1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی ۔ کروڑوں اربوں‌کی کرپشن معاف ہوتی ہے

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از وسیم, ‏1 جون 2010۔

  1. وسیم
    آف لائن

    وسیم ممبر

    شمولیت:
    ‏30 جنوری 2007
    پیغامات:
    953
    موصول پسندیدگیاں:
    43
    ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی....سب جھوٹ…امر جلیل


    ایک بڑھیا روتی ، بلکتی ،آنسو بہاتی میرے پاس آئی اور کہنے لگی ”میں نے تمہاری بڑی تعریف سنی ہے بیٹا “۔
    ”تعریف اس خدا کی جس نے مجھے بنایا“۔
    سہارا دیکر بڑھیا کو کرسی پر بٹھاتے ہوئے میں نے پوچھا” کیسے آنا ہوا ہے، اماں؟“
    بڑھیا نے چادر سے ناک صاف کرتے ہوئے چار دیواری کی طرف دیکھا اور کہا ” میں نے سنا ہے کہ تم دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہو؟“
    ”اسی نیک مقصد کے لئے میں نے یہ دفتر کھول رکھا ہے “ میں نے کہا ”مجھے بتاؤ اماں، میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“
    میرے دفتر کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھتے ہوئے بڑھیا نے پوچھا”یہ کسی این جی او کا دفتر تو نہیں ہے ؟“
    ”نہیں اماں“ میں نے کہا ”یہ کسی این جی او کا دفتر نہیں ہے۔ یہ پی جی او کا دفتر ہے“۔
    روتے ہوئے آثار قدیمہ جیسی بڑھیا نے کہا۔ ”تمہارا پی جی او کہیں کسی این جی او کا ٹیلنٹڈ کزن تو نہیں ہے ؟“
    ”ارے نہیں اماں “ میں نے کہا ”پی جی او سے میری مراد پرائیویٹ گورنمنٹ آرگنائزیشن “"۔
    بتاؤ ماں، تمہارا مسئلہ کیا ہے؟میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟“
    بڑھیا نے آنسو بہاتے ہوئے کہا ”میرا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ میں تمہاری فیس نہیں دے سکتی “۔
    ”میں دیسی رابن ہڈ ہوں اماں“ میں نے کہا ۔”میں امیروں سے بھاری فیس لیتا ہوں اور تم جیسے لوگوں کے کام کر کے ان کی دعائیں لیتا ہوں۔ مجھے بتاؤ، تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟“
    بڑھیا نے دردناک لہجے میں کہا” میرا بیٹا تریسٹھ برسوں سے جیل میں بند ہے “۔
    ”تریسٹھ برسوں سے ؟“ میں نے چونک کر پوچھا ۔
    ”کیا کیا تھا تمہارے بیٹے نے ؟“
    ”یہ 1947ئکی بات ہے “ بڑھیا نے روتے ہوئے کہا ۔ “گھر میں فاقہ کشی تھی۔ میرا بیٹا ایک بیکری سے ڈبل روٹی چرا کر بھاگا، راستے میں پکڑا گیا۔ تب سے جیل میں ہے“۔
    بڑھیا کی کہانی سن کر مجھے تعجب ہوا ۔ میں نے بڑھیا سے پوچھا ”تم مجھ سے کیا چاہتی ہو ؟“
    بڑھیا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا” صدر صاحب سے کہہ کر میرے بیٹے کو جیل سے رہائی دلوا دو “۔
    ،میں نے نفی میں سر کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔ یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے“۔
    ”کیوں ممکن نہیں ہے ؟“ بڑھیا نے پوچھا۔
    ”کسی ڈبل روٹی چور کی سزا معاف کرنا صدر کے منصب کے شایان شان نہیں ہے“۔ میں نے بڑھیا کو سمجھاتے ہوئے کہا “ ہاں، اگر تمہارے بیٹے نے بنکوں کے قرضے ہڑپ کئے ہوتے،سرکاری خزانے میں خورد برد کا مرتکب ہوتا، قاتلوں اور ڈکیتوں اور جرائم پیشہ لوگوں کی پشت پناہی کا ملزم ہوتا تو میں صدر صاحب سے فوراً رجوع کرتا اور اسے فوراً رہائی دلواتا، ایک معمولی ڈبل روٹی چور کی سفارش میں نہیں کر سکتا“۔
    بڑھیا نے ایک مرتبہ پھر چادر سے ناک صاف کی اور میرے دفتر کی چار دیواری سے نکل گئی۔ ابھی میں سنبھل کر بیٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ دفتر کا چوکیدار ادھیڑ عمر کے ایک ڈراؤنے شخص کو اندر لے آیا اور کہا ”سر، یہ شخص اندر آنے کے لئے بضد تھا۔
    ڈراؤنے شخص نے کہا ” سر، میرا نام کالو خان ہے، میں ہیڈ کانسٹیبل ہوں۔ “
    ”بڑا ہی مناسب نام رکھا تھا ۔ تمہارے ماں باپ نے“۔ میں نے کہا اور اسی مناسبت سے تم نے ملازمت کے لئے محکمہ کا انتخاب کیا ہے“۔
    وہ ڈراؤنا شخص ڈرا ہوا تھا میں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔ میں نے پوچھا ” اب بتاؤ تمہارا پرابلم کیا ہے؟“
    ”سر، ایس ایچ او کے حکم پر میں ایک عرصے سے انڈے، دودھ، ملائی، مکھن، چکن، گوشت، مچھلی اور سبزیاں افسروں کے گھر پر پہنچاتا تھا“۔ ڈراؤنے ہیڈ کانسٹیبل نے کہا ”دکانداروں نے پریس اور ایک ٹیلی ویژن چینل کے رپورٹروں کی مدد سے میری ویڈیو فلم بنوا کر ٹیلی کاسٹ کروا دی ہے۔
    تب سے وہ اعلیٰ افسران جو مفت کے انڈے، دودھ، ملائی، مکھن، مچھلی ، گوشت اور چکن کھانے کے عادی تھے، میری جان کے دشمن بن گئے ہیں، انہوں نے مجھے ملازمت سے ڈس مس کر دیا ہے اور میری گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں اور میں ہوں کہ چھپتا پھررہا ہوں“۔
    میں نے ہیڈ کانسٹیبل سے پوچھا ”تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟“
    ہیڈ کانسٹیبل نے کہا ”صدر صاحب سے کہہ کر آپ میری سزا معاف کروا دیجئے اور ملازمت پر بحال کروا دیں۔
    ”ارے بھائی ! صدر صاحب کے منصب کا کچھ تو احترام کرو۔ وہ کیا بھتہ خوروں کی سزائیں معاف کرتے پھریں گے ؟“ میں نے کہا ” ہاں، اگر تم نے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے پولیس مقابلے میں قتل کیا ہوتا تو میں تمہیں صدر صاحب سے معافی دلوا دیتا لیکن تم تو معمولی سے بھتہ خور ہیڈ کانسٹیبل ہو“۔
    ڈراؤنا ہیڈ کانسٹیبل بہت مایوس ہوا۔ وہ سر جھکا کر باہر جانے لگا۔ میں نے اس سے کہا ”تم اگر صدر صاحب سے معافی کے خواستگار بننا چاہتے ہو تو پھر بہت بڑا جرم کر کے آؤ، صدر صاحب تمہیں خندہ پیشانی سے معاف کر دینگے


     
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,457
    موصول پسندیدگیاں:
    16,828
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی ۔ کروڑوں اربوں‌کی کرپشن معاف ہوتی ہے

    شرمدنگی سے سر جھک گیاہے
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,093
    موصول پسندیدگیاں:
    11,136
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی ۔ کروڑوں اربوں‌کی کرپشن معاف ہوتی ہے

    کافی عرصہ پہلے ایک ویب سائٹ دیکھی تھی ۔ جس کا اردو ترجمہ تھا ۔ ہم بدترین قوم ہیں۔
    اس میں بھی کچھ ایسا ہی درددل بیان کیا گیا تھا۔
     
  4. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,457
    موصول پسندیدگیاں:
    16,828
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی ۔ کروڑوں اربوں‌کی کرپشن معاف ہوتی ہے

    جس کی وجہ سے بنت حوا پہ پابندی لگی تھی
     
  5. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    جواب: ڈبل روٹی چور کی سزا معاف نہیں ہوتی ۔ کروڑوں اربوں‌کی کرپشن معاف ہوتی ہے

    بہت زبردست تحریر ھے شکریہ اس شئیرنگ کے لئے وسیم جی

    سزا دینے والے ہی جب خود سزا کے زیادہ حقدار ہوں وہاں کا معاشرہ کیسا ہو گا شاید یہ کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ھے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں