1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 ستمبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟
    [​IMG]
    ڈاکٹر نوید صالح

    خواب داخلی تجربات کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان کی آمد کے دوران آنکھیں تیزی سے حرکت کر رہی ہوتی ہیں۔ ڈراؤنے یا بھیانک خواب شدید اضطراب اور ناپسندیدہ جذبات پیدا کرتے ہیں۔ یہ عموماً رات گئے تاخیر سے آتے ہیں۔ خوابوں کے بارے میں ہونے والی بہت سی تحقیقات ان کا رشتہ ذہنی صحت سے جوڑتی ہیں۔ جب سے سگمنڈ فرائڈ نے 1899ء میں اپنی کتاب ’’خوابوں کی تعبیر‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ذہن کے لاشعور کی سرگرمیاں معلوم کرنے کی شاہراہ خوابوں کی تعبیر ہے‘‘ ماہرین اس وقت سے ذہنی امراض اور خوابوں کے مابین تعلق میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ڈراؤنے خوابوں کے بارے میں چند اہم حقائق کو ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے: 1۔ عام آبادی میں 20 میں سے ایک فرد ہر ہفتے ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔ ذہنی امراض میں مبتلا افراد میں شرح زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پی ٹی ایس ڈی (پوسٹ ٹرامینک سٹریس ڈس آرڈر) میں مبتلا تین چوتھائی افراد کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ یہ خلل اچانک آنے والے صدمے کے ذہن پر حاوی ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ ’’بارڈر لائن‘‘شخصی خلل میں مبتلا نصف تعداد کو ایسے خواب آتے ہیں۔ 2۔ چند تحقیقات کے مطابق ڈراؤنے خواب ذہنی بیماری، پی ٹی ایس ڈی اور نیند میں خلل کی پیشگی اطلاع ثابت ہو سکتے ہیں۔ 3۔ ڈراؤنے خواب عام طور پر زندگی میں کسی صدمے کے بعد آتے ہیں، ایسا صدمہ جو پی ٹی ایس ڈی میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم زندگی میں آنے والی کسی بھی دباؤ سے یہ آ سکتے ہیں۔ 4۔ پریشانی میں اضافے، واہموں کی آمد، اور زیادہ وقت سونے کا ڈراؤنے خوابوں سے اچھا خاصا تعلق پایا گیا ہے۔ 5۔ پریشانی ہو تو ڈراؤنے خواب آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ نیز جو لوگ زیادہ پریشان ہوتے ہیں انہیں زیادہ ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ 6۔ سوتے میں ڈرنے کے واقعات کے برخلاف ڈراؤنے خوابوں کی تفصیل زیادہ عرصہ یاد رہتی ہیں۔ سوتے میں ڈرنا نیند میں چلنے پھرنے یا باتیں کرنے (پیراسومنیا) کی ایک قسم ہے اور اس دوران آنکھوں کی اندرونی حرکت بھی نہیں ہوتی۔ 7۔ پی ٹی ایس ڈی میں مبتلا افراد کو جہاں اپنے صدمے سے متعلق ڈراؤنے خواب زیادہ آتے ہیں وہیں انہیں ایسے ڈراؤنے خواب بھی زیادہ آتے ہیں جن کا تعلق صدمے سے نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں، ان کے تمام ڈراؤنے خواب ان کے صدمے کے متعلق نہیں ہوتے۔ انہیں مجموعی طور پر زیادہ ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ 8۔ بعض ادویات ایسے خوابوں کا سبب بنتی ہیں۔ 9۔ جینز، دباؤ اور ذہنی صحت، یہ تمام ڈراؤنے خوابوں کی آمد میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 10۔ ذہنی صحت میں بہتری کے لیے استعمال ہونے والی ادویات جیسا کہ اینٹی ڈپریسنٹ، عموماً ڈراؤنے خوابوں کا تدارک نہیں کرتیں۔ 11۔ سائیکو تھراپی سے ڈراؤنے خوابوں کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سائیکالوجیکل ڈی سینسیٹائزیشن،ایکسپلوژر تھراپی، امیجری ری ہرسل تھراپی، اور لوسڈ ڈریمنگ تھراپی شامل ہیں۔ 12۔ امیجری ری ہرسل تھراپی میں یہ ہوتا ہے؛ مریض حال ہی میں آنے والے ڈراؤنے خواب کو بیان کرتا ہے۔ مریض ایک خواب کے ایک نئے اور مختلف انجام کو تصور میں لاتا ہے۔ اس انجام کو دو ہفتوں تک پانچ سے 10 منٹ کے لیے دہرایا جاتا ہے۔ 13۔ ذہنی بیماریوں (سائیکوسس) میں مبتلا افراد کو بے تکے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ (ترجمہ وتلخیص: رضوان عطا) بشکریہ: ’’سائیکالوجی ٹوڈے‘‘​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں