1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏13 ستمبر 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,170
    موصول پسندیدگیاں:
    8,698
    ملک کا جھنڈا:
    پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا

    شہر کے نیچے شہر بسا تھا

    پیڑ بھی پتھر ، پھول بھی پتھر

    پتا پتا پتھر کا تھا

    چاند بھی پتھر ، جھیل بھی پتھر

    پانی کا پتھر لگتا تھا

    لوگ بھی سارے پتھر کے تھے

    رنگ بھی اُن کا پتھر سا تھا

    پتھر کا اِک سانپ سنہرا

    کالے پتھر سے لپٹا تھا

    پتھر کی اندھی گلیوں میں

    میں تجھے ساتھ لیے پھرتا تھا

    گونگی وادی گُونج اُٹھتی تھی

    جب کوئی پتھر گِرتا تھا

    ناصر کاظمیؔ
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں