1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چائے پر کچھ نہ کچھ ۔۔۔

'گپ شپ' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏7 جنوری 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,087
    موصول پسندیدگیاں:
    9,710
    ملک کا جھنڈا:
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,087
    موصول پسندیدگیاں:
    9,710
    ملک کا جھنڈا:
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,087
    موصول پسندیدگیاں:
    9,710
    ملک کا جھنڈا:
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,087
    موصول پسندیدگیاں:
    9,710
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    چائے مشروبات کی مرشد ہے
     
  6. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
  7. mehreensaeed
    آف لائن

    mehreensaeed ممبر

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2020
    پیغامات:
    19
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
  8. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,934
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    جب تک چائے ہے تب تک امید قائم ہے
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    چائے مشروبات کی مرشد ہے
     
  10. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,934
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    چائے اور پراٹھے کی جوڑی اللہ پاک سلامت رکھے
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
     
    ساتواں انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,934
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    " اچھا بکواس بند ۔ " فریدی جھلا کر بولا " اگر تم میرا ساتھ نہیں دینا چاہتے تو نہ دو ۔ میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا ۔ "
    " آپ تو خفا ہوگئے ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ بھی چھٹی میں ایک آدھ عشق کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔ " حمید نے منہ بناکر کچھ اس انداز میں کہا کہ فریدی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔
    " اچھا تو کھانا اس وقت میرے ہی ساتھ کھانا ۔ ' فریدی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
    " بسرو چشم ۔ ۔ ۔ ! " حمید نے سنجیدگی سے کہا ۔ " بھلا میں اپنے آفیسر کا حکم کس طرح ٹال سکتا ہوں ۔ "
    وہ سرکس شروع ہونے سے بندرہ منٹ قبل ہی ریلوے گراؤنڈ پر پہنچ گئے اور بکس کے دو ٹکٹ لے کر رنگ کے سب سے قریب والے صوفے پر جا بیٹھے ۔ دو چار کھیلوں کے بعد اصل کھیل شروع ہوا ۔ ایک ناٹے قد کا مضبوط نیپالی ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ رنگ میں داخل ہوا ۔
    " غضب کی لونڈیا ہے ۔ " حمید نے دھیرے سے کہا ۔
    " ہشت ۔ ۔ ۔ ! " فریدی نیپالی کو بغور دیکھ رہا تھا ۔
    " خواتین و حضرات ۔ ۔ ۔ ! " رنگ لیڈر کی آواز گونجی ۔ " اب دنیا کا خوفناک ترین کھیل شروع ہونے والا ہے ۔ یہ لڑکی اس لکڑی کے تختے سے لگ کر کھڑی ہوجائے گی اور یہ نیپالی اپنے خنجر سے لڑکی کے گرد اس کا خاکہ بنائے گا ۔ نیپالی کی ذرا سی غلطی یا لڑکی کی خفیف کی جنبش اسے موت کی آغوش میں پہنچاسکتی ہے ۔ لیکن دیکھئے کہ یہ لڑکی موت کا مقابلہ کس ہمت سے کرتی ہے اور نیپالی کا ہاتھ کتنا سدھا ہوا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔ "
    " کھٹ ۔ ۔ ۔ ! " ایک سنسناتا ہوا خنجر لڑکی کے سر کے بالوں کو چھوتا ہوا لکڑی کے تختے میں تین انچ دھنس گیا ۔ لڑکی سر سے پیر تک لرز گئی ۔ رنگ ماسٹر نے نیپالی کی طرف حیرت سے دیکھا اور اس کے ہونٹ مضطربانہ انداز میں ہلنے لگے ۔ دیکھنے والوں پر سناٹا چھا گیا ۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    6,934
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    چائے نہیں پی تھی شاید اسی لئے غلط جگہ پوسٹ کردیا تھا اور مزے کی بات کہ آج دوبارہ تحریر بھی کردیا
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    مَیں نے اپنے کسی پچھلے مضمون میں انگریزی راج کی برکات کا ذکر کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر برِصغیر کے باشند ے انگریز کے قائم کردہ اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں تعلیم حاصل نہ کرتے تو شائد پاکستان اور ہندوستان نہ ایٹمی قوت بن سکے ہوتے اور نہ ہی مسلمان ممالک میں پاکستان ٹیکنولوجی کے حوالے سے اِتنا ترقی یافتہ ہوتا ۔ لیکن انگریز نے ہمارے خطّے کی ترقی کے کام، ہم عوام کی محبت میں نہیں کئے تھے۔ برطانوی ایسٹ اِنڈیا کمپنی ہمارے علاقے میں تجارت کے نام پر لوٹ مار کرنے آئی تھی۔ اسی تناظر میں گوروں نے چین میں ایک درخت کی سبز رنگ کی پتّی دیکھی جسے چینی پان کی طرح چباتے تھے۔ یہ پتّی خشک ہو کر براؤن سیاہی مائل ہو جاتی تھی تو اُسے پانی میں اُبال کر گرم گرم’’ چائے ‘‘ پیتے تھے۔چینی زبان میں چائے کا نام یہ ہی ہے ۔ انگریز نے اسے TEA بنا دیا اور برِصغیر والوں نے بھی اس کا نام چائے رکھااور یہ ہی چائے عرب سر زمین پر پہنچی تو شائے کہلائی اور فرانس میں اسے ’’تے‘‘ کہا جانے لگا۔

    جو چائے ہم پیتے ہیں، اُسے بلیک TEA کہا جاتا ہے۔ انگریز نے اس کے پودے کو آسام کے شہر دار جلنگ میں کاشت کیا اور کامیابی حاصل کی ۔ گوروں نے اس کالی چائے کو پراسس کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا۔ اس کے بعد تھا مرحلہ اس کالی پتّی کو دیسی ہندوستانیوں میں بطور مشروب کے متعارف کروانا۔ 1838 میں دارجلنگ میں چائے کے 10 سے زیادہ باغات لگ چکے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا مکمل کنٹرول ابھی تک صرف بنگال اور مدراس پر تھا۔ دیسی معززین کو انگریز ’’ بہادر لوک‘‘ (لوگ نہیں بلکہ لوک) کے نام سے پکارتے تھے ۔ گورے حاکم اِن بہادر لوکوں کو اپنی شاہی رہائش گاہوں کے باغیچوں میں مدعو کرتے تھے۔ کالی چائے کے اُبلتے پانی کی Bone China کی نازک پیالیوں میں ڈال کر ، دودھ اور شکر کی آمیزش کر کے، اُن دیسی معززین کی توا ضع کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ چائے دیسی اشرافیہ کا محبوب مشروب بن گئی تو ہندوستان ٹی بورڈ کے نام سے ایک اِدارہ بنا دیا گیا جس کا ایک کام چائے کے مشروب کو ہندوستانی عوام میں مقبول بنانا تھا۔ اُس زمانے میں پبلسٹی کا طریقہ پوسٹروں اور اخباری اِشتہاروں کی شکل میں تھا۔ لیکن ایک طریقہ ڈائریکٹ پبلسٹی کا بھی تھا۔ بڑی شاہراہوں اور سڑکوں پر میز لگا کر چائے کو تیار کرنا اور راہ گیروں کو چائے کا مشروب مفت پیش کرنا۔ اِنسان کی جبلّت ہے کہ اُسے کوئی چیز بِلاقیمت یا تحفتہً پیش کی جائے تو عام طور پر وہ اسے قبول کر لے گا۔ آج کے جدید دور میں بھی یہ طریقہ نہایت کارآمد اور مقبول ہے۔ امریکہ اور یورپ کی بڑی بڑی مالز پر کیک ، بسکٹ، آئس کریم ، مختلف چٹنیاں اور وائن کو چکھنے کے لئے مفت پیش کیا جاتا ہے اور بڑے معتبر لوگ تھینکس کہہ کر پیش کردہ چیز کو منہ میں ڈال کر آگے گذر جاتے ہیں۔

    چائے کی پبلسٹی کا ڈائریکٹ طریقہ کامیاب ہونا شروع ہو گیا۔ ذراسوچئے کہ ہندوستانی قوم جو اس کسیلے ذائقے کے مشروب کو جانتی تک نہ تھی کس طرح آہستہ آہستہ اس کی دیوانی ہوتی گئی۔ ہم تو دودھ اور دہی کی لسی پینے والے لوگ تھے۔ ہم اپنے مہمانوں کی تواضع گرمیوں میں سردائی سے، ستوؤں سے، لیموں پانی سے ، تخم ملنگاں اور قلفی یا شربت سے کرتے تھے۔ امیروں کے ہاں شربت کی بہت سی اقسام ہوتی تھیں۔ پھول اور پھلوں سے نکالا ہوا شربت، صندل، بادام اور کیوڑے کا شربت ، گنے کا رس، آم ،تربوز اور اَنار کا رس۔ سردیوں کے ہندوستانی مشروب گرم دودھ یا یخنی کی مختلف اقسام کی شکل میں ہوتے تھے۔ انگریز نے اپنے تجارتی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے چائے کی مقبولیت کے نِت نئے طریقے نِکالے۔ رنگ برنگے جہازی اشتہاروں میں بمبئی کے امیر پارسی کو یا کلکتہ کے پڑھے لکھے ’’بابو شائے‘‘کو اپنے خوبصورت بنگلے کے سرسبز لان پر رنگ برنگے پھولوں کی کیاریوں کے نزدیک بید کی لکڑی کی بنی ہوئی خوبصورت کرسی اور میز پر چائے کی چُسکیاں لیتے دکھایا جاتا تھا۔ یہ اشتہار حسیات کو لبھانے والے ہوتے تھے۔ چائے کی پیالی سے اُبھرتی بھاپ، رنگ برنگے پھولوں کی کیاری کے قریب بیٹھا ہوا دیسی گھرانہ، آسودگی کی علامت ہوتا تھا۔ غریب دیسی ہندوستانی ایسے دِل لبھانے و الے اِشتہاروں سے چائے کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔ بنگال ، مدراس اور بمبئی کے عام لوگوں کو بھی انگریزی کی تھوڑی بہت سُوجھ بُوجھ تھی۔ ایک اشتہار انگریزی میں شائع کیا گیاLassi Breeds Lassitude یعنی لسّی سے کا ہلی اور سست الوجودی پیدا ہوتی ہے۔( انگریزی زبان میں Lasitudeکا مطلب کاہلی ہے) یعنی ہمارے مرغوب دیسی اور ہندوستان گیر مشروب لسّی (Lassi)کو بُرا کہا گیا تھا۔ یہ سلوگن تو مَیں نے بھی اپنے بچپن میں اخباروں میں پڑھا ’’گرم چائے گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہے‘‘۔ لپٹن اور بُروک بونڈ کمپنی نے تمام ہندوستان میں چائے کے چھوٹے پیکٹ ایک پیسے کے ایک درجن کے حساب سے سالہاسال فروخت کئے بلکہ یہ سمجھ لیں کہ مفت دیئے۔ریلوے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارموں پر اور سمندری مسافر جہازوں کے Docks پر چائے کے مفت سٹال لگائے جاتے رہے۔ انگریز نے ماہرانہ اور ہمہ گیر طریقوں سے چائے کی اُس وقت تشہیر کی جب نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی ریڈیو یا بائسکوپ تھا۔ صرف پرنٹ میڈیا تھا یا ڈائریکٹ پبلسٹی تھی۔ (جو ابھی بھی مغرب میں موثر طریقہ ہے کھانے پینے کی چیزوں کی تشہر کا)۔دیہاتوں میں عوامی قسم کی نوٹنکیاں کروا کر ہجوم اکٹھا کیا جاتا تھا اور پھر سٹیج پر گورا سیلز مین اپنی کھڑی اُردو یا مقامی زبان میں چائے کے گُن گنواتا تھا اور پھر نوٹنکی کے گنوار قسم کے ایکٹر اور آرٹسٹ چائے کی تعریف میں گیت گاتے تھے۔ شائقین کو مفت چائے پلائی جاتی تھی۔ دنیا میں ایک شے کی جتنی پبلسٹی ہوئی ہے اور جو ابھی تک ہو رہی ہے وہ چائے ہے ، اِتنی پبلسٹی کسی دوسری مصنوعات یا کھانے پینے کی چیز کی نہیں ہوئی۔ 20ویں صدی کے اوائل میں چائے کو دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کا مشروب بنا دیا گیا۔ کمیونزم تیسری دنیا میں نیا آیا تھا۔سینما بھی آچکا تھا۔ فلموں میں چائے اور سگریٹ نوشی کو بڑے رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ کالج کے نوجوان لڑکے فلمی ہیرو کو سگر یٹ کے دھویں کے مرغولے بناتے ہوئے اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دیکھتے تو خود بھی ایسا ہی حلیہ دھار لیتے تھے۔
     
    ساتواں انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    جب ہندوستان پر انگریزی راج رسمی طور پر رائج ہو گیا تو اُس وقت ہندوستان سے برآمد ہونے والی اہم ترین چیز Black Tea تھی۔ ہندوستانی مصالحہ جات اور ریشم کا کپڑا بھی پیچھے رہ گئے تھے۔ دراصل برطانوی قوم کالی چائے بغیر دودھ کے پینے کی عادی ہو چکی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا اثرورسوخ سری لنکا اور کینیا (افریقہ)تک پہنچ چکا تھا۔ یہ علاقے بھی چائے کی کاشت کے لئے موزوں ترین ثابت ہوئے۔ دنیا بھر میں کینیا کی چائے، سیلون ٹی اور دارجلنگ ٹی مشہور ہیں۔ 18ویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے کالی چائے برطانوی شمالی امریکہ کی کالونیوں میں بھی متعارف کروادی۔ کنیڈا اور امریکہ کے برطانوی نژاد گورے ہندوستانی چائے برطانیہ سے درآمد کرتے تھے۔ امریکہ اور کنیڈا میں کالی چائے اتنی مقبول تو نہیں تھی کیونکہ چائے سے زیادہ سکون آور مشروب کافی کی شکل میں اُن کو مل گیا تھا۔ لیکن برطانوی حکومت نے چائے کی برآمد برائے امریکہ ، پر ایک قسم کی سٹیمپ ڈیوٹی لگا دی تھی۔ چائے پر اس سٹیمپ ڈیوٹی کا لگنا دراصل اُونٹ کی کمر پر ایک اور شتہیر کے بوجھ کا اِضافہ تھا۔ امریکی آباد کار پہلے ہی برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ایک خفیہ پارٹی Sons of Liberty کے نام سے بنا چکے تھے چائے پر ٹیکس برطانیہ کے خلاف بغاوت کا بہانہ بن گیا۔

    آج کے برِصغیر کو برطانوی سامراج نے 1947 میں جب آزاد کیا تو چائے یہاں کے عوام کا مقبول ترین مشروب بن چکی تھی۔ چائے کو فروخت کرنے والی زیادہ مشہور کمپنیاں برٹش ہیں مثلاً لپٹن، ٹیونگز(Twinnings) ، بروک بونڈ، ٹیٹلے(Tetley) لیکن یہ طے ہے کہ جتنی بھی چائے فروخت کرنے والی کمپنیاں ہیں وہ چائے کی پتّی کینیا، سیلون (سری لنکا)دارجلنگ، ارجنٹائنا اور چین سے ہی تھوک کے بھاؤ خریدتی ہیں۔ چین کا ذِکر آیا تو یہ بتاتا چلوں کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ چائے کی پیداوار کرتا ہے۔ اس ملک میں چائے نوشی باقاعدہ ایک تقریب کی شکل میں ہوتی ہے جو اب عموماً سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ عام چینی چائے نوشی کی پیچیدہ اور فضول سی تقریب کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مَیں جب پہلی دفعہ بیجنگ گیا تو جس ہوٹل میں ٹہرا تھا وہاں مہمانوں کی جیب سے ڈالر نکلوانے کے لئے ہوٹل والوں نے چائنیز روائتی Tea Room بنایا ہوا تھا۔ مَیں تجسَس کا مارا اُس روائتی چائے خانے میں چلا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ میرے 2 گھنٹے ضائع ہوئے اور اس دوران میں نے کم از کم 50 اقسام کی چائے چھوٹی فنجانوں میں نوش کی، چائے میرے سامنے ہی تیار کی جاتی تھی چینی خاتون میزبانی کر رہی تھی، جو چائے کی ہر قسم کی پتّی کے فضائل چینی زبان میں بتاتی، جو میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ جس دن ہوٹل سے چیک آؤٹ ہوا ،100 ڈالر کا بِل اس چائے نوشی کا تھا۔ مَیں نے سری لنکا کے چائے کے باغات کی سیر کی ہے۔ چائے کی سبز تازہ پتّی کو چائے کی پتّی کی چار اقسام میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا۔ بالکل سیاہ پتّی، گہری براؤن پتّی، ٹوٹی پھوٹی سیاہ پتّی اور تمام رنگوں کی پتیوں کا چورا۔ یہ سب ایک ہی پودے سے اور ایک ہی کارخانے سے نکلنے والی پتّی۔ 50 کلوگرام کی جُیوٹ کی بوریوں میں پیک ہو کر برطانیہ ، پاکستان ، فرانس اور امریکہ بھیج دیئے جاتے ہیں۔ اِن ممالک کی چائے کی کمپنیاں صرف پیکنگ کر کے اور اپنے برانڈ کا لوگو لگا کر تمام دنیا میں تقسیم کاروں کے ذریعے چائے فروخت کرتی ہیں۔ دنیا کی 10 مشہور چائے کی کمپنیوں نے پیکنگ کے حقوق دوسرے ممالک کو بھی دیئے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ چائے برِصغیر میں نوش کی جاتی ہے۔ پاکستان کے 20 کروڑ انسان 26 ارب روپے سالانہ کی چائے اُڑادیتے ہیں ہندوستان اپنی چائے خود پیدا کرتا ہے۔ پاکستان ہر سال چائے کی امپورٹ پر زیادہ زرِمبادلہ خرچ کر رہا ہے۔ ایسا مشروب جس کو ہمارے خطّے میں داخل ہوئے 180 سال ہوئے ہیں اور جو 1903 تک حقارت سے دیکھا جاتا تھا، آج ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے۔ کسی کے ہاں مہمان بن کر چلے جاؤ، کسی دوکان پر بطور گاہک چلے جاؤ، کسی بینک یا دفتر میں جاؤ، آپ کی تواضع شائد چائے سے ہی ہو گی ۔ہمارے دیسی اور صحت بخش مشروب اگر آپ کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے تو میزبان اور مہمان کے لئے باعثِ شرمندگی بلکہ باعثِ سراسیمگی بھی ہونگے۔ تمام دنیامیں آج 170 کروڑ ٹن چائے کی پیداوار 9 ممالک کرتے ہیں اور بقیہ 210 ممالک اس چائے کو نوش کرتے ہیں۔ ایک معمولی سے درخت کے پتے کو برطانوی گورے نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔
     
    ساتواں انسان نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,668
    موصول پسندیدگیاں:
    16,907
    ملک کا جھنڈا:
    tea.jpg
    آدھا کپ چائے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں