1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پریم کی بانسری

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از مبارز, ‏7 نومبر 2008۔

  1. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    پریم کی بانسری
    (افسانہ - از جناب سرخوش زاہدی - 1922ء)

    قسط نمبر 1

    سیوک اپنے پانچوں بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔۔۔باپ آخر دم تک اس کو سینہ سے لگائے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔اور چلتے چلاتے بڑے بھائیوں کو سونپ گیا۔۔۔۔۔سب کے سب سیدھے سادے بھلے مانس تھے۔۔۔سیوک کی بڑی محنت اور محبت سے سیوا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برادری کے دستور کے موافق 9 برس کی عمر میں پاس کے ایک گاؤں میں اس کا بیاہ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بے فکری سے گھومنے اور کھیلنے کے لئے اس کو آزاد کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیوک کو بچپن سے گانے کا بڑا شوق تھا۔۔۔پتلے سے بانس کی ایک خوبصورت بانسری اس نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔۔۔اسے وہ گاؤں کے کنارے کھیتوں میں بجایا پھرتا۔۔۔کوئی گانے والا سادھو گاؤں میں ستار لے کر آجاتا تو سیوک اس کی خدمت گذاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا۔۔۔۔اسے اپنے گھر لے جاتا۔۔۔کھلاتا پلاتا۔۔آرام پہنچاتا۔۔۔۔خدمت کرتا اور بھجن ۔۔۔ٹھمری دادر گوا کر سنتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بھائی اور بھاوج اس کی حرکت کو محبت کی نظر سے دیھکتے اور ڈر کے مارے کبھی کچھ نہ کہتے۔۔۔جب سادھو جانے لگتا تو سیوک اسے بہت دور تک پہنچانے جاتا۔۔۔۔۔ ایک دفعہ ایک بہت بڈھا سادھو آیا۔۔۔۔۔گاؤں کے لوگوں نے اس کی بڑی عزت کی۔۔۔۔اور سیوک سے اس کے گانے کی بہت تعریف کی۔۔۔سیوک نے اسے ایک اٹھوارے تک اپنے یہاں‌ مہمان رکھا۔۔۔۔رات رات چلم چڑھا چڑھا کر پلائی ۔۔۔پاؤں دبائے۔۔اور بہت خدمت کی۔۔لوگ اس کی محنت کو حیرت سے دیکھتے۔۔۔۔پڑوس کی نو عمر لڑکیاں اس کا مزاق اڑاتیں۔۔۔اور کہتیں "سیوک۔۔۔۔! اس بڈھے فقیر کی سیوا سے تمہیں کیا مل جائیگا۔۔۔؟" لیکن سیوک مسکرا کر چپ ہو جاتا۔۔۔اور ان کے طعنوں کی کچھ پرواہ نہ کرتا۔۔۔۔۔

    سادھو جانے لگا تو سیوک نے اپنی بانسری اٹھائی اور اسے پہنچانے کے لئے چلا۔۔۔گاؤں کے لوگوں نے شام کے وقت اسے گاؤں کے باہر جاتے دیکھا۔۔۔۔۔۔لیکن پھر لوٹ کر نہ آیا۔۔۔۔۔۔۔بہیترا ڈھونڈا گیا لیکن اس کا کچھ کھوج نہ ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آس پاس کے گاؤں والے جو اسے پہنچانتے تھے بس اتنا جانتے تھے کہ وہ سادھو کے ساتھ ادھر آیا تھا۔۔۔۔لیکن پھر وہ کہاں گیا ۔۔یہ کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی سسرال والوں نے اسے جاتے دیکھا تھا۔۔پوچھنے پر اس نے ہاتھ کے اشارے سے لوٹ کر آنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اس کی بانسری کی آواز نہ سنائی دی۔۔۔۔۔اور نہ وہ لوٹ کر آیا۔۔۔۔۔۔

    سیوک کے چلے جانے سے گاؤں سونا سا ہو گیا تھا۔۔۔ہر جگہ لوگ یہی چرچا کرتے تھے۔۔۔ہر شخص کو اس کے غائب ہو جانے کا رنج تھا۔۔۔گاؤں کے کنوئیں پر جب گاؤں‌کی ہر عمر کی عورتیں اور لڑکیاں پانی بھرنے کے لئے جمع ہوتیں تو سیوک کا ذکر کرتیں۔۔۔۔اس کی بانسری کو یاد کرتیں اور بہت تعریفیں کرتیں۔۔۔۔

    سیوک کے بھائیوں نے رنج کے مارے کھیتی باڑی چھوڑ دی تھی۔۔۔اور کسی دوسری جگہ چلے جانے کا ارادہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی سسرال کے لوگوں کو بھی اس کے گم ہو جانے کا بیحد غم تھا۔۔۔۔۔۔لیکن سیوک کی کم عمر دھرم پتنی اپارنا ان تمام واقعات سے بالکل بے خبر تھی۔۔۔اپارنا نہایت بھولی لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بڈھی ماں‌ کو چاچی اور چھوٹے بھائی نارائن کو نارد کہتی۔۔۔۔۔۔۔اور گاؤں کے سب لوگ اسے آپو کہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔نارد آپو کی زندگی کا سہارا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ کھیل کود کر ہنسی خوشی زندگی بسر کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا کی فکروں سے اسے کوئی غرض نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    (جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
     
  2. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    بہت خوب کاشفی جی !
    خوبصورت سلسلہ ہے :flor:
     
  3. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    بہت اچھے کاشفی جی ۔
    آپکا انداز منفرد ہے
     
  4. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ۔
    ۔
    بہت شکریہ کاشفی صاحب۔
    لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ۔۔۔
    افسانہ نہیں۔۔۔ایک داستان ہے۔
     
  5. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    زاہرا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ ۔۔جیتی رہیں خوش رہیں۔۔۔ :222:

    نور جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ۔۔جیتی رہی خوش رہیں۔۔۔۔۔ :222:

    نادر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ۔۔آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں۔جیتے رہیں خوش رہیں۔۔۔۔ :222:
     
  6. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قسط 2
    سات برس بیت گئے ۔۔۔سیوک کا کچھ پتہ نہ چلا۔۔۔۔۔۔لوگوں کے دلوں‌سے اس کی یاد فراموش ہوتی جاتی تھی۔۔۔۔۔سب کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ اس دنیا میں زندہ اور سلامت نہیں ہے۔۔۔۔۔بھائیوں نے اپنے دھرم کے مطابق اس کا دان پن بھی کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رشتے ناتے کے لوگ رودھو کر صبر کر کے بیٹھ رہے۔۔۔۔۔سسرال والوں نے بھی اس کے کریاکرم میں کوئی کمی نہ کی۔۔۔لیکن اپارنا جوان ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماں باپ کو دوسرے کام کی فکر ہوئی۔۔۔۔سیوک کے بھائیوں‌نے پہلے تو خاموشی اختیار کی۔۔۔۔لیکن اپارنا کی اٹھتی جوانی دیکھ کر انہوں نے اسے زیادہ دن تک بٹھا رکھنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔۔۔اور چاروناچار کہلا بھیجا بھائی۔۔۔!۔۔۔ایشور کی مرضی میں‌کسی کا اجارہ نہیں‌ ہماری قسمت ہی ایسی پھوٹی تھی۔۔۔نہیں تو یہ دن دیکھنا کیوں نصیب ہوتا۔۔۔۔۔آخر آپو کو بٹھا رکھنے سے کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔
    اپارنا کو ایک ایک بات کی خبر پہنچتی رہتی تھی۔۔۔۔آئندہ زندگی کا خیال کر کے اس کا جی بھر آتا تھا۔۔۔۔۔ سیوک کے علاوہ کسی دوسرے کی ہو رہنے کے خیال سے وہ کانپ اٹھتی ۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے ایک بہت بڑا گناہ سمجھتی تھی۔۔۔۔کیونکہ اسے سیوک کے مرنے کا یقین نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
    جب نارد بچپن کے انداز میں بھولے پن سے سیوک کی موت کا ذکر کرتا۔۔۔تو آپو فوراََ بول اٹھتی۔۔
    "نہیں نارد! وہ سرگ باسی نہیں‌ ہیں۔۔۔وہ روز رات کو کھیتوں میں‌ ٹہلنے آتے ہیں۔۔۔میں ان کی بانسری کی سریلی آواز برابر سنتی ہوں" ! نارد اپنی بہن کی یہ عجیب باتیں سن کر چپ ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔
    کام کی بات چیت شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔رشتہ کا ایک لڑکا تلاش کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور بیاہ کی تیاریاں ہونے لگیں۔۔۔۔آپو سے نہ رہا گیا۔۔۔۔دوپہر کے وقت ماں‌ کے پاس گئی۔۔۔اور بیاہ سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب نے سمجھایا مگر وہ راضی نہ ہوئی۔۔۔برابر کہتے جاتی
    "میں تو ان کی بانسری کی آواز سنتی ہوں" ۔۔۔۔۔۔۔۔برہمنوں نے اس کا روگ پہچانا اور اسے "تربینی"میں اشنان کے لئے لے جانے کی صلاح دی۔۔۔۔آپو کے ماں باپ بیٹی کے غم میں‌گھلے جارہے تھے۔۔۔۔۔برہمنوں کی رائے پر عمل کرنے کو تیار ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
     
  7. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ۔
    ۔
    کاشفی بھائی !
    آپ کا حوصلہ ہے جو ایسی ایسی طویل کہانیاں یہاں پیش کرتے ہیں۔۔
    اِس کہانی کے متعلق ایک بات کہنا چاہوں گا اگر بُرا نہ لگے۔

    دیکھیں ! کاشفی بھائی۔
    زندگی بہت تھوڑی ہے۔ اور بہت کچھ کرنا ہے۔
    قاری کو سب سے پہلے یہ طے کرنا چاہئے کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں۔

    مذکورہ بالا کہانی میں اب تک تو کچھ حاصل نہیں ہوا ۔۔۔
    بیانیہ انداز میں جاری اِس کہانی میں آگے بھی کچھ ملنے کی امید نظر نہیں آتی۔

    اردو ادب میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چُکا ہے۔
    اور کسی تحریر کا قدیم ہونا اُس کےشاہکار ہونے کی دلیل نہیں۔


    میرا مشورہ ہے کہ چنندہ تحریریں پڑھیں اور اُن کے لکھنے میں اپنا قیمتی وقت صرف کریں۔
     
  8. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    نادر بھائی آپ کی باتیں درست ہیں۔۔۔۔جزاک اللہ۔ :222:
    خوش رہیں۔۔۔ہنستے مسکراتے۔۔۔۔ :222:
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم کاشفی بھائی ۔
    ویسے بھی مجھے براہ راست " نادر "‌ نام کا استعمال نا مناسب سا معلوم ہوا ہے۔ اسے تبدیل بھی کیا جاسکتا تھا ۔
    یہ میری رائے ہے۔ آپ بہتر سمجھتے ہیں۔
    والسلام
     
  10. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    وعلیکم السلام۔۔۔

    سب سے پہلے تو اگر پڑھ ہی رہے ہیں تو صحیح سے پڑھ لیں۔۔۔۔۔نادر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ نارد۔۔۔۔

    نادر بھائی کے دل میں میرے لیئے غلط فہمی پیدا مت کریں۔۔۔مہربانی ہوگی۔۔۔۔جزاک اللہ۔۔ :dilphool:
     
  11. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ہا ہا ۔۔۔
    آپ بھی کمال کرتے ہیں نعیم صاحب
    کاشفی کو یوں پریشان نہ کِیا کریں۔

    "نارد منی" دراصل ہندو دیوتاؤں کی کہانیوں میں سے ایک کِردار ہے۔
    جسے برہما کا بیٹا کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ برہما کے " دِماغ " سے پیدا ہُوا تھا۔اِسی لئے وہ بڑا ہی ذہین (چالاک) تھا۔

    میرا اعتراض نام سے مشابہت کو لے کر نہیں تھا۔
    کسی رُکن کا نام اگر کسی مضمون میں آ جائے تو کیا اُسے حذف کر دِیا جائے۔
    اب آپ ہی بتائیں ! اگر کسی رُکن کا نام " خوشی " ہے تو کیا ہم۔۔۔
    اپنی تحریروں میں لفظ خوشی استعمال کرنا ہی چھوڑ دیں؟؟؟

    اور یہ کہ " خوشی " (کو) منانا بھی ترک کر دیں؟؟؟
     
  12. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    حیرت کی بات ھے اس لڑی میں اتنا کچھ ہو گیا مجھے خبر ہی نہیں :soch: :soch:


    مبارز جی آپ اچھا لکھ رہے تھے پلیززززززززززززززززز اس سلسلے کو جاری رکھیں مزید کا انتظار رھے گا

    جتنالکھا اس کے لئے شکریہ
     
  13. مبارز
    آف لائن

    مبارز ممبر

    شمولیت:
    ‏3 اگست 2008
    پیغامات:
    8,835
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    خوشی جی آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ جلد ہی مزید آپ کو پڑھنے کیلئے ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ :dilphool:
     
  14. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    شکریہ مبارز جی انتظار رھے گا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں