1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏16 جنوری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,093
    موصول پسندیدگیاں:
    635
    ملک کا جھنڈا:
    چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
    اِک موڑ پہ تمام زمانے لگے مجھے
    تنہا میں جَل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگ
    اُن تک گئی جو آگ بجھانے لگے مجھے
    آنکھوں میں جھانکنے کی ضرورت نہیں پڑی
    چہروں کے خول آئینہ خانے لگے مجھے
    اپنی طرف جو دیکھ لیا اُن کو دیکھ کر
    آنسو چراغ زخم خزانے لگے مجھے
    دروازے پر جو اُن کے میں جا بیٹھا ایک دن
    دیوار کی طرح وہ اٹھانے لگے مجھے
    ظالم کا ہاتھ جب میری دستار پر پڑا
    دنیا کے پاؤں اپنے سرہانے لگے مجھے
    سچائیوں کا زہر میں پینے چلا تو ہوں
    یہ زہر پی کے نیند نہ آنے لگے مجھے
    رکھا نہ میری موت کا غم بھی سنبھال کر
    آنکھوں سے اپنی لوگ بہانے لگے مجھے
    مجھ سے ملے بغیر مظفر جو تھے خفا
    میں اُن سے مل لیا تو منانے لگے مجھے​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,482
    موصول پسندیدگیاں:
    9,476
    ملک کا جھنڈا:
    عمدہ انتخاب
     
  3. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,093
    موصول پسندیدگیاں:
    635
    ملک کا جھنڈا:
    پسند اور رائے کا شکریہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں