1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کس سیارے پر کتنی دیرزندہ رہیں گے؟

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏3 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,347
    موصول پسندیدگیاں:
    188
    ملک کا جھنڈا:

    کس سیارے پر کتنی دیرزندہ رہیں گے؟
    [​IMG]
    برائٹ سائیڈ

    آپ فرض کر یں کہ ہم انسانوں نے مخصوص آلات کے بغیر خلا میں سانس لینا سیکھ لیا ہے اور نظامِ شمسی کے کسی بھی سیارے پر جانے کا طریقہ بھی جان لیا ہے۔ مستقبل قریب میں ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم کیا معلوم خلا میں عام لوگوں کا سفر ہمارے تصور سے بھی قبل رائج ہو جائے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حفاظتی آلات کے بغیر نظام شمسی کے مختلف سیاروں پر پہنچنے کی صورت میں انسان کیسا محسوس کرے گا۔ عطارد اگر آپ کو کبھی اس سیارے کا دورہ کرنے کا موقع ملے تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے وقت کی دھار کے ساتھ چلنا ہو گا۔ عطارد میں درجہ حرارت انتہائی تیزی سے بدلتا ہے۔ دن میں درجہ حرارت 426.6 سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے اور رات کے وقت منفی 178.8 سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ عطارد سست رفتاری سے گھومتا ہے، اس لیے بچاؤ کا راستہ یہ ہے کہ اس مقام پر رہیں جہاں دن اور رات کی آمد کے درمیان درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے۔ یہ مقام بدلتا رہے گا اور معتدل درجہ حرات کے علاقے میں ٹھہرنے کے لیے آپ کے پاس صرف 90 سیکنڈ ہوں گے۔ زہرہ اگر آپ کو زہرہ پر قدم رکھنے کا موقع مل بھی جائے تو آپ کے پاس اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک سیکنڈ ہی ہوگا۔ یہاں لطف اندوز کا لفظ طنزاً استعمال ہوا ہے، یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس ایک سیکنڈ میں کون سی شے آپ کو موت کی وادی میں لے جائے۔ اس سیارے کی 98 فیصد فضا کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے اور زمین کی نسبت دباؤ 90 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی ساری سطح گہرے بادلوں سے ڈھکی ہے جو سلفیورک ایسڈ کی بارش برساتے ہیں۔ نیز یہ گرم ہے، بہت زیادہ گرم۔ یہاں اوسط درجہ حرارت 426 سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے۔ مریخ خلا میں انسانی آبادی بسانے کا اولین امیدوار مریخ ہے، تاہم یہاں آپ 80 سیکنڈ ہی رہ سکتے ہیں۔ اس کی فضا میں 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ مریخ بہت سرد ہے۔ اس کا درجہ حرارت منفی 153 سینٹی گریڈ سے 20 سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ مشتری نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ مشتری آپ کے ساتھ ایک سیکنڈ ہی نبھا کرے گا۔ یہ جسیم سیارہ آپ کو اپنی ہواؤں اور طوفانوں سے دہلا کر رکھ دے گا، ان کا مقابلہ انسانی جسم کے بس کا روگ نہیں۔ یہ سیارہ بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنی گیسوں میں گھرا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں آنے والا بھنور گرم گیسوں کو سیارے کی سطح پر لا کر امونیا کے جمے ہوئے کرسٹل بناتے ہیں۔ یہ تصور ہی محال ہے کہ اس قدر خطرناک اور زہریلے ماحول میں کوئی زندہ رہ پائے گا۔ زحل یہ بھی نظام شمسی کا ایک بڑا سیارہ ہے اور آپ کو ایک سیکنڈ سے کم وقت ٹھہرنے کی اجازت دے گا۔ گیسوں کے بادلوں کے علاوہ یہاں بہت تیز ہوائیں چلتی ہیں جو 1800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کی سطح پر اتنے خطرناک بگولے بنتے ہیںکہ پلک جھپکنے سے پہلے آپ خود گرد بن کر اڑ جائیں گے۔ یورینس اس سیارے کو پانی، ایمونیا اور میتھیں کے گرم مرکب نے گھیر رکھا ہے۔ آپ کو غالباً یہاں قدم رکھنے کا موقع ہی نہیں ملے گا، آپ تقریباً اسی وقت مرکب میں تحلیل ہو جائیں گے۔ یہاں کی زمین بھی ایسی نہیں کہ آپ پاؤں جما سکیں۔ نیپچون اس سیارے پر زندہ رہنے کے لیے انسان کے لیے وقت ایک سیکنڈ سے بھی کم ہے۔ یہاں کے ہولناک حالات لمحہ بھر میں کسی بھی شے کو تباہ کر دیں گے۔ اس کا سبب یہاں کی حد درجہ تیز ہوائیں ہیں۔ نیپچون کی خوفناک ہواؤں کی رفتار بعض اوقات آواز کی رفتار سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر کسی دن سائنس دان ہمارے نظامِ شمسی میں سفر کرنے اور تمام زہریلی گیسوں، ہولناک ہواؤں اور سخت درجہ حرارت سے نپٹنے کا حل تلاش کر لیتے ہیں تو پھر آپ کس سیارے پر جانا چاہیں گے؟ کون جانتا ہے کہ کسی روز یہ ممکن ہو، چند برس قبل تک تو انسانوں کے مریخ پر جانے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا جا رہا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ ایسا ممکن ہو گا۔ اس لیے شاید ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ ناممکن ہے، بلکہ کہنا چاہیے فی الحال یہ ناممکن ہے۔ (ترجمہ: رضوان عطا)​
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں