1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چہرہ چھونے کی عادت سے چھٹکارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وردہ بلوچ

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏10 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,935
    موصول پسندیدگیاں:
    578
    ملک کا جھنڈا:
    چہرہ چھونے کی عادت سے چھٹکارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وردہ بلوچ

    عام دنوں میں ہم اپنے چہرے کو کئی بار چھوتے ہیں لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا۔ ناک میں کھجلی ہو رہی ہو، آنکھوں میں تھکن ہو، منہ صاف کرنا ہو یا کوئی خیال گھیر لے تو ہم ہاتھوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہاتھوں کو چہرے سے لگانا خطرے سے خالی نہیں۔ اس سے بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ چہرے کو چھونے سے نزلہ اور زکام کے وائرس ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، مگر سب سے بڑا خطرہ ہے نیا کورونا وائرس جو اس طرح پھیل سکتا ہے۔
    ناک، منہ اور آنکھوں سے وائرس ہمارے جسم میں بآسانی داخل ہو سکتا ہے۔ اگر وائرس ہاتھ تک پہنچ چکا ہے تو یہ ہمارے اندر بھی جا سکتا ہے۔
    نظام تنفس کی دیگر انفیکشنز کی طرح کورونا وائرس، جس کا نام سارس-کوو2- رکھا گیا ہے، ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔ چھینکنے یا کھانسنے کے وقت نظام تنفس سے نکلنے والے قطرے دوسرا انسان سانس کے ذریعے اپنے اندر لے جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وائرس جس بیرونی سطح پر ہو، اسے چھوکر ہم اپنے ہاتھوں اور پھر منہ یا آنکھوں سے جسم میں منتقل کر سکتے ہیں۔ دوسروں سے دور رہنا ہمارے لیے نسبتاً آسان ہے لیکن ہم اس سطح کو نہیں دیکھ سکتے جس پر وائرس موجود ہے۔ یہ سطح کہیں بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کسی دروازے کی ہتھی یا آپ کی میز ہو سکتی ہے۔
    انسانوں کو اپنا چہرہ چھونے کی عادت ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل دفتر کے ماحول میں 10 افراد کا تین گھنٹے تک جائزہ لیا گیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک گھنٹے میں اپنے چہرے کو 16 بار چھوا۔
    آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی میں میڈیکل کے 26 طلبہ کا جائزہ لینے کے بعد پتا چلا کہ انہوں نے ایک گھنٹے میں اپنے چہرے کو 23 بار چھوا۔ ان میں سے نصف بار منہ، ناک یا آنکھ کو چھوا گیا جو وائرس یا بیکٹیریا کے جسم میں داخلے کا آسان راستہ ہیں۔ حیران کن طور پر شعبہ طب سے وابستہ افراد میں یہ عادت پائی جاتی ہے۔
    کام کے دوران لوگ پاؤں ہلاتے رہتے ہیں، بالوں سے کھیلتے ہیں اور چہرے کو ہاتھ لگاتے رہتے ہیں۔ کسی میٹنگ کے دوران بھی ایسا ہوتا ہے۔ فون کال سنتے ہوئے بھی غیر ارادی طور پر ہم یہی کرتے ہیں۔
    بیماری کا انتقال روکنے کے لیے ہم ہاتھ دھوتے ہیں۔ ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک دھونا چاہیے۔ دوسری طرف یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ وائرس یا بیکٹیریا کس وقت ہمارے ہاتھ پر آن پہنچے ہیں اور عادتاً ہم نے ہاتھ چہرے پر لگا دیا ہے۔ ہاتھ پانچ مرحلوں میں دھوئے جا سکتے ہیں۔ ہاتھوں کو گیلا کریں، صابن لگائیں، ملیں، پانی بہائیں اور خشک کریں۔
    اگر آپ یہ سب کر بھی لیں تو بھی آپ کو چہرہ چھونے کی عادت کو پس پشت ڈالنا ہو گا۔ کورونا وائرس کی حالیہ وبا میں ایسا کرنا بہت ہی اہم ہے۔
    یاد رکھیں، چہرے کو چھونے کی عادت ترک کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تو اپنے ہاتھوں کو ہمہ وقت چہرے سے دور رکھیں۔ آپ یہ ارادہ کریں کہ ہاتھوں کو چہرے کے قریب نہیں آنے دینا۔ اس کے لیے کچھ ایسا کریں کہ یہ سبق بار بار پڑھنے کو ملے۔ مثلاً گھر میں آپ دیواروں یا فریج پر یہ لکھ کر لگا دیں کہ چہرے کو نہیں چھونا۔
    ایک اور طریقہ ہاتھوں کو مصروف رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو ہاتھ میں کوئی صاف شے پکڑے رکھیں۔
    ہاتھوں پر خوشبو لگا کر بھی ہم انہیں چہرے سے دور رکھ سکتے ہیں۔ جب ہاتھ چہرے کے قریب آئے گا تو ہمیں خوشبو آئے گی جو یاد دلائے گی کہ ہاتھ پیچھے کرنا ہے۔ ہاتھوں پر دستانے بھی پہنے جا سکتے ہیں۔
    اہم امر اس خطرے کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ وائرس ہم سے ہوتے ہوئے اہل خانہ اور دوسرے افراد کو بیمار کر سکتا ہے۔ ہمیں نہ خود بیمار ہونا ہے اور نہ دوسروں کو کرنا ہے۔ اس لیے ذہن میں اس امر کو پختہ کر لینا چاہیے کہ چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا۔نیز وقتاً فوقتاً ہاتھ دھونے ہیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں