1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پسندیدہ غزلیات، نظمیات

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالجبار, ‏21 نومبر 2006۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    تجھے دل میں بسالیں شامل شام و سحر کردیں
    ادھر آ غم جاناں تجھے ہم معتبر کردیں
    ہم آئے ہیں ہمارے ساتھ صبح‌نو بھی آئی ہے
    شب تاریک کے ماروں کوجاکر یہ خبر کردیں
    ہماری داستان عشق بھی دہرائے گی دنیا
    اگر وہ ساتھ دیں تو ہم عاشقی کو معتبر کردیں
    کنول دشواریء منزل ہمیں محسوس کیا ہوگی
    جو پیدا راہ دل میں جذبہء شوق سفر کردیں
    کنول فیروز
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    سودا ہمارے سر میں تجھے چاہنے کا تھا
    عہدِ شروعِ عشق بھی کس معرکے کا تھا

    محرومِ پیش رفت رہے ہم سے خوش خرام
    دشتِ زیاں میں اپنا سفر دائرے میں تھا

    پیمائشِ سفر نے کئے حوصلے تمام
    ہر سنگِ میل، سنگ مرے راستے کا تھا

    میں خود پہ ہنس رہا تھا زمانے کے ساتھ ساتھ
    وہ مرحلہ بھی عشق میں کس حوصلے کا تھا !

    سن کر ہماری بات یہ کیا حال کر لیا ؟؟؟
    تم رو پڑے ؟ یہ وقت دعا مانگنے کا تھا

    نکلی تھی مدتوں میں‌ملاقات کی سبیل
    تشنہ کہو یہ کون سا موقع گِلے کا تھا

    (عالمتاب تشنہ)​
     
  3. سجیلا
    آف لائن

    سجیلا ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جنوری 2007
    پیغامات:
    110
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    :

     
  4. سجیلا
    آف لائن

    سجیلا ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جنوری 2007
    پیغامات:
    110
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    :


    (ساری غزل ہی قابلِ تعریف ہے)
     
  5. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے
    خود اپنی شہرت پہ رشک آئے سخن میں ایسا کمال دے دے

    ستارے تسخیر کرنے والا پڑوسیوں سے بھی بے خبر ہے
    اگر یہی ہے عروج آدم تو پھر ہمیں تو زوال دے دے

    تری طرف سے جواب آئے نہ آئے پرواہ نہیں ہے اس کی
    یہی بہت ہے کہ ہم کو یا رب! تو صرف اذن سوال دے دے

    ہماری آنکھوں سے اشک ٹپکیں ، لبوں پہ مسکان دوڑتی ہو
    جو ہم نے پہلے کبھی نہ پایا ، تو اب کے ایسا ملال دے دے

    کبھی تمھارے قریب رہ کر بھی دوریوں کے عذاب جھیلیں
    کبھی کبھی یہ تمھاری فرقت بھی ہم کو لطف وصال دے دے

    تیمور حسن تیمور​
     
  6. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    بہن جی ۔ آپ کی ارسال کردہ غزل بہت عمدہ ہے :)
     
  7. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    بہت خوب۔ کیا غضب کا شعر ہے۔ بہت عمدہ


    آنٹی مرزا جی ۔ آپ کی غزل بھی بہت اچھی ہے۔
     
  8. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    شکریہ برادر بھیا۔

    غزل تو تیمور حسن کی ہے ۔ داد ان کو دیجیئے :84:
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    فیض احمد فیض کی ایک غزل حاضر ہے

    موت اپنی، نہ عمل اپنا، نہ جینا اپنا
    کھو گیا شورشِ گیتی میں قرینہ اپنا

    ناخدا دور، ہوا تیز، قریں کامِ نہنگ
    وقت ہے پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا

    عرصہء دہر کے ہنگامے تہِ خواب سہی
    گرم رکھ آتشِ پیکار سے سینہ اپنا

    ساقیا ! رنج نہ کر جاگ اٹھے گی محفل
    اور کچھ دیر اٹھا رکھتے ہیں پینا اپنا

    بیش قیمت ہیں یہ غم ہائے محبت مت بھول
    ظلمتِ یاس کو مت سونپ خزینہ اپنا

    (فیض احمد فیض)​
     
  10. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    فیض احمدفیض کی تو بات ہی کیا ہے! بہت اچھا انتخاب ہے!
     
  11. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    درد اپناتا ہے پرائے کون
    کون سنتا ہے اورسنائےکون

    کون دہرائے وہ پرانی باتیں
    غم ابھی سویاہےجگائے کون

    وہ جو اپنےہیں کیاوہ اپنےہیں
    کون دکھ جھیلے، آزمائے کون

    اب سکوں ہے تو بھلانے میں ہے
    لیکن اس ہرجائی کو بھلائے کون

    آج پھر دل ہے کچھ اداس اداس
    دیکھئے آج یاد آئے کون


    (جاوید اختر)​
     
  12. عامر شاہین
    آف لائن

    عامر شاہین ممبر

    شمولیت:
    ‏2 مئی 2007
    پیغامات:
    1,137
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    ملک کا جھنڈا:
    اک تیرے جانے سے

    اک تیرے آنے سے
    چاند بھی چمکتا تھا
    چاندنی رواں تھی

    اک تیرے جانے سے
    چاند بھی بجھا ہے
    چاندنی دھواں ہے
     
  13. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    آپ کا انتخاب بہت اچھا لگا زاہرا بی بی!
     
  14. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    وہ کیا ہوتے ہیں پر تم ان کو کیا سے کیا سمجھتی ہو
    کہ جو بھی ہنس کے مل لے اسے اپنا سمجھتی ہو

    محبت کے سفر میں ساتھ رکھو ہم سفر کوئی
    وہ اک گہرا سمندر ہے جسے رستہ سمجھتی ہو

    چلو ہم مان لیتے ہیں کہ ملنا شرط ہی کب تھی
    مگرتم فاصلوں کو بھی کوئی رشتہ سمجھتی ہو

    اداسی تم پہ آ جائے تو اس جانب نظر کرنا
    جہاں پر کوئی بیٹھا ہو جسے اپنا سمجھتی ہو

    تم اس کی ذات کا حصہ تم اس کی سوچ کا محور
    تمھارا جسم ہے وہ تم جسے سایہ سمجھتی ہو

    نہیں آنسو بہانا تم اگر وہ یاد آئے بھی
    تمھارے ساتھ ہے وہ خود کو کیوں تنہا سمجھتی ہو

    پلٹ کے دیکھنا تو جاگتے موسم کی ہر رت میں
    تمھیں وہ ہی ملے گا جس کو تم پیارا سمجھتی ہو

    تری تنہائیوں کو بانٹنے والا وہی اک ہے
    جسے ہاشم جو کہتی ہو تو ہاشو سا سمجھتی ہو

    ہاشم رضا​
     
  15. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    باجی جی ۔ غزل تو اچھی ہے۔

    لیکن مقطع کیا مزاحیہ شاعری کا ہے ؟؟؟ :p

     
  16. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
    جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

    ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
    ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں

    ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں
    ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں

    ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں
    ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں

    ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں
    ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں

    ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا
    ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں

    ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے
    ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں


    جاوید اختر​
     
  17. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    مسز مرزا جی،
    کیا بات ھے جاوید آختر صاحب کی،!!!!!!
     
  18. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    نعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔۔

    یہ مزاحیہ شاعری نہیں :evil:

    تیری دادی کا نواسہ ہے تیری نانی کا پوتا ہے
    جسے نعیم بھائی تو کہتی ہو مگر احمق سمجھتی ہو!!

    مسز مرزا​

    ہاں اس کو آپ شائید کہہ سکتے ہیں :wink:
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ بہن جی۔ ہم دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں خیالات کتنے ملتے ہیں :p
     
  20. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    ساری دنیا مجھے کہتی تیرا سودائی ہے
    اب میرا ہوش میں آنا تیری رسوائی ہے
    سب کہنا اسیران قفص سے اے صیاد
    مگر یہ نہ کہنا کہ چمن میں پھر بہار آئی ہے
    دل ازل سے ہے شیدا آج نیا تو نہیں
    ایک چوٹ تھی پرانی جو ابھر آئی ہے
    ساری دنیا کی نظروں سے گرا ہے مجروح
    تب جاکے کہیں تیرے دل میں جگہ پائی ہے​
     
  21. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب ہارون رشید بھائی ۔ بہت عمدہ انتخاب کلام ہے
     
  22. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    جب تیرا حکم ملا ترکِ محبت کر دی
    دل مگر اس پہ وہ رویا کہ قیامت کردی

    تجھ سے کس طرح میں اظہارِ تمنا کرتا
    لفظ سوچا تو معانی نے بغاوت کر دی

    میں توسمجھاتھاکہ لوٹ آتےہیں جانےوالے
    تو نے جاکر توجدائی میری قسمت کردی

    مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیارآتاہے
    تیری الفت نے محبت میری عادت کردی

    کیا ترا جسم تیرے حُسن کی حدّت میں جلا؟
    راکھ ! کس نے تری سونے کی سی رنگت کردی؟


    (احمد ندیم قاسمی)​
     
  23. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    نعیم بھائی آپ کا انتخاب آپ کی طرح بہت ہی پیارا ہے ۔
     
  24. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    اے باد صبا
    اس نگر میں جا
    اسے اتنا بتا
    کہ دیوانہ تیرا
    کہتاہی رہا
    ازراہِ خدا
    مکھ اپنا دکھا
    تیری معصوم شکل
    تیرے ہونٹ کنول
    تیری آنکھ غزل
    تیری نظر عجل
    اے سلطان وفا
    تو خود ہوبتا
    مجھے چین ملا
    کبھی تیرے بنا
    اے باد صبا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  25. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    ہارون بھائی ۔ آپکی سہہ حرفی مصرعہ کی نظم پڑھ کر بہت لطف آیا۔ ماشاءاللہ
     
  26. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ نعیم صاحب
     
  27. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    کیوں نہ سمجھا تو دل کی بات میری
    کٹ ہی جاے گی غم کی رات میری

    ساتھ اپنے رہے گی تنہائی
    زندگی میں یہی ہے مات میری

    تم سی بچھڑی تو زندگی بچھڑی
    بن تمہارے نہیں حیات میری

    بن تیرے ذندگی میں کچھ بھی نہیں
    ایک تو ہی ہے کائنات میری

    دل یہ کہتا ہے نور لوٹ آو
    کاش سن لے کبھی وہ بات میری
     
  28. صارم مغل
    آف لائن

    صارم مغل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2007
    پیغامات:
    230
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    مرنے کی دعائین کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
    یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے

    جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
    اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

    جو آگ لگائی تھی تم نے اسکو بجھایا اشکوں نے
    جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

    دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبی ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
    دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے
     
  29. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    ابتدائے عشق سے روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا

    قافلے میں صبح کے اک شور ہے
    یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا

    سبز ہوتی ہی نہیں یہ سر زمیں
    خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

    یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں
    داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

    غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز
    میر اس کو رائگاں کھوتا ہے کیا

    میر تقی میر​
     
  30. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    باجی جی ۔ یہ میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے لیکن پہلا مصرعہ کچھ یوں‌ہے

    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں