1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏25 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,153
    موصول پسندیدگیاں:
    236
    ملک کا جھنڈا:

    وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا
    ہوئی ہے رات وہ بارش ، گماں نہ تھا جس کا

    ہوائیں خود اسے ساحل پہ لا کے چھوڑ گئیں
    وہ ایک ناؤ کوئی بادباں نہ تھا جس کا

    اسی کے دم سے تھی رونق تمام بستی میں
    کہ خندہ لب تھا مگر غم عیاں نہ تھا جس کا

    جلی تو یوں کہ ہوئے راکھ راکھ جسم و جاں
    عجیب آگ تھی کوئی دھواں نہ تھا جس کا

    گلی گلی میں خموشی پہن کے پھرتا تھا
    کوئی تو تھا کہ کہیں ہم زباں نہ تھا جس کا
    ٭٭٭
    یاسمین حبیب​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں