1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کالج کی یادیں(پارٹ5)

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از رفاقت حیات, ‏28 جولائی 2015۔

  1. رفاقت حیات
    آف لائن

    رفاقت حیات ممبر

    شمولیت:
    ‏14 دسمبر 2014
    پیغامات:
    318
    موصول پسندیدگیاں:
    244
    ملک کا جھنڈا:
    گزشتہ سے پیوستہ
    ہم جب نئے نئے کالج میں گئے تھے تو ہمارے سینئر ہم سے پوچھا کرتے تھے کہ اگرخالد صاحب( کیمسٹری کے پروفیسر) یا نیازی صاحب میں سے آپ کوانتخاب کرنا پڑے تو تم لوگ کن کا کرو گے؟ہم نے کہا جی خالد صاحب کا۔اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ کہ جب ہم سینئر بنے تو ہم نے بھی ’’سینیئروں ‘‘کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے

    جونئیرز سے یہی سوال کیا تو ان کا بھی ہی جواب تھا جو ہمارا تھا۔یعنی خالد صاحب کے حق میں تھا۔اس بات سے آ پ خود اندازہ لگائیں کہ وہ کس قدر اعلیٰ انسان تھے۔
    کیمسٹری کے بعد میتھ کا پیریڈ ہوتا تھا،ہمارے ہاں میتھ کا باقاعدہ ٹیچر کوئی نہیں تھا۔پہلے پہل فزکس کے پروفیسر صا حب ہی نے خدمات سر انجام دیں،لیکن اس کے بعد ایک


    اور ٹیچر کی ارینجمنٹ کر لی گئی تھی۔وہ بھی صرف فرسٹ ایئر میں انہوں نے پڑھایا اس کے بعد سیکنڈ ائیر میں ایک اور استاد آگئے۔فرسٹ ائیر میں جنہوں نے پڑھایا تھا ،انہوں نے بھی کلاس میں آتے ہی مارکر ہاتھ میں تھاما اور وائٹ بورڈ کو سکون کاسانس نہیں لینے دیا۔ایک منٹ کے لیے بھی کسی سے کوئی فالتو بات بالکل نہیں کرتے۔ایک

    دفعہ وہ سوال کر رہے تھے کہ سوال میں کہیں سے غلطی ہو گئی جو کہ کلاس کے صرف ایک لڑکے علاوہ کسی نے بھی نوٹ نہیں کی۔جب ا س لڑکے نے غلطی کی نشاندہی کی تو سر کہنے لگے کہ ’’تم سب لوگ سورہے ہو صرف یہ لڑکا جاگ رہا ہے‘‘ تو ساتھ میں بیٹھے ہوئے ایک اور لڑکے نے کہا کہ’’ سر ہم اسے جگارہے ہیں‘‘،جس پر استاد بھی مسکرا پڑے۔


    فرسٹ ائیر کے پیپرز کے بعد وہ چلے گئے اور ان کے بعد سیکنڈ ائیر میں ایک اور ٹیچر آگئے۔وہ جلد ہی ہم میں گھل مل گئے۔انہوں نے سب کور یلیکس کر دیا،فرسٹ ائیر والے ٹیچر گھر کے لیے بہت کام دیتے تھے،لیکن سیکنڈ ائیر والے سر نے کبھی ایسی ’’غلطی‘‘نہیں کی۔اس لیے سارے سٹوڈنٹس ان کو بہت پسند کرتے تھے۔اور ریاضی جو

    کہ عام طور پر بور سبجیکٹ سمجھا جاتا ہے ،وہ ہمارے لیے بور ثابت نہ ہو سکا۔کھیل کھیل میں ہی ریاضی ہوتی گئی۔پھر جو رزلٹ آیا اس کا آپ نہ ہی پوچھیئ تو بہتر رہے گا۔
    خیر ریاضی کے بعد فرسٹ ایئر میں تو اسلامیات کا پیریڈ ہوتا تھا ‘جو کہ وہی سر اٹینڈ کرتے تھے جو سیکنڈ ائیر میں اردو کا پیریڈلگاتے تھے۔وہ ایک سکو ل میں غالباً ہییڈ ماسٹر بھی رہ چکے تھے۔


    وہ سر انتہائی آرام سے بولتے تھے اور ان کا ایک مخصوص سٹائل تھا۔وہ مخاطب کو پورے نام سے پکارتے تھے ۔اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ نام کے شروع میں ’’جناب ‘‘اور نام کے آخر میں ’’صاحب ‘‘ضرور لگاتے تھے۔جیسے کہ مثال کے طور پر میرا نام رفاقت حیات ہے تو وہ یوں کہہ کر بلائیں گے کہ ‘‘جناب رفاقت حیات صاحب‘‘،ہم بھی اکثر

    ان کی نقل کرتے تھے اور کسی دوست بلانا ہو تو ہم بھی جناب اور صاحب کا اضافہ کرتے۔وہ جب بھی کسی موضوع پر بات کرتے تو دورانِ گفتگو وہ یہ کہتے کہ ’’یہ ہمارا حال ہے....‘‘میرے خیال سے ان کا یہی تکیہ کلام تھا۔جس کو ہم نے بھی اپنانا شروع کر دیا۔انہوں نے کلاس میں ایک پندرہ روزہ پروگرام شروع کیا ہوا تھا۔جس کی محرک یہ


    بات تھی کہ ہم لوگ سب کے سامنے بول نہیں سکتے تھے،کوئی سٹیج پر بولنے کے لیے کہے تو سب کی گھگھی بندھ جاتی تھی۔اس جھجک کو کم کرنے کے لیے انہوں نے سوچا کہ کلاس میں ایسا پروگرام ہونا چاہیے جس میں سب سٹوڈنٹس باری باری آئیں گے اور کچھ نہ کچھ کلاس کے سامنے پیش کریں گے۔چنانچہ اس کا کافی اثر پڑا اور ہمارا خوف کم ہوا۔

    وہ بنیادی طور پر سائنس کے ٹیچر تھے لیکن انہوں نے بعد میں سائنس پڑھانے سے توبہ کر لی اور آرٹس پڑھانے لگ گئے۔ایسا انہوں نے کئی عرصہ پہلے سے کیا ۔ایک دفعہ ایک لڑکے سے انہوں نے پوچھا کہ’’ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ کے ابو رائٹر (writer)ہیں‘‘ جس پر اس لڑکے نے جواب دیا کہ’’ نہیں سر وہ تو یہی لکھنے کا کام کرتے ہیں‘‘۔


    جس پر پوری کلاس نے قہقہے بلند کیے اور سر اپنے تکیہ کلام کو بروئے کار لاتے ہوئے گویا ہوئے کہ ‘‘یہ ہمارا حال ہے ،ایف ایس سی کے سٹوڈنٹس ہیں اور جناب کو پتہ نہیں کہ لکھنے والے کو کہتے کیا ہیں‘‘۔بات یہ نہیں تھی کہ وہ لڑکانالائق تھا، بس ذرا گڑ بڑا سا گیا تھا کیونکہ سر نے اچانک سوال کیا تھا۔


    جاری ہے۔۔۔۔۔
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    بہت عمدہ
     
    رفاقت حیات نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں