1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کلیات اقبال رحمۃ اللہ

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏20 جولائی 2011۔

  1. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    شام و فلسطین

    رندان فرانسیس کا میخانہ سلامت
    پر ہے مے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا
    ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
    ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا
    مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
    قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا
     
  2. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    سیاسی پیشوا

    امید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
    یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند
    ہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کی
    جہاں میں ہے صفت عنکبوت ان کی کمند
    خوشا وہ قافلہ، جس کے امیر کی ہے متاع
    تخیل ملکوتی و جذبہ ہائے بلند!
     
  3. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    نفسیات غلامی

    سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب
    کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی
    دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ
    دیکھتے ہیں فقط اک فلسفہ روباہی
    ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید
    قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللّٰہی!
     
  4. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    غلاموں کی نماز

    (ترکی وفدہلال احمر لاہور میں)
    کہا مجاہد ترکی نے مجھ سے بعد نماز
    طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام
    وہ سادہ مرد مجاہد، وہ مومن آزاد
    خبر نہ تھی اسے کیا چیز ہے نماز غلام
    ہزار کام ہیں مردان حر کو دنیا میں
    انھی کے ذوق عمل سے ہیں امتوں کے نظام
    بدن غلام کا سوز عمل سے ہے محروم
    کہ ہے مرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام
    طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجب ہے
    ورائے سجدہ غریبوں کو اور کیا ہے کام
    خدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
    وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام!
     
  5. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    فلسطینی عرب سے

    زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
    میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
    تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
    فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
    سنا ہے میں نے، غلامی سے امتوں کی نجات
    خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے!
     
  6. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    مشرق و مغرب

    یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
    وہاں مرض کا سبب ہے نظام جمہوری
    نہ مشرق اس سے بری ہے، نہ مغرب اس سے بری
    جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری
     
  7. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    نفسیات حاکمی
    (اصلاحات)


    یہ مہر ہے بے مہری صیاد کا پردہ
    آئی نہ مرے کام مری تازہ صفیری
    رکھنے لگا مرجھائے ہوئے پھول قفس میں
    شاید کہ اسیروں کو گوارا ہو اسیری!
     
  8. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    محراب گل افغان کے افکار
     
  9. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱)

    میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
    تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک
    روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و چرغ
    لالہ و گل سے تہی، نغمہ بلبل سے پاک
    تیرے خم و پیچ میں میری بہشت بریں
    خاک تری عنبریں، آب ترا تاب ناک
    باز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و حمام
    حفظ بدن کے لیے روح کو کردوں ہلاک!
    اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا
    خلعت انگریز یا پیرہن چاک چاک!
     
  10. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۲)

    حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام
    نگاہ پیر فلک میں نہ میں عزیز، نہ تو
    خودی میں ڈوب، زمانے سے نا امید نہ ہو
    کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمامِ رفو
    رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
    اتر گیا جو ترے دل میں ’لَاشَرِیک لَہ‘
     
  11. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۳)

    تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
    مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے
    تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
    عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے
    وہی شراب، وہی ہاے و ہو رہے باقی
    طریق ساقی و رسم کدو بدل جائے
    تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
    مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے!
     
  12. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۴)

    کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ
    سب راہرو ہیں واماندۂ راہ
    کڑکا سکندر بجلی کی مانند
    تجھ کو خبر ہے اے مرگ ناگاہ
    نادر نے لوٹی دلّی کی دولت
    اک ضرب شمشیر، افسانہ کوتاہ
    افغان باقی، کہسار باقی
    اَلحُکمُ ِﷲ! اَلمُلکُ ﷲ
    حاجت سے مجبور مردان آزاد
    کرتی ہے حاجت شیروں کو روباہ
    محرم خودی سے جس دم ہوا فقر
    تو بھی شہنشاہ، میں بھی شہنشاہ!
    قوموں کی تقدیر وہ مرد درویش
    جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ
     
  13. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۵)

    یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو
    اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو
    وہ علم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں
    جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو
    ناداں! ادب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہے
    اسباب ہنر کے لیے لازم ہے تگ و دو
    فطرت کے نوامیس پہ غالب ہے ہنر مند
    شام اس کی ہے مانند سحر صاحب پرتو
    وہ صاحب فن چاہے تو فن کی برکت سے
    ٹپکے بدن مہر سے شبنم کی طرح ضو!
     
  14. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۶)

    جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
    ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
    تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
    کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ
    اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!
    ہے جس کے تصور میں فقط بزم شبانہ
    لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
    مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ
     
  15. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۷)

    رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان
    تو بھی اے فرزند کہستاں! اپنی خودی پہچان
    اپنی خودی پہچان
    او غافل افغان!
    موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
    جس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان
    اپنی خودی پہچان
    او غافل افغان!
    اونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ کیسا دریاے
    جس کی ہوایں تند نہیں ہیں، وہ کیسا طوفان
    اپنی خودی پہچان
    او غافل افغان!
    ڈھونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ
    اس بندے کی دہقانی پر سلطانی قربان
    اپنی خودی پہچان
    او غافل افغان!
    تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
    عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
    اپنی خودی پہچان
    او غافل افغان!
     
  16. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۸)

    زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر
    شپرک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہنر
    لیکن اے شہباز! یہ مرغان صحرا کے اچھوت
    ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر
    ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
    روح ہے جس کی دم پرواز سر تا پا نظر!
     
  17. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۹)

    عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس
    پر شہباز سے ممکن نہیں پرواز مگس
    یوں بھی دستور گلستاں کو بدل سکتے ہیں
    کہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثل قفس
    سفر آمادہ نہیں منتظر بانگ رحیل
    ہے کہاں قافلۂ موج کو پروائے جرس!
    گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
    مردہ ہے، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس
    پرورش دل کی اگر مد نظر ہے تجھ کو
    مرد مومن کی نگاہ غلط انداز ہے بس!
     
  18. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۰)

    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
    اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ کر
    اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاری
    عجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز
    کہ نیستاں کے لیے بس ہے ایک چنگاری
    خدا نے اس کو دیا ہے شکوہ سلطانی
    کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کراری
    نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
    یہ بے کلاہ ہے سرمایہ کلہ داری
     
  19. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۱)

    جس کے پرتو سے منور رہی تیری شب دوش
    پھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغ خاموش
    مرد بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گلہ
    بندہ حر کے لیے نشتر تقدیر ہے نوش
    نہیں ہنگامہ پیکار کے لائق وہ جواں
    جو ہوا نالہ مرغان سحر سے مدہوش
    مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
    اور عیار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش
     
  20. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۲)

    لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں الجھا تو
    دارو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُو ‘
    صیاد معانی کو یورپ سے ہے نومیدی
    دلکش ہے فضا، لیکن بے نافہ تمام آہو
    بے اشک سحر گاہی تقویم خودی مشکل
    یہ لالہ پیکانی خوشتر ہے کنار جو
    صیاد ہے کافر کا، نخچیر ہے مومن کا
    یہ دیر کہن یعنی بتخانۂ رنگ و بو
    اے شیخ، امیروں کو مسجد سے نکلوا دے
    ہے ان کی نمازوں سے محراب ترش ابرو
     
  21. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۳)

    مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے دگرگوں
    معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا
    ہر سینے میں اک صبح قیامت ہے نمودار
    افکار جوانوں کے ہوئے زیر و زبر کیا
    کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی
    اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا
    ممکن نہیں تخلیق خودی خانقہوں سے
    اس شعلہ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا!
     
  22. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۴)

    بے جرأت رندانہ ہر عشق ہے روباہی
    بازو ہے قوی جس کا، وہ عشق یداللہٰی
    جو سختی منزل کو سامان سفر سمجھے
    اے وائے تن آسانی! ناپید ہے وہ راہی
    وحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانی!
    کہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہی
    دنیا ہے روایاتی، عقبی ہے مناجاتی
    در باز دو عالم را، این است شہنشاہی!
     
  23. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۵)

    آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد
    مشکل نہیں اے سالک رہ! علم فقیری
    فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق
    پیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں حریری
    خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہر الٰہی
    ہو صاحب غیرت تو ہے تمہید امیری
    افرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہ
    اے بندئہ مومن! تو بشیری، تو نذیری!
     
  24. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۶)

    قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
    ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!
    جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند
    اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
    اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسر
    جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی
    در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں یافت
    اے بندئہ مومن تو کجائی، تو کجائی
    خورشید! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
    پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی
     
  25. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۷)

    آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
    لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحب یقیں
    ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی
    وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں
    تو اپنی سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
    خالی رکھی ہے خامہ حق نے تری جبیں
    یہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں
    ہمت ہو پرکشا تو حقیقت میں کچھ نہیں
    بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں
    زیر پر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!
     
  26. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۸)

    یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
    کہ امتیاز قبائل تمام تر خواری
    عزیز ہے انھیں نامِ وزیری و محسود
    ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری
    ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی
    کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زناری
    وہی حرم ہے، وہی اعتبار لات و منات
    خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت کاری!
     
  27. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۱۹)

    نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
    نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں
    فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
    قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں
    کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
    علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
    اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
    ترے بدن میں اگر سوزِ ’لاالٰہ‘ نہیں
    سنیں گے میری صدا خانزادگان کبیر؟
    گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں!
     
  28. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,851
    موصول پسندیدگیاں:
    1,755
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    (۲۰)

    فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
    یا بندۂ صحرائی یا مرد کہستانی
    دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوںگر کا
    ہے اس کی فقیری میں سرمایۂ سلطانی
    یہ حسن و لطافت کیوں؟ وہ قوت و شوکت کیوں
    بلبل چمنستانی، شہباز بیابانی!
    اے شیخ! بہت اچھی مکتب کی فضا، لیکن
    بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
    صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
    تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی!
     
  29. UrduLover
    آف لائن

    UrduLover ممبر

    شمولیت:
    ‏1 مئی 2015
    پیغامات:
    812
    موصول پسندیدگیاں:
    712
    ملک کا جھنڈا:
    کيا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کي داستاں
    مجھ سے کچھ پنہاں نہيں اسلاميوں کا سوز و ساز

    لے گئے تثليث کے فرزند ميراثِ خليل
    ! خشتِ بنيادِ کليسا بن گئي خاکِ حجاز

    ! ہوگئي رسوا زمانے ميں کلاہِ لالہ رنگ
    ! جو سراپا ناز تھے، ہيں آج مجبورِ نياز

    لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس
    وہ مےء سرکش، حرارت جس کي ہے مينا گداز

    حکمتِ مغرب سے ملت کي يہ کيفيت ہوئي
    ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر ديتا ہے گاز
    ہوگيا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
    مضطرب ہے تو کہ تيرا دل نہيں دانائے راز
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں