1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں ... اصلاح طلب

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏3 نومبر 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں
    یا تو ہم خاک کے بستر میں کہیں سو جائیں
    زلف و رخسار سنورنے سے ہمیں کیا حاصل
    مقصدِ زیست کو اپنائیں اور اس کے ہو جائیں
    مرقدِ زیست پر آئیں تو شاید یاد آئے
    اپنے ہاتھوں پہ لگے خون کو ہی دھو جائیں
    اپنی فطرت میں نہ شوخی و نہ طراری ہے
    کیسے اب ہم نمودی اور تصنع خو ہو جائیں
    کیوں سن و سال گزارے نہ قرینے سے گل​
    آب ِگریہ سے گلستان کو ہی بھگو جائیں

    زنیرہ گل​
     
  2. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,069
    موصول پسندیدگیاں:
    785
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاء اللہ !بہت خوب!!
    آبِ گِریہ:خوبصورت ترکیب
    واعظ کسے ڈراوے ہے یومِ حساب سے۔۔۔۔۔۔گِریہ میرا تو نامہء اعمال دھوگیا(خواجہ میردرد)
     
    آصف احمد بھٹی اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ محترم

    جزاک اللہ خیراً کثیراً
     
    آصف احمد بھٹی اور شکیل احمد خان .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,027
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب ۔ تمام اشعار کہ جیسے مالا میں موتی پرو دئیے ہیں ۔ ۔ ۔

    مرقدِ زیست پر آئیں تو شاید یاد آئے
    اپنے ہاتھوں پہ لگے خون کو ہی دھو جائیں

    اور جیسا کہ شکیل احمد خان نے بھی ذکر کیا " آب گریہ " کی ترکیب خوب ہے ۔ ۔ ۔ اسی بات کو علامہ محمد اقبال نے یوں کہا تھا ۔ ۔ ۔
    موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
    قطرہ جو تھے مرے عرق انفعال کے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    160
    موصول پسندیدگیاں:
    189
    ملک کا جھنڈا:

    "کیسے اب ہم نمودی اور تصنع خو ہو جائیں"

    یہ مصرع دوبارہ دیکھ لیں بحر سے خارج ہو رہا ہے ..

    باقی کمال کی غزل ہوئی ہے..ماشاءاللہ
    بہت خوب
     
    زنیرہ عقیل اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ محترم

    اللہ جزائے خیر دے آمین
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں
    یا تو ہم خاک کے بستر میں کہیں سو جائیں
    زلف و رخسار سنورنے سے ہمیں کیا حاصل
    مقصدِ زیست کو اپنائیں اور اس کے ہو جائیں
    مرقدِ زیست پر آئیں تو شاید یاد آئے
    اپنے ہاتھوں پہ لگے خون کو ہی دھو جائیں
    اپنی فطرت میں نہ شوخی و نہ طراری ہے
    کس طرح اب یہ نمائش کی نظر ہو جائیں
    کیوں سن و سال گزارے نہ قرینے سے گل
    آب ِگریہ سے گلستان کو ہی بھگو جائیں

    زنیرہ گل
     
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں
    یا تو ہم خاک کے بستر میں کہیں سو جائیں
    اپنی ہی زلف سنواریں تو ہمیں کیا حاصل
    مقصدِ زیست اپنائیں اور اس کے ہو جائیں
    مرقدِ زیست پر آئیں تو مبادا یاد آئے
    اپنے ہاتھوں پہ لگے خون کو ہی دھو جائیں
    اپنی فطرت میں نہ شوخی و نہ طراری ہے
    کس طرح اب یہ نمائش کی نظر ہو جائیں
    کیوں سن و سال گزارے نہ قرینے سے گل
    آب ِگریہ سے گلستان کو ہی دھوجائیں

    زنیرہ گل
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,027
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب ۔ ۔ ۔ خوش رہیں ۔ ۔ ۔
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ محترم

    اللہ جزائے خیر دے آمین
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں
    یا تو ہم خاک کے بستر میں کہیں سو جائیں
    اپنی ہی زلف سنواریں تو ہمیں کیا حاصل
    زندگی کا جو ہے مقصد اسی کے ہو جائیں
    مرقدِ زیست پر آئیں تو مبادا یاد آئے
    اپنے ہاتھوں پہ لگے خون کو ہی دھو جائیں
    اپنی فطرت میں نہ شوخی و نہ طراری ہے
    کس طرح ہم بھی نمائش کی نذر ہو جائیں
    کیوں سن و سال گزارے نہ قرینے سے گل
    آب ِگریہ سے گلستان کو ہی دھوجائیں

    زنیرہ گل
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں