1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کلیات اقبال رحمۃ اللہ

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏20 جولائی 2011۔

  1. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    اہل ہنر سے

    مہر و مہ و مشتری، چند نفس کا فروغ
    عشق سے ہے پائدار تیری خودی کا وجود
    تیرے حرم کا ضمیر اسود و احمر سے پاک
    ننگ ہے تیرے لیے سرخ و سپید و کبود
    تیری خودی کا غیاب معرکہ ذکر و فکر
    تیری خودی کا حضور عالم شعر و سرود
    روح اگر ہے تری رنج غلامی سے زار
    تیرے ہنر کا جہاں دیر و طواف و سجود
    اور اگر باخبر اپنی شرافت سے ہو
    تیری سپہ انس و جن، تو ہے امیر جنود!
     
  2. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    غزل

    دریا میں موتی، اے موج بے باک
    ساحل کی سوغات! خاروخس و خاک
    میرے شرر میں بجلی کے جوہر
    لیکن نیستاں تیرا ہے نم ناک
    تیرا زمانہ، تاثیر تیری
    ناداں! نہیں یہ تاثیر افلاک
    ایسا جنوں بھی دیکھا ہے میں نے
    جس نے سیے ہیں تقدیر کے چاک
    کامل وہی ہے رندی کے فن میں
    مستی ہے جس کی بے منّت تاک
    رکھتا ہے اب تک مےخانۂ شرق
    وہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراک
    اہل نظر ہیں یورپ سے نومید
    ان امتوں کے باطن نہیں پاک
     
  3. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    وجود

    اے کہ ہے زیر فلک مثل شرر تیری نمود
    کون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقامات وجود!
    گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر
    وائے صورت گری و شاعری و ناے و سرود!
    مکتب و مے کدہ جز درس نبودن ندہند
    بودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود
     
  4. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    سرود

    آیا کہاں سے نالۂ نے میں سرور مے
    اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوب نے
    دل کیا ہے، اس کی مستی و قوت کہاں سے ہے
    کیوں اس کی اک نگاہ الٹتی ہے تخت کے
    کیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام میں حیات
    کیوں اس کے واردات بدلتے ہیں پے بہ پے
    کیا بات ہے کہ صاحب دل کی نگاہ میں
    جچتی نہیں ہے سلطنت روم و شام و رے
    جس روز دل کی رمز مغنی سمجھ گیا
    سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے
     
  5. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    نسیم و شبنم

    نسیم
    انجم کی فضا تک نہ ہوئی میری رسائی
    کرتی رہی میں پیرہن لالہ و گل چاک
    مجبور ہوئی جاتی ہوں میں ترک وطن پر
    بے ذوق ہیں بلبل کی نوا ہائے طرب ناک
    دونوں سے کیا ہے تجھے تقدیر نے محرم
    خاک چمن اچھی کہ سرا پردہ افلاک!
    شبنم
    کھینچیں نہ اگر تجھ کو چمن کے خس و خاشاک
    گلشن بھی ہے اک سر سرا پردہ افلاک
     
  6. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    اہرام مصر

    اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں
    فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر
    اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک
    کس ہاتھ نے کھینچی ابدیت کی یہ تصویر!
    فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
    صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ نخچیر!
     
  7. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    مخلوقات ہنر

    ہے یہ فردوس نظر اہل ہنر کی تعمیر
    فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانۂ ذات
    نہ خودی ہے، نہ جہان سحر و شام کے دور
    زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات
    آہ، وہ کافر بیچارہ کہ ہیں اس کے صنم
    عصر رفتہ کے وہی ٹوٹے ہوئے لات و منات!
    تو ہے میت، یہ ہنر تیرے جنازے کا امام
    نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!
     
  8. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    اقبال

    فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی
    مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش
    حلاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر
    اک مرد قلندر نے کیا راز خودی فاش!
     
  9. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    فنون لطیفہ

    اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
    جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا
    مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
    یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا
    جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا
    اے قطرئہ نیساں وہ صدف کیا، وہ گہر کیا
    شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
    جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا
    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا!
     
  10. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    صبح چمن

    پھول
    شاید تو سمجھتی تھی وطن دور ہے میرا
    اے قاصد افلاک! نہیں، دور نہیں ہے
    شبنم
    ہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشن
    یہ نکتہ کہ گردوں سے زمیں دور نہیں ہے
    صبح
    مانند سحر صحن گلستاں میں قدم رکھ
    آئے تہ پا گوہر شبنم تو نہ ٹوٹے
    ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش، و لیکن
    ہاتھوں سے ترے دامن افلاک نہ چھوٹے!
     
  11. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    خاقانی

    وہ صاحب ’تُحفةالعراقَین،
    ارباب نظر کا قُرّةالعَین
    ہے پردہ شگاف اس کا ادراک
    پردے ہیں تمام چاک در چاک
    خاموش ہے عالم معانی
    کہتا نہیں حرف ’لن ترانی‘!
    پوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیز
    ہنگامۂ این و آں ہے کیا چیز
    وہ محرم عالم مکافات
    اک بات میں کہ گیا ہے سو بات
    ”خود بوے چنیں جہاں تواں برد
    کابلیس بماند و بوالبشر مرد!“
     
  12. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    رومی

    غلط نگر ہے تری چشم نیم باز اب تک
    ترا وجود ترے واسطے ہے راز اب تک
    ترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب تک
    کہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب تک
    گسستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تک
    کہ تو ہے نغمۂ رومی سے بے نیاز اب تک!
     
  13. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    جدت

    دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
    افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے
    خورشید کرے کسب ضیا تیرے شرر سے
    ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے
    دریا متلاطم ہوں تری موج گہر سے
    شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے
    اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی!
    کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
     
  14. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    مرزا بیدل

    ہے حقیقت یا مری چشم غلط بیں کا فساد
    یہ زمیں، یہ دشت، یہ کہسار، یہ چرخ کبود
    کوئی کہتا ہے نہیں ہے، کوئی کہتاہے کہ ہے
    کیا خبر، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود!
    میرزا بیدل نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہ
    اہل حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی کشود!
    ”دل اگر میداشت وسعت بے نشاں بود ایں چمن
    رنگ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود“
     
  15. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    جلال و جمال

    مرے لیے ہے فقط زور حیدری کافی
    ترے نصیب فلاطوں کی تیزی ادراک
    مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
    کہ سر بسجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک
    نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر
    نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک
    مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ
    کہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک!
     
  16. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    مصور

    کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ تخیل
    ہندی بھی فرنگی کا مقلد، عجمی بھی!
    مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد
    کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی
    معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے کمالات
    صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی، نئی بھی
    فطرت کو دکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تو نے
    آئینۂ فطرت میں دکھا اپنی خودی بھی!
     
  17. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    سرود حلال

    کھل تو جاتا ہے مغنی کے بم و زیر سے دل
    نہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود!
    ہے ابھی سینۂ افلاک میں پنہاں وہ نوا
    جس کی گرمی سے پگھل جائے ستاروں کا وجود
    جس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف سے پاک
    اور پیدا ہو ایازی سے مقام محمود
    مہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ رہے
    تو رہے اور ترا زمزمۂ لا موجود
    جس کو مشروع سمجھتے ہیں فقیہان خودی
    منتظر ہے کسی مطرب کا ابھی تک وہ سرود!
     
  18. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    سرود حرام

    نہ میرے ذکر میں ہے صوفیوں کا سوز و سرور
    نہ میرا فکر ہے پیمانۂ ثواب و عذاب
    خدا کرے کہ اسے اتفاق ہو مجھ سے
    فقیہ شہر کہ ہے محرم حدیث و کتاب
    اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام
    حرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب!
     
  19. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    فوارہ

    یہ آبجو کی روانی، یہ ہمکناری خاک
    مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ نظارہ
    ادھر نہ دیکھ، ادھر دیکھ اے جوان عزیز
    بلند زور دروں سے ہوا ہے فوارہ
     
  20. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    شاعر

    مشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس نے
    شاعر! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہے
    تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم
    اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لے
    شیشے کی صراحی ہو کہ مٹی کا سبو ہو
    شمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مے
    ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے
    بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے
    ہر لحظہ نیا طور، نئی برق تجلی
    اﷲ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!
     
  21. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    شعر عجم

    ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک و دل آویز
    اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز
    افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں
    بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز
    وہ ضرب اگر کوہ شکن بھی ہو تو کیا ہے
    جس سے متزلزل نہ ہوئی دولت پرویز
    اقبال یہ ہے خارہ تراشی کا زمانہ
    ’از ہر چہ بآئینہ نمایند بہ پرہیز‘
     
  22. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    ہنروران ہند

    عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
    ان کے اندیشہ تاریک میں قوموں کے مزار
    موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں
    زندگی سے ہنر ان برہمنوں کا بیزار
    چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
    کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
    ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
    آہ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!
     
  23. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    مرد بزرگ

    اس کی نفرت بھی عمیق، اس کی محبت بھی عمیق
    قہر بھی اس کا ہے اﷲ کے بندوں پہ شفیق
    پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں
    ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق
    انجمن میں بھی میسر رہی خلوت اس کو
    شمع محفل کی طرح سب سے جدا، سب کا رفیق
    مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں
    بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق
    اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
    اس کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق
     
  24. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    عالم نو

    زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر
    خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر
    اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے
    کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر
    بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کف خاک
    روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی تکبیر
     
  25. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    ایجاد معانی

    ہر چند کہ ایجاد معانی ہے خدا داد
    کوشش سے کہاں مرد ہنر مند ہے آزاد!
    خون رگ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
    میخانہ حافظ ہو کہ بتخانہ بہزاد
    بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
    روشن شرر تیشہ سے ہے خانہ فرہاد!
     
  26. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    موسیقی

    وہ نغمہ سردی خون غزل سرا کی دلیل
    کہ جس کو سن کے ترا چہرہ تاب ناک نہیں
    نوا کو کرتا ہے موج نفس سے زہر آلود
    وہ نے نواز کہ جس کا ضمیر پاک نہیں
    پھرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میں
    کسی چمن میں گریبان لالہ چاک نہیں
     
  27. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    ذوق نظر

    خودی بلند تھی اس خوں گرفتہ چینی کی
    کہا غریب نے جلاد سے دم تعزیر
    ٹھہر ٹھہر کہ بہت دل کشا ہے یہ منظر
    ذرا میں دیکھ تو لوں تابناکی شمشیر!
     
  28. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    شعر

    میں شعر کے اسرار سے محرم نہیں لیکن
    یہ نکتہ ہے، تاریخ امم جس کی ہے تفصیل
    وہ شعر کہ پیغام حیات ابدی ہے
    یا نغمہ جبریل ہے یا بانگ سرافیل!
     
  29. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    رقص و موسیقی

    شعر سے روشن ہے جان جبرئیل و اہرمن
    رقص و موسیقی سے ہے سوز و سرور انجمن
    فاش یوں کرتا ہے اک چینی حکیم اسرار فن
    شعر گویا روح موسیقی ہے، رقص اس کا بدن!
     
  30. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    9,872
    موصول پسندیدگیاں:
    1,758
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کلیات اقبال رحمۃ اللہ

    ضبط

    طریق اہل دنیا ہے گلہ شکوہ زمانے کا
    نہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شان درویشی
    یہ نکتہ پیر دانا نے مجھے خلوت میں سمجھایا
    کہ ہے ضبط فغاں شیری، فغاں روباہی و میشی!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں