1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ویکسین کے بارے میں جو آپ نہیں جانتے ..... تحریر : یسرا خان

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏13 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,911
    موصول پسندیدگیاں:
    571
    ملک کا جھنڈا:
    ویکسین کے بارے میں جو آپ نہیں جانتے ..... تحریر : یسرا خان

    ٭ خون کے سفید خلیے جو انسان کے نظام مدافعت کا حصہ ہیں، وہ ان وائرس اور بیکٹیریا کو یاد رکھتے ہیں جن سے ان کا واسطہ پڑ چکا ہوتا ہے۔ ویکسینیشن میں اس خاصیت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور انہیں کمزور جرثوموں سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد جسمانی قوت مدافعت اصل جرثوموں سے لڑنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ فوجی مشقوں کی طرح ہوتا ہے، ان کی مدد سے فوج حقیقی لڑائی میں بہتر طور پر لڑنے کے قابل ہوتی ہے۔
    ٭ 2010ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکا میں کالی کھانسی وبائی صورت اختیار کر گئی، اس کا جزوی سبب والدین کا بچوں کی ویکسینیشن سے انکار تھا۔
    ٭ ہیپاٹائٹس بی اور ایچ پی وی کی ویکسین انسان میں جگر اور سرویکل سرطان کا خطرہ بہت گھٹا دیتی ہے۔
    ٭ ویکسینیشن طبی علاج کے قدیم ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ یہ اینٹی بائیوٹکس اور انستھیزیا سے بھی قدیم ہے۔
    ٭ چیچک ایک ایسا مرض ہے جو متعدی ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس میں موت کی شرح 30 فیصد ہوتی ہے۔ اسی سے نپٹنے کے لیے ویکسینیشن کا پہلاجدید طریقہ متعارف ہوا۔
    ٭ مہلک امراض کے خلاف ویکسین دینے کا عمل سب سے پہلے قدیم چین اور ہندوستان میں شروع ہوا۔ اس طریقے کے مطابق چیچک سے بچ جانے والے کا کھرنڈ اتارا جاتا تھا، اسے صحت مند انسان سونگھتا تھا، جس سے اس مرض کی خفیف علامات ظاہر ہوتی تھیں۔ یوں اس میں چیچک کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی تھی۔
    ٭ اس وقت تقریباً 22 مختلف امراض کی ویکسین موجود ہیں۔
    ٭ 1967ء میں چیچک سے دنیا میں 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اسے دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں اس مرض کے خاتمے کی مہم چلائی گئی۔ چیچک کا آخری کیس 1977ء میں افریقہ میں سامنے آیا۔ یوں ویکسین کی مدد سے پوری دنیا سے اس مرض کا خاتمہ کر دیا گیا۔
    ٭ مشرقی ایشیا میں ویکسین کا طریقہ مشرق وسطیٰ کئی سو سال بعد پہنچا۔ 1770ء میں یورپیوں نے اس کا مشاہدہ کیا اور اسے اپنے علاقوں میں متعارف کرایا۔
    ٭ امریکی جنگ آزادی میں جارج واشنگٹن نے حکم دیا تھا کہ انقلابی فوج میں بھرتی ہونے سے قبل ہر ایک کا چیچک کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنا لازمی ہے۔
    ٭ ویکسینیشن کے بارے میں پہلا قانون برطانیہ نے منظور کیا۔ اس حوالے سے پہلا ایکٹ 1840ء میں منظور ہوا جس کے بعد غربا کو چیچک کی ویکسین مفت فراہم کی گئی۔ 13 برس بعد برطانوی حکومت نے تمام بچوں کی ویکسینیشن لازمی قرار دے دی۔ جن بچوں کے والدین انکار کرتے تھے انہیں جرمانہ یا قید کی سزا ہوتی تھی۔
    ٭ برطانیہ میں ویکسین کے خلاف پہلی منظم مخالفت ہوئی۔ 1853ء میں ''اینٹی ویکسینیشن لیگ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد دوسری لیگیں بنیں۔ بعض تنظیموں نے دوسرے ملکوں میں بھی اپنے دفاتر قائم کیے جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکا بھی شامل تھا۔
    ٭ ایڈورڈ جینفر نے ویکسینیشن کی جدید شکل کو 1796ء میں متعارف کرایا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ گوالن میں چیچک کے خلاف قوت مدافعت ہوتی ہے اور وہ اسے چیچک نہیں ہوتی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ گائے میں چیچک کی ایک قسم سے پہنچنے والے اثرات اس میں اس مرض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کردیتے ہیں۔ اس کے بعد جینفر نے کامیابی سے گائے میں کمزور حالت میں چیچک کو بچوں میں قوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔
    ٭ اگرچہ ایڈورڈ جینفر کا طریقہ انتہائی مؤثر ثابت ہوا لیکن اسے بہت متنازع بنا دیا گیا۔ شروع میں اس کے مخالفین کا دعویٰ تھا کہ چیچک کی ویکسین سے انسان بالآخر گائے بن جائے گا۔ آج بھی ویکسینیشن کے بارے میں عجیب و غریب دعوے کیے جاتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
    ٭ اگر مناسب وقت پر ایم ایم آر ویکسین دی جائے تو 99 فیصد انسان کن پیڑے، خسرہ اور روبیلا سے محفوظ رہتے ہیں۔
    ٭ ویکسین دو صورتوں میں ہوتی ہے۔ ایک میں اسی بیماری کے جرثومے کمزور حالت میں ہوتے ہیں، جبکہ دوسری میں مرے ہوئے جرثومے ہوتے ہیں۔ پہلی صورت زیادہ مؤثر ہے لیکن اس ویکسین کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے دنیا کے بعض حصوں میں، جہاں اسے ٹھنڈا رکھنا ممکن نہ ہو، مرے ہوئے جرثوموں والی ویکسین استعمال کی جاتی ہے۔
    ٭ تھامس جینفر نے چیچک کو کئی بار اپنے اوپر آزمایا۔
    ٭ 1942ء میں امریکی فوج کے تین لاکھ 30 ہزار اہلکار ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہو گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ویکسین کو ہیپاٹائٹس بی کے شکار فرد سے حاصل کیا گیا تھا۔
    ٭ جن امراض سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے، ان میں لاکڑا کاکڑا، خناق، ہیپاٹائٹس بی، ہب ڈیزیز، کن پیڑے، خسرہ، روبیلا، کالی کھانسی، پولیو، روٹا وائرس، چیچک، ٹیٹنس اور انفلوئنزا شامل ہیں۔
    ویکسین کے ذیلی اثرات عام طور پر خفیف ہوتے ہیں، ان میں بخار، سردی کا احساس اور ٹیکا لگنے کے مقام سوجن شامل ہیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں