1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نیو جنریشن کا حال دیکھیں اور بتائیں کون ذمہ دار ہے؟؟؟؟؟۔۔لازمی پڑھیں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از دُعا, ‏17 ستمبر 2015۔

  1. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG] [​IMG]
    [​IMG]
    "ماما میں قرآن پڑھنے نہیں جاؤں گا. سب دوست مجھ پر ہنستے ہیں. کہتے ہیں تم بڑے ہو کر مولوی بنو گے.داڑهی رکهو گے. تمہاری سوچ کتنی پرانی ہے."
    زین نے اپنی ماں سے بہت بدتمیزی سے کہا.ماں اپنی آنکھوں میں آنسو لیے اسے کچھ دیر تک تکتی رہی. یہ خیال دماغ سے محو نہیں ہورہا تھا کہ اللہ نے مجھے جنت کے باغ کے ایک پهول کی پرورش کی ذمہ داری سونپی اور میں وہ بهی نا کر سکی. ماں کی آنکھوں میں آنسو کہاں برداشت تهے اسے؟
    فوراً اپنی ماں کے ہاتھ چوم کر بولا: "آئی ایم سوری مما."ماں نے گلے سے لگا لیا مگر آنسو نا تهمے. پہلے جو سلامتی کی دعا کرتی تهی آج اس کے لیے اللہ سے ہدایت اور مغفرت کی دعاکرنے لگی.
    زین مدرسے میں داخل ہوا. آج تو خطبے کا دن ہے. میں ایسے ہی آگیا بور ہونے. یہ سوچتے ہوئے بےبسی سے بیٹھ گیا. آج کا خطبہ اللہ کی محبت پر تها. خطبہ شروع ہوا. الفاظ یہ تھے.
    "ایک بچے نے اپنی ماں سے کہا:" ماں میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں؟ماں نے جواب دیا:"بیٹا اگر نیک کام کرو گے تو جنت میں اور اگر کسی کا دل دکهاؤ گے اور برے کام کرو گے تو دوزخ میں. "بچے نے کچھ دیر سوچا اور کہا:" اماں میرے ہاتھ پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دو.""میں کیسے رکھ سکتی ہوں بیٹا؟" ماں نے کہا.بچے کے اصرار پر بهی ماں نے منع کر دیا.
    پهر بچے نے کہا: " ماں اگر تم ماں ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھ نہیں جلا سکتی تو اللہ جو ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے ہمیں معاف نا کرے گا. جب تمہارا دل نہیں کرتا میرا ہاتھ جلانے کا تو اللہ تو مجھ سے اس سے بهی زیادہ پیار کرتا ہے جتنا تم کرتی ہو پهر مجھے کیوں جلائے گا؟ کیوں معاف نہیں کرے گا؟
    جب اللہ نے یہ بهی فرما دیا ہے کہ تمہارے گناہ اگر آسمان تک ہوں تب بهی معاف کر دوں گا."اللہ ہم سے اس قدر محبت کرتا ہے. یہ قرآن اللہ کا کلام ہے. ہم سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے جس سے خود اللہ کلام کرتا ہے. "
    زین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے. ندامت سے سر جهک گیا مگر اللہ کی محبت سے سینہ روشن تها. اس نے قرآنِ کریم کو اٹھاکر چوم لیا . اس کی ماں کی دعا قبول ہو گئ تھی
    [​IMG]
     
  2. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    میرا خیال ہے جس عمر میں بچے کو قرآن پڑھایا جاتا ہے اس عمر میں کوئی دوست اس پر نہیں ہنستا نہ یہ کہہ سکتا ہے کہ تمہاری سوچ کتنی پرانی ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس موڈ نہیں ہوتا تو چھٹی کرنے کی صرف ضد کرتا ہے اور پیار سے سمجھانے پر سمجھ میں آجاتا ہے بچے کی۔
    کوئی اور موضوع شیئر کیجئے
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    میں آپ کی بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتی۔۔۔
    آج کل سکول میں جب بچوں کو بھیجا جاتا ہے تو ان کی عمر کیا ہوتی ہے سب ہی جانتے ہیں صرف ساڑھے تین سال۔۔اوریہی عمر ان بچوں کی قرآن پاک پڑھنے کی بھی ہوتی ہے جب انہیں مسجدوں یا مدرسوں میں بھیجا جاتا ہے۔۔
    میں نے اس کی مثال بہت سی جگہوں میں بھی دیکھی ہے آج کل ماڈرن ایج کا کہہ کر پیرنٹس بچوں کو انگلش تو سکھا رہے ہیں گھر میں بھی چھوٹے چھوٹے لفظ انہیں سکھائے جاتے ہیں اردو کے بجائے انگلش میں۔۔۔اور قرآن پاک کو اتنا ضروری سمجھا جاتا تھا پہلے اب ویسا نہیں ہے ۔ایک دن میں نے یہ رپورٹ بھی دیکھی کہ ایک سکول میں اسلامیات پڑھانے پر پابندی لگائی گئی ہے اور قرآن پاک پڑھنے کا جو صبح ایک پیریڈ ہوتا تھا بچوں کا وہ بھی ختم کردیا گیا ہے اور سب سے بڑی بے شرمی ان لوگوں کی انہیں انگریزوں کے بارے میں گائیڈ کیا جارہا ہے کوئی دینی تعلیم نہیں۔۔جب یہ سب سکولز میں ہوسکتا ہے تو گھروں میں کیوں نہیں ہوسکتا۔۔اور والدین اس پر احتجاج کررہے ہیں۔۔آپ کس دنیا میں رہتے ہیں یہ سب پاکستان میں ہی ہورہا ہے
    آج کل کے ماحول کے مطابق آپ بچوں سے پوچھ کر دیکھ لیں انڈین گانے،فلموں کے نام یاد ،ایکٹر جتنے بھی ہیں ان کے نام یاد،ان کا سٹائل بھی یاد ،ایون کے بچے ان کے سٹائل کو فالو بھی کرتے ہیں اچھی طرح سے۔۔مگر جیسے ہی کوئی دینی حوالے سے پوچھا جاتا ہے ان سے تو سب ان کو "بیک ورڈ" کا ٹائٹل دے دیتے ہیں کوئی مولوی کہتا ہے تو کوئی کچھ اور۔۔۔
    افسوس ہورہا ہے آپ اس عمر میں ہیں آپ کے بھی بچے ہیں پھر آپ نے اس بات کو اتنا عام کیسے سمجھ لیا؟
    میں پوسٹ کبھی بھی کسی کے کمنٹس کرنے کے لیے نہیں لگاتی یہاں ۔۔صرف وہی شئیر کرتی ہوں جس میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی ایسا سبق ضرور ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں یا سکھا سکتے ہیں۔
    اینی ویز۔۔تھینکس فار یو کمنٹس
     
    رفاقت حیات, غوری, ملک بلال اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    میں نے یہ پوسٹ کسی پر تنقید کرنے کے لیے نہیں شئیر کی ۔۔
    اس میں چھپے مقصد کو کم از کم سمجھنا چاہیئے ۔۔
    لیکن خیر اپنی اپنی سوچ ہے کیا کہہ سکتے ہیں اگر ہم غور نہیں کریں گے تو کس نے کرنا ہے؟؟؟
     
    غوری اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    الحمد للہ میرے دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں۔۔۔۔۔ انہیں کوئی بیک ورڈ نہیں کہتا۔
     
    ملک بلال اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    میں نے کہا تھا کہ میں نے اس کو یہاں شئیر کیا ہے تو کسی پر تنقید کرنے کے لیے نہیں۔۔صرف اس میں چھپے مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔
    ماشاء اللہ آپ تو خوش نصیب ہیں کہ آپ کے بیٹے حافظ قرآن ہیں۔۔
    بات آپ کی یا میری نہیں سب کی ہورہی ہے اوور آل۔۔۔
     
    غوری اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    مجھے ابھی یاد آیا اس سکول میں یہ پابندی بھی لگائی گئی تھی کہ بچیاں سکول میں سکارف لے کر یا شال وغیرہ لے کر نا آئیں۔۔
    پھر بتائیں ہم کس طرف جارہے ہیں ؟
    بات سوچنے کی ہے سمجھنے کی ہے مگر آپ کے کمنٹس نے بہت مایوس کیا ہے ۔ہر عام بات میں ہی خاص بات ہوتی ہے ہمیشہ۔۔غور کرنے کی بات ہے
     
  8. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    میں نیکسٹ ٹائم اور موضوع بھی شئیر کروں گی مگر ایسے موضوع کو اگنور کرنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔۔۔ آئی تھنک سو۔۔۔۔۔۔۔
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کا اتفاق کرنا بھی ضروری نہیں ہے ۔۔۔اینی ویز لیو دس
     
  10. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    میں یہاں اپنے ہی ایک تجربے کی بات بتاتی ہوں۔
    میں ایک سکول میں جاب کرتی تھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے وہ سکول انگلش میڈیم تھا۔جس کلاس کی میں انچارج تھی وہ 7 کلاس تھی۔7 کلاس کے بچے چھوٹے تو نہیں ہوتے۔میں جب بھی کلاس میں انٹر ہوتی بچے مجھے سلام کے بجائے گڈ مارننگ ٹیچر کہتے۔2 دن تو میں نے ان کی یہ حرکتیں نوٹ کی۔پھر تیسرے دن میں نے سب کو سمجھایا جب بھی ٹیچر کلاس میں آئیں سب سے پہلے سلام کرتے ہیں پھر جو ٹائم ہو وہ کہتے ہیں گڈ مارننگ یا گڈ نون ۔۔وغیرہ وغیرہ۔
    پھر میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہاں بچوں کو دینی تعلیم بہت کم دی جاتی تھی بس برائے نام۔۔ایک دن اسمبلی میں نے کہا بچوں سے کہ مجھے دوسرا کلمہ سناؤ۔سٹارٹ میں نے اپنی کلاس سے ہی کیا۔مگر آپ لوگ بھی حیران ہوں گے کہ کسی کو بھی نہیں آیا۔پھر میرا دماغ گھوم گیا ۔اور پرنسپل کے ساتھ میری اچھی خاصی بحث ہوئی کہ آپ کون سی تعلیم دینے کے لیے ایسے ادارے بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔جب بیسک ہی نہیں سکھائیں گے تو انگلش کیا خاک کام آئے گی کسی کے۔
     
    Last edited: ‏17 ستمبر 2015
    غوری، ملک بلال اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,101
    موصول پسندیدگیاں:
    7,345
    ملک کا جھنڈا:
    بھلے وقتوں میں ایک رسم ہوتی تھی ۔ بچہ جب کچھ سوجھ بوجھ حاصل کر لیتا تھا۔ اور بولنے چالنے کے قابل ہوجاتا تھا تو اس کی پڑھائی کا باقاعدہ آغاز ایک رسم سے کیا جاتا تھا۔ جس کا نام تھا "رسمِ بسم اللہ" ۔ اس رسم میں عزیز و اقارب بھی بلائے جاتے تھے اور معلم بچے کو "بسم اللہ" پڑھا کر اس کی تعلیم کا آغاز کرتا تھا۔
    اسی طرح مکتب کی باقاعدہ تعلیم سے قبل بچے کو مدرسہ کی تعلیم دلوائی جاتی تھی۔ ناظرہ یا حفظ۔
    اس چیز کو اگر مذہبی نقطہ نظر سے نہ بھی دیکھا جائے تو بھی یہ بچے کے لیے اچھے اثرات رکھتی ہے۔ عربی زبان دنیا کی فصیح ترین اور قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ہے۔ اس سے شناسائی حاصل کرنے کے بعد بچے کے لیے اردو فارسی اور دیگر زبانوں کی طرف متوجہ ہونا کافی آسان ہو جاتا ہے۔ نیز سکول کی تعلیم سے پہلے حفظ بھی اکثر گھروں میں کروایا جاتا تھا اب شاذ ہی ایسے معاملات دیکھنے میں آتے ہیں۔ حفظ کرنے سے بچہ کے ذہن میں جو وسعت پیدا ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ سائنٹفکلی دیکھا جائے تو اس کی میموری عام بچے سے بہت بہتر ہو جاتی ہے ۔ اور اس کے لیے درسی کتب کو یاد کرنا کافی آسان ہو جاتا ہے۔
    لیکن اب ناؤ الٹی چل پڑی ہے۔
    ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ ایک دوست ہیں میرے انہوں نے اپنے بچے کو ایک بہت بڑے سکول " میں داخل کروایا۔ بہت سی سفارشیں کروائیں تب جا کر داخلہ ملا اور پلے گروپ نرسری وغیرہ کی فیس بھی ہزاروں روپوں میں ہے جب کہ داخلہ فیس اور دیگر معاملات کے لیے الگ سے پیسے لیے جاتے ہیںَ ۔ ایک بار میں اس کی طرف گیا تو اس کے بچے سے تھوڑی گپ شپ ہوئی۔ بہت سی poems ، اسے زبانی یاد تھیں۔ انگلش کے بہت سے الفاظ ازبر تھے۔ ساری کتابیں فر فر سنائیں جو سب انگلش میں تھیں۔ 1000 تک گنتی بھی آتی تھی اور پتا نہیں کیا کیا ۔ وہ دوست بہت خوش ہو کر بچے کی طرف دیکھے اور میری طرف دیکھے۔
    پھر میں نے بچے سے کلمہ سنانے کو کہا تو اسے نہیں آتا تھا۔ کسی قرآنی سورت کی تو بات ہی کہاںِ۔۔۔ِ!!!
    میں نے دوست کو صرف اتنا کہا کہ "ماشاءاللہ بہت اچھی تعلیم دلوا رہے ہو بچے کو۔ کل کو یہ تمہاری قبر پر آ کر بھی Twinkle Twinkle Little Star ہی پڑھے گا۔" اور اٹھ کر چلا آیا۔
    ہمارے ہاں ماں باپ بھی بچوں کو اردو ، عربی ، پنجابی یا اپنی مادری زبان میں بات کرنا اور سکھانا معیوب سمجھتے ہیں۔ انگریزی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیںِ۔
    ہم لوگ یہ کیسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسل بھی ہماری طرح صرف نام ہی کی مسلمان ہو گی یا ہم سے بھی گئی گزری ہو گی۔
    اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائے
    آمین
     
    پاکستانی55, دُعا, غوری اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,508
    ملک کا جھنڈا:
    نیو جنریشن کا حال دیکھیں اور بتائیں کون ذمہ دار ہے؟؟؟؟؟۔۔لازمی پڑھیں

    آج کل عمومی طور پر ہم سبھی لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے بچوں سے بڑھ کر متفکر ہیں اور ان سے ذیادہ تگ و دو کرتے ہیں۔ خواہ اس کے لئے اپنی جیبوں کو بالکل ہی کیوں نہ خالی کرنا پڑے۔

    مگر میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم سے پہلے بچوں کی تربیت بہت ضروری ہے۔ یہ تربیت کیا ہے؟ بچوں کو ادب و آداب سکھائیں۔ اٹھنے، بیٹھنے کا سلیقہ سکھائیں، کھانے پینے کا طریقہ بتائیں، بزرگوں، ماں باپ، بہن بھائیوں، اور دیگر عزیز و رشتہ داروں اور ہم عمر دوستوں سے سلوک سے متعلق خصوصی توجہ دیں اور اخلاقی اقدار کو اچھی طرح چھانٹ پھٹک کر بچوں کو بتائیں اور سختی سے ان پر کاربند رہنے کی تاکید کریں۔

    بچوں کو اپنے خاندان کے بارے میں اچھی طرح بتائیں اور یہ بھی بتانا نہ بھولیں کہ آپ کے خاندان میں دھدھیال اور ننھیال میں اگر کسی شخصیت کے کارہائے نمایاں ہیں تو اس کا ذکر بار بار کریں تاکہ بچے میں بہتری اور آگے بڑھنے کا عزم جڑ پکڑ سکے۔

    بچوں کو یہ سکھانا بہت بہت ضروری ہے کہ انھیں اچھی طرح یہ ذہن نشین کروادیں کہ کہ آپ کے والدین آپ کی بہتری کے لئے مختص ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے آپ کے لئے بہتر ہوگا اس لئے بچوں کو چاہیے کہ کسی بھی فیصلہ کے لئے والدین سے رجوع کریں اور ان کی رائے کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔

    بچوں کی تربیت کے دوران یہ موقع کبھی بھی نہ ضائع کریں کہ جب 12 ربیع الاول آئے تو آپ انھیں خصوصی طور معلومات حاصل کرکے بچوں کو اس عظیم دن اور عظیم ترین ہستی کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور بار بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کو اجاگر کرتے رہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ آپ کے بچوں کی زندگی کا لازمی جزو بن جائے۔

    اسی طرح سال کے دیگر کیلنڈر ایام میں ہر اہم دن کی شخصیت کے بارے میں اچھی معلومات فراہم کریں تاکہ ہمارے اسلاف کی بہترین صلاحیتوں اور صفات کو بچوں تک منتقل کیا جاسکے۔

    بچوں کو سیر و سیاحت میں اینگیج رکھیں تاکہ ان کا و‍‍ژن کشادہ اور وسیع رہے۔

    بچوں پر کبھی بھی ہاتھ مت اٹھایئے جو بات کہنا ہے دلیل اور منطق سے بیان کریں اور بچوں کی حق خود ارادی کو ز‍‍‍‌‌ق نہ پہنچائیں۔ ان کی بات پوری توجہ سے سنیں۔ ان کی کسی بات کو ان سنی نہ کریں۔ بچے دماغ سے پورے ہوتے ہیں انھیں انڈر اسٹیمٹ نہ کریں۔ اپنا دوست بنا کررکھیں۔

    ان بچوں کی تربیت کے دوران ہی انھیں نماز، کلمہ، ابتدائی اسلامی تعلیم، قرآنی تعلیمات سے روشناس کروا دیں۔

    6 یا 7 برس تک اچھی طرح تربیت کریں پھر بچے کو معیاری تعلیم، معیاری اسکول میں داخلہ کروا کر مکمل کروائیں۔

    بچے کو کبھی بھی غیر معیاری اسکول یا سب اسٹینڈرڈ اسکول میں داخلہ نہ دلوائیں۔

    اگر تربیت میں کوئی کمی نہ رہی ہوگی تو تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

    یہ میرے ذاتی خیالات ہیں آپ کو 100 فیصد حق حاصل سے اختلاف کرسکیں۔

    تاہم میں میشی وش کے اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی مضامین کے انتخاب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور انھیں شاباش دیتا ہوں۔ کیپ اٹ اپ!
     
    پاکستانی55 اور دُعا .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    بہت اچھے انداز میں آپ نے اس کی وضاحت پیش کی سر جی۔۔۔
    میری سسٹر بھی ماشاء اللہ سے حافظہ ہیں۔۔اور اس کا دماغ ہم سب بہن بھائیوں سے تھوڑا ایکسٹرا ہی کام کرتا ہے۔ایک بار کسی چیز کو دیکھ لیتی ہے فورا اس کا سکیچ بنا لیتی ہے جبکہ اس نے یہ سب سیکھا بھی نہیں ہوا۔سٹیچنگ بھی بہت اچھی کرتی ہے۔سٹڈی کی تو کبھی اس نے ٹینشن لی ہی نہیں ۔۔میں نے اسے صرف پیپر والی رات ہی پڑھتے دیکھا کبھی اسے نہیں دیکھا کہ کتابی کیڑا بن کر بیٹھی ہو۔۔مگر مارکس بھی ماشاء اللہ بہت اچھے آتے رہیں ہیں۔۔جب بھی پوچھنا پڑھتی ہو نہیں تو پیپر کیسے دینے ہیں اس کا یہی جواب ہوتا تھا پوری رات پڑی ہے اچھی تیاری ہوجائے گی۔۔اسے رٹہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایک رات میں پوری بک کا رٹہ بھی نہیں لگا سکتے۔۔میں سمجھتی ہوں قرآن پاک جو حفظ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے علم کو حاصل کرنا اور سمجھنا بہت آسان کردیتے ہیں اور ان کے سینے کشادہ ہوجاتے ہیں۔۔
    اس کی ایک اور مثال ۔۔جہاں میں جاب کرتی تھی وہاں ایک بچہ تھا 4 کلاس کا۔وہ ماشاء اللہ سے اتنا ذہین تھا میں کبھی کبھی اس کا آئی کیو لیول دیکھ کر حیران ہوجاتی تھی۔۔وہ ساتھ ساتھ گھر میں قرآن پاک حفظ بھی کر رہا تھا اور ساتھ ہی سکول کا بھی پڑھنے آتا تھا ۔۔ایک بار وہ کسی وجہ سے 1 ایک ہفتہ نہیں آسکا سکول میں۔۔جب آیا تو میں نے اس نے کہا کہ آپ بیٹھ کر پڑھو میں باقی بچوں کا سبق سنتی ہوں ۔اس نے کہا ٹیچر جی آپ مجھے جسٹ بتادیں کون سا سبق ہے میں دیکھتا ہوں تاکہ میں مزید پیچھے نا رہ جاؤں۔میں نے بتادیا کہ یہ میں نے آج سننا ہے۔ابھی 5 منٹ بھی نہیں گزرے تھے اس نے کہا میرا سبق بھی سن لیں ۔میں حیران بھی ہوئی اتنی جلدی ا س نے کیسے کیا ہوگا ۔جب میں نے اس نے سنا اس نے باقی پوری کلاس سے زیادہ اچھا سنایا اور ایک بھی غلطی نہیں کی۔
    ایسا ہوتا ہے قرآن پاک کی تعلیم جب ہم سکول کی تعلیم سے پہلے بچوں کو دیتے ہیں تو اس سے ان کے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں۔۔
    مگر یہ آج کل بہت عام سی بات ہوگئی ہے کہ صرف انگریزی تعلیم بچوں کو دیں اور ان بچوں کا حال بھی دیکھیں کوئی ادب نہیں کوئی ڈر نہیں کوئی لحاظ نہیں بڑوں کا۔بڑے اگر ایک بات سناتے ہیں وہ آگے سے دس سناتے ہیں۔اور حیرت کی بات صرف یہ کہہ کر بات ختم کردی جاتی ہے کہ آج کل کے بچے ہیں ہی ایسے۔۔
    بھئی کیوں ایسے ہیں ؟ ہمیں اگر کوئی ڈانٹتا تھا تو آواز نہیں نکلتی تھی چاہے ٹیچر ہوں یا گھر میں۔۔اب بھی ایسا ہی ہے
    سر جی جو واقعہ آپ نے لکھا ہے ایسے بہت سے واقعات میں نے بھی دیکھ لیے ہیں اپنی آنکھوں سے۔۔فرق پڑنا چاہیئے ہمیں ان سب سے۔۔کیونکہ اب فرض تو ہمارا بھی بنتا ہے ۔اگنور نہیں کرسکتے کسی بھی صورت میں نہیں۔۔۔نیور۔۔
     
    ملک بلال، پاکستانی55 اور غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    بہت اچھے انداز سے آپ نے اس کی وضاحت کی ہے بھائی جی۔۔
    جی بالکل آپ نے صحیح کہا کہ تعلیم تو جب ہم انہیں سکولز وغیرہ میں بھیجتے ہیں تب تو شروع ہوہی جاتی ہے مگر تربیت کا عمل تو گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ہم لوگ صرف "آج کل کے ماحول" پر بات ختم نہیں کرسکتے ۔ماحول بھی تو ہم نے خود ہی بنایا ہے ہم انسانوں نے ہی۔پھر ہم لوگ اپنی ذمہ داریوں سے کیسے دست بردار ہوسکتے ہیں؟ کیسے ہر بری بات کا ذمہ گھر سے باہر کے ماحول پر ڈال سکتے ہیں۔
    آپ کے ذاتی خیالات بہت نیک اور اچھے ہیں ان سے کسی کو اختلاف ہونا تو نہیں چاہیئے۔
    اس پوسٹ کا بھی یہی مقصد تھا کہ ذمہ دار ہم لوگ ہی ہیں ۔کیونکہ بچہ پہلی تربیت تو گھر سے ہی حاصل کرتا ہے ۔باہر تو جب نکلتا ہے تب کی بات ہے۔
    ماحول خراب ہے ماحول خراب ہے یہ ہر بات کو جواز ہو ہی نہیں سکتا۔۔نیور۔۔
    آپ نے جو بھی باتیں بیان کی ہیں وہ ساری اتنی عمدہ ہیں اور ایک تجربے کی بھی عکاسی کرتی ہیں ظاہری سی بات ہے آپ کے بھی بچے ہیں اس دور سے آپ بھی گزرے ہیں لیکن ہم نے ابھی گزرنا ہے پھر اس بات کو سریس تو لینا ہی ہے ۔
    میرے بڑے بھائی گئے ایک جاننے والے ہی ہیں انکل ان کے گھر۔انہوں نے ماڈرن ماحول کے نام پر انگریزوں کو کچھ زیادہ ہی فالو کیا ہوا تھا ۔بھائی نے جب ا ن کے بیٹے سے سلام لیا اور ان کو سلام کہا " اسلام علیکم" ۔تو ان کے بیٹے نے جواب دینے کے بجائے کہا"? what is Islam" بھائی کہتے مجھے اتنی شرمندگی ہوئی کہ یہ مسلمان انسان کی اولاد ہیں۔ جسے یہی نہیں پتہ اسے اور کیا معلوم ہوگا ۔اور ان کی ایج تقریبا 17 یا 18 سال ہوگی۔بالغ عمر میں بھی بچوں کو پتہ نا چلے تو پھر کیا فائدہ۔۔ میں کہتی ہوں ایسے علم پر بھی لعنت ہے جو ہم بچوں کو دے رہے ہیں ۔
    آپ نے میری حوصلہ افزائی کی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ان شاء اللہ یہ سلسلہ تو جاری رہے گا۔
     
    ملک بلال اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    بحث کافی لمبی بھی ہوگئی ہے۔۔
    بہت شکریہ آپ سب کا
     
  16. رفاقت حیات
    آف لائن

    رفاقت حیات ممبر

    شمولیت:
    ‏14 دسمبر 2014
    پیغامات:
    318
    موصول پسندیدگیاں:
    244
    ملک کا جھنڈا:
    بہترین۔۔۔غالبا یہ پوسٹ میں نے فیس بک پر بھی پڑھی تھی،کیا آپ نے وہیں سے پکڑی ہے؟
     
  17. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    جی نہیں میں فیس بک یوز نہیں کرتی۔میں نے اپنی یونیورسٹی کی سائیٹ سے پڑھی تھی۔مجھے لگا اس کو شئیر کرنا چاہیئے سو میں نے کردیا۔بہت شکریہ آپ کا۔
     
  18. رفاقت حیات
    آف لائن

    رفاقت حیات ممبر

    شمولیت:
    ‏14 دسمبر 2014
    پیغامات:
    318
    موصول پسندیدگیاں:
    244
    ملک کا جھنڈا:
    سائیٹ کا لنک دے دیں۔۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں