1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کورونا وائرس: کیا تمباکونوش زیادہ خطرے میں ہیں؟ ۔۔۔۔۔ رضوان عطا

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏28 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,935
    موصول پسندیدگیاں:
    578
    ملک کا جھنڈا:
    کورونا وائرس: کیا تمباکونوش زیادہ خطرے میں ہیں؟ ۔۔۔۔۔ رضوان عطا

    تمباکو نوشی دنیا میں موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یہ 80 لاکھ افراد کی موت کا باعث بنتی ہے۔ اب خیال کیا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد تمباکو نوشوں میں مرض شدید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
    برطانوی سیکرٹری صحت میٹ ہینکوک نے کہا ہے کہ ماضی میں مختلف اقسام کے کورونا وائرسز پر ہونے والی تحقیقات سے یہ خاصا واضح ہو چکا ہے کہ تمباکو نوشی سے ان کے اثرات میں شدت آتی ہے۔
    ہم جانتے ہیں کہ تمباکو نوش دوسروں کی نسبت نظام تنفس کی بیماریوں میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں جن میں عام نزلہ شامل ہے، جس کا سبب بھی کورونا وائرس کی ایک قسم ہوتی ہے۔ ان میں بیکٹیریل نمونیا اور ٹیوبرکلوسس (ٹی بی) میں مبتلا ہونے کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والی وباء مڈل ایسٹرن ریسپی ریٹری سینڈروم (ایم ای آر ایس) میں دیکھا گیا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہلاکت کا امکان نہ کرنے والوں سے زیادہ ہے۔
    علاوہ ازیں تمباکو نوشوں میںدوسروں کی نسبت نزلے میں مبتلا ہونے اور اس کی شدید علامات ظاہر ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔
    البتہ جہاں تک نئے کورونا وائرس سے پیدا شدہ مرض کووڈ19- اور تمباکو نوشی کے مابین تعلق کا معاملہ ہے تو شواہد کم واضح ہیں۔ تمباکو نوشوں کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکان پر قدرے تشویش ظاہر کی گئی ہے کیونکہ سگریٹ پیتے ہوئے ہاتھ بار بار منہ کی طرف جاتا ہے، نیز منہ میں دبانے سے قبل سگریٹ کو آلودہ ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوش حقہ اکٹھے بھی پیتے ہیں جس سے کووڈ 19- کی منتقلی ہو سکتی ہے۔
    البتہ جریدہ ''نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ میں چین میں وباء کے پھیلاؤ پر شائع شدہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ19- کے 15 فیصد مریض اب یا ماضی میں تمباکو نوش تھے۔ چین میں تمباکو نوشوں کے تناسب کو دیکھتے ہوئے، جو آبادی میں 20 فیصد ہیں، سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تمباکو نوشوں کو اس میں مبتلا ہونے کازیادہ خطرہ نہیں۔
    البتہ شواہد سے یہ پتا چلتا ہے کہ اگر تمباکو پینے والا اس وائرس میں مبتلا ہو جائے تو اس پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی تحقیق چین میں 1099 مریضوں پر ہوئی جس میں پتا چلا کہ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت تمباکو نوشوں میں شدید علامات کا امکان 1.4 گنا اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں داخلے، وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑنے یا مرنے کا امکان 2.4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
    کووڈ19-میں مبتلا 78 افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی تمباکو نوشوں میں نسبتاً زیادہ شدید علامات پائی گئیں۔
    تاہم بعض تحقیقات میں نتائج برعکس آئے ہیں، ان کے مطابق تمباکو پینے والوں اور نہ پینے والوں کی موت کی شرح میں قابل ذکر فرق نہیں۔ خیال رہے کہ یہ تحقیقات چھوٹے پیمانے پر تھیں۔
    تمباکو نوشوں میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے،کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ان میں سانس لینے میں دشواری اور نمونیا جیسے شدید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے نظام تنفس کی صحت خراب ہوتی ہے۔
    ان میں کرونک اوبسٹرکٹو پُلمونیری ڈیزیز (سی او پی ڈی) کے مسئلے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ پھیپھڑوں کا ایک مرض ہے جو اس وائرس سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔
    علاوہ ازیں تمباکو نوشی ایسے مسائل کا باعث بھی بنتی ہے جن کا نظام تنفس سے تعلق نہیں ہوتا جیسا کہ امراض قلب اور سرطان۔ ان کے مریض اگر کورونا وائرس کا شکار ہو جائیں تو ان میں پیچیدگیاں بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
    ان تمام مسائل میں آکسیجن کی ضرورت بڑھ جاتی ہے یا جسم کی آکسیجن کو اچھی طرح استعمال کرنے کی استعداد کم ہو جاتی ہے اور کووڈ19- کی صورت میں اس کا نتیجہ نمونیا جیسے پھیپھڑوں کے سنجیدہ مسئلے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
    تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تمباکو نوشی سے قوت مدافعت کم ہوتی ہے اور انفیکشن کا اثر بڑھ جاتا ہے۔
    تمباکو کا دھواں نہ صرف قوت مدافعت کے خلیوں کے افعال پر دباؤ ڈالتا ہے بلکہ پھیپھڑوں میں سوزش کے خلیوں کو متحرک اور داخل کرتا ہے، جس سے بعض دیگر کیمیکلز بھی خارج ہوتے ہیں، جن کا مدافعتی خلیوں پر مزید منفی اثر پڑتا ہے۔ غالباً اسی لیے تمباکو نوش اگر کووڈ19- میں مبتلا ہو جائیں تو انہیں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    تمباکو نوشوں کو درپیش خطرے پر ایک دلچسپ نظریہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ایک پروٹین جسے انجیوٹنسین کنورٹنگ انزائم2- (اے سی ای2) آخذے سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ آخذے نظام تنفس کی بیرونی سطح کے خلیوں میں پائے جاتے ہیں۔ بڑھوتری اور پھیلاؤ کے لیے کووڈ19- کے وائرس کا اس آخذے پر بیٹھنا ضروری ہے۔
    ہم جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی سے اے سی ای2 آخذوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، پس وائرس کو خلیوں میں مداخلت اور اپنی نمو کے لیے زیادہ آخذے میسر آتے ہیں۔ اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ کووڈ19- کا شکار ہونے کے بعد تمباکو نوش کو سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔
    یہ نظریہ مفروضے کی بنیا دپر ہے اور یہ سمجھنا ابھی باقی ہے کہ اے سی ای2 آخذوں کی کمی بیشی سے کووڈ19- کے شکار افراد پر کس طرح کے اثرات پڑتے ہیں۔
    غالباً تمباکو نوشوں میں کووڈ19- کی علامات کی شدت مختلف عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے جن میں تمباکو نوشی سے پیداشدہ صحت کے مسائل، نظام تنفس کی صحت کا انحطاط، اے سی ای2 آخذوں کا مبینہ کردار، بیک وقت مسائل پیدا ہونا اور نظام مدافعت پر دباؤشامل ہیں۔
    ان تمام نکات سے ایک نتیجہ واقعی نکلتا ہے، تمباکو نوشی ترک کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
    (ترجمہ: رضوان عطا) بشکریہ ''الجزیرہ‘‘
    ۔۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں