1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں

'نعتِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏21 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,904
    موصول پسندیدگیاں:
    569
    ملک کا جھنڈا:
    کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں
    عجب سلیقے شہ زماں کے ، عجب قرینے حضور کے ہیں
    حرا سے کرنوں کی جگمگاہٹ ہمارے دل تک پہنچ رہی ہے
    یہ گھڑیاں پل پل مسرتوں کی ، یہ لمحے پیہم سرور کے ہیں
    میں دل میں جھانکوں تو دیکھتا ہوں جھلک ترے روضہِ حسیں کی
    کہ فاصلے جو نگاہ میں ہیں ، مغالطے نزد و دور کے ہیں
    حبیب مولائے کل کے اعجاز و فقر و جود و سخا کے آگے
    جو ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں صنم متاع غرور کے ہیں
    مرے نبی کی نظر مکمل جمالِ یزداں میں منہمک ہے
    مقام سدرہ کی وسعتوں میں کہاں حجابات طور کے ہیں
    خدا سے بندے کی قربتوں میں کوئی مزاحم نہیں ہے اصغر
    جو اٹھ رہیں ہیں گماں کے پردے یہ سب کرشمے حضور کے ہیں​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں