1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کورونا انفیکشن کے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات ..... تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏15 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,911
    موصول پسندیدگیاں:
    571
    ملک کا جھنڈا:
    کورونا انفیکشن کے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات ..... تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

    کورونا وائرس نے دنیا بھر میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ کئی ممالک میں سخت لاک ڈائون کے باعث سڑکیں اور گلیاں، شہر میدان اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    عجیب مرض ہے جس کا علاج ہے تنہائی
    بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں
    مریضوں میں زیادہ تر کھانسی، نزلہ، زکام اور سانس چڑھنے کی علامات ہیں۔ اکثر کو صرف واجبی سی علامات ہوتی ہیں۔ مگر ہر مریض یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کہیں مجھے کورونا کی بیماری تو نہیں ہو گئی۔ ’’میں کورونا سے محفوظ ہوں‘‘ کہیں مجھے کورونا انفیکشن تو نہیں ہوگیا؟ تسلی دینا پڑتی ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ہر مریض سوال پوچھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اب کیا ہوگا؟ کورونا وائرس نے اب ہمارے ممالک کا رُخ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کیے گئے حکومتی اقدامات قابل تعریف ہیں۔ بقائے شہر اب شہر کے اجڑنے یعنی تنہا اور اکیلا رہنے میں ہے۔ جو گھر کے اندر ہے اور اس کی نقل و حرکات گھر کی چار دیواری کے اندر ہیں۔ وہ خود بھی محفوظ ہے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ گھر میں ایک فرد کو اگر کورونا کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر دوسرے اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ اس لیے جو محدود ہے وہ حقیقتاً محفوظ ہے۔ کورونا وائرس کے معاشرتی اثرات کے ساتھ اس کے نفسیاتی اثرات بھی ہو رہے ہیں۔ نیند کم ہونے سے سر درد اور چڑ چڑے پن کی شکایت بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی مریضوں کی بھوک اور نیند کم ہو گئی ہے۔کورونا انفیکشن کی وجہ سے لوگ معاشرتی ناہمواری اور بے اعتدالی کا شکار ہو رہے ہیں۔میل جول کم ہونے سے ہر آدمی اداس اور ڈپریشن کا شکار ہے کیونکہ ہم روزانہ اپنے رشتے داروں سے ملے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ ہم کورونا سے اتنے پریشان نہیں جتنا کہ ملاقاتیں کم ہونے پر ہیں۔لیکن یہ وقت بھی جلد ہی گزر جائے گا۔
    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
    غریب بھی پریشان ہیں اور امیر بھی۔ دیہاڑی دار مزدور پریشان ہے کہ لاک ڈائون کے باعث دیہاڑی نہیں ملے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے قابل تحسین اعلان کیا ہے کہ لاکھوں مزدورں کو تین ہزار روپے مہینہ راشن کے لیے دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی اپنی تجوریوں کے منہ کھولیں اور ان کے آس پاس مزدوروں کا خیال رکھیں ۔ راشن اور دوسری ضروری اشیاء ان کے گھر پہنچائیں، سماجی طور پر ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو سہارا دیا جائے تاکہ وہ لاک ڈائون کے دنوں میں ذہنی انتشار کا شکار نہ ہوں ۔بیماری سے بچنے کے لیے احتیاط لازم ہے۔ اپنے آپ کو محدود کرنا ضروری ہے۔
    کورونا انفیکشن نے کروڑوں انسانوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔دنیا بھر کے نوجوان، بوڑھے، بچے اس کے خطرات کے باعث نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ہر چھوٹا بڑا ذہنی اضطراب اور ذہنی انتشار کا شکار ہے، ڈیپریشن میں مبتلا ہے۔
    کچھ اس کا بھی علاج اے چارہ گر ہے کہ نہیں
    حکومتی اقدامات کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔
    اس وقت پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگوں کی عموماً اور میڈیکل طبقے کی خصوصاً ذمہ داری ہے کہ عوام الناس کو کورونا وائرس انفیکشن سے آگاہ کریں۔ انہیں احتیاطی تدابیر کرنے کے بارے میں بتلائیں۔ کیونکہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد ذریعہ اپنے آپ کو گھروں تک محدود رکھنا ہے۔ اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔ اسلام عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے، یہ جسمانی صفائی اور روحانی بالیدگی پر زیادہ زور دیتا ہے۔ بار بار اپنے ہاتھ منہ دھو کر آپ خود کو اور اپنے پیاروں کو کورونا انفیکشن سے بچا سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق شروع کے دنوں میں کورونا وائرس بہت طاقتور اور جان لیوا تھا لیکن اب اس کا نسبتاً کمزور Strain ہے ، یہ زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہو رہا۔ انشاء اللہ ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید کمزور ہو جائے گا اور اپنی تباہ کاریوں اور بربادیوں سے لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر سکے گا۔ مزید برآں، ہمارے لوگوں میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت بھی بہت زیادہ ہے۔
    یہ ہم سب کی معاشرتی ذمہ داری ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں کو اپنانے کے لئے عوام الناس میں شعور پیدا کیا جائے ، انہیں بتایا جائے کہ گھروں میں رہنا ضروری ہے ۔ بڑی عمر کے لوگوں کی صحت کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کیونکہ کورونا انفیکشن سے زیادہ تر 70 تا 85 سال کے وہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی سانس کی تکلیف، دل کی بیماری، شوگر یا کسی اور مرض میں مبتلا ہیں۔ بڑی عمر کے لوگوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے اور کورونا وائرس ان کے پھیپھڑوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے سانس اکھڑنے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے تقریباً ناکارہ ہو جاتے ہیں ۔شدید ہونے کی صورت میں موت واقع ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں کو ان کے کمروں تک مقید کر دیا جائے ۔ اگر گھر میں کسی ایک کو مرض لگ جائے تو پھر دوسروں کو بھی لگنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ مسجدوں میں بھی فرض نمازیں پڑھی جائیں، پرانی صفیں ،دریاں اور قالین اٹھا دیئے جائیں ۔فرش کو صابن اور اس مقصد کے لئے بناء گئے کیمیکلز سے اچھی طرح صاف کیا جائے ۔دنیا بھر کے ڈاکٹرز، فارماکولوجسٹ اور فارماسسٹ اس تگ و دو میں ہیں کہ کورونا کے خلاف ویکسین یا کوئی کارگر دوا بنا لیں مگر اس میں مہینوں لگیں گے۔ چند ایک دوائوں کے نام بھی لیے جا رہے ہیں جیسے کلوروکین وغیرہ۔ ایسے میں ہم نے بھی کورونا انفیکشن کے مریضوں میں قوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے ان کے پھیپھڑے مضبوط بنانے کے لیے ہلدی، زیتون کے تیل، شہد اور ملٹھی پر مشتمل ایک شربت متعارف کروایا ہے ۔ بہت سے مریضوں نے بتایا ہے کہ اس سے ان کی طبیعت بحال ہوئی ہے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی جائے ،توبہ ،استغفار کیا جائے۔ صلوٰۃ الحاجت اور دو رکعت نمازِ نفل توبہ ادا کی جائے۔ ساری انسانیت کے لیے دعا کرتے ہیں کیونکہ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا‘‘۔ آپ ﷺنے فرمایا پوری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا: بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس سے شفا بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں۔ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺنے فرمایا کہ ہر بیماری کے لیے دوا ہے اور جب اس دوا کا اثر بیماری کی ماہیت کے مطابق ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بیماری سے شفا دیتے ہیں۔ جب وبائیں پھیل جائیں تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور استغفار کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہو جاتی ہے اور کوئی بھی وبا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس کے ساتھ بلائوں اور وبائوں کو ٹالنے کے لیے صدقہ کرنا بڑا اہم ہے۔ روزانہ اپنا اور اپنے بچوں کا صدقہ دیا کیجیے۔کورونا انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کے مطابق بار بار اپنے ہاتھ دھوئیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں