1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏7 اگست 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,171
    موصول پسندیدگیاں:
    8,698
    ملک کا جھنڈا:
    عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
    پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے
    ہیں دل گداز جن کے کچھ چیز مال وے ہیں
    ہوتے ہیں ملتفت تو پھر خاک زر بنے ہے
    شب جوش غم سے جس دم لگتا ہے دل تڑپنے
    ہر زخم سینہ اس دم یک چشم تر بنے ہے
    یاں ہر گھڑی ہماری صورت بگڑتی ہے گی
    چہرہ ہی واں انھوں کا دو دو پہر بنے ہے
    ٹک رک کے صاف طینت نکلے ہے اور کچھ ہو
    پانی گرہ جو ہووے تو پھر گہر بنے ہے
    ہے شعبدے کے فن میں کیا دست مے کشوں کو
    زاہد انھوں میں جاکر آدم سے خر بنے ہے
    نکلے ہے صبح بھی یاں صندل ملے جبیں کو
    عالم میں کام کس کا بے درد سر بنے ہے
    سارے دکھوں کی اے دل ہوجائے گی تلافی
    صحبت ہماری اس کی ٹک بھی اگر بنے ہے
    ہر اک سے ڈھب جدا ہے سارے زمانے کا بھی
    بنتی ہے جس کسو کی یک طور پر بنے ہے
    برسوں لگی رہے ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیں
    تب کوئی ہم سا صاحب صاحب نظر بنے ہے
    یاران دیر و کعبہ دونوں بلا رہے ہیں
    اب دیکھیں میر اپنا جانا کدھر بنے ہے
    میر تقی میر​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں