1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نظیؔر اکبر آبادی

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏17 دسمبر 2018۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    ٹُک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا

    قزٌاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقٌارا

    کیا بدھیا، بھینسا، بیل، شتر، کیا گونی پلا ، سر بھارا

    کیا گیہوں ، چاول، موٹھ ، مٹر ، کیا آگ، دھواں، کیا انگارا

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    گر تُو ہے لکھی بنجارا ، اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے

    اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا ایک اور بڑا بیوپاری ہے

    کیا شکٌر ، مصری، قند، گری، کیا سانبھر میٹھا، کھاری ہے

    کیا داکھ ، منقٌا ، سُونٹھ ، مرچ، کیا کیسر، لونگ، سپاری ہے

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    یہ بدھیا لادے، بیل بھرے، جو پُورب پچھٌم جاوے گا

    یا سُود بڑھا کر لاوے گا، یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا

    قزٌاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا

    دھن دولت، نانی، پوتا کیا، اک کنبہ کام نہ آوے گا

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    جب چلتے چلتے رستے میں یہ گُون تیری ڈھل جاوے گی

    اک بدھیا تیری مٹٌی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی

    یہ کھیپ جو تُو نے لادی ہے، سب حصوں میں بٹ جاوے گی

    دھی، پُوت، جنوائی، بیٹا کیا، بنجارن پاس نہ آوے گی

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل، زمٌرد، سیم و زر

    جب پُونجی بات میں بکھرے گی، پھر آن بنے گی جان اوپر

    نقٌارے، نوبت، بان، نشاں، دولت، حشمت، فوجیں، لشکر

    کیا مسند، تکیہ، مِلک، مکاں، کیا چوکی، کرسی، تخت، چھپٌر

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن؟

    ٹک غافل دل میں سوچ ذرا، ہے ساتھ لگا تیرے دشمن

    کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا، کیا بندا، چیلا، نیک چلن

    کیا مندر، مسجد، تال، کنویں، کیا گھاٹ سرا، کیا باغ، چمن

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے، ان گُونوں بھاری بھاری کے ؟

    جب موت کا ڈیرا آن پڑا، پھر دُونے ہیں بیوپاری کے

    کیا ساز، جڑاؤ، زر، زیور، کیا گوٹے دھان کناری کے

    کیا گھوڑے زین سنہری کے، کیا ہاتھی لال عماری کے

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے

    سب پٌٹا توڑ کے بھاگیں گے، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے

    کیا ڈبٌے موتی ہیروں کے، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے

    کیا بُغچے تاش مُشجٌر کے، کیا تختے شال مشالوں کے

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا


    جب مرگ پھرا کر چابُک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا

    کوئی تاج سمیٹے گا تیرا، کوئی گُون سیئے اور ٹانکے گا

    ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تُو خاک لحد کی پھانکے گا

    اُس جنگل میں پھر آہ (نظیر) اک بُھنگا آن نہ جھانکے گا

    سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا




     
    Last edited: ‏17 دسمبر 2018
    ابرار حسین شاہ اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    ہم اشکِ غم ہیں، اگر تھم رہے رہے نہ رہے
    مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے

    رہیں وہ شخص جو بزمِ جہاں کی رونق ہیں
    ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے

    مجھے ہے نزع، وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ
    کہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے

    بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغِ مزار
    ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے

    چلو جو ہم سے تومل لو کہ ہم بہ نوکِ گیاہ
    مثالِ قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے

    یہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجے
    کہ کل یہ دیدۂ پُرنم رہے رہے نہ رہے

    یہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اِک مسافر ہیں
    جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے

    نظیر آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجے
    پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے

    (نظیر اکبر آبادی)​
     
    ابرار حسین شاہ اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش
    ہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش

    دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاب
    اپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش

    سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیں
    تھی عجب نازاں بخود اس باٹ کی اِک اِک روش

    ڈالتی ہے زلفِ پیچاں گردنِ دل میں کمند
    اور رگِ جاں سے کرے ہے نشترِ مژگاں خلش

    بھول کر اس کی جفا کا شکوہ مت کیجو نظیر
    تو پریشاں گو ہے سخت اور یار ہے نازک منش

    (نظیر اکبر آبادی)

    باٹ = راستہ
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    نہ مَیں دِل کو اب ہر مکاں بیچتا ہُوں
    کوئی خوب رَو لے تو ہاں بیچتا ہُوں

    وہ مَے جس کو سب بیچتے ہیں چُھپا کر
    میں اُس مَے کو یارو ! عیاں بیچتا ہُوں

    یہ دِل، جس کو کہتے ہیں عرشِ الٰہی
    سو اِس دِل کو یارو! میں یاں بیچتا ہُوں

    ذرا میری ہّمت تو دیکھو عَزِیزو !
    کہاں کی ہے جِنس اور کہاں بیچتا ہُوں

    لیے ہاتھ پر دِل کو پِھرتا ہُوں یارو !
    کوئی مول لیوے، تو ہاں بیچتا ہُوں

    وہ کہتا ہے جی کوئی بیچے تو ہم لیں
    تو کہتا ہُوں لو ہاں مِیاں بیچتا ہُوں

    میں ایک اپنے یوسف کی خاطر عَزِیزو !
    یہ ہستی کا سب کارواں بیچتا ہُوں

    جو پُورا خرِیدار پاؤں تو یارو
    میں یہ سب زمین و زماں بیچتا ہُوں

    زمِیں آسماں عرش و کُرسی بھی کیا ہے
    کوئی لے، تو میں لا مکاں بیچتا ہُوں

    جسے مول لینا ہو، لے لے خوشی سے !
    میں اِس وقت، دونوں جہاں بیچتا ہُوں

    بکی جِنس، خالی دُکاں رہ گئی ہے !
    سو اب اِس دُکاں کو بھی، ہاں بیچتا ہُوں

    محبّت کے بازار میں، اے نظیرؔ اب
    میں عاجِز غریب اپنی جاں بیچتا ہُوں

    نظؔیر اکبر آبادی​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    کُچھ تو ہوکر دُو بَدُو، کُچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دِیا
    دِل پہ جو گُذرا تھا ، ہم نے آگے اُس کے کہہ دِیا

    باتوں باتوں میں جو ہم نے، دردِ دِل کا بھی کہا !
    سُن کے بولا، تُو نے یہ کیا بکتے بکتے کہہ دِیا

    اب کہیں کیا اُس سے ہمدم ! دِل لگاتے وقت آہ
    تھا جو کُچھ کہنا، سو وہ تو ہم نے پہلے کہہ دِیا

    چاہ رکھتے تھے چُھپائے ہم تو، لیکن اُس کا بھید
    کُچھ تو ہم نے سامنے اِک ہمنشِیں کے کہہ دِیا

    یہ سِتم دیکھو ذرا مُنہ سے نِکلتے ہی، نظیر!
    اِس نے اُس سے،اُس نے اِس سے،اِس نے اُس سے کہہ دِیا

    نظؔیر اکبر آبادی​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم
    بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

    مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیں
    دل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم

    کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر
    کیا ترے عاشق ہوے تھے درد و غم کھانے کو ہم

    ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کا
    بس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم

    طاق ابرو میں صنم کے کیا خدائی رہ گئی
    اب تو پوجیں گے اسی کافر کے بت خانے کو ہم

    شہر میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دل
    اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم

    کیا ہوئی تقصیر ہم سے تو بتا دے اے نظیرؔ
    تاکہ شادی مرگ سمجھیں ایسے مر جانے کو ہم

    نظیر اکبر آبادی​
     
    ابرار حسین شاہ اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    عِشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہے
    دِل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانتا ہے

    ناز اُٹھانے میں جفائیں تو اُٹھائِیں، لیکن
    لُطف بھی ایسا اُٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے

    زخم، اُس تیغ نِگہ کا ، مِرے دِل نے ہنس ہنس
    اِس مزیداری سے کھایا ہے کہ جی جانتا ہے

    اُس کی دُزدِیدہ نگہ نے، مِرے دِل میں چُھپ کر
    تِیر اِس ڈھب سے لگایا ہے کہ جی جانتا ہے

    بام پہ چڑھ کے تماشے کو ہَمَیں، حُسن اپنا
    اِس تماشے سے د ِکھایا ہے کہ جی جانتا ہے

    اُس کی فُرقت میں ہَمَیں چرخِ ستمگار نے، آہ !
    یہ رُلایا، یہ رُلایا ہے کہ جی جانتا ہے

    حکم چپّی کا ہُوا شب، تو سَحر تک ہم نے!
    رتجگا ایسا منایا ہے کہ جی جانتا ہے

    تلوے سہلانے میں گو اونگھ کے جُھک جُھک تو پڑے
    پر مزا بھی، وہ اُڑایا ہے کہ جی جانتا ہے

    رنج مِلنے کے بہت دِل نے سہے، لیکن نظؔیر !
    یار بھی ایسا ہی پایا ہے کہ جی جانتا ہے

    نظؔیر اکبر آبادی ​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    گُل رنگی و گُل پیرَہَنی گُل بَدَنی ہے
    وہ نامِ خُدا حُسن میں سچ مُچ کی بنی ہے

    گُلزار میں خُوبی کے اب اُس گُل کے برابر
    بُوٹا ہے نہ شمشاد نہ سرو چَمَنی ہے

    انداز بَلا، ناز، سِتم، قہر، تبسّم
    اور تِس پہ غضب کم نگہی، کم سُخَنی ہے

    اُس گورے بدن کا کوئی کیا وصف کرے آہ
    ختم اُس کے اوپر گُلرُخی و سیمتَنی ہے

    مُنہ چاند کا ٹُکڑا ہے، بدن چاند کی تختی
    دنداں ہیں گُہر، ہونٹ عقیقِ یَمَنی ہے

    بلوّر کی پُتلی کہوں یا موتی کا دانہ
    یا، چِین میں اِک چینی کی مُورت یہ بنی ہے

    نرمی میں، صفائی میں، نزاکت میں تن اُس کا
    ریشم ہے نہ گُلبرگ، نہ برگِ سَمَنی ہے

    گر پُھول کی پتّی کی بِنا پہنے وہ پوشاک
    چِھل جاوے بدن اُس کا، یہ نازک بَدَنی ہے

    کل میں کسی شخص سے، نام اُس کا جو پُوچھا
    یعنی، یہ پری یا کہ غزالِ ختَنی ہے

    وہ بولا کہ اِس شوخ کے تئیں کہتے ہیں ہیرا
    کام اِس کا سدا دِلبَری و دِل شِکَنی ہے

    تب مَیں نے وہیں ہنس کے کہا اُس سے نظیؔر، آہ
    ہیرا نہ کہو اِس کو، یہ ہیرے کی کنی ہے

    نظیؔر اکبرآبادی​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا
    وہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا

    اگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانند
    تو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا

    قرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہے
    غرض پھر آپ میں آنا مجھے محال ہوا

    ادھر سے بھر دیا مے نے نگاہ کا ساغر
    ادھر سے زلف کا حلقہ گلے کا جال ہوا

    بہارِ حسن وہ آئی نظر جو اس کی نظیر
    تو دل وہیں چمنِ عشق میں نہال ہوا

    (نظیر اکبر آبادی)
     
  10. ابرار حسین شاہ
    آف لائن

    ابرار حسین شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اگست 2011
    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    ہائے ہائے کیا غزل ہے
    واہ واہ
    لطف آ گیا پڑھ کر
    یہ شعر سنا ہوا تھا
    چلو جو ہم سے تومل لو کہ ہم بہ نوکِ گیاہ
    مثالِ قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے
    معلوم نہ تھا کہ نظیر کا ہے، آپ کے طفیل سے مکمل غزل پڑھنے کو ملی
    اس کار خیر پر ایک حج کا ثواب آپ کی نذر
    سلامت رہیں
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ابرار حسین شاہ
    آف لائن

    ابرار حسین شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اگست 2011
    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    یہ ہمارے نصاب میں شامل تھی اور میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے خاص طور پر یہ بند
    ہر منزل میں اب ساتھ ترے، یہ جانا ڈیرہ، ڈانڈا ہے
    زر، دام، درم کا بھانڈا ہے، بندوق، سپر اور کھانڈا ہے
    جب نائیک تن کا نکل گیا، جو ملکوں ملکوں بانڈا ہے
    پھر ہانڈا ہے نا بھانڈا ہے، نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے
    سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ
    شراکت کا شکریہ سلامت رہیں
     
  12. ابرار حسین شاہ
    آف لائن

    ابرار حسین شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اگست 2011
    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی بصارتوں کی نذر

    پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شوخ نے جس ہنگام کیا
    ہم تو رہے مشغول ادھر یاں عشق نے دل کا کام کیا

    آگئے جب صیاد کے بس میں سوچ کیے پھر حاصل کیا
    اب تو اسی کی ٹھہری مرضی جن نے اسیرِ دام کیا

    چشم نے چھینا پلکوں نے چھیدا، زلف نے باندھا دل کو آہ
    ابرو نے ایسی تیغ جڑی جو قصہ ہے سب اتمام کیا

    سخت خجل ہیں اور شرمندہ، رہ رہ کر پچھتاتے ہیں
    خواب میں اس سے رات لڑے ہم کیا ہی خیال خام کیا

    چھوڑ دیا جب ہم نے غنیم کے کوچے میں آنے جانے کو
    پھر تو ادھر اس شوخ نے ہم سے شکوہ بھرا پیغام کیا

    اور ادھر سے چاہت بھی یوں ہنس کر بولی واہ جی واہ
    اٹھیے چلیے یار سے ملیے اب تو بہت آرام کیا

    یار کی مے گوں چشم نے اپنی ایک نگہ سے ہم کو نظیر
    مست کیا، اوباش بنایا، رند کیا، بدنام کیا
     
  13. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    شاہ صاحب ! اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ ۔ ۔
     
  14. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,026
    ملک کا جھنڈا:
    واہ شاہ صاحب ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ انتخاب ۔ ۔ ۔ کیا کہنے ۔ ۔ ۔ اور یہ شعر تو دل ہی لوٹ لے گیا ۔ ۔ ۔
    چشم نے چھینا پلکوں نے چھیدا، زلف نے باندھا دل کو آہ
    ابرو نے ایسی تیغ جڑی جو قصہ ہے سب اتمام کیا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں