1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

++کرکٹ ورلڈ کپ 2007++

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏14 فروری 2007۔

?

ورلڈ کپ کی فاتح کونسی ٹیم ہوگی ؟؟

  1. پاکستان

    0 ووٹ
    0.0%
  2. آسٹریلیا

    0 ووٹ
    0.0%
  3. بھارت

    0 ووٹ
    0.0%
  4. انگلینڈ

    0 ووٹ
    0.0%
  5. ساؤتھ افریقہ

    0 ووٹ
    0.0%
  6. ویسٹ انڈیز

    0 ووٹ
    0.0%
  7. سری لنکا

    0 ووٹ
    0.0%
  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ’پاکستان کے پاس سب سے زیادہ میچ وِنر‘

    عبدالرشید شکور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    ورلڈ کپ کے لئے اعلان کردہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں جن میں اچھی کارکردگی کی توقعات کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی ہیں۔
    سابق کپتان عمران خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم ورلڈ کپ میں فیورٹ ہے لیکن بقیہ تمام ٹیموں کے مقابلے میں پاکستان کے پاس سب سے زیادہ میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں۔ اگر وہ فٹ رہے اور پاکستانی ٹیم مثبت اور جارحانہ حکمت عملی کے مطابق کھیلی تو اچھے نتائج دے سکتی ہے‘۔

    سابق کپتان عامرسہیل کے خیال میں منتخب کردہ ٹیم متوازن ہے البتہ وہ عمران نذیر کے مقابلے میں عمران فرحت کو موقع دینے کے حق میں ہیں۔

    سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’تین اہم بولرز کا فٹنس مسائل سے دوچار ہونا اور اہم بیٹسمینوں کا فارم میں نہ ہونا نیک شگون نہیں ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم فارم میں آتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی وکٹوں اور موسمی حالات سے جلد ازجلد ہم آہنگ ہوگئی تو وہ اچھی کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے‘۔


    ہارون رشید کا کہنا ہےکہ ’چار سال قبل جنوبی افریقہ میں منعقدہ عالمی کپ کے بعد سے اس ورلڈ کپ تک کا سفر حوصلہ افزا نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ کھلاڑیوں کا ان فٹ ہونا کھیل کا حصہ ہے اور ہر ٹیم اس کا شکار ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ متواتر تبدیلیوں کے سبب پاکستانی ٹیم سیٹ نہیں ہوسکی۔ چار سال کے عرصے میں یاسرحمید، عمران فرحت، سلمان بٹ اور توفیق عمر کو کھلایا جاتا رہا اور جب ورلڈ کپ کا وقت آیا تو اچانک عمران نذیر ٹیم میں شامل کرلئے گئے‘۔

    سابق فاسٹ بولر سکندربخت بھی موجودہ صورتحال کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم ناقابل اعتبار ہے اور وہ اچانک گر کر سنبھلتی ہے لہذا اس سے کسی بھی وقت چونکا دینے والی کارکردگی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بظاہر یہ متوازن ٹیم ہے لیکن ڈوپنگ اور فٹنس کے معاملات نے بے یقینی کی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔انہیں اب بھی یقین نہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف ورلڈ کپ کھیل سکیں گے‘۔


    سکندر بخت بھی ہارون رشید کی طرح یہ رائے رکھتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم کا سفر درست سمت میں نہیں ہوسکا اس کی وجہ وہ کرکٹ بورڈ میں آنے والی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔

    سکندر بخت کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ سینئر کھلاڑیوں کا بیک اپ تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اس کی وجہ بھی کھلاڑی خود ہیں جو نہیں چاہتے کہ کوئی نیا کھلاڑی ٹیم میں آئے اور ان کی پوزیشن خطرے سے دوچار ہو‘۔

    سکندر بخت کے خیال میں کوچ باب وولمر بھی پاکستانی معاشرے کے رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ ’ایسا کئی بار ہوا کہ کیمپ لاہور میں لگا ہوا ہے اور وہ ملک سے باہر رہے ہیں۔وہ اچھے کوچ ضرور ہوں گے لیکن پاکستانی ٹیم کو وہ کھلاڑیوں کے بیک اپ تیار کرکے نہ دے سکے۔ اوپننگ کا مسئلہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسئلہ جاری رہا حالانکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان ٹرینرز اور فزیو کو بھاری معاوضوں پر رکھا ہوا ہے جن کے لئے باب وولمر نے کہا تھا‘۔

    سابق فاسٹ بولر جلال الدین کا کہنا ہے کہ ’ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم سے غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ فارم اور فٹنس کے مسائل کے ساتھ ویسٹ انڈیز جائے گی اور ان کے خیال میں اس کا سیمی فائنل تک پہنچنا مشکل نظرآتا ہے‘۔
     
  2. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    خدا خیر کرے ۔

    بظاہر تو حالات بہت خراب نظر آرہے ہیں۔ ہماری باؤلنگ ہمارا پلس پوائنٹ ہے اور یہ پلس پوائنٹ انجریز اور سیاست کی وجہ سے نیگٹو پوائنٹ بن چکا ہے۔

    بیٹنگ میں اوپننگ جوڑی آج بھی قابلِ اعتماد نہیں۔ انضمام خاصا پریشان اور آؤٹ آف فارم نظر آتا ہے۔ انٹرویو میں یوں لگتا ہے جیسے تبلیغی اجتماع میں بیٹھا واعظ فرما رہا ہے۔

    اللہ تعالی ہی کوئی کرشمہ دکھا دے تو دکھا دے ورنہ اب کی دفعہ سیمی فائنل تک رسائی بھی مشکل نظر آتی ہے
     
  3. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    کمال ہے عمران خان جیسے تجربہ کار اور زیرک شخص نے یہ کیسے کہہ دیا ؟؟

    ابھی کچھ دن پہلے تو کسی ٹی وی چینل پر وہ پاکستانی ٹیم کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے۔ سلیکشن بورڈ سے لے کر کپتان تک سب کو کوس رہے تھے ۔ اور آج انکے نام سے ایسا بیان شائع ہو گیا ہے۔

    آخر آدمی کس پر بھروسہ کرے ؟؟؟
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ورلڈ کپ میں کوئی بھی ٹیم فیورٹ نہیں ہے۔ انضمام الحق​



    پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ عالمی کپ میں اچھی کارکردگی کے ساتھ اچھی قسمت بھی بہت ضروری ہے۔ کوئی ایک ٹیم ہارٹ فیورٹ نہیں کہی جاسکتی ۔ کافی ٹیموں کے امکانات ہیں ۔
    انہوں نے کہا کہ قسمت نے 1992 کے عالمی کپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کا بہت ساتھ دیا تھا اور اگر ہماری ٹیم کے ساتھ اسی طرح قسمت کا ساتھ رہا تو ہم بھی جیت سکتے ہیں۔

    انضمام الحق نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی ٹیم کافی متوازن ہے تاہم یہ دعوٰی تو نہیں کیا جاسکتا کہ ہم جیت کر آئیں گے لیکن بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ ضرور کریں گے۔ کھلاڑی محنت کر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ہم جیت بھی جائیں۔

    انضمام کے مطابق وہ کسی ٹیم کو بھی عالمی کپ کے لیے فیورٹ تو نہیں سمجھتے البتہ تین چار میچز میں آسٹریلیا کی شکست کے بعد لوگ آسٹریلوی ٹیم کے بارے میں غلط اندازے لگا رہے ہیں۔ جو ٹیم گزشتہ پندرہ سال سے کرکٹ پر حکمرانی کر رہی ہے تین چار میچ ہارنے سے اسے کمزور نہیں سمجھا جاسکتا اور وہ ابھی بھی فیورٹ سمجھی جا سکتی ہے۔

    انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیم ابھی تک گومگو کا شکار ہے۔ ’ہماری پوری ٹیم کیا ہوگی یہ ابھی تک معلوم نہیں۔ یہ واقعی ہمارے لیے ایک مشکل وقت ہے کیونکہ اس وقت تک ہمیں پوری طرح آگاہی ہونی چاہیے تھی کہ ہماری اصل طاقت کیا ہے تاکہ ہم بہتر منصوبہ بندی کر سکیں جبکہ ہمارے دو اہم کھلاڑی شعیب اختر اور محمد آصف کی صورتحال واضح نہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ فٹ ہو جائیں اور ٹیم کا حصہ بن سکیں اور ان دونوں کی اہمیت کے پیش نظر ہی انہیں فٹ ہونے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے‘۔

    انضمام نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم فیلڈنگ کے شعبے پر خاص توجہ دیں کیونکہ اگر فیلڈنگ کی بدولت 15 سے 20 رنز بچالیں اور کیچز کے مواقع ضائع نہ کریں تو کافی اچھے نتائج ہو سکتے ہیں۔

    فٹنس مسائل

    بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ کی نسبت ٹیم کی فٹنس زیادہ تشویشناک مسئلہ ہے کیونکہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ہارنے کی وجہ فٹنس مسائل تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر جنوبی افریقہ میں بیٹسمین سکور نہیں کر سکے تو عالمی کپ میں بھی نہیں کریں گے۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے حالات میں کافی فرق ہے اور عالمی کپ میں ہمارے بیٹسمین بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔

    انضمام نے کہا کہ بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ کی نسبت ٹیم کی فٹنس زیادہ تشویشناک مسئلہ ہے کیونکہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ہارنے کی وجہ فٹنس کے مسائل تھے۔ اگر چھ سے سات کھلاڑی ان فٹ ہو جائیں تو ٹیم کا کمبی نیشن خراب ہو جاتا ہے لیکن جب بھی ہماری ٹیم اپنی پوری قوت کے ساتھ کھیلی ہے تو جیتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں کو احساس ہے کہ عالمی کپ اہم ٹورنامنٹ ہے اور تمام لڑکے کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں اس لیے وہ خود کو فٹ رکھنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔

    اوپننگ کے مسئلے کی بابت انضمام کا کہنا تھا کہ وہ چار دن میں اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔

    انضمام نے کہا کہ بقیہ ٹیموں کی طرح ان کا ٹارگٹ بھی عالمی کپ جیتنا ہے کیونکہ ’ باقی سب پوزیشنیں تو ایک جیسی ہی ہوتی ہیں‘۔

    ذرائع : بی بی سی اردو
     
  5. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    کمال ہے۔ ایسے انٹرویو سے تو لگتا ہے کپتان صاحب خود ہی مایوس ہیں۔ قوم کو کیا خاک نوید سنائیں گے؟؟؟
     
  6. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ عبدالرزاق بھی زخمی ہو کر 3 ہفتے کے لیے ٹیم سے آؤٹ ہو گیا ہے ۔ اب اظہر محمود کو آل راؤنڈرز کے درجے میں ساتھ بھیجا جا رہا ہے۔

    اتنے زخمی کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کو ورلڈ کپ میں کھلانا بھی شاید ایک ریکارڈ ہو جائے گا۔
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    شعیب اور آصف ورلڈ کپ سے آؤٹ

    شعیب اختر اور محمد آصف ورلڈ کپ سے باہر​



    شعیب اختر اور محمد آصف ویسٹ انڈیز میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ میں فٹنس کے مسائل کی وجہ سے حصہ نہیں لیں گے۔
    اس بات کا اعلان جمعرات کو پاکستانی ٹیم کی ویسٹ انڈیز روانگی کے موقع پر کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر نے صحافیوں کے سامنے کیا۔

    یہ دونوں فاسٹ بولرز فٹنس مسائل کے ساتھ ساتھ ڈوپنگ کے خطرے سے بھی دوچار تھے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں کے ورلڈ کپ نہ کھیلنے کی وجہ فٹنس بتائی ہے۔

    شعیب اختر اور محمد آصف کی جگہ یاسرعرفات اور محمد سمیع کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی سے درخواست کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ یہ دونوں متبادل کھلاڑی آئندہ دو روز میں ویسٹ انڈیز روانہ ہوں گے۔

    آل راؤنڈر عبدالرزاق کے ان فٹ ہوجانے کے نتیجے میں پاکستان پہلے ہی اظہرمحمود کو سکواڈ میں شامل کرچکا ہے جبکہ آئی سی سی کی جانب سے پابندی کی وجہ سے شاہد آفریدی پہلے دو میچوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔


    پاکستانی فاسٹ بولنگ کی ذمہ داری محمد سمیع کے کاندھوں پر آ پڑی ہے

    کپتان انضمام الحق نے شعیب اختر اور محمد آصف کے ٹیم سے باہر ہونے کو ایک دھچکا قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی طور بھی ٹیم کے لیے آئیڈیل نہیں کہی جا سکتی کہ اس کے دو اہم بولرز فٹنس کلیئر نس حاصل نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق کی کمی بھی شدت سے محسوس ہوگی۔

    انضمام الحق نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ ٹیم متحد ہو کر بہتر کارکردگی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا ان فٹ ہونا کھیل کا حصہ ہے جس پر کسی کا بس نہیں۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر نے شعیب اختر اور محمد آصف کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کو ٹیم کے لیے نقصان دہ قراردیا تاہم انہیں امید ہے کہ ٹیم اس مسئلے سے قابو پاتے ہوئے میدان میں اچھی کارکردگی دکھائی دے گی۔

    شعیب اختر اور محمد آصف کے بارے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ یہ خبریں مسلسل شائع کرتے آئے ہیں کہ دونوں کے انگلینڈ جانے کی وجہ گھٹنے اور کہنی کے علاج سے زیادہ وہاں دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کرانا تھی جس میں پہلے کے مقابلے میں کوئی بہتری نہ آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان مبینہ خفیہ ڈوپ ٹیسٹ کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

    پاکستان کی تیرہ رکنی ٹیم جمعرات کو ورلڈ کپ کے لیے روانہ ہوئی ہے جس میں انضمام الحق( کپتان)، عمران نذیر، محمد حفیظ، یونس خان، محمد یوسف، شعیب ملک، رانا نویدالحسن، اظہرمحمود، کامران اکمل، شاہد آفریدی، راؤ افتخار، دانش کنیریا اور عمرگل شامل ہیں۔

    بشکریہ : بی بی سی اردو
     
  8. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    پنجابی میں کہتے ہیں

    “روندے گئے تو مرے ہویاں دیاں خبراں“

    یعنی جو گھر سے ہی روتے پیٹتے نکلے تو باہر سے بھی کوئی خیر کی خبر نہیں لائے گا بلکہ کسی فوتگی و مرگ کی ہی خبر لائے گا۔
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ذرایہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے

    زباں پر جب مریض ہجر فریادِ دلی لایا
    وفورِ غم سے یوں تڑپا عناصر کو ترس آیا
    زمیں سے آہ اٹھی اور فلک نے خون برسایا
    اثر تو ڈاکٹر صاب پر بھی ہوا لیکن فرمایا
    ذرایہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے

    مجھے ہمسائے کے گھر میں اٹھتے شعلے نظر آئے
    توقبل اس سےکہ یہ آتش مرے گھر تک پہنچ جائے
    فوراً تھانے اور فائر بریگیڈ میں دو فون کھڑ کائے
    مگر دونوں جگہ سے یہ جوابِ لا جواب آیا
    ذرا یہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے

    ابھی پچھلے دنوں جب ایک تاجر ہوگیا اغوا
    اور اس اغوا کا اخباروں میں شدت سے ہوا چرچا
    خود اس کے گھر میں تو گویا قیامت ہوگئی برپا
    رپٹ لکھوانے تھانے پہنچے تو ایس ایچ بولا
    ذرایہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے

    مرا اک دوست مدت بعد مجھ سے ملنے آیا کل
    یہیں دل کا پڑا دورہ تو میں بھی ہوگیا بیکل
    وہ بولا تیسرا دورہ ہے دل کے وارڈ میں لے چل
    وہاں پہنچے تو بولا ڈاکٹر کچھ سوچ کر اک پل
    ذرایہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے

    اور اس دلہا کا قصہ آپ نے بھی تو سنا ہوگا
    اسے جب آرسی مصحف کی خاطر گھر بلوایا
    کہ لڑکا اندر آئے اور دلہن کا دیکھ لے چہرہ
    تو دروازے پہ پہنچا اور یہ کہہ کر پلٹ آیا
    ذرایہ ورلڈ کپ ہولے تو اس کے بعد دیکھیں گے



    عنایت علی خان​
     
  10. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    اتنی اچھی غزل پر داد دینے کو جی چاہتا ہے مگر
    ذرا یہ ورلڈ کپ ہو جائے پھر اسکے بعد دیکھیں گے​
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    پاکستان کی بیٹنگ ناکام ۔ ورلڈ کپ کی پہلی شکست

    بیٹنگ ناکام ، پاکستان میچ ہار گیا​



    جمیکا کے سبینا پارک میں نویں عالمی کرکٹ کپ 2007 کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے دی ہے۔

    پاکستان نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تھی۔
    پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز نے مقررہ پچاس اووروں میں نو وکٹوں کے عوض 241 رنز بنائے جبکہ پاکستان کی تمام ٹیم اڑتالیسویں اوور میں 187 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی ہے۔

    پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز عمران نذیر اور محمد حفیظ نے کیا لیکن عمران نذیر میچ کی تیسری گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوگئے۔ ان کے بعد یونس خان کھیلنے آئے لیکن وہ بھی جلد ہی محمد حفیظ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ ٹیلر کی ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر راندن کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔انہوں نے صرف نو رنز بنائے۔

    محمد حفیظ آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی تھے جو پاول کی گیند پر گیارہ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور انتالیس رنز تھا۔

    اس کے بعد محمد یوسف اور انضمام الحق نے قدرے محتاط بیٹنگ کرتے ہوئے سکور بڑھانا شروع کیا، تاہم ان کی تیز رنز بنانے کی کوشش بھی زیادہ دیر نہ چل سکی اور محمد یوسف سینتیس رنز بنا کر سمتھ کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 99 تھا۔

    بہت جلد ہی پاکستان کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب 116 پر انضمام الحق بھی آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کے طرف سے سب سے زیادہ سکور شعیب ملک نے کیا جنہوں نےچھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 62 رنز بنائے۔

    اگرچہ شعیب ملک نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا لیکن انضمام کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے جیتے امکانات تقریباً ختم ہو گئے

    عالمی کرکٹ کپ کے پہلے میچ کی خاص بات سیمیولز اور ساروان کی بیٹنگ اور پاکستان کے راؤ افتخار انجم کی نپی تلی بولنگ تھی۔ راؤ افتخار نے دس اوورز میں 44 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کے دس اوورز میں تین میڈ ان اوورز بھی تھے۔

    پاکستان کی ٹیم میں شعیب اختر اور محمد آصف کی کمی خاصی واضح طور پر محسوس کی گئی کیونکہ رانا نوید مخالف کھلاڑیوں کو بالکل پریشان نہیں کر سکے۔ اگرچہ انہوں نے ایک میڈ ان اوور بھی کیا لیکن ان کے باقی آٹھ اوورز میں 49 رنز بنے۔ پاکستان کے دوسرے سب سے کامیاب بولر عمر گل تھے جنہوں نے 38 رنز کے عوض دو وکٹ لیے۔

    میزبان ویسٹ انڈیز نے ایئن بریڈشا کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کا قدرے غیر متوقع فیصلہ کیا ہے۔ وہ اب ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں لینڈل سمنز اور ڈیون سمتھ کے ساتھ گراؤنڈ سے باہر بیٹھیں گے۔

    دوسری جانب پاکستان کے شاہد آفریدی دو میچوں کی پابندی کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہی ٹیم سے باہر ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستانی سکواڈ میں سے محمد سمیع، اظہر محمود اور یاسر عرفات بھی ٹیم میں نہیں ہیں۔

    پاکستان اور میزبان ٹیم ویسٹ انڈیز کے درمیان عالمی کپ کے پہلے میچ میں اپنی ٹیم کے امکانات کے بارے میں برائن لارا نے کہا تھا وہ پاکستان کے خلاف بہتر کارکردگی دکھائے گے کیونکہ پاکستانی ٹیم شعیب اختر، محمد آصف اور عبدالرزاق کی عدم موجودگی کی وجہ سے کمزور پڑ گئی ہے۔

    بشکریہ : بی بی سی ۔ اردو
     
  12. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:

اس صفحے کو مشتہر کریں