1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کبھی آہ لب پے مچل گئی

'اردو ادب و شعر و شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از جیلانی, ‏19 اکتوبر 2011۔

  1. جیلانی
    آف لائن

    جیلانی ممبر

    شمولیت:
    ‏20 ستمبر 2011
    پیغامات:
    72
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
  2. جیلانی
    آف لائن

    جیلانی ممبر

    شمولیت:
    ‏20 ستمبر 2011
    پیغامات:
    72
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کبھی آہ لب پے مچل گئی

    کبھی آہ لب پے مچل گئی کبھی اشک

    کبھی آہ لب پے مچل گئی کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے
    وہ تمھارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے

    میں خیال و خواب کی محفلیں نا با قدر شوق سجا سکا
    تمہاری ایک نظر کے ساتھ ہی میرے سب ارادے بدل گئے

    کبھی رنگ میں کبھی روپ میں کبھی چھاؤں میں کبھی دھوپ میں
    کہیں آفتاب نظر ہیں وہ کہیں مہتاب میں ڈھل گئے

    جو فنا ہوئے غم عشق میں انہیں زندگی کا نا غم ہوا
    جو نا اپنی آگ میں جل سکے وہ پرائی آگ میں جل گئے

    یا انہیں بھی میری طرح جنون تو پھر ان میں مجھ میں یہ فرق کیا ؟
    میں گرفت غم سے نا بچ سکا وہ حدود ای غم سے نکل گئے
     
  3. سین
    آف لائن

    سین ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جولائی 2011
    پیغامات:
    5,529
    موصول پسندیدگیاں:
    5,789
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: کبھی آہ لب پے مچل گئی

    اچھا انتخاب ہے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں