1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پڑھ کتاباں رٹے لا لیہ - بمع اردو ترجمہ

'پنجابی چوپال' میں موضوعات آغاز کردہ از غوری, ‏25 اپریل 2019۔

  1. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    پڑھ کتاباں رٹّے لا لیھ
    ڈگری تمغے گَل وِچ پا لیھ

    کتابیں پڑھ لو، رٹے لگا لو
    ڈگری تمغے گلے میں سجا لو

    ہن دُنیا وِچ پھسدا جاویں
    بے مقصد ہی نہسدا جاویں

    دنیا کے ہو رہے تم
    بے مقصد کھو رہے تم

    تھاں تھاں کاروبار سجا لیھ
    دولت دے انبار لگا لیھ

    جگہ جگہ کاروبار سجا لو
    دولت کے انبار لگا لو

    دوڑ تیری پر رُکنی نا ہی
    ہوس کدی وی مکنی ناہی

    تمہاری دوڑ تھمنے کی نہیں
    ہوس کبھی بھرنے کی نہیں

    جِین دا مقصد بُھل جاویں گا
    دوڑ دوڑ کے رُھل جاویں گا

    مقصد حیات بھول جاؤ گے
    بھاگم بھاگ دھول ہوجاؤ گے

    مشکل تیری وھددی جانی
    نیندر تیری کھٹ دی جانی

    مشکل تیری کامل ہوجائے گی
    نیند تمہاری اوجھل ہوجائے گی

    پیسے تیرے نال نئیں جانیں
    ماں پے ٹر گئے، ہن نئیں آنیں

    دولت کے خزانے یہیں رہیں گے
    گزرے ماں باپ کہاں ملیں گے

    بھانویں رو رو ہُوکاں ماریں
    کلمے پڑھ پڑھ پُھونکاں ماریں

    بے شک تم آہ و پکار کرو
    روز و شب استغفار کرو

    بچے آں دا بچپن وی کھوئیں
    فیر تو کلیاں بَہہ کے روئیں

    بچوں کا پچپن بھی کھو دیا
    پھر اکیلے بیٹھ کے رو دیا

    کرنی اے جے ٹھنڈی چھاتی
    سَونا اے جے رجھ کے راتی

    گر سینے کی آگ ہے بجھانی
    نیند چاہیے حسین اور سہانی

    اج توں کہار نوں چھیتی آئیں
    ما پے نال کجھ وقت بِتا ئیں

    اب سے گھر جلدی آنا
    ماں باپ کا دل بہلانا

    حال سُنیں تے حال سُنائیں
    دل تے چڑھیا بوجھ کھٹائیں

    حال و احوال سننا اور سنانا
    اور اپنے دل کا بوجھ گھٹانا

    بچے آں اپنے کَول بٹھائیں
    جو تُوں سِکھیا کَھوٹ پِیائیں

    بچوں کو اپنے قریب بٹھانا
    اپنا علم ان کے سینے میں ڈالنا

    لاڈ اُٹھائیں، دِل بہلائیں
    کُھٹ کے اپنے سینے لائیں

    لاڈ پیار سے ان کا دل بہلانا
    اور بھینچ کے انھیں گلے لگانا

    بہن بھرا تے ماں پے چھڈ کے
    جس نے خون دے ناتے وڈھ کے

    بہن، بھائی اور ماں باپ کو چھوڑ کر
    جس نے خون کے رشتے توڑ کر

    تینوں مَنیا سِر دا سائیں
    توں وی رِشتہ تَوڑ نبھائیں

    جس نےتمہیں اپنے سر کا تاج مانا
    تم بھی اس سے آخر تک رشتہ نبھانا

    وقت پُرانا یاد آوے گا
    درد کلیجہ کھا جا وے گا

    یاد ماضی ستائے گی بہت
    درد بام عروج چھو جائے گا

    اوہدے سارے دُکھ سُکھ وَنڈیں
    رشتہ دِل دا دِل نال گنڈیں

    اس کے سارے دکھ سکھ بانٹ لینا
    رشتہ دل کا دل سے استوار کرلینا

    اپنے خَول نوں چِھل کے ویکھیں
    اپنے نال وی مِل کے ویکھیں

    اپنے خول کو چھیل کر دیکھنا
    خود کو خود سے میل کرکے دیکھنا

    وِیر تیرے نیں نعمت رب دی
    بہناں بِن خوشی نئی لبھ دی

    تیرےبھائی رب کی رحمت ہیں
    بہنوں کےبنا خوشیاں باز داشت ہیں


    خوشیاں ونڈھ تے خوشیاں پا لیھ
    مانی رب نوں یار بنا لیھ

    خوشیاں بانٹو اور خوشیاں پالو
    ارے مانی رب کو سیاں بنالو

    ہر لمحہ توں ہنس کے جی لیھ
    پیار دی گڑوی پرھ کے پی لیھ

    ہر لمحہ تم ہنس کے بتایا کرو
    پیار کا پیالہ بھر کےپیا کرو

    اپنے اج توں ہو جا راضی
    ایس جیون دی جِت لیھ بازی

    اپنے حال پہ ہوجاؤ راضی
    اس زندگی کی جیت لو بازی


    شاعر نامعلوم
    اردو ترجمہ : عبدالقیوم خان غوری

     
    زنیرہ عقیل، ملک بلال اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,137
    موصول پسندیدگیاں:
    7,369
    ملک کا جھنڈا:
    :(
    غوری جی پردیسیوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا آپ نے تو :(
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    جی بھائی میں خود بھی برسوں پردیس کی گرم ہواؤں میں رہا اور ان سب نعمتوں سے محروم رہا۔
    پہلے جو سمجھ نہیں آیا اب ایسا سمایا کہ جسم کا روں روں لرز اٹھا۔

    رب کسے نوں پردیس نہ لے جاوے۔
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ اچھی کوشش کی ہے
    کم از کم مجھے تو پنجابی کی الف بے تک نہیں آتی
     
  5. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    کسی بھی زبان پر دسترس حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں مطالعہ اور ذخیرہ الفاظ
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    بغیر استاد کے ہو جاتا ہے یہ کام؟
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    آج کل تو انفرمیشن ایک کلک کی دوری پر ہے ہمارے وقتوں میں تو بہت پڑھنا پڑتا تھا اس وقت استادوں میں بھی لگن تھی اور سیکھنے والوں میں بھی محنت کا جذبہ تھا اجکل تو اتنی انفرمیشن ایک جگہ جمع کر دی جاتی ہے کہ کریز ختم ہو گیا ہے کسی ایک موضوع پر آپ کو اتنی کتابیں مل جائیں گی کہ کریز ہی ختم ہو جائے گا جس کہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ادب جمود کا شکار ہے مقدار تو ہے مگر معیار نہیں
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    زنیرہ عقیل شروع شروع میں آپ کو دقت ہو گی مگر کثرت مطالعہ سے آپ کے لئے سمجھنا آسان ہو جائے گا
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے
    میرا بھی دل کرتا ہے کہ ھارون رشید گھر کے کونے میں درخت کے نیچھے ایک بیٹھک لگا کر ہمیں پنجابی سکھائیں
    بیچ بیچ میں بھابی آکر ہمیں لسی پلاتی رہیں
    اور گھر واپسی میں مکھن اور روٹی گھر جا کر کھانے کے لیے دے
    شاگردوں کی وہ قدر اب کہاں؟
     
    آصف احمد بھٹی، غوری اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    جی آپ نے درست فرمایا
    ابھی تک تو اردو سنوارنے میں لگی تھی
    اب پنجابی بھی شروع کر دونگی ان شا ء اللہ
     
    ملک بلال اور سید شہزاد ناصر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,137
    موصول پسندیدگیاں:
    7,369
    ملک کا جھنڈا:
    محترم غوری جی !
    چونکہ الحمدللہ پنجابی میری مادری زبان ہے اس لیے مجھے اس کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں پیش آئی ورنہ میں بھی آپ کے کئے گئے ترجمہ پر نظر ڈالتا تو یقینا بحر اوزان وغیرہ میں فرق نظر آ جاتا۔
    پہلی بات کہ بطور فورم ممبر ہم سب بشمول میرے برابر ہیں لیکن ہماری اچھی تربیت ہمیں اس بات پر اکساتی ہے کہ ہم بزرگوں اور خاص کر صاحبِ علم بزرگوں سے بات کرتے ہوئے آداب کو ملحوظِ خاطر رکھیں اور اگر ان کی طرف سے کچھ تنقید (چاہے وہ ہمارے مزاج کے خلاف ہو ) تو اس کو مثبت انداز میں لے کر ان سے رہنمائی کی گزارش کریں تاکہ ہماری بات میں ان کے علم کی بدولت نکھار پیدا ہو اور کمیاں دور ہوں یا خاموشی اختیار کر لیں بجائے اس کے کہ ان کا امتحان لیا جائے۔ شاید آپ نے شاہ جی کی تصویر سے ان کی عمر کا اندازہ لگایا تو عرض ہے کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے اور شاہ جی عمر ، تجربے، علم میں ہمارے فورم کے سینئر ترین ممبر کہے جا سکتے ہیں۔
    آپ نے شاہ جی سے کہا کہ "ہمت کرکے اسے اپنے معیار کے مطابق ترجمہ کردیجئے " یقینا یہ نامناسب بات ہے۔ علم عروض وہ خاص علم ہے جس سے شعر کا وزن اوراس کا موزوں یا نا موزوں ہونا معلوم کیا جاتا ہے۔ علم عروض کے تحت اشعار کے مختلف وزن مقرر کئے گئے ہیں جن میں ہر وزن کو بحر کہا جاتا ہے۔ ہر بحر چند خاص لفظوں یا ارکان سے تشکیل پاتی ہے جن کی مدد سے شعر کو ناپا تولا جا سکتا ہے۔ کسی شعر کا وزن معلوم کرنے کے لیے اس کے ارکان میں تقسیم کرنے کو’ تقطیع ‘کرنا کہتےہیں۔ اور شاہ جی علم عروض میں اچھی خاصی دسترس رکھتے ہیں اور باریکیوں کو ہم سے کہیں زیادہ سمجھتے ہیں اور اصلاح بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کو یہ کہنا جیسا آپ نے کہا درست نہیں۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک ایمپائر کھلاڑیوں کی غلطیاں پکڑتا ہے ، ان کے کھیل کو جانچتا ہے، چاہے تو سرزنش بھی کر سکتا ہے اور کھیل سے باہر بھی کر سکتا ہے جبکہ 99 فی صد ایمپائرز نے شاید کبھی وہ کھیل عالمی سطح پر تو درکنار قومی سطح پر بھی نہ کھیلا ہو۔ لیکن کھیلنے والے اس کو یہ نہیں کہتے کہ میرا گول درست نہیں تو تم گول کر کے دکھا دو یا میرا بال درست نہیں تو تم درست بال کر کے دکھاؤ۔ بلکہ سب کھلاڑی اس کے علم اور مرتبے کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں کہ وہ اس کھیل کا ان سے زیادہ علم رکھتا ہے اور ان سے زیادہ بہتر طور پر کمیاں کوتاہیاں پکڑ سکتا ہے۔ امید ہے آپ بات سمجھ گئے ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ شاہ جی علم رکھنے کے ساتھ ساتھ صاحب سخن ہیں۔ جب کہ آپ کا لکھا گیا کلام یقینا اچھا ہے جسے سب سے پہلے میں نےسراہا لیکن پھر بھی اس معیار کا نہیں کہ شاہ جی جیسے استاد اس کا ترجمہ کریں۔ ہمارے جیسے مبتدیوں کو کوشش کرنے کے لیے یہ چھوٹی بحر آسان الفاظ کے کلام کا ترجمہ کرنا مناسب لگتا ہے۔ خاص کر جب شاعر بھی نامعلوم ہو۔ آپ کے لکھے گئے کلام میں کی گئی باتیں یقینا دل کو چھو لینے والی ہیں لیکن یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کسی استاد کا کلام نہیں جو رنگ ان میں نظر آتا ہے۔ آپ سیدھا سیدھا ترجمہ نثر کے قالب میں ڈھال دیتے تو یقینا کوئی اعتراض والی بات نہ تھی۔
    اب ترجمہ کی بابت نظر ڈالیں تو کسی کلام کا ترجمہ 2 طرح سے ہوتا ہے۔
    1۔ سلیس یا بامحاورہ ترجمہ یعنی شاعر کی گئی بات کو مناسب الفاظ میں نثر اور پیراگراف کی صورت میں تحریر کر دینا۔ اس میں مقصود صرف بات کو دوسری زبان یا اسی زبان میں آسان طریقے سے سمجھانا ہوتا ہے۔
    2۔ منظوم ترجمہ یعنی شاعر کے کلام کا ترجمہ بھی شاعری میں ہی کیا جائے ۔ جب شاعری کی صورت میں ترجمہ ہو گا یقینا شاعری کے متعلقہ تمام اصول و ضوابط کو مدِ نظر بھی رکھنا پڑے گا۔ جیسا کہ آپ نے منظوم ترجمہ کی کوشش کی ۔
    یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوں منظوم ترجمہ کی۔ آخر میں علم عروض کو مدنطر رکھتے ہوئے کلام کی معلومات دی گئی ہیں۔ غور کیجیے کہ ترجمہ کرنے والے نے منظوم ترجمہ میں بھی وہی بحر استعمال کی جو حضرت امیر خسرورح کے کلام کی جو کہ یقینا شاعری پر ان کی انتہائی گرفت اور علم عروض پر دسترس کی نشاندہی کرتا ہے۔

    درج ذیل نعت امیر خسرو کی مشہور و معروف نعت ہے لیکن ادبی محققین کے مطابق یہ انکے کسی بھی دیوان میں نہیں ملتی لیکن صدیوں سے معروف انہی کے نام سے ہے۔
    شعرِ خسرو
    نمی دانَم چہ منزل بُود، شب جائے کہ من بُودَم
    بہ ہر سُو رقصِ بسمل بُود، شب جائے کہ من بودم
    اردو ترجمہ
    مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔
    منطوم ترجمہ
    مسعود قریشی
    نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
    ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

    شعرِ خسرو
    پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
    سراپا آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
    ترجمہ
    پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
    قریشی
    پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گُوں
    سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا
    شعرِ خسرو
    رقیباں گوش بر آواز، اُو دَر ناز، من ترساں
    سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
    ترجمہ
    رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
    قریشی
    عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں
    سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا
    شعرِ خسرو
    خدا خود میرِ مجلس بُود اندر لا مکاں خسرو
    محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم
    ترجمہ
    اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔
    قریشی
    خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو
    محمد تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا
    ——–
    بحر - بحر ہزج مثمن سالم
    افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
    اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
    تقطیع -
    نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
    بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم
    نمی دانم - مفاعیلن - 2221
    چ منزل بو - مفاعیلن - 2221
    د شب جائے - مفاعیلن - 2221
    کِ من بودم - مفاعیلن - 2221
    بَ ہر سو رق - مفاعیلن - 2221
    ص بسمل بو - مفاعیلن - 2221
    د شب جائے - مفاعیلن - 2221
    کِ من بودم - مفاعیلن - 2221
    یہ ہوتا ہے منظوم ترجمہ جو ہم جیسے طالب علم نہیں کر سکتے لیکن اس سے استفادہ و رہنمائی ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔
    آپ نے جو الفاظ شاہ جی کے لیے استعمال کیے ہیں انتہائی نامناسب ہیں۔ لیکن چونکہ بات ختم ہو چکی ہے۔ اس کوشش کریں کہ مستقبل میں گفتگو کے دوران میری گزارشات کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔میرے لیے آپ بھی اتنے ہی محترم ہیں جتنے فورم کے باقی سب ممبرز۔
    خوش رہیں
    بہت جئیں :)
     
    Last edited: ‏27 اپریل 2019
    غوری، زنیرہ عقیل اور سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,137
    موصول پسندیدگیاں:
    7,369
    ملک کا جھنڈا:
    :p_wife:پہلے نہیں آ سکتی تھیں آپ
     
    زنیرہ عقیل اور سید شہزاد ناصر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,137
    موصول پسندیدگیاں:
    7,369
    ملک کا جھنڈا:
    زنیرہ عقیل اور سید شہزاد ناصر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    ملک بلال جی نہ مجھے شاعر ہونے کا دعویٰ ہے نہ ماہر عروض ہوں بس کچھ بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کر کے جھونگے میں کچھ حاصل کر لیا اور کچھ نہیں
    تضمین اور منظوم ترجمہ کرنا شاعری کی صنف میں مشکل ترین کام ہے بڑے بڑے شاعر دل چھوڑ دیتے ہیں جب بڑے بڑے صاحب دیوان شاعروں کے لئے یہ کام ممکن نہیں تو ہر کسی کے بس کی بات کیسے ہو سکتی ہے
    یہ بات آپ نے بہت اچھے پیرائے میں بیان کی
    سلامت رہیں
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    اُف اتنے زور سے تو نہ ماریں
    سر پر لگ رہی ہے
    مجھے علم نہیں تھا کہ ہمارے محترم بھائی ناراضگی کے دورانئے سے گزر رہے ہیں
    پھر بھی دیر آید درست آید
    اللہ نے دونوں کے دل میں ڈا ل دیا اور معذرت کے الفاظ بھی میرے کانوں تک پہنچے

    اور یہ اتنی لمبی چھوڑی تقریر اور مثالیں اُف.................... لیکن اتنی خوبصورت کہ مزا آگیا پڑھ کر.
    اب تو مٹھائی کھانے کا ٹائم تھا
    آپ نے پھر سے ہماری مٹھائی ڈیلے کرنے کی کوشش کی
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    منظوم ترجمے کا ایک خوبصورت نمونہ


    نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

    کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

    جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

    آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

    بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

    *******
    پنجابی ترجمہ
    از اسیر عابد

    چتر کوکدا اے، چتر کار کیہڑے کھیکھن گُنھیا وِچ تحریر سائیں
    چولے کاغذی ساریاں مورتاں دے بے دسّیاں بے تقصیر سائیں

    کار کار نہ پُچھ اکلاپیاں دی پتھر جِند نوں سِک عذاب اندر
    شاموں فجر اڈیکدے کڈھ لئیے دُدھ نہر پہاڑ نوں چِیر سائیں

    سدّھر اتھری شوق شہادتاں دی مقناطیس وانگوں کھچ ماردی اے
    سینے وِچ تلوار دے ساہ اوکھا کڈّھی چھاتیوں دھار شمشیر سائیں

    سُرتاں ہو ہشیار چالاک بھانویں جال کناں دے لکھ وچھان پیّاں
    پنچھی غیب دا اپنی گل وِچلی، نہیں پھڑکدے وچ تقریر سائیں

    غالب پینکھڑاں وچ نہ رہواں پَیراں ہیٹھ چواتیاں بجھّیاں نیں
    کُنڈل سیکیا وال ہے سنگلی دا جیہڑی سنگلی اساں اسیر سائیں

    چتر: نقش، تصویر
    چترکار: مصور، نقاش
    پینکھڑاں: پاؤں باندھنے کی زنجیر یا رسّی
     
    ملک بلال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,245
    ملک کا جھنڈا:
    زیر زبر پیش سے سارا مفہوم ہی بدل جاتا ہے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    بالکل اسی طرح جیسے

    جِلا دینا
    اور
    جَلا دینا
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کسر نفسی سے کام لے رہی ہیں۔ آپ کی اردو میں دسترس کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ آپ کی وجہ سے فورم پہ چار چاند لگ گئے یہی آپ کی اردو دانی کا بہترین ثبوت ہے۔
     
    ملک بلال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    بالکل اسی طرح جیسے

    جِلا دینا
    اور
    جَلا دینا
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    شاعری کے لئے استاد بہت ضروری ہے۔
    بہتر ہے آپ کو استاد دستیاب نہیں ہے ورنہ آپ کل وقتی شاعرہ بن جائیں گی۔ اور مختصر سی زندگی الفاظ کی کھوج اور انھیں ترتیب دینے میں ہی گزر جائے گی۔
    اچھا ہے نثر کو آگے بڑھائیں کیونکہ جس عرصہ میں چند ایک غزلیں مکمل ہوں گی ، اس دورانیے میں ایک کتاب مکمل ہوجائے گی۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    میں تو سچ میں سیکھ رہی ہوں آپ سب سے اور نقل کرتی ہوں آپ سب کی
    بس دعا کیجیے کہ اردو پر درسترس حاصل ہو
     
    ملک بلال اور غوری .نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    واہ واہ کیا خوب فرمائش کی۔
    دیکھتے ہیں ھارون بھائی کیا کہتے ہیں؟
     
    ملک بلال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    لیکن میری ایک خرابی یہ ہے کہ مجھے جو مشکل کام ہے وہ کرنے میں مزا آتا ہے
     
    ملک بلال اور غوری .نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    ھارون رشید بھائی نے کہنا کیا ہے
    میرے آخری جملے پر مجھے ڈانٹ پڑنی ہے ان سے

    "شاگردوں کی وہ قدر اب کہاں؟"
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    20,230
    موصول پسندیدگیاں:
    9,355
    ملک کا جھنڈا:
    کیا ہی اچھا ہوتا زیر زبر پیش سے حالات بدل جاتے حکومت بدل جاتی مہنگائی ختم ہو جاتے اور سبق یاد ہو جاتا
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    ملک بلال صاحب میں نے بھی دنیا دیکھی ہے اور میں کبھی بھی خود کو کسی سے کمتر نہیں سمجھتا۔
    یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی حضرت صاحب اپنی استاد کا اظہار کرچکے ہیں۔ لیکن
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہاں اپنی قابلیت کی دھونس دوسروں پہ جمانے کا حق نہیں رکھتے۔

    جو صاحب علم اور صاحب کردار ہوتے ہیں لوگ ان سے ان کے مرتبے سے بات کرتے ہیں۔
    آپ کی رائے یک طرفہ ہے۔
    کاش آپ حضرت صاحب کو بھی میرے مزاج کے بارے میں بتاتے کہ میں اپنی خود داری کی ہر صورت نگہبانی کرتاہوں۔

    میں نے اردو ترجمہ اپنے تئیں بہترین کیا ہے اور فی البدییہ کیا ہے تاکہ ہماری اردو کے صارفین استفادہ حاصل کرسکیں۔
    اور حضرت صاحب کو اچھا نہیں لگا تو اس کا متبادل پیش کردیتے تو ہمارے لئے بہتر ہوتا۔

    میری 50 سے زیادہ غزلیں میرے استاد کی اصلاح شدہ ہیں۔ ان کے بارہا کہنے کے باوجود میں شاعری کی گہرائی میں نہیں گیا کیونکہ میں کل وقتی شاعر بننا نہیں چاہتا کیونکہ کچھ آخرت کے لئے سامان کرکے رکھنا ضروری ہے۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,137
    موصول پسندیدگیاں:
    7,369
    ملک کا جھنڈا:
    آپ دونوں احباب نے جو پیغامات ارسال کیے ان میں ایک دوسرے کے بارے میں جو خیالات کا اظہار کیا ان کو چھوڑ کر ان پیغامات میں سے صرف وہ باتیں نکال کر پیش کرتا ہوں جو دونوں احباب نے خود اپنے بارے میں کیں۔

    غوری
    میں نے ترجمہ کیا ہے
    میں ایک مہذب اور ذمہ دار انسان ہوں
    ہم بھی منہ میں زباں اور دہن رکھتے ہیں
    میں نے بھی دنیا دیکھی ہے
    مجھے میرے اعمال اور کردار کی وجہ سے سید کہتے تھے
    میں کبھی بھی خود کو کسی سے کمتر نہیں سمجھتا
    میں نے اردو ترجمہ اپنے تئیں بہترین کیا ہے
    میری 50 سے زیادہ غزلیں میرے استاد کی اصلاح شدہ ہیں

    سید شہزاد ناصر
    نہ مجھے شاعر ہونے کا دعویٰ ہے نہ ماہر عروض ہوں بس کچھ بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کر کے جھونگے میں کچھ حاصل کر لیا اور کچھ نہیں

    میں غوری جی کی باتوں کی تائید کرتا ہوں اور سید شہزاد ناصر جی کی بات سے جزوی اختلاف کرتا ہوں۔
    احباب سے گزارش ہے کہ اس بحث کو ختم سمجھیں ۔
    مزید کچھ اور گفتگو فرمائیں :)
    وہ زنیرہ عقیل کچھ مٹھائی کی بات کر رہی تھیں۔ آپ میں سے کون کھلا رہا ہے؟ میں تو کھانے والوں میں سے ہوں۔ آپ سے لے کر زنیرہ نہیں کھلائیں گی تو ان کو خود کھلانی پڑے گی۔ :)
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں