1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کُچھ بھی نہیں

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سلطان میر, ‏8 اگست 2006۔

  1. سلطان میر
    آف لائن

    سلطان میر ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2006
    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    کُچھ بھی نھیں
    [font=Arial, sans-serif]ہم سرگراں ہر دَم رھے حاصل مگر کُچھ بھی نہیں
    ھے پھر سفر پیشِ نظر رختِ سفر کُچھ بھی نہیں
    ھم کو ڈراتے ہو کیا تُم مُشکلوں سے دوستو!
    عادی ھوےھم سختیوں کے اب خطر کُچھ بھی نہیں
    گو مُشکلیں ہیں ہر قدم دُشمن مِرے سب ہیں مگر!
    ماں کی دُعا سنگ ہے مِرے مُجھ کو فِکر کُچھ بھی نہیں
    جس میں خلُوصِ دِل نہ ھو اُس سے شِفاء کیسے مِلے
    اے چارہ گر! تیری دوا میں اب اثر کُچھ بھی نہیں
    تاریکیاں ہیں اِسقدر رَستہ کہِیں دِکھتا نہیں
    تارے سبھی گُم ہیں یہاں شمس و قمر کُچھ بھی نہیں
    سُلطاں سفر اِک دِن ختم ھو گا سبھی کا دیکھنا
    سفر و مُسافر میں یہاں یارو اَمَر کُچھ بھی نہیں۔[/font]​
     
  2. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    70
    گو مُشکلیں ہیں ہر قدم دُشمن مِرے سب ہیں مگر!
    ماں کی دُعا سنگ ہے مِرے مُجھ کو فِکر کُچھ بھی نہیں​

    بہت خوب سلطان بھائی!
     
  3. کنول
    آف لائن

    کنول ممبر

    شمولیت:
    ‏4 اگست 2006
    پیغامات:
    161
    موصول پسندیدگیاں:
    1

    بہت خوب سلطان جی،۔۔۔۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں