1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نعت و مدحتِ رسول ص کی تاریخ پر ایک نظر

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏2 فروری 2014۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    57,410
    موصول پسندیدگیاں:
    10,200
    ملک کا جھنڈا:
    مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پر ایک نظر

    دین اسلام کی بنیادی اساس 1) توحید اور 2) رسالت ہیں۔
    اللہ تعالی کی وحدانیت اور اسکے لاشریک ہونے پر ایمان
    اور سیدنا محمد مصطفیصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و ختم نبوت پر ایمان رکھنا
    قرآن و حدیث میں جہاں اللہ اور اسکے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کا حکم ہے۔
    وہیں محبت الہی اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی بنیادِ ایمان قرار دیا گیا۔
    بلکہ متفق علیہ حدیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔ " کہ جب تک کوئی شخص اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنے عزیز رشتہ داروں حتی کہ سب انسانوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہیں رکھتا وہ مومن نہیں ہوسکتا۔"
    یعنی ایمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کے ساتھ مشروط ہے
    محبت کا بنیادی تقاضا ہوتا ہے کہ محبوب کے حسن و جمال اور اوصاف و کمالات کی تعریف و توصیف کی جائے ۔محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں بھی یہ اصول بدرجہ اولی موجود ہے۔
    تعریف و ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا شاہکار قرآن مجید ہے !
    قرآن مجید میں جگہ جگہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف ملتی ہے۔ اس لئے بہت سے لوگ اسے نعت کا پہلا مجموعہ قرار دیتے ہیں ۔ مثلا
    وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین۔
    ورفعنا لک ذکرک۔
    تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض۔۔
    واذ اخذاللہ میثاق النبین ۔۔۔
    انا اعطینک الکوثر ۔۔
    وللآخرۃ خیر الک من الاولی۔
    ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ۔
    اور دیگر بےشمار مقامات پر قرآن میں تعریف و ثنائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گئی ہے۔
    اسی طرح احادیث مقدسہ میں خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فضائل، کمالات اور شانیں بیان کی ہیں
    تاریخِ مدحت و نعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
    لیکن اگر نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شعری مدح کو کہا جائے تو بھی عالم اسلام کا کوئی خطہ ، کوئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں شعر کی زبان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف نہ کی گئی ہو۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا مین ظہور فرمانے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبع اول حمیری نے سب سے پہلے نعت کے اشعار کہے۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں سے حضرت کعب بن لوی ( حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے 560 سال قبل ) کے نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔
    آپ کے دنیا میں تشریف لانے پر آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے ثنائے محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اشعار کہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی تعریف شعروں میں کی۔اسی طرح خواتین میں پہلی نعت گو سیدہ آمنہ ہیں۔
    ورقہ بن نوفل نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ کہا۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے پر بنو نجار کی بچیوں نےسب سے پہلے نعتیہ اشعار
    طلع البدر علینا پڑھے۔ جو آج بھی زبانِ زدِ خاص و عام ہیں۔
    سب سے پہلا غیر مسلم نعت گو اعبثی میمون بن قیس تھا۔
    حضرت حسان بن ثابت ، حضرت کعب بن زہیر ، حضرت کعب بن مالک ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنھم ) عہد نبوی کے مشہور نعت گو صحابی تھے۔
    حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ سے زیادہ نعتیہ قصیدے کہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی منظوم مدح کے “نعت” کا لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے استعمال کیا۔
    شاعر صحابہ کرام میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے مدح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اشعار نہ کہے ہوں۔ حافظ ابن البر رضی اللہ تعالی عنہ نے 120 مداح گو صحابہ کے نام اور حافظ ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے 200 نعت گو صحابہ کے نام لکھے ہیں۔
    علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے چار ضخیم جلدوں میں عربی نعتوں کا انتخاب کیا تھا جن میں 34 صحابہ کرام کے 461 اشعار ہیں۔ عربی نعت کے اس انتخاب میں صحابہ کے علاوہ 24635 اشعار بعد کے شعراء ادب کے ہیں۔
    ڈاکٹر طاہرالقادری کی تحقیق کے مطابق کم از کم 35 صحابہ و صحابیات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت خوانی کرتے تھے۔
    ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ( فیصل آباد ) نے بر صضیر پاک و ہند کے عربی نعت گو شاعروں پر پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور لاہور سے شائع ہوا۔ ممالک عرب میں دوسری دنیا کی طرح اب تک نعت گوئی جاری ہے۔

    عالم اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کا سلسلہ 14 سو سال سے جاری ہے۔ موجود دور چونکہ مسلمانوں پر مصائب و ابتلا کی صورت لایا ہے اس لئے مسلمانوں کے حساس طبقے جسے شعرا کہا جتا ہے ، پہلے سے کہیں زیادہ نعت کہنا شروع کر دی ہے۔
    ایران میں ضیا الدین دھشیری اور دوسرے محققین اور ادبا نے نعت گوئی اور نعت گو شاعروں کے تذکروں پر مشتمل وقیع کتابیں لکھی ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں نعت کے مختلف گوشوں پر کام ہو رہا ہے۔ مجموعہ ہائے نعت چھپ رہے ہیں ، مختلف موضوعات پر تحقیق ہورہی ہے ، محافل نعت کا انعقاد ہو رہا ہے ، نعتیہ مشاعرے جاری ہیں ، نعت خوانی کے مقابلے کرائے جا رہے ہیں۔ مختلف حوالوں سے نعت کے انتخاب شائع ہو رہے ہیں۔ نعت پر جریدے اور کتابی سلسلے جاری ہیں۔
    آج دنیا کی ہر زبان میں نعت کہی جارہی ہے لیکن یہ سعادت مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نعت پاکستان میں کہی جا رہی ہے اور سب سے زبانوں سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے۔
    علاوہ ازیں ہندو، سکھ، عیسائی اور تقریبا دنیا کے ہر مذہب کے شعرا نے کسی نہ کسی طور حضور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کو اپنے لیے اعزاز جانا ہے۔
    القریش، ھارون رشید اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    85,786
    موصول پسندیدگیاں:
    19,524
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ جناب
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    سبحان اللہ ۔ دل باغ و بہار ہوگیا
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. اقرا انوار
    آف لائن

    اقرا انوار ممبر

    شمولیت:
    ‏9 جون 2017
    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    ملک کا جھنڈا:
    زبردست محترم نعیم صاحب
  5. القریش
    آف لائن

    القریش ممبر

    شمولیت:
    ‏14 جولائی 2017
    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
  6. القریش
    آف لائن

    القریش ممبر

    شمولیت:
    ‏14 جولائی 2017
    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کا اور میرا رب دیکھ رھا ھے
    اللہ اپ کی سچائی میں برکت دے!

اس صفحے کو مشتہر کریں