1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کچھ سائنسی مغالطے

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏18 مئی 2018۔

  1. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    977
    ملک کا جھنڈا:
    کچھ سائنسی مغالطے (1)
    ضیغم قدیر
    17 مئی 2018

    خلا میں جسم کا پھٹ جانا
    اس بات کو اکثر سائنس کے طلبا بھی سیریس لے لیتے ہیں کہ خلاء میں مخصوص لباس پہنے بغیر جانے پر ہمارا جسم پھٹ جاتا ہے جو کہ قطعی طور پر غلط تصور ہے۔ اس تصور پر بات کرنے والے کہتے ہیں کہ خلاء میں زیرو پریشر ہے اس لیے ہمارا جسم پھٹ سکتا ہے جبکہ اس سب کے دوران وہ ہمارے جسم کی لچک کو بھول ہی جاتے ہیں حتیٰ کہ ہمارے جسم کی رگوں کی لچک کو بھی اور کہتے ہیں کہ زیرو پریشر میں رگیں پھٹ جاتی ہیں جوکہ قطعاً اک غلط مفروضے پر مبنی ہے۔

    اس بات کو کنفرم کرنے کے واسطے جب 1966 میں مختلف تجربات کیے گئے تو یہ بات واضح ہوئی کہ زیرو پریشر پر ہمارا جسم
    elasticity کی وجہ سے نہیں پھٹ سکتا۔ البتہ ہمارا بیرونی فلوئڈ والی جگہوں سے فلوئڈ (مادہ) اڑ جاتا ہے جس میں آنکھوں کا پانی اور لعاب (تھوک) شامل ہیں جن کا واسطی ڈائریکٹ بیرونی ماحول سے پڑتا ہے۔

    خلاء میں جسم کا جم جانا
    یہ مفروضہ بھی غلط ہے کہ خلا میں جسم جم جاتا ہے جو کہ بذات خود خلاء کی تعریف پر پورا نہیں اترتا جبکہ خلاء نام ہی کسی بھی مادہ/ شے/ وجود کے نا ہونے کا ہے تو ایسے میں وہاں ٹمپریچر کیسے سفر کر سکتا ہے؟ کیونکہ ٹمپریچر کو سفر کرنے واسطے کسی میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے اور خلاء بذات خود خالی ہے تو ایسے میں آپ کا جسم خلا میں حرارت کو کیسے ٹرانسفر کرے گا/ یا کھو دے گا؟

    نا تو خلاء میں جم سکتا ہے اور نا ہی نارمل سے بڑھ سکتا ہے ہاں اگر آپ کا exposure قریبی سامنا سورج یا دوسرے ستارے کی گرم روشنی
    (الٹراوائلٹ ویوژ آف لائٹ) سے ہو جائے تو آپ جل کر بھسم ہو سکتے ہیں

    انسان بندر سے بنے ہیں
    یہ بھی ایک
    misconception ہے کہ انسان بندر سے بنے ہیں۔ ایسا حوالہ آپ کو نا تو ایولیوشن سے ملے گا اور نا ہی بائیولوجی سے کہ انسان بندر سے بنے ہیں یہ سب کچھ خاص طبقات کی طرف سے کم انفارمیشن اور منفی پراپیگنڈہ کی وجہ سے پھیلایا گیا ہے جبکہ اس بارے نظریہ ارتقا یہ کہتا ہے کہ انسان اور بندروں نے ایک مشترکہ Ancestor سے ارتقا کیا جس کا مطلب صاف واضح ہے

    ہم اپنا دماغ دس فیصد سے کم استعمال کرتے ہیں
    یہ بھی ایک غلط مفروضہ ہے کہ ایک عام انسان اپنا دماغ پانچ فیصد اور سائنسدان چھ سے سات فیصد استعمال کرتے ہیں اور فلاں سائنسدان نے اپنا دماغ دس فیصد استعمال کیا تھا۔ اصل میں ایسی باتیں کرنے والے لوگ اپنا دماغ بھی نہیں استعمال کرتے۔ اس بارے نیوروسائنس کہتی ہے کہ ہر انسان اپنے دماغ کا پورا پورا استعمال کرتا ہے
    (بشرطیکہ اس کی مرضی ہو) اور بعض مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں ایک انسان اپنے دماغ کا سو فیصد تک استعمال کرتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ دماغ پرسنٹیج کے لحاظ سے نہیں بلکہ بندے بندے کے استعمال کے لحاظ سے چلتا ہے۔
     
    عائشہ, ھارون رشید, زنیرہ عقیل اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,457
    موصول پسندیدگیاں:
    16,828
    ملک کا جھنڈا:
    :nc:
     
    کنعان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,160
    موصول پسندیدگیاں:
    9,342
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
     
    کنعان نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں