1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ورلڈکپ میں فتح،’جیسےکل کی بات ہو'

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از آزاد, ‏27 مارچ 2009۔

  1. آزاد
    آف لائن

    آزاد ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اگست 2008
    پیغامات:
    7,592
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    ورلڈکپ میں فتح،’جیسےکل کی بات ہو'
    عبدالرشید شکور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی​

    پچیس مارچ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ آج سے ٹھیک سترہ سال قبل اسی روز پاکستانی کرکٹ ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں عالمی کپ جیتا تھا۔ اس شاندار کارکردگی کو بلاشبہ پاکستانی کرکٹ کا بام عروج کہا جا سکتا ہے۔ سابق کپتان انضمام الحق کے لیے یہ تاریخی لمحہ جیسے کل کی بات ہے۔ انضمام الحق عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں ایک نوجوان کرکٹر کے طور پر شامل تھے لیکن درحقیقت سیمی فائنل اور فائنل میں ان کی دھواں دار بیٹنگ ہی پاکستانی حوصلے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوئی تھی۔

    [​IMG]

    انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ورلڈ کپ کی جیت میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب عمران خان سر کالن کاؤڈرے سے ٹرافی وصول کررہے تھے تو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں نہ صرف تماشائی بلکہ تمام پاکستانی کھلاڑی بھی زبردست جوش وخروش میں نعرے لگا رہے تھے۔ میں کچھ زیادہ ہی جذباتی تھا۔ ظاہر ہے کسی کے لیے بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنا ناممکن تھا‘۔

    انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گروپ میچوں میں متعدد ناکامیوں کے بعد ٹیم کی حالات اچھی نہیں تھی اور اس کی وطن واپسی کی باتیں ہورہی تھیں۔ ’ کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستانی ٹیم اس خراب پوزیشن سے نکل کر سیمی فائنل اور فائنل تک جاپہنچے گی لیکن پھر جیت کا سلسلہ شروع ہوا جو ٹیم کی فاتحانہ انداز میں وطن واپسی پر جاکر ٹھہرا‘۔

    انضمام الحق سیمی فائنل اور فائنل میں اپنی عمدہ بیٹنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں دو سو ساٹھ ستر رنز کا ہدف عبور کرنا آسان نہیں ہوتا تھا، مجھے یاد ہے کہ جب میں سیمی فائنل میں بیٹنگ کے لیے گیا تو عمران خان آؤٹ ہوکر آرہے تھے اور آٹھ رنز کی اوسط سے رنز درکار تھے۔ عمران بھائی نے مجھے صرف اتنا ہی کہا اپنا نیچرل کھیل کھیلنا۔میں بالکل جونیئر لڑکا تھا میں نے کسی پریشر کو محسوس نہ کرتے ہوئے اپنے شاٹس کھیلے۔ خوش قسمتی یہ رہی کہ میں جو شاٹس کھیلنا چاہتا تھا وہ لگ رہے تھے‘۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اب وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی کپ جیتے کیونکہ اس جیت کا مزا ہی کچھ اور ہے۔
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,094
    موصول پسندیدگیاں:
    11,138
    ملک کا جھنڈا:
    انشاءاللہ ۔ وہ وقت بھی آئے گا جب ہم پھر ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ :yes:
     
  3. آزاد
    آف لائن

    آزاد ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اگست 2008
    پیغامات:
    7,592
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    انشاءاللہ ہم جیتیں گے بھی :yes:

    نعیم بھائی ورلڈ کپ 2011 سے پہلے جون 2009 (برطانیہ) اور اپریل 2010 (ویسٹ انڈیز) میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہونے ہیں۔ اور اِس کے ساتھ ساتھ چیمپئنز ٹرافی ستمبر 2009 (جنوبی افریقہ) بھی ہوگی۔
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,094
    موصول پسندیدگیاں:
    11,138
    ملک کا جھنڈا:
    آزاد بھائی ۔ معلومات بہم پہنچانے کے لیے شکریہ ۔
    لیکن مجھے لگتا ہے کہ جیسے آج سے 20 سال پہلے ایک روزہ کرکٹ نے ٹیسٹ کرکٹ کو مقبولیتِ عامہ کے اعتبار سے " دوسری ترجیح " پر بھیج دیا تھا ۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بعد اگلے کچھ عرصہ بعد یہی حال ایک روزہ کرکٹ کے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔
     
  5. آزاد
    آف لائن

    آزاد ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اگست 2008
    پیغامات:
    7,592
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    بات آپ کی درست ہے نعیم بھائی کیونکہ اب زندگی بہت تیز اور مصروف ہوگئی ہے۔ اور موجودہ زندگی میں لوگوں کے پاس پانچ دن کا ٹیسٹ میچ دیکھنے کا تو بلکل وقت نہیں ہوتا۔ اور پچاس اورز کا میچ بھی آٹھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ جب کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ صرف 3 گھنٹے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ شائقین کے لئے صرف 3 گھنٹے میں بے پناہ تفریح کا سامان ہوتا ہے۔ اور اِسی وجہ سے جلد ہی کرکٹ اُن ممالک میں بھی مقبول ہو جائے گی جہاں ابھی اِس کی شروعات ہوئی ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں