوتے جواب دِیا۔ جی ہاں میرا یہی نام ہے مگر آپ کون ہیں؟

    وہ نوجوان ایکدم مُسرت سے بانہیں پھیلائے میری جانب بڑھا اور مُجھ سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہنے لگا عشرت بھائی 27 برس کے بعد یُوں اچانک سرراہ آپ سے مُلاقات ہوجائیگی کبھی سُوچا بھی نہیں تھا۔

    اُس خوبرو باریش نوجوان کے مُنہ سے 27 برس کا سُنتے ہی میرا ذہن ماضی کا سفر کرتے ہوئے اسکول کے زمانے میں جا پُہنچا کہ 27 برس قبل ہَم میٹرک کے امتحانات کی تیاری میں دِن رات مصروف رَہا کرتے تھے اور اُن دِنوں ہمارا ایک دوست بھی اکثر ہمارے ساتھ کبھی گھر اور کبھی پارک میں امتحان کی تیاری میں ساتھ ساتھ رَہا کرتا تھا اور اب ہمیں سمجھ آرہا تھا کہ کیوں ہماری نظریں اس نوجوان سے نہیں ہٹ پارہی تھیں میرے مُنہ سے فوراً نِکلا ریحان یہ تُم ہو ؟

    ریحان نے اپنا نام سُن کر اپنی گرفت کو میری کمر پر مزید سخت کرتے ہوئے کہا،، ہاں میرے یار میں رِیحان ہی ہُوں۔

    مگر ریحان میں نے تو سُنا تھا کہ تُم امریکہ چلے گئے تھے۔ اور تُمہارے چہرے پہ داڑھی دیکھ کر مجھے یقین ہی نہیں آرہا ۔ وہ تُم ہی تھے نا جو اکثر اسکول لائف میں مولویوں پر پھبتی کسا کرتے تھے یہ انقلاب کیسے آیا اور تُم امریکہ سے کب واپس آئے؟

    یار سانس تو لینے دِے کیا سارے سوال یہیں بازار میں پُوچھ لے گا ۔گھر لیکر نیں چلے گا؟ ریحان نے مُسکراتے ہوئے کہا۔

    کیوں نہیں میرے یار چلو ابھی گھر چلتے ہیں میں نے خریداری کا اِرادہ موقوف کرتے ہُوئے کہا۔

    وہ کہنے لگا میں ضرور تُمہارے گھر آؤں گا لیکن ابھی نہیں چل سکتا کیونکہ اپنی فیملی کیساتھ ہُوں تُم اپنا کارڈ مُجھے دے دو ۔ تاکہ میں آنے سے قبل تُمہیں فون پر اِطلاع دے سکوں
    میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ اُسکے ہاتھ میں تھمایا اور الودع ہونے سے قبل ایک مرتبہ ہم دونوں پھر بغلگیر ہُوگئے۔

    اگلے دِن دوپہر میں مجھے ایک گُمنام نمبر سے کال رِیسیو ہوئی جسے میں نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر اَٹیند نہیں کیا چند ایک مِس کالوں کے بعد اگلے چند موٹکں میں مجھے اُسی نمبر سے ایک میسج موصول ہوا جس میں ریحان فرام امریکہ لکھا دیکھ کر میں کال بیک کی تو دوسری جانب سے رِیحان کی آواز سُنائی دِی،، عشرت بھائی ابھی آپ کہاں ہیں میں نے بتایا کہ اس وقت میں اپنی فیکٹری میں موجود ہُوں اُنہوں نے پتہ معلوم کرنے کے بعد کہا کہ اس وقت میں آپ کے نذدیکی علاقے میں ختم بُخاری کی محفل میں موجود ہُوں اگر اِجازت ہُو تو یہاں سے فارغ ہونے کے بعد آپکی فیکٹری چلا آؤں ؟

    میں نے کہا اِس میں پُوچھنے والی کیا بات ہے ۔سر آنکھوں پہ میرے یار،، جب جی چاہے چلے آؤ۔

    کُچھ لمحے اِنتظار کے بعد میں اپنے اسٹاف کیساتھ فیکٹری کو جشنِ آمد سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کیلئے سجانے میں مصروف ہُوگیا تبھی ایک کار فیکٹری کے گیٹ پر آکر رُکی جِس میں سے رِیحان برآمد ہُوا۔ میں نے آگے بڑھ کر ریحان کا استقبال کیا اور اُسے لیکر اپنے آفس کی جانب بڑھنے لگا۔

    ریحان کی آمد کیساتھ ہی میں اُسکی خاطر مدارت میں لگ گیا اور وہ مُجھے اپنے امریکہ کے قصے سُناتا رَہا اور وہ بھی اس بات پر بے حد خُوش تھا کہ 27 برس بعد ہی سہی لیکن کسی کلاس فیلو کے یُوں اچانک مِل جانے کی اُسے بالکل توقع نہیں تھی۔

    اچانک وہ کہنے لگا عشرت بھائی میں نے آپکو ڈسٹرب کردِیا ۔آپ شائد کسی تقریب کی تیاری میں مصروف تھے۔

    میں نے اُسے بتایا کہ یہ کوئی دُنیاوی تقریب کی تیاری تُو ہے نہیں جو آج شروع اور آج ہی خَتم ہوجائیگی بلکہ عید مِیلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی تیاری ہے جو 12 ربیع الاول تک جاری رہے گی۔

    رِیحان : اسکا مطلب ہیکہ تُم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی پیدائش کے جشن کی تیاری کررَہے تھے؟

    میں نے کہا ۔ تُم بالکل ٹھیک سمجھے ہُو۔ میں اپنے آقا علیہ السلام کے یوم ولادت کی خُوشی میں اپنی فیکٹری پر چراغاں کررہا ہُوں۔

    ریحان : عشرت بھائی آپ بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں جبکہ میں تو آپکو کافی سمجھدار سمجھ رہا تھا۔ یہ تُو بِدعت ہے۔

    بِدعت ہے مگر وہ کیسے ؟ ریحان کے جواب سے میں حیرت زدہ رِہ گیا

    رِیحان : عشرت بھائی سیدھی سی بات ہے جو کام نہ ہمارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہُو نہ ہی صحابہ کرام رِضوان اللہ اجمعین نے کیا ہو اُسے بدعت نیںہ تو کیا سُنت کہیں گے؟

    رِیحان میرے بھائی میں نے تُم سے ایک سوال کیا تھا لیکن تُم نے مزید ایک سوال اور داغ دِیا۔ لیکن خیر میں تُمہاری بات سمجھ گیا ہُوں۔ تُمارے کہنے کا مطلب ہیکہ جو کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یا صحابہ کرام رِضوان اللہ اجمعین کے زمانے میں نہ پایا جائے وہ بدعت ہے اور ایسے کام کو نیںم کرنا چایئے ۔ لینک میرے بھائی اس طرح کے تو ہزاروں کام ہیں جو آج تمام مسلمان کرتے ہیں۔ اور اُنہیں کوئی بدعت کا نام نہیں دِیتا جیسے کہ ہوائی سفر یا مسجد کی توسیع یا قران مجید میں اعراب کا اضافہ وغیرہ ۔وغیرہ

    رِیحان : لیکن عشرت بھائی یہ بھی تو دیکھیں کہ کوئی بھی مسلمان اِنہیں دین کا حِصہ سمجھ کر نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی ہَوائی جہاز میں سفر کرتے ہُوئے ثواب کی نیت رکھتا ہے
    اور نہ ہی ٹرین یا کار میں سفر کرنے کو ثواب کا ذریعہ سمجھتاہے۔

    ریحان بھائی لگتا ہے تُم کوئی ایسی کتاب پڑھ کر آرہے ہُو جس میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی ممانعت لکھی ہے کیا تُم مجھے اپنی معلومات کا ماخذ بتانا پسند کروگے تاکہ میں جان سکوں کہ تُم کس قبیل کے لوگوں کی کتابیں آجکل پڑھ رہے ہُو؟

    نہیں عشرت بھائی نہ ہی میں کسی خاص فرقہ کی کتابیں پڑھ رہا ہوں اور نہ ہی فرقہ واریت پر یقین رکھتا ہوں البتہ میری معلومات کا ذریعہ کُچھ وڈیو کلپس ہیں جنکے لنکس گاہے بگاہے میرا ایک دوست بقول اُسکے وہ ثواب کی نیت سے مجھے ای میل کے ذریعہ بھیجتا رِہتا ہے۔

    اچھا اُن مولوی صاحب کا نام کیا ہے ؟ جو اُن وڈیوز میں بیان کرتے ہیں۔ میں نے اگلا سوال دہرایا

    رِیحان : عشرت بھائی نام تُو مجھے یاد نہیں ہیں البتہ دونوں ہی زبردست عالمِ دین ہیں اُن میں سے ایک عالم دِین ہمیشہ سُرخ رنگ کا رومال سر پہ لئے ہُوتے ہیں اور اُنکی داڑھی کافی بڑی اور خوبصورت دِکھائی دیتی ہے وہ دیکھنے میں بالکل عربی عالم محسوس ہُوتے ہیں ۔جبکہ دوسرے عالم دین تقابل ادیان میں خاص مہارت رکھتے ہیں اور ہمیشہ جالی والی ٹوپی میں ہی نظر آتے ہیں اور اُنکے جلسہ میں ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں اور ماشاءَ اللہ دونوں ہی علمائے کرام میڈیا کے ذریعہ زبردست تبلیغی خِدمات سر انجام دے رَہے ہیں۔

    اچھا تو کیا کہتے ہیں یہ علمائے کرام اپنی وڈیوز میں ؟ میں نے اگلا سوال پیش کرتے ہوئے استفسار کیا۔

    رِیحان : وہ کہتے ہیں کہ جس کام کی قران میں اصل موجود نہ ہو یا دُورِ نبوی صلی اللہ علی وآلہ وسلم میں موجود نہ ہو اور بعد میں ثواب کی نیت سے کیا جائے تو ایسا عمل بدعت اور ناجائز ہے۔

    اچھا رِیحان بھائی اب میرے کُچھ سوالات ہیں جنہیں میں چاہونگا کہ تُم بغور سُنو اورہر سوال کے اِختتام پر اسکا جواب مجھے خُوب سوچ سمجھ کر دو تاکہ ہم کسی نتیجے پر پُہنچ سکیں۔

    سب سے پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے آج جو خَتم بُخاری کی مِحفل اٹیند کی ہے تو آپ وہاں کس اِرادے سے گئے تھے؟

    عشرت بھائی سیدھی سی بات ہے میں اس جلسہ میں حُصول ثواب کی نیت سے گیا تھا اور اسکے ذریعہ سے مُجھے کافی علمی مسائل بھی سیکھنے کو مِلے ہیں۔

    ریحان بھائی ویسے تو میں بھی ایسی محافل کو حُصولِ خیر وبرکت کا ذریعہ مانتا ہُوں لیکن جو قواعد ابھی تُم نے بدعت ہونے کیلئے ثابت کئے ہیں اُسکی روشنی میں تو آپکا یہ عمل بھی بدعت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ صحابہ کرام نے کبھی ختم بُخاری کی مجلس اٹینڈ نہیں کی کیونکہ بُخاری تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے زمانے میں تھی ہی نہیں۔

    اچھا یہ بتاؤ کہ جب نبی اکرم صلی اللہُ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے خاکے بنائے گئے تھے تو کیا امریکہ میں بھی مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ اور احتجاج کی نوعیت کیا تھی اور کیا تُم اس احتجاج میں شریک ہُوئے تھے اور کیوں ہُوئے تھے؟

    رِیحان : جی ہاں عشرت بھائی پوری دُنیا کی طرح امریکہ میں بھی اُس گُستاخ کارٹونسٹ کے خلاف الحمدُللہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا البتہ دُنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہمیں ہڑتال کرانے کی اجازت حاصل نہیں تھی اُس وقت مجھے خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں پر رشک آتا تھا جنہوں نے نہ صرف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا بلکہ کئی دِن احتجاجاً اپنے کاروبار کو بھی بند رکھا اور مُجھے اس بات کی بھی بے حد خوشی تھی کہ تمام مسلمانوں نے اِس میں بھرپور یکجہتی کا مُظاہرہ کیا تھا اور ہر مکتبِ فکر کے علما ءَ اس میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چل رہے تھےَ اور سبھی مسلمان صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مُحبت اور حصول ثواب کیلئے ایسا کر رہے تھے۔ لیکن آخر آپ یہ بات مُجھ سے کیوں پُوچھ رہے ہیں اسکا میلا النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم سے کیا تعلق ہے؟

    تعلق ہے میرے بھائی تبھی تو پوچھ رَہا ہُوں جیسا کہ ابھی تُم نے مجھے بتایا کہ

    نمبر (ایک) تُم نے یہ احتجاج گُستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے خلاف رِیکارڈ کروایا تھا۔
    نمبر (دو) مُحبت رسول صلی اللہُ علیہ وسلم میں یہ عمل کیاَ۔
    نمبر (تین) اسے ثواب اور نیکی کا ذریعہ سمجھتے ہو۔
    نمبر (چار) اسکے لئے ہڑتال کی کال کو بھی جائز اور مستحسن عمل سمجھتے ہو۔

    رِیحان : جی ہاں اس میں کیا شک ہے۔ دُنیا کے کسی بھی خطہ میں بسنے والا کوئی بھی مسلمان ایسی گُستاخی بھلا کسطرح برداشت کرسکتا ہے۔

    نہیں بھائی مُجھے بھلا اسمیں کیا شک ہوسکتا ہے لیکن میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہُورہا ہے کہ اگر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کا جلوس صرف اس وجہ سے ناجائز ہے کہ نہ یہ
    نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے زمانے میں تھا اور نہ ہی صحابہ کرام رِضوان اللہِ اجمعین کے زمانے میں تھا اور مسلمان اسے ثواب کا ذریعہ سمجھ کر کرتے ہیں تو یہ تمام علتیں تو اس جلوس میں بھی نظر آرہی ہیں کہ ابوجہل اور دوسرے کُفار نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی بے شُمار مرتبہ گُستاخیاں کی تھیں لیکن نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہِ اجمعین نے اس طرح کا کوئی جُلوس اُن کُفار بد اطوار کی گُستاخیوں کے جواب میں نِکالا نہ ہی اُسکے لئے اپنی دوکانوں کو بند کیا یعنی کوئی ہڑتال بھی نہیں کی اور نہ کافروں کے خِلاف نعرے بازی کی لیکن آپ نے یہ سب کُچھ صرف مُحبت میں ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ثواب کی اُمید بھی رکھتے ہیں جو کہ نہ ہی صحابہ کرام رِضوان اللہ علیہ اجمعین کے عمل سے ثابت ہے اور نہ ہی جب کہ ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے اس کی تعلیمات مسلمانوں کو دِی تو جب اسطرح کے جلوس بدعت نہیں تو یہ تلوار صرف عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کیلئے ہی کیوں ہے۔ کیا آپ کے پاس اسکا کوئی عقلی یا نقلی ثبوت ہے؟

    رِیحان : نہیں میرے پاس آپ کے سوال کا کوئی جواب نہیں ہے

    اچھا چلیں اسے چھوڑیں ابھی کُچھ دیر پہلے آپ نے بتایا تھا کہ آپکا دوست آپکو دینی جذبے کے تحت حصول ثواب کی خاطروڈیو بھیجتا ہے تُو کیا آپکا وہ دوست ایسے کام کو دین کا حصہ اور ثواب کا ذریعہ نہیں سمجھ رہا جو صحابہ رِضوان اللہ اجمعین نے کبھی انجام دِیا ہی نہیں کیا یہ بدعت کے زُمرے میں نہیں آتا کہ اسمیں بھی دینی خدمت اور ثواب کی نیت بدعت کے زمرے میں آجائیگی دونوں میں ہی وہی جذبہ موجود ہے اور طریقہ کا ثبوت یہاں بھی مفقود ہے۔

    پھر آپ جِن علابئے کرام سے مُتاثر ہُو کر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے جلوس پر بدعت کا لیبل لگانے پر مصر ہیں آپ ہی کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں اُنکے اعمال تضادات کا شکار ہیں۔

    وہ کیسے عشرت بھائی میں سمجھا نہیں وہ تو خالصتا شریعت کی پاسداری کرتے ہیں اور سُنت کو بدعت پر مقدم رکھنے والے لوگ ہیں آپ کی یہ بات مجھے بالکل ہضم نہیں ہُورہی لیکن ایک بات کا اعتراف میں ضرور کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ آپ سے مُلاقات کے بعد میری معلومات میں کافی اضافہ ہورہا ہے اور مجھے ایک ہی سوال کی کئی جہتیں آپکی گُفتگو کے ذریعہ نظر آرہی ہیں۔

    رِیحان بھائی یہ تو آپکا اعلی ظرف ہے جو میری باتوں کو آپ اتنے غور سے سُن بھی رہے ہیں اور اُس پر غُور بھی کررہے ہیں ورنہ ہم مسلمانوں میں سے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے برداشت کا مادہ ہی خَتم ہوچُکا ہے کوئی کسی کی بات سننے کیلئے تیار نہیں چاہے سامنے والے کے پاس لاکھ عقلی اور نقلی دلائل ہُوں ہم ایک دوسرے کی بات بھی تحمل سے نہیں سُن سکتے میں سچ کہتا ہُوں کہ اگر آپ کی جگہہ اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اب تک مجھ پر کئی بار لاحول پڑھ کر رُخصت ہوگیا ہوتا۔

    ریحان ۔ اچھا عشرت بھائی ابھی آپ تضادات کی بات کررہے تھے میں آپکی رائے جاننا چاہتا ہُوں کیونکہ آپ کے اِس جملے نے میرے اندر عجیب سی بے چینی پیدا کردی ہے۔

    دیکھیں رِیحان بھائی آپ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ وہ دونوں حضرات قاطع بدعات اور شریعت اور سُنت کے حامی ہیں اور ہر ایسی بات کو گُناہ جانتے ہیں جو اسلاف رحمُ اللہ اجمعین کے زمانے کے بعد دین میں پیدا ہوئی ہُوں اور وہ اُنہیں ناجائز اور گُناہ میں شامل کرتے ہیں جبکہ آپ نے اُن دونوں حضرات کا جو حُلیہ اور جو طریقۂ تبلیغ ابھی بیان کیا ہے وہ نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ اُنکے بیان کردہ اصول کی روشنی میں بدعت اور ناجائز نظر آرہا ہے جیسا کہ آپ نے بتایا کہ اُن میں سے ایک عالم صاحب عرب شریف کی طرز پر سر ڈھانپتے ہیں تُو دوسرے سر پر جالی والی ٹوپی رکھتے ہیں اب آپ خود ہی کہیئے کیا وہ اپنا سر رومال اور ٹوپی سے اس لئے ڈھانپتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اپنا سرمُبارک ڈھانپ کر رکھا یا یونہی شوق میں اپنا سر ڈھانپ کر رکھتے ہیں؟

    رِیحان ۔عشرت بھائی یہ تُو اچھی بات ہُوئی نا اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سُنت کی پاسداری میں کتنے مستعد ہیں اِس میں آپکو تضاد کہاں نظر آگیا؟

    تضاد ہے رِیحان بھائی لیکن آپ کی آنکھوں پر اُنکی مُحبت کی جو پٹی چَرھی ہے وہ آپکو یہ تضاد نہیں دِکھا پارہی ۔ دِیکھو صحاح ستہ کی تمام کُتب کو کھول کر دِیکھ لو کوئی ایک حدیث مجھے ایسی دِکھادو کہ آپ صلی اللہُ علیہ وسلم نے کبھی عمامہ کے بجائے کوئی جالی دار ٹوپی یا آجکل عرب شریف میں رائج یہ سُرخ رومال کبی اپنے سرمُبارک پر باندھا ہُو آپ صلی اللہُ علیہ وسلم نے ہمیشہ عمامہ شریف ہی سر پر سجایا اور صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین نے بھی آپکی اتباع اور اطاعت میں ہمیشہ عمامہ شریف ہی اپنے سروں پہ سجایا تھا پھر جب صحابہ کرام رِضوان اللہ اجمعین کے مُبارک دور تک نہ ہی ٹوپی تھی اور نہ ہی یہ رُومال تھا تو مجھے بتاؤ کہ یہ سب سُنت کی پاسداری ہے یا بدعت ہے؟

    کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ہے کہ اپنے لئے بدعت حلال کر لی جائے اور دوسروں کیلئے حرام بنادی جائے اور دوسری بات یہ بھی دِیکھو کہ جو یہ مولوی صاحبان الیکٹرانک میڈیا کو اپنے بیانات کے لئے استعمال کررہے ہیں کیا اسطرح کی وڈیوز دین کی خدمت اور ثواب کی نیت سے سے شائع کررہے ہیں یا یہ اپنا شغل پُورا کررہے ہیں یقیناً یہ سب کُچھ وہ دین کی خِدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر حصول ثواب کی نیت سے ہی کررہے ہُوں گے شغل میلہ کیلئے تو ہر گزنہیں کررہے ہونگے تُو کیا یہ بدعت ہے یا طریقہ ٔ سُنت ہے؟

    ریحان ۔عشرت بھائی آپکی باتوں سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہم سب ہی بدعت کے چُنگل کا شکار ہیں اور کوئی بھی راہِ سُنت پر نہیں چل پارہا یہاں تک کہ وہ لوگ بھی اس مرض میں گرفتار ہیں جو صبح شام بدعت بدعت کا نعرہ لگاتے ہیں۔

    دیکھو ریحان بات دراصل یہ نہیں ہے کہ ہم کس راہ پر چل رہے ہیں بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ آخر ہماری منشا کیا ہے اگر اللہ کریم کی رضا مقصود ہے تو دِین اسلام اتنا تنگ نظر نہیں کہ آپکو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی محروم کردے جیسے خَتم بُخاری کا جلسہ مُحبت رسول میں قائم کیا جاتا ہے اور ڈھیروں خیر و نیکیوں کا مخزن ہے اسی طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ کی محافل ہُوں یا جشن میلاد کا جلسہ دونوں ہی اللہ کریم کی رضا کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جب عیسی علیہ السلام کی اُمت پر انعام ہو تو اُسے عید کا دِن بنا دیا جائے تو کیا جس کے صدقے ہمیں یہ زندگی عطا فرمائی گئی جو باعثِ تخلیق کون ومکاں ہو اُس سے بڑھ کر اور کونسی نعمت ہوگی کیا ہمیں اس نعمت کا شُکر ادا نہیں کرنا چاہیئے حالانکہ اللہ کریم نے اپنے محبوب کی دُنیاوی آمد کو نا صرف اپنی سب سے بڑی نعمت کہا بلکہ مومنین پر اِس احسان کو جتایا بھی جبکہ اپنی اور کسی نعمت کو اسطرح نہیں جتایا۔

    اور جہاں تک بات ہے کسی نئے طریقہ کی تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں یہ طریقہ قران و حدیث سے ٹکرا تو نہیں رہا اسی لئے آقائے نامدار ہم غریبوں کے غمخوار صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلمنے ارشاد فرمایا مفہوم،، جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تُو اُسے اسکا ثواب ملے گا اور اسکا بھی ثواب ملے گا جو (بعد والے) اُس پر عمل کریں گے اور انکے ثواب میں کُچھ کمی نہ ہوگی (ابو داؤد شریف)

    حضرت ابو سلمہ رضی اللہُ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے نئے کام کی وضاحت جو کتاب و سنت میں نہ ہو کہ متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہُ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس امر محدث کے بارے میں عابدین و مومنین کو غور و فکر کرنا چاہیئے

    اس حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہیکہ ہر نئے کام کو بُرا سمجھنے کے بجائے مجتہدین اور اہل اللہ سے اُس کے متعلق معلوم کیا جائے گا اور وہ اِس پر اپنا فیصلہ قران و سنت کی روشنی میں دیں گے ناکہ ہر نئی چیز پر ڈائریکٹ بدعت اور ناجائز کا فتوی صادر کردیا جائے کیونکہ دین اسلام بنی نوع انسان کی آسانی کیلئے آیا ہے نہ کی مسلمانوں کیلئے مشکلات پیدا کرنے کیلئے ورنہ جس قسم کے فتوی آجکل کے موڈرن مولوی مسلمانوں پر چسپاں کررہے ہیں انکی روشنی میں تو خُود یہ مولوی صاحبان بھی صرف بدعتی ہیں اور اگر ہر نئی چیز بدعت کے زمرے میں شامل کردی جائے اور بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ میں تمیز روا نہ رکھی جائے تو تمام مسلم اُمہ ایک ایسی پریشانی میں مُبتلا ہوسکتی ہے جسکا حل ان جیسے کسی نام نہاد مولویوں کے پاس بھی نہیں ہوگا کیونکہ سب پر قانون کا اطلاق ایک جیسا ہونا چاہیئے ناکہ خود کیلئے وہی چیز حلال کرلی جائے جو دوسرے مسلمانوں کے لئے حرام تفویض کردی جائے۔

    ہاں اس سے بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اس دِن کو اپنے طریقہ سے منالیں اور دوسرے مسلمانوں کیلئے اپنی رائے کُشادہ رکھیں جسکا جی چاہے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم اپنے کو اپنے گھر میں درود و نوافل کے ساتھ گُزارے اور جو جشن میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے جلوس میں شریک ہوکر اس دِن کو منانا چاہے اُسکے جذبات کا بھی احترام کیا جائے

    ریحان ۔ عشرت بھائی آپکی باتوں نے اگرچہ میرے تمام شکوک رفع کردئیے ہیں لیکن ایک آخری سوال اور معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ سُنا ہے کہ بارہ ربیعُ الاول وفات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کا دِن ہے تو اس دِن مسلمانوں کا خُوشی منانا کیسا؟

    میرے بھائی جب ہم تاریخ اسلام کا مُطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات کنفرم ہوجاتی ہے کہ آپ صلی اللہُ علیہ وسلم کی ولادت مبارک اور وصال ظاہری دونوں ہی اس ماہ مُبارک میں وقوع پذیر ہُوئی ہیں لیکن یہاں مسلمانوں کی نیت دیکھی جائے گی کیونکہ تاریخوں میں اختلاف اپنی جگہہ سہی مگر تمام مسلمانوں نے اس دِن کو کثرت روایات کی وجہ سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے لئے چُن لیا ہے بس جب اُمت کا اجماع اس تاریخ پر ہوگیا تو کیا فرق پڑتا ہیکہ ولادت با سعادت کس دِن ہوئی اللہ کریم دِلوں کے بھید خُوب جانتا ہے کہ کون اس دِن کو کیوں اور کیسے منارہا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وصال ظاہری کوئی غم منانے کا دِن نہیں ہے بلکہ انعام اور اجر دیئے جانے کا دِن ہے شرفِ مُلاقات ایزدی کا دِن ہے اور صحابہ کرام اُس دِن اپنی تکلیف کا احساس صرف اس لئے کررہے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ اب وہ ظاہری جلوؤں میں کیسے گُم رہیں گے کس کے انتظار میں صبح کا انتظار کریں گے کہ جس سے شرف مُلاقات اور رُخ زیبا کے دیدار کی تمنا لئے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی جانب دُوڑے چلے جاتے تھے۔ وہ والضحی کا حسین چہرہ اب نظر نہیں آئے گا اور وہ جانتے تھے کہ اب وہ جانِ جاناں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم میں کب نظر آئے گا جس کو دوران نماز بھی وہ تکا کرتے تھے۔ نہ کہ وہ اس لئے غمزدہ تھے کہ خُدانخواستہ اُنکا نبی زندہ نہ رَہا تھا کیونکہ ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہُ کا یہ عقیدہ تھا کہ ہر نبی علیہ السلام اپنی اپنی قبر میں زندہ بھی ہے اور اللہ کریم نے زمین پر حرام کردیا ہی کہ وہ انبیا علیہم اسلام کے جسموں کو کھائے۔

    ریحان ۔ عشرت بھائی سمجھ نہیں آتا کہ آپکا شُکریہ کسطرح ادا کروں آپ نے جو اسلامی زاویہ مجھے آج دِکھایا ہے مرتے دَم تک اِس گُفتگو کو نہیں بھول پاؤں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جتنے بھی سال میں جشن ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کی سعادت سے محروم رہا ہوں اسکے ازالہ کی بھی کوشش کرونگا اور آپ کے پیغام کو مرتے دَم تک عام کرتا رہونگا۔

    اور ہمیشہ یہ دُعا بھی کرتا رَہونگا کہ اللہ کریم تمام مسلمانوں کو یہ عید کا دِن نہایت ادب و احترام سے منانے کی توفیق عطا فرمائے

    ریحان کی دُعا پر میرے مُنہ سے خود بخود یہ جُملہ ادا ہوگیا آمین بِجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

    اے کاش یہ آمین فرشوں کی آمین سے مِل گیا ہو اور ریحان کی دُعا تمام مسلمانوں کے حق میں قبول کی جا چُکی ہُو اور اسطرح تمام مسلمان اس خوشی کی گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہُوں۔
    http://www.pakistanipoint.com/showt...-النبی-منانا-بدعت-ہے-مگر-کیوں-(ضرور-پڑھیئے)۔&
     
  2. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    سبحان اللہ ماشااللہ اللہ زور قلم اور زیادہ کرے
     
  3. راجہ مبارک
    آف لائن

    راجہ مبارک ممبر

    شمولیت:
    ‏9 اگست 2011
    پیغامات:
    22
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    :boxing::boxing::confused::confused::beating::beating::beating::beating::n_wow::n_wow::Z14::Z14::a165::101::133::mad::n_Congratulations::p_banana:
     
  4. ناصر نعمان
    آف لائن

    ناصر نعمان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مئی 2011
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    بھائی آپ کے مضمون میں‌عشرت صاحب اور ریحان صاحب کی معلومات میں کمی معلوم ہوتی ہے ۔۔۔۔ یہ دونوں حضرات "بدعت " کے مفہوم سے پوری طرح آگاہی نہیں رکھتے ۔۔۔جبھی نہ تو عشرت صاحب نے بدعت کے مفہوم کو سمجھ کر وضاحت کی اور نہ ریحان صاحب نے عشرت صاحب کی غلطی کی نشادہی فرمائی۔
    مختصر الفاظ میں‌یوں سمجھ لیں کہ بدعت اُس کو کہتے ہیں جس چیز کا محرک اور داعیہ اور سبب آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں موجود تھا مگر وہ دینی کام آپ نے نہیں کیا اور حضرات صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین کرام نے بھی باوجود کمال عشق و محبت اور محرکات و اسباب کے نہیں کیا تو وہ کام بدعت کہلائے گا
    امید ہے کہ اس اہم نکتہ کو مد نظر رکھا جائے تو مسئلہ کی باآسانی وضاحت ہوسکتی ہے۔
    باقی تفصیل کے لئے ذیل لنک پر مراسلہ نمبر 15 کا مطالعہ فرمائیں۔جزاک اللہ
    http://www.oururdu.com/forums/showthread.php?p=437190#post437190
     
  5. جیلانی
    آف لائن

    جیلانی ممبر

    شمولیت:
    ‏20 ستمبر 2011
    پیغامات:
    72
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    غیر ُمقلد عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں :


    البدعة الضلالة المحرمة هی التی ترفع السنة مثلها، والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة، بل هی مباح الأصل.


    بدعت ضلالہ جو کہ حرام ہے وہ ہے جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے اور جس بدعت سے کوئی سنت نہ چھوٹے وہ بدعت نہیں ہے بلکہ اپنی اصل میں مباح ہے۔


    وحيد الزمان، هدية المهدی : 117




    چند مشہور اور رائج عام بدعتیں


    قرآن شریف کو ایک کتابی شکل میں جمع کرکے مرتب کرنے کی بدعت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے سے شروع کی جو آج تک جاری ہے۔


    نماز تراویح کی باجماعت ادائیگی کی بدعت کا آغاز خلیفہ دوئم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا یہ بدعت بھی تمام عالم اسلام میں تاحال رائج ہے۔


    تصوفو طریقتو معرفتپہلی صدی ہجری ہی میں باقاعدہ عملی شکل اختیار کرچکا تھا اور کئی ایک خانقاہیں معرض وجود میں آچکی تھیں۔


    قرآن شریف پر اعراب اور نقطے لگانے کی بدعت حجاج بن یوسف کے دور میں وجود پزیر ہوئی، یہ بدعت بھی تمام اسلامی دنیا بشمول سعودی عرب میں مستعمل ہے۔


    تدوین فقہاور اصول فقہ کی بدعت کا باقاعدہ آغاز پہلی، دوسری صدی میں تابعین اور تبع تابعین کے ادوار میں ہوا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی مسائل پر بے مثال تحقیق کی گئی۔


    کتب احادیث بشمول صحاح ستہ بخاری مسلم سمیت دیگر مجموعات کی تدوین جو کہ زیادہ تر تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں وقوع پزیر ہوئیں اور آج بھی شریعت کے بنیادی ماخذ کے طور پر مستعمل ہیں۔


    ایمانِ مفصل و ایمانِ مجمل، چھ کلمے وغیرہ بعد کے ادوار کے بزرگان دین نے مرتب کئے اور آج بھی تعلیمات دین کا بنیادی جزو ہیں۔


    عید میلاد النبی ، درود و سلاماور محافل نعت جو کہ باقاعدہ طور پر بعد ازاں جاری کی گئیں امت مسلمہ کے دلوں میں جذبہ محبت و عشق رسول موجزن رکھنے میں معاون ثابت ہوئیں۔

    مساجد میں محراب، گنبد اور محراب وغیرہ کا آغاز پہلی دفعہ فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں ہوا۔ یہ بدعت بھی تمام اسلامی ممالک میں آج تک مستعمل ہے۔
     
  6. محمداکرم
    آف لائن

    محمداکرم ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مئی 2011
    پیغامات:
    575
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    جیلانی بھائی ، اللہ کریم آپکو جزائے خیر دے ۔
     
  7. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    میلاد کاثبوت نہ آپ ص کی زندگی سے اورنہ ہی صحابہ رض کی زندگی سے ملتاہے۔
     
  8. محمداکرم
    آف لائن

    محمداکرم ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مئی 2011
    پیغامات:
    575
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    ان سب باتوں پر منکرین میلاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا جواب دیا جاچکا ہے مگر انکی "میں نہ مانوں کی رٹ " جاری ہے - - - افسوس!

    [​IMG]

    [​IMG]


    [​IMG]

    [​IMG]
     
  9. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    چلیں اس دلیل پربھی ذرانگاہ ڈال لیتے ہیں کہ"سیّدنا معاویہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا، کیسے بیٹھے ہو ؟صحابہ نے عرض کی:ہم بیٹھ کر اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس نے ہمیں جو ہدایت دی ہے اور آپ کی صورت میں ہم پر جو احسان کیا ہے ،اس پر اسکی تعریف کر رہے ہیں ۔''
    (مسند الامام أحمد : ٤/٩٢، سنن النسائي : ٥٤٢٨، جامع الترمذي : ٣٣٧٩، وسندہ، حسنٌ)
    اس حدیث سے مروّجہ جشنِ عید ِ میلاد کے جواز پر استدلال کرنا صحیح نہیں،کسی ثقہ امام نے اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت نہیں کیا، اس حدیث سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا وہ حلقہ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر اسکی تعریف بیان کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا، نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ِولادت کو جشن منا رہا تھا،اس پر سہا گہ یہ کہ اکابرِ اہلسنت کواعتراف ہے کہ تینوں زمانوں میں میلاد کسی نے نہ منایا، بعد میں ایجاد ہوا،متعدّد علماء نے اس جشن کو بدعت ِمذمومہ قرار دیا ہے ۔
    (دیکھیے: المدخل : ٢/٢٢٩،٢٣٤، الحاوي للفتاوي للسیوطي : ١/١٩٠۔١٩١)
    نبی کے یوم ِولادت کو یومِ عید قرار دینا عیسائیوں کا وطیرہ ہے ، مروّجہ عید ِمیلادِ النبی،عید ِمیلادِ عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہے اور بدعتِ سیّئہ ہے ، جبکہ کفار کی مشابہت اور ان کی رسومات پر عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
    صحابہ کرام کے زمانہ بلکہ تینوں زمانوں میں اس کا وجود نہیں ملتا، بعد کی ایجاد ہے ۔
    جناب احمد یار خاں نعیمی بریلوی صاحب نقل کرتے ہیں :
    لَمْ یَفْعَلْہُ أَحَدٌ مِّنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَۃِ، إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدُ .
    میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا ۔''(جاء الحق : ١/٢٣٦)
    جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب یوں اعتراف ِحقیقت کرتے ہیں:
    ''سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں بجا ہے۔''
    (شرح صحیح مسلم : ٣/١٧٩)
    جناب عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتے ہیں :ــ''یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوایعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔''(انوارِ ساطعہ : ١٥٩)
    مروّجہ جشنِ عید ِمیلاد ِالنبی کی قرآن و حدیث میں کوئی اصل نہیں ،اس کی ابتدا چوتھی صدی ہجری میں ہوئی ، سب سے پہلے مصر میں نام نہاد فاطمی شیعوں نے یہ جشن منایا۔
    (الخطط للمقریزی : ١/٤٩٠وغیرہ)
     
  10. محمداکرم
    آف لائن

    محمداکرم ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مئی 2011
    پیغامات:
    575
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    [​IMG]
     
  11. ابو محمد رضوی
    آف لائن

    ابو محمد رضوی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2012
    پیغامات:
    52
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    اور ہمیشہ یہ دُعا بھی کرتا رَہونگا کہ اللہ کریم تمام مسلمانوں کو یہ عید کا دِن نہایت ادب و احترام سے منانے کی توفیق عطا فرمائے

    ریحان کی دُعا پر میرے مُنہ سے خود بخود یہ جُملہ ادا ہوگیا آمین بِجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

    اے کاش یہ آمین فرشوں کی آمین سے مِل گیا ہو اور ریحان کی دُعا تمام مسلمانوں کے حق میں قبول کی جا چُکی ہُو اور اسطرح تمام مسلمان اس خوشی کی گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہُوں۔
    عمدہ ولا جواب مکالمہ زبردست انداز بیان جزاک اللہ احسن الجزائ
     
  12. ناصر نعمان
    آف لائن

    ناصر نعمان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مئی 2011
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    جناب اکرم بھائی اب ذرا خاص بارہ ربیع الاول کو متعین کرکے یہ تمام اہتمام کرنے کے بھی شواہد پیش فرمادیجیے ۔۔۔تاکہ ہماری اس مسئلہ پر اصلاح ہوجائے۔جزاک اللہ
     
  13. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    پتہ نہیں ان لوگوں کو لفظ عید میلادالنبی:saw:سے چڑ کیوں ھے۔اس پر ہی رگِ بدعت وشرک کیوں پھڑکنا شروع ھو جاتی ھے۔معلوم ہوتا ہے معاملہ کوئی اور ھے۔کبھی نہ سوچا نہ سمجھا چند انچ چوڑے منہ سے اتنی بڑی بات نکال باہر کرتے ہیں۔
    اب میں ان مبارک ہستیوں کاذکر کرتا ہوں جو محفل میلادالنبی:saw:منعقد کرتے رہے اور اس میں برا بر شرکت کرتے رہے۔1امام ابوشامہ استاذامام نووی2امام جزری 3حافظ عمادالدین بن کثیر4حافظ زین الدین عراقی5امام ابن حجرعسقلانی6امام جلال الدین سیوطی شافعی7علامہ شہاب الدین قسطلانی8علامہ عبدالباقی زرقانی مالکی9علامہ ملا علی قاری حنفی10مولانا جامی 11شیخ عبدالحق محدث دہلوی 12شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحم اللہ اجمعین بارھویں کی نسبت سے بارہ بزرگوں کے نام پیش کیئے ہیں اس کے علاوہ علماءومحدثین اور مشائخ طریقت کی ایک لمبی فہرست ہے۔۔۔
     
  14. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم مثلِ فارس نجد کےقلعےگراتیےجائیں گے
     
  15. ناصر نعمان
    آف لائن

    ناصر نعمان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مئی 2011
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    جناب آصف بھائی ان بزرگوں کے حوالاجات سے صرف حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا "نفس ذکر ولادت "ہی واضح ہوتا ہے ۔۔۔ جس پر ہمیں اعتراض نہیں۔۔۔بلکہ ہم تو ایسی محافل کو باعث برکات سمجھتے ہیں جہاں جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ یا نفس ذکر ولادت کا بیان ہو۔
    لیکن اعتراض یہ ہے کہ آپ لوگ مدعی ہیں خاص 12 ربیع الاول کو متعین کرکےمختلف اہتمام کرکے عید منانے کے
    اس لحاظ سے آپ کا دعوی خاص ہے ۔۔۔ اور دلائل عام ہیں ۔۔۔۔ اور یہ چیز قاعدے کے اعتبار سے درست نہیں
    لہذا اگر تو آپ کے پاس اپنے دعوی کے مطابق" خاص بارہ ربیع الاول کو متعین کرکے مختلف اہتمام کے ساتھ عید منانے " پر بزرگوں کے حوالاجات موجود ہیں تو نشادہی فرمائیں ۔۔۔۔ ہم منتظر ہیں
     
  16. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    میرے دوست اگرغصے میں نہ آئیں اورلہجہ اگرانکے قابومیں رہے تویہ خاکسارچندباتیں گوش گزارکرناچاہتاہے امیدہے ناچیزکوجناب کی طرف سے امان حاصل رہے گی۔عالی جناب نے لکھاہے کہ ناچیزنے بناسوچے سمجھے لکھ دیاہے میلادکے متعلق جبکہ اس ناکارہ نے اس پرخود اہلسنت کے علماکے اقوال نظرخدمت کیئے تھے لیکن میرے فاضل دوست کومیری باتیں چھوٹے منہ سے نکلی ہوئی نامناسب باتیں لگیں۔
    علمی تقاضہ پوراکرتے ہوئے جناب نے چندباتیں اس جاہل کوگنوائیں اوربڑے تیزاندازسے میلادکوجائزقراردینے کی سعی کی۔آپ اگربرانہ منائیں اورلہجہ قابومیں رکھیں تومیں بھی کچھ حضوروالاکی خدمت میں اپنے چنددلائل رکھناچاہتاہوں۔
    جناب نے امام جزری رح اورملاعلی قاری رح کاحوالہ دیادرست لیکن یہ بھی دیکھیں کہ یہ حضرات مطہرہ رح میلادکے بارے میں کیاشرعی نقطہ نظررکھتے ہیں ملاعلی قاری رح نے مذکورہ نقطہ بظراپنی کتاب "الموردالروی"میں لکھا لیکن اسی کتاب کے صفحہ 293میں ملاعلی قاری رح نے لکھاہے کہ علامہ جزری رح نے جب ان سے میلاد کے متعلق استفسارکیاکہ ہم عیسائیوں سے زیادہ آپ ص کی تکریم کے اہل ہیں توملاعلی قاری رح نے فرمایاکہ لیکن ہمیں تواہل کتاب کی مخالفت کاحکم دیاگیاہے۔اس پرعلامہ جزری رح خاموش رہے۔
    تومیرے قابل دوست جن کانام لیکرمیلادپراستدلال کررہے ہیں ان کامیلادپر نقطہ نظرتویہ تھاپھرکیامیں کہہ سکتاہوں کہ چھوٹے منہ سے اس جاہل نے جوکہاوہ درست تھا۔
    میرے قابل دوست نے امام سیوطی رح کے بارے میں فرمایاہے کہ وہ محفل میلادکرتے رہے لیکن امام صاحب رح خود اس عمل کوشرعی نہیں بلکہ صرف اپناقیاس قراردیتے تھے جو حسن المقصدفی عمل المولد صفحہ 51میں موجودہے۔اب میرے پڑھنے والے اورخودمیرے ذہین دوست غصے کوایک طرف رکھ کراب سوچیں کہ کیاکسی بھی امام کاذاتی قیاس شریعت میں حجت ہوسکتاہے نہیں قطعی نہیں جبکہ وہ امام عمل پرکسی شرعی دلیل کولانے سے معذورہو۔خودامام احمدرضاخان بریلوی رح نے بھی میلادپرروایات کی صحت کوبے اصل کہاہے۔میلادمنانے والے خودکوحنفی کہتے ہیں جبکہ امام ابوحنیفہ رح سے ایک بھی قول میلادکے حق میں موجودنہیں ہے۔
    آخرمیں میرے دوست نے ان علماکی چندفہرست دی ہے جومیلادمیں شرکت کرتے تھے میں حضرت عبدالعزیز محدث دہلوی رح سمیت ایسے اکابرین کی فہرست لاسکتاہوں جوکہ میلادکی شرعی حیثیت سے بری ہیں جن میں چندکے حوالے میں نے مندرجہ بالاپوسٹ میں پیش خدمت کی۔
    گزارش یہ ہے کہ محض کسی امام یاعالم کے ذاتی قیاس سے عقیدے کی بنیادکوکھڑاکرناقطعی درست عمل نہیں ہے جوبات آپ ص اورصحابہ رض سے ثابت نہیں وہ بات لازمی ہے کہ باہرسے آئی ہے اسے زبردستی شرعی بناناایک قبیح عمل ہے اوراس کے خلاف آوازاٹھاناہرایک کافرض ہے لیکن الفاظ اچھے اورعلمی ہونے چاہیئں نہ کہ کسی کولتاڑکراپنی بات کی جائے۔
     
  17. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    جناب زبیر صاحب آپ کا عقیدہ کیا ھے آپ مقلد ہیں غیر مقلد ہیں دیوبندی ہیں ۔نیچری ہیں یا توحیدی سمجھ نہیں آتا ؟ آپ نے کتنی بے باکی سے علماء دین اور بزرگوں کے عمل کو قبیح بنا دیا ۔جناب آپ کا فارمولا
    اس سے تو آپ کے بھی کئی افعال قبیح ہو جاتے ہیں مثلاً نیٹ پر کب آپ:saw:اور آپ کے صحابہ:rda: نے تبلیغ دین کی امید ھے آپ اپنے اس فعل کو قبیح ہونے سے بچانے کے لئے احادیث مبارکہ اور صحابہ کے اقوال ضرور نقل فرمائیں گے۔ اب میں قارئین کی بار گاہ میں میلاد شریف پر ائمہ امت کے اقوال نقل کرتا ہوں ان سے بڑا بھی اگر کوئی عقل مند اور دین کا ماہر اب پیدا ھو گیا ہو جس کو اپنی تحقیقات شریعہ پر بڑا ناز ہو تو وہ اپنی عقل کا علاج کروائے ۔ 1محدث ابن جوزی :ra:فرماتے ہیں۔ اہل مکہ ومدینہ،اہل مصر،یمن،شام اور تمام عالم اسلام شرق تا غرب ہمیشہ سے حضوراکرم:saw:کی ولادت سعیدہ کے موقعہ پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ:saw::کی ولادت کے تزکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں۔(المیلاد النبوی صفحہ58( 2امام نووی:ra:کے شیخ امام ابوشامہ:ra:فرماتے ہیں ہمارےزمانےمیںشہر اربل میں حضور:saw:کی ولادت باسعادت کے دن جو صدقات اظہار زینت اور خوشی کیجاتی ھے۔یہ بدعت حسنہ کے زمرے میں شامل ھے کیونکہ اس کے ذریعے فقراء کی خدمت کے علاوہ حضور:saw:کی محبت،جلال اور تعظیم کا بھی اظہار ہوتا ھے اور اللہ تعالی نے بصورت رحمتہ للعلمین جو عظیم نعمت عطا فرمائی اسپر شکریہ بھی ھے (الباعث علٰی انکارالبدع والحوادث صفحہ13( 3امام الحافظ سخاوی:rda: فرماتے ہیں تمام اطراف وکناف میں اہل اسلام حضور:saw:کی ولادت باسعادت کے مہینہ میں خوشی کی بڑ ی بڑی محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں اس کی راتوں میں جی بھر کر صدقہ اور نیک اعمال میں اضافہ کرتے ہیں خصوصاً آپ:saw:کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تزکرہ ان محافل کاموضع ھوتا ہے۔ (سبل الھدٰی جلد 1 صفحہ439( 4امام جلال الدین سیوطی:rda: فرماتے ہیں میرے نزدیک میلاد کے لیئے اجتماع تلاوت قرآن،حضور:saw: کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات اور ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہونے والی علامات کا تزکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے جن پر ثواب مترتب ھوتا ھے ۔کیونکہ اس میں آپ:saw:کی تعظیم و محبت اورآپ:saw:کی آمد پر خوشی کا اظہار ہے (حسن المقصدفی عمل المولد فی الحاوی للفتاوٰی جلد1 صفحہ189( 5شارح بخاری امام قسطلانی:rda: فرماتے ہیں ربیع الاول چونکہ حضور:saw: کی ولادت باسعادت کا مہینہ ہے لہٰذا اس میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔خصوصاً ان محافل میں آپ:saw:کی میلاد کا تزکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفل میلاد کی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالٰی اس آدمی پر اپنا فضل واحسان کرے جس نے آپ:saw:کے میلاد مبارک کو عید بنا کر ایسے شخص پرشدت کی جس کے دل میں مرض ہے (المواہب الدنیہ جلد1صفحہ27( باقی ان شااللہ آئندہ عرض کروں گا
     
  18. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,394
    موصول پسندیدگیاں:
    16,802
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    جزاک اللہ العظیم
     
  19. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    6الحافظ ابوذرعہ العراقی :ra: فرماتے ہیں۔ محفل میلاد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یہ مستحب ہے یا مکروہ؟کیا اس کے بارے میں کوئی نص ہے یا کسی ایسے شخص نے کی ہے جس کی اقتداء کیجائے۔ آپ نے فرمایا ،کھانا وغیرہ کھلانا تو بر وقت مستحب ہے ۔ اور پھر کیا ہی مقام ہوگا جب اس کے ساتھ ربیع الاول میں آپ:drood: کے نور کے ظہور کی خوشی شامل ہو جاتی ہے ۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اسلاف میں سے کسی نے کیا ۔ لیکن اس کے پہلے نہ ہونے سے اس کا مکروہ ہونا لازم نہیں آتا۔ کیو نکہ بہت سے کام اسلاف میں نہ ہونے کے باوجود مستحب بلکہ بعض واجب ہوتے ہیں۔ (تثنیف الاذان للشیخ محمد بن صدیق صفحہ136(
     
  20. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    السلام علیکم ۔ بھائی محمد اکرم صاحب اور بھائی آصف 26 صاحب۔ اللہ تعالی آپکو آپکے جذبہء حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین
    اور جو دل جذبہ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم ہیں اللہ پاک ان کو بھی ہدایت عطا فرمائے۔ ثم آمین ۔کیونکہ ذکرو شان و فضیلتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض محرومیء حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے۔

    محمد :drood: کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اول ہے
    اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے ​

    والسلام
     
  21. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    آپ نے کتنی بے باکی سے علماء دین اور بزرگوں کے عمل کو قبیح بنا دیا ۔
    میرے ذہین دوست نے میری پوسٹ کی ایک عبارت اٹھائی اوراسپراپنایہ مندرجہ بالاجملہ لکھ دیاذرامیری عبارت جوجناب نے اٹھائی نظرخدمت کرتاہوں"جوبات آپ ص اورصحابہ رض سے ثابت نہیں وہ بات لازمی ہے کہ باہرسے آئی ہے اسے زبردستی شرعی بناناایک قبیح عمل ہے"
    میری عبارت سے صاف ظاہرہے کہ میں نے میلادجیسے عمل جسکے بارے میں بعض بزرگان دین محض قیاس کرتے ہیں اوراسے قیاس سے تعبیرکرتے ہیں اسے بعض ناعاقبت اندیشوں کی طرف سے زبردستی شرعی قراردینے کوقبیح عمل قراردیاتھانہ کہ میراروئے سخن یہ بزرگ ہستیاں تھیں۔جناب والانے آگے چل کرخوداپنے حوالوں سے میری بات کودرست ثابت کیاہے۔
    مثلا
    جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں میرے نزدیک میلاد کے لیئے اجتماع تلاوت قرآن،حضور کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات اور ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہونے والی علامات کا تزکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے جن پر ثواب مترتب ھوتا ھے ۔کیونکہ اس میں آپکی تعظیم و محبت اورآپکی آمد پر خوشی کا اظہار ہے (حسن المقصدفی عمل المولد فی الحاوی للفتاوٰی جلد
    یہاں جناب خودرقم طرازہیں کہ امام سیوطی رح اسے بدعت مانتے ہیں جبکہ میں اپنی پوسٹ میں جوامام سیوطی رح کاحوالہ نظرخدمت کیااسمیں آپ رح اسے اپنے قیاس سے تعبیرکرتے ہیں انہوں اس سلسلے میں کسی شرعی دلیل کوپیش نہیں کیامیرامذکورہ بالامضمون25-02-2012اس کی تصدیق کرتاہے۔
    میرے دوست مزید فرماتے ہیں کہ
    3امام الحافظ سخاوی فرماتے ہیں تمام اطراف وکناف میں اہل اسلام حضورکی ولادت باسعادت کے مہینہ میں خوشی کی بڑ ی بڑی محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں اس کی راتوں میں جی بھر کر صدقہ اور نیک اعمال میں اضافہ کرتے ہیں خصوصاً آپکی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تزکرہ ان محافل کاموضع ھوتا ہے۔ (سبل الھدٰی جلد 1 صفحہ439( 4امام
    حافظ سخاوی رح کاحوالہ توجناب نے دے دیالیکن اپنے ہی حوالے میں ایک لفظ بھی جناب سخاوی رح کاپیش نہ کرسکے جواسے شرعی کہے جبکہ ان کے اپنے الفاظ اس سلسلے میں یہ ہیں کہ "''یہ کام تینوں زمانوں (صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین )میں سے کسی نے نہیں کیا۔ یہ تو بعد میں ایجاد ہوا۔''('جاء الحق' از نعیمی : ١/٢٣٦)"
    تومیرے دوست کے مذکورہ حوالے میں بھی یہ شرعی ثابت نہیں ہوتاہے اورمیں نے حافظ سخاوی رح کامیلادکے متعلق انکانظریہ بھی پیش خدمت کردیاجس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ میلادکی دین کے اصل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ہی نہیں یہ بدعت ہے جوبعدکی ایجاد ہے جسے صرف میں ہی نہیں آپ کے حافظ سخاوی رح ،جناب احمد یار خاں نعیمی بریلوی صاحب،جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب وغیرہ نے بیان کیاہے توکیاانکے بارے میں بھی جناب فرمائے گے کہ "کتنی بے باکی سے علماء دین اور بزرگوں کے عمل کو قبیح بنا دیا"
    میرے دوست کے بیان کردہ کسی بھی حوالوں میں یہ درج نہیں کہ یہ شریعت میں شامل ہے اور صحابہ رض اور تابعین رح سے یہ ثابت نہیں ہے۔میں نے خوددرج بالاپوسٹ میں20-02-2012میں خوداہلسنت علماکے حوالے پیش کئے ہیں آج کے دورکے میلادکے داعی جناب علامہ طاہرالقادری بھی کیوٹی وی کے اپنے ایک خطاب میں مان چکے ہیں کہ یہ شریعت سے ثابت نہیں۔مولاناالیاس قادری نے بھی اسے شرعی نہیں مانا،علامہ کوکب نورانی بھی مانتے ہیں کہ صحابہ رض سے یہ ثابت نہیں۔
    آپ میلادکوشرعی بنانے پرمصرہیں اورطرفہ یہ کہ حوالے ایسے پیش کررہے ہیں جوخودمیلادکوشرعی ثابت نہیں کررہے میری بات کوتوآپ کے حوالے ہی درست ثابت کررہے ہیں ذرااپنے حوالوں کے سیاق وسباق کوسمجھیں تاکہ آپ پریہ نکتہ واضح ہوجائے۔
     
  22. ناصر نعمان
    آف لائن

    ناصر نعمان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 مئی 2011
    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    آصف بھائی ہم بھی اپنے سوال کے جواب کے منتظر ہیں:
    ان بزرگوں کے حوالاجات سے صرف حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا "نفس ذکر ولادت "ہی واضح ہوتا ہے ۔۔۔ جس پر ہمیں اعتراض نہیں۔۔۔بلکہ ہم تو ایسی محافل کو باعث برکات سمجھتے ہیں جہاں جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ یا نفس ذکر ولادت کا بیان ہو۔
    لیکن اعتراض یہ ہے کہ آپ لوگ مدعی ہیں خاص 12 ربیع الاول کو متعین کرکےمختلف اہتمام کرکے عید منانے کے
    اس لحاظ سے آپ کا دعوی خاص ہے ۔۔۔ اور دلائل عام ہیں ۔۔۔۔ اور یہ چیز قاعدے کے اعتبار سے درست نہیں
    لہذا اگر تو آپ کے پاس اپنے دعوی کے مطابق" خاص بارہ ربیع الاول کو متعین کرکے مختلف اہتمام کے ساتھ عید منانے " پر بزرگوں کے حوالاجات موجود ہیں تو نشادہی فرمائیں ۔۔۔۔ ہم منتظر ہیں
     
  23. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    غور کریں عقل والے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 01.jpg
      01.jpg
      فائل سائز:
      13.3 KB
      مناظر:
      26
  24. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    اب یہ اگلا صفحہ حاضر ہے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 02.jpg
      02.jpg
      فائل سائز:
      15.6 KB
      مناظر:
      14
  25. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    اب صفحہ 3 حاضر ہے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 03.jpg
      03.jpg
      فائل سائز:
      13.1 KB
      مناظر:
      12
  26. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    صفحہ4 حاضر ہے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 04.jpg
      04.jpg
      فائل سائز:
      15.3 KB
      مناظر:
      13
  27. آصف 26
    آف لائن

    آصف 26 ممبر

    شمولیت:
    ‏27 فروری 2011
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    5 نمبر صفحہ
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 05.jpg
      05.jpg
      فائل سائز:
      14.9 KB
      مناظر:
      15
  28. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    آصف صاحب جواٹیچمنٹ آپ نے یہاں پوسٹ کی ہے وہ اتنی دھندلی ہے کہ پڑھنے میں نہیں آرہی جواب مرحمت تب کرسکتاہوں جب میں اسے پڑھ پائوںگااٹیچمنٹ کاسائزبڑاکرنے پربھی یہ پڑھانہیں جارہاہے،اس لئے جواب دینے سے میں معذرت کرتاہوں۔
     
  29. جمال
    آف لائن

    جمال ممبر

    شمولیت:
    ‏9 مارچ 2012
    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    ناصر صاحب تو آپ بغیر دن کے تعین کے اچانک کسی بھی روز عید ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم منا لیا کریں
    اور ہاں مجھے یہ بتائیں کہ آپ لوگوں کا جو اجتماع رائے ونڈ میں ہوتا ہے وہ کسی دن کو متعین کیے بغیر کیوں نہیں ہوتا
    وہ بھی اچانک کسی بھی روز کر لیا کرو؟ یہاں کونسا قائدہ استعمال ہوتا ہے ؟

    ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل اور میلاد پاک کا اہتمام تو سارا سال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن 12 ربیع الاول کو جوش و خروش مزید بڑھ جاتا ہے کیوں کہ اس ون ولادت مصطیٰ ہوئی ۔
     
  30. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,088
    موصول پسندیدگیاں:
    11,128
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کیا جشن میلاد النبی منانا بدعت ہے مگر کیوں (ضرور پڑھیئے)۔

    السلام علیکم۔ میرا خیال ہے اعتراضات کے ایک طرف رکھ کر کم از کم اتنی بات پر سارے احباب متفق ہوں گے کہ
    ذکرِ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعلی عبادت ہے۔ جس کا بےپناہ اجر وثواب ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و ادب ہی اساسِ ایمان ہے ۔
    دینی دلائل و براہین اور بحث و مباحثہ سے قطع نظر ایک حقیقت ۔
    جب تک کوئی شخص عظمت، حسن و جمال، سیرت و کردار، اخلاق ، افکار ، علم، اور شان و فضیلت میں اعلی و ارفع نہ ہو اس وقت تک اس سے محبت ممکن نہیں۔
    اس لیے جب سچی محبت اقرار باللسان سے اتر کر دل میں جاگزیں ہوجائے تو محب کے دل میں اعتراضات و تنقیدات کی بجائے صرف محبوب کی بات کرنے اور سننے کا جذبہ موجزن ہوجاتا ہے۔ سچی محبت ہر لمحہ و ہر لحظہ اپنے محبوب کی فضیلت، حسن و جمال اور شان و کمالات بیان کیے جانے کی متقاضی ہوجاتی ہے۔
    بقول اعظم چشتی رح ۔

    محبوباں تے نکتہ چینی، جہیڑا کرن تو باز نہیں آوندا
    اصل منافق جانیں اونہوں، ایویں چہوٹھا پیار جتاوندا
    سانوں دسیا عشق دے مفتی جیہڑا مڑ مڑ ایہہ فرماوندا
    اعظم جتھے دل لگ جاوے، اوتھے عیب نظر نہیں آوندا
     
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں