1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کورونا : احتیاط اور علاج ....... تحریر : ڈاکٹر سہیل اختر

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 مارچ 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,492
    موصول پسندیدگیاں:
    499
    ملک کا جھنڈا:
    کورونا : احتیاط اور علاج ....... تحریر : ڈاکٹر سہیل اختر

    دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان بھی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ ابتدا میں سفر کرنے والے افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ہمسایہ ممالک سے آمدو رفت کے باعث طبی ماہرین نے اس وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے ائیر پورٹس پر سکریننگ سمیت دیگر حفاظتی اقدامات اور شہریوں میں شعور و آگاہی بڑھانے کی کوششوں کے باوجود وائرس سے متاثرہ افراد کا ملک میں داخل ہونا حکومتی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ضرور ہے ۔ تاہم کورونا وائرس کے باعث حفظان صحت کے اصولوں کو روز مرہ زندگی میں مدنظر رکھنے اور صفائی ستھرائی کو بطور عادت اپنانے کی جس قدر اہمیت آج سامنے آئی ہے، اس میں بھی ایک خیر کا پہلو موجود ہے۔
    کورونا وائرس کی کئی اقسام ہیں۔ عام طور پر یہ وائرس اُن جانداروں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں۔ یہ ان کے نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
    اس کی 6 اقسام ایسی ہیں جو انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے حالیہ وائرس کو کورونا کی ساتویں قسم کے طور پر شناخت کیا ہے۔ اس قسم کا وائرس اس سے قبل کبھی کسی جاندار میں نہیں پایا گیا جس کی وجہ سے اس کا فی الوقت کوئی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے جو اس وائرس کے شکار لوگوں کے لیے کارآمد ہو، تاہم طبی محققین اس کا علاج دریافت کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس کی ویکسین کو تیار کرلیا جائے گا۔
    اپنے اثرات کے اعتبار سے کورونا وائرس فوری طور پر انسانی جان کے لیے مہلک نہیں۔ اس کی ابتدائی علامات انتہائی معمولی ہوتی ہیں۔ یہ انسانوں کے نظام تنفس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ عام طور پر سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے۔اس کی ابتدائی علامات میں سانس پھولنا، بخار ہونا اور کھانسی /چھینک شامل ہیں۔
    ہمارے ہاں اکثر گھروں میں کھانسی /چھینک اور بخار عام ہوتا ہے جس پر بجا طور پر ہمارے ملک میں بھی خوف کی ایک لہر دوڑ گئی اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کہیں وہ بھی اس وائرس کا شکار تو نہیں ہو گئے۔
    اگر کوئی شخص جس نے گزشتہ دو ہفتوں میں ایران، چین، امریکہ، جاپان، تھائی لینڈ، کوریا، تائیوان یا دوسرے کسی متاثرہ ملک کا سفر کیا ہو اور اس میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری یا نمونیہ کا مسئلہ ہو تو اسے فی الفور متعلقہ ادارے یا ڈاکٹر سے کورونا وائرس کے حوالے سے رجوع کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جن میں اگرچہ یہ علامات نہ پائی جائیں لیکن انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں میں کسی دوسرے متاثرہ ملک کا سفر کیا ہو، انہیں بھی اپنا طبی معائنہ کروانا چاہیے۔
    ایسے لوگ جنہوں نے بیرون ملک سفر نہیں کیا، ان میں اگر ایسی علامات پائی جائیں تو انہیں بھی محتاط رہنا چاہیے اور ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
    کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں اس کی افزائش یعنی انفیکشن ہونے اور علامات نظر آنے میں محض چند دن لگتے ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو تو عموماً 5 دن کے اندر اس میں یہ علامات دکھائی دینے لگتی ہیں۔ بعض اوقات علامات کے ظاہر ہونے میں 10 سے زیادہ روز لگتے ہیں۔
    اس وائرس سے بچاؤ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ممکن ہے۔ جیسے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح اور بار بار دھونا چاہیے۔ کھانسی یا چھینک کی صورت میں اپنے منہ کو ڈھانپنا چاہیے۔
    ہمارے ہاں اکثر ایسی صورت میں ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں۔ عمومی حالات میں بھی اس عادت کو بدلنا چاہیے کیونکہ منہ سے خارج ہونے والے جراثیم ہاتھوں پر منتقل ہوجاتے ہیں اور کسی دوسرے کو ہاتھ ملانے سے ان کے مسلسل پھیلاؤ کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ جب کھانسی یا چھینک آئے تو ٹشو پیپر سے منہ کو ڈھانپا جائے اور اگر ٹشو پیپر دستیاب نہ ہو تو اپنی کہنی کو منہ پر رکھا جائے۔ اس سے جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے ہاتھ دھونے اور کھانسی /چھینک میں منہ کو ٹشو، رومال یا کہنی سے ڈھانپنے کی عادات کو اختیار کرنا چاہیے۔
    جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے لوگوں کو چاہیے کہ اس کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھو لیں، کپڑے تبدیل کر لیں اور ان کی دیکھ بھال کے دوران ماسک پہنے رکھیں۔
    صحت مند افراد کوتنہائی میں یا دوسروں سے مناسب فاصلے (3 سے 6 فٹ)پر ہونے کی صورت میں چہرے پر حفاظتی ماسک پہننے کی ضرورت نہیں۔ ماسک پہننے کی ضرورت ان افراد کو ہے جو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوں ۔ اس وقت پاکستان میں متعدد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کو بھی ماسک استعمال کرنا چاہیے جو نزلہ، زکام میں مبتلا ہوں یا جنہیں کھانسی یا چھینک آرہی ہو۔ اس موسم میں عمومی طور پر بہت سے لوگوں کو کھانسی یا نزلہ زکام ہوتا ہے، انہیں تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان تمام افراد کو کورونا وائرس ہو۔
    ایسی بیماریوں سے بچنے کے لیے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق طرز زندگی اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں بطور عادت اس چیز کو اپنانا چاہیے کہ کھانسی یا چھینک کی صورت میں منہ کو کپڑے، ٹشو یا کہنی سے ڈھانپا جائے۔ ہمارے ہاں عموماً کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو ڈھانپا ہی نہیں جاتا اور اگر ڈھانپنا بھی ہو تو ہاتھوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ ہاتھ کسی اور کو ملانے سے جراثیم کے پھیلاؤ کا امکان موجود ہوتا ہے۔
    عالمی ادارہ صحت نے بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو ہی محفوظ ترین ذریعہ قرار دیا ہے اور اپنی گائیڈ لائنز میں کہا ہے کہ بار بار صابن سے ہاتھوں کو دھویا جائے، سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہا جائے اور کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ٹشو پیپر، رومال یا کہنی سے ڈھانپ لیا جائے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں