1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کچھ جقیقت کچھ کہانی

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏18 دسمبر 2016۔

  1. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    امام ترمذیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث اور حکیم تھے۔ حدیث کی مشہور کتاب “ترمذی شریف” انہی کی لکھی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اس قدر حُسن دیا تھا کہ لوگ دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو باطنی حسن بھی دیا تھا۔ آپ عین جوانی کے عالم میں ایک دن اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت اندر آئی اور آتے ہی اُس نے اپنا چہرہ کھول دیا۔

    وہ عورت نہایت حسین و جمیل تھی وہ آپ سے کہنے لگی کہ “میں آپ کے حسن پر فدا ہوں اور بہت دنوں سے موقع کی تلاش میں تھی، آج بہت مشکل سے تنہائی ملی ہے، آپ میری خواہش پوری کر دیں!” امام ترمذیؒ کے دل پر خوفِ خدا اتنا غالب ہوا کہ آپ رو پڑے اور اتنا روئے کہ وہ عورت نادم ہو کر واپس چلی گئی اور آپ دیر تک روتے رہے۔ مدت گزر گئی آپ اس بات کو بھول گئے اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوگئے، بال سفید ہوگئے ایک دن مصلے پر بیٹھے تھے کہ دل میں خیال پیدا ہوا کہ “اگر اُس وقت میں اُس عورت کی خواہش پوری کر دیتا تو کیا تھا بعد میں توبہ کر لیتا۔۔۔” لیکن جیسے ہی یہ خیال دل میں آیا فوراً رونے لگ گئے اور کہنے لگے، “اے رب کریم! جوانی میں تو یہ حالت تھی کہ میں گناہ کا نام سن کر ہی اتنا رویا تھا کہ وہ عورت میرے رونے سے نادم ہو گئی تھی۔ اب میرے بال سفید ہوگئے ہیں تو کیا میرا دل سیاہ ہو گیا ہے جو میرے دل میں اس گناہ کا خیال پیدا ہوا۔۔؟ اے اللہ! میں تیرے سامنے کس طرح پیش ہوںگا، اس بڑھاپے میں جب میرے اندر قوت بھی نہیں رہی میرے دل میں گناہ کا خیال کیسے آ گیا۔۔؟ اسی حالت میں روتے روتے سو گئے، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا “ترمذی! کیوں روتے ہو۔۔۔؟ عرض کیا، “میرے محبوبﷺ! جب جوانی کا زمانہ تھا قوت اور شہوت کا زور تھا، تب تو اللہ کا خوف اتنا تھا کہ گناہ کی بات سن کر ہی اللہ کے خوف سے رونے لگ گیا تھا۔

    لیکن اب جبکہ بال سفید ہوگئے اور بڑھاپا آگیا تو دل اس قدر سیاہ ہوگیا ہے کہ یہ خیال آیا کہ اس وقت خواہش پوری کر لیتا اور بعد میں توبہ کر لیتا، میں اس لیے پریشان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، پریشان نہ ہو۔

    یہ تیری کمی یا قصور نہیں جب تو جوان تھا تو میرے زمانے سے زیادہ قریب تھا ان برکتوں کی وجہ سے تیری یہ کیفیت تھی کہ گناہ کا خیال دل میں نہیں آیا، اب تیرا بڑھاپا آگیا ہے تو میرے زمانے سے بھی دوری پیدا ہو گئی اس لیے اب دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوا، بس توبہ استٖغفار کیا کر، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔
  2. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    ’’خانہ کعبہ میں بغداد کا ڈاکو ‘‘

    امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔ کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے! یا اللہ میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!! تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے! تو بھائی کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو۔خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا۔ اور کبھی ہار مت ماننا۔ کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!​
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    330
    موصول پسندیدگیاں:
    174
    ملک کا جھنڈا:
    بہت زبردست
    میرے آنسو میرے قابو میں نہیں رہے اب
    حنا شیخ 2 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    330
    موصول پسندیدگیاں:
    174
    ملک کا جھنڈا:
    بےشک اللہ معاف کرنے والا ہے بس ہم معافی مانگنے والے بن جائیں
    حنا شیخ 2 نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    آمین
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    آپ بہت حساس دل کی لگتی ہیں ،،، اور ایسے دل بہت اچھے ہوتے ہیں ،،
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    *خوفِ خدا سے متعلق ایک انتہائی شاندار، دلچسپ اور سبق آموز واقعہ *
    امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو عجیب طریقے سے طلاق دے دی، اور یہ طلاق بعد ازاں فقہ کا بہت بڑا مسئلہ بن گئی۔
    بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ہنسی مذاق میں اُس نے ملکہ سے پوچھ لیا کہ، " تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے ؟ "
    ملکہ جو بادشاہ کی عزیز ترین بیگم تھیں، وہ مذاق کے موڈ میں بولی، " مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں "۔
    یہ فقرہ سننے کے بعد بادشاہ کو غصہ آ گیا اور بولا، " میں اگر جہنمی ہوں تو تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں۔۔۔! "
    ملکہ نے یہ سنا تو اُس نے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔
    بادشاہ کو بھی کچھ دیر بعد اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
    اگلے دِن بادشاہ سلامت نے ملک کے تمام علماء، مفتی صاحبان اور اماموں کو دربار میں بلا لیا۔
    اور اُن سے پوچھا کہ،
    " کیا اِس طریقے سے میری طلاق ہو چکی ہے؟ "
    سب کا باری باری یہی کہنا تھا کہ، "ہاں، آپکی طلاق ہو چکی ہے، اور شریعت کی روشنی میں ملکہ عالیہ اب آپ کی زوجہ نہیں رہیں۔۔۔! "،
    لیکن اِس محفل میں ایک نوجوان مفتی بھی موجود تھے، وہ ایک طرف ہو کر بالکل خاموش بیٹھے رہے۔
    بادشاہ نے اُن سے بھی یہی سوال پوچھا تو انہوں نے عرص کیا، " جناب، یہ طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ آپ نے مشروط طور پر کہا تھا، کہ اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں،
    اور ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ آپ جہنمی ہیں کہ نہیں ہیں،
    آپ کو اگر کوئی شخص جنتی ہونے کی گارنٹی دے دے تو آپکی یہ طلاق نہیں ہوگی۔"
    بادشاہ سلامت نے جوشیلے انداز میں پوچھا،
    " لیکن مجھے اِس چیز کی گارنٹی کون دے گا۔۔۔؟ "
    سب علماء کرام نے اِس سوال کے جواب پر اپنے سر جھکا لیے، کہ دنیا میں کون شخص جنتی ہے اور کون جہنمی ہے اِس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔
    اُس نوجوان مفتی نے جب تمام علماء کرام کو خاموش دیکھا تو وہ بادشاہ سلامت سے مخاطب ہوا،
    " بادشاہ سلامت !
    میں آپکو یہ گارنٹی دے سکتا ہوں،
    لیکن اِس کیلئے میں آپ سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر آپکا جواب "ہاں" ہوا تو میں آپکو جنتی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دونگا۔۔! "۔
    بادشاہ نے کہا، "ہاں، پوچھو۔۔۔!"
    نوجوان مفتی نے پوچھا،
    " کیا آپکی زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع آیا تھا، کہ آپ گناہ پر قادر تھے، لیکن آپ نے صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے وہ گناہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔؟ "
    بادشاہ نے سر اُٹھایا اور کہا،
    " ہاں، ایک بار ایسا ہوا تھا،
    میں اپنی خوابگاہ میں داخل ہوا تھا اور وہاں ایک نوکرانی صفائی کر رہی تھی،
    وہ لڑکی انتہائی خوبصورت تھی، میں بھٹک گیا،
    میں نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
    میں غلط نیت سے اُس لڑکی کی طرف بڑھا تو اُس نے رونا شروع کر دیا، اور وہ چلّا کر بولی،
    " اے بادشاہ ! اللہ سے ڈرو، وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے"۔
    میں نے جب یہ سنا تو میرے اُوپر اللہ تعالیٰ کا خوف طاری ہو گیا۔
    میں اگرچہ بادشاہ تھا،
    وہ لڑکی میرے کمرے میں تھی،
    میں نے دروزے کو اندر سے کنڈی لگائی ہوئی تھی،
    اور اُس وقت دنیا کی کوئی طاقت مجھے بُرائی سے نہیں روک سکتی تھی۔
    لیکن میں نے صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے دروازہ کھول دیا، اور اُس لڑکی کو جانے کی اجازت دے دی۔۔۔!"
    یہ سب سن کر وہ نوجوان مفتی مسکرایا اور اُس نے قرآن پاک کی سورہ النٰزعٰت کی آیت نمبر 40 اور 41 کی تلاوت فرمائی،
    " وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ o فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ "
    ترجمہ : جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اُس نے اپنے نفس کو خواہشات میں پڑنے سے بچا لیا تو ایسے شخص کا ٹھکانہ جنت ہوگی"
    اِس کے بعد نوجوان نے بادشاہ سلامت سے کہا،

    " میں آپکو گارنٹی دیتا ہوں کہ آپ جنتی بھی ہیں، اور آپکی طلاق بھی نہیں ہوئی۔
    عزیز دوستو !مسلمان ہونے کے ناطے ہم ہر وقت جنت کے متلاشی ہوتے ہیں،
    لیکن آپ اِس واقعے سے اندازہ لگائیے کہ جنت تو ہر وقت ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے،
    اِس کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ، ہم خوفِ خدا کی وجہ سے ہر اُس گناہ سے توبہ کریں جس کو کرنے کی ہمارے اندر طاقت اور قدرت موجود ہوتی ہے۔
    *اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خوف میں مبتلا رکھے اور ہر قسم کے گناہ سے بچائے رکھے۔آمین
  8. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔ اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کیلو کیلے چاہیئں، کیا بھاؤ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔ دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔ عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہوں گے۔
    عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔ یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کر چیز دے دوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔ دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے، اُس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔
    گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اُس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو​
  9. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    دوسگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے .
    لیکن ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آ ئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا
    ․․․․اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل بلڈو زر سے میر ے اور اپنے گھروں درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھاڑی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے.
    میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا ۔
    ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .
    موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گئے ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں․․․ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔
    صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ،وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھاڑی کھود دی تھی.
    جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھاڑی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔
    دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا .
    بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ اسے ابھی اور بہت سے”پُل “ بنانے ہیں۔
    برائے مہربانی کوشش کریں کہ لوگوں کے درمیان پل بنائیں دیواریں نہ بنائیں.​
  10. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت سعد بن مالک رضی اﷲ عنہ کا واقعہ
    حضرت سعد بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا جب مجھے اﷲ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگیں:'' بچے نیا دین تو کہاں سے نکال لیا ہے . سنو ! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دست بردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوںگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی.'' میں نے اسلام کو نہ چھوڑا، میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور چوطرف سے لوگ مجھ پر آوازے کسنے لگے کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے. میرا بہت دل تنگ ہوا . میں نے اپنی والدہ کی خدمت میں بار بار عرض کیا، خوشامدیں کیں، سمجھایا کہ اﷲ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ . یہ تو نا ممکن ہے کہ میں دین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو چھوڑ دوں اسی بحث و تمحیص میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میری اچھی ماں جان، سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ہو. واﷲ! ایک نہیں تمہاری ایک سو جانیں ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں ، تو بھی میں آخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑوں گا. واﷲ! نہ چھوڑوں گا. اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شروع کردیا.
    (تفسیر ابن کثیر ، جلد4 )
    ( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 62-61)​
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    330
    موصول پسندیدگیاں:
    174
    ملک کا جھنڈا:
    آپ نے درست فرمایا میں بہت حساس طبیعت کی ہوں
    حنا شیخ 2 نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    206
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    ملک کا جھنڈا:

    کہتے ہیں کہ ایک مرید کو زیارت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت شوق تھا.
    وہ اپنے پیر صاحب کے پاس گئے اور اپنی طلب کا اظہار کیا.
    پیر صاحب نے کہا ٹھیک ہے میں تمہیں زیارت کا نسخہ کیمیاء سمجھا دوں گا, لیکن اس کے لیے دو دن کا وقت درکار ہو گا. لہذا دو دن تک تم نے ایسے ہی کرنا ہے جیسے میں کہوں. مرید جو کہ حکم کا غلام تھا راضی ہو گیا.
    پیر صاحب نے فرمایا کہ کل رات کا کھانا آپ نے میری طرف کھانا ہے, میری طرف سے آپ کی دعوت ہے. اور کرنا یہ ہے کہ ابھی سے لے کر کل رات تک بلکہ پرسوں صبح تک تم نے پانی نہیں پینا ہے, باقی کھانا کھاؤ بےشک. مرید وعدہ کر کے چلا گیا. وہ پورا دن اور اگلی شام تک مرید نے وعدے کے مطابق پانی نہیں پیا, بہت پیاس لگی لیکن برداشت کیا اور صبر کیا. لیکن ہر وقت پانی پینے کا خیال اور طلب زہن میں رہی.
    شام کو وہ اپنے پیر صاحب کے گھر کھانے پر پہنچ گیا. پیر صاحب نے بےشمار مرغن کھانے بنواے ہوے تھے, مرید نے حکم کے مطابق پر تکلف ہو کر کھایا تو پانی کی طلب میں شدت اور بھی بڑھ گئی لیکن پانی پینے کی اجازت نہ تھی. پیر صاحب نے فرمایا اب اپنے گھر جا کر سو جاو اور کل فجر کے بعد میرے پاس آنا. مرید چلا گیا اور اگلی صبح جب مرشد کے پاس حاضر ہوا تو پیر صاحب نے پوچھا بیٹا رات خواب میں کیا دیکھا؟
    مرید نے عرض کی حضور ہر طرف پانی ہی دیکھتا رہا ہوں ساری رات.
    پیر صاحب نے شفقت فرمائی اور مرید کو پانی پلا کر سیر کیا پھر فرمایا.
    دیکھو بیٹا جس چیز کی طلب ہمارے اندر شدت اختیار کر جاۓ کہ ہر وقت زہن اور سوچ میں بھی وہی چیز ہو تو پھر وہی کچھ خواب میں بھی نظر آتا ہے.
    زیارت رسول صل اللی علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی طلب میں شدت پیدا کرو, اپنی سوچ کو آپ کی یاد سے مزین کرو, دیدار کا انتظار کرو, اہتمام کرو.... تو خود بہ خود ہی زیارت ہو جاے گی ان شاء اللہ اور ہوتی رہ گی.

    اللہ پاک ہم سب کو اپنے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرنور زیارت نصیب فرماۓ آمین.

اس صفحے کو مشتہر کریں