1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چوری کی شرعی حد اسکا ہاتھ کاٹا جائے

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏8 فروری 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,939
    موصول پسندیدگیاں:
    8,607
    ملک کا جھنڈا:
    یہ اسامہ بن زیدؓ ہیں نبی کریم ﷺ کو صحابہ کرام میں سب سے پیارے جیسا کہ آپ ﷺ نے کہا ہے: ’’ اے میرے صحابہ ! اسامہ مجھے تم سب سے زیادہ پیارا ہے‘ اس سے اچھا سلوک کرنا ‘‘۔

    حضرت اسامہؓ شاہ امم سلطانہ مدینہ ﷺکی خدمت اقدس میں سفارش لے کر آئے ہیں کہ قبیلہ بنو مخزوم کی جس عورت نے چوری کی ہے اور جس پر اللہ کےقانون کے مطابق شرعی حد نافذ ہو چکا ہے ’’ اسکا ہاتھ نہ کاٹا جائے‘‘۔

    شفارش سنتے ہی آپ ﷺکے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ ﷺنے فرمایا : ’’ تم مجھ سے اللہ کی قائم کی ہوئی ایک حد کے بارے میں سفارش کرنے آئے ہو۔‘‘

    نبی کریم ﷺکو غضبناک دیکھ کرحضرت اسامہؓ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو آپؓ صرف اتنا کہہ سکے: ’’ یا رسول اللہ ! میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے -‘‘

    پھر دوپہر کے بعد نبی کریم ﷺ نے صحابہؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
    ’’ تم میں سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہو گئے کہ اگر ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرلے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا‘‘۔

    لہذا آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
    پھر اس عورت نے صدق دل سے توبہ کرلی اور اس کی شادی بھی ہوگئی۔
    بعد میں وہ عورت جب بھی آپ ﷺ کے پاس آتی تو آپ ﷺ اس کی مدد کرتے۔ (صحیح البخاری و مسلم)

    چوری کرنا اتنا بڑا جرم ہے اور ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس کی سزا اللہ تعالیٰ کے طرف سے’ ہاتھ کاٹنا ‘ مقرر ہے:

    وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (سورة المائدة: آیت نمبر۳۸)
    ’’ اور چور، خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ ان کے کر توتوں کے عوض میں اللہ کی طرف سے بطور عبرتناک سزا کے ۔ اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے‘‘۔

    اور اس سزا کو ’ نَكَالًا مِّنَ اللّٰه ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’عبرت ناک سزا ‘ کہا گیا ہے۔ یعنی چوری کرنے والے شخص کو معاشرے میں عبرت کا نمونہ بنا کر چھوڑ دیا جائے تاکہ کوئی اور چوری کرنے کی جراٴت نہ کر سکے۔
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں