1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ایم اے رضا, ‏28 اگست 2012۔

  1. ایم اے رضا
    آف لائن

    ایم اے رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2006
    پیغامات:
    882
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ہمارے پاکستان کی ایک اور محسن اور عظیم ہستی نے اس ملک کو قلیل عرصہ مین اندھیروں سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے حکومت سے فنڈز مانگے ہیں قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی تعطلی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کچھ تجاویزکے ذریعے حکومت سے فنڈز مانگے ہیں لیکن حکومت ابھی تک بھی کچھ سنجیدہ نہین اس مسئلے بارےاس سے پتا چلا کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب 90 دن مین قوم کی بجلی کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو پھر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب واقعی اس ریاست کو بھی بچا سکتے ہیں اور سیاست کو بھی راہ راست پر لا سکتے ہیں ہمیں ضرور ان سے بھی رجوع کرنا چاہیے اور انکو پاکستان بلانا چاہیے اور انکے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بھی سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ دونوں ہماری خاطر حکومت سے اور فرقہ وارانہ اور صہیونی طاقتوں اور باطل عناصر سے ٹکر لئے ہوئے ہیں آج پتا چلا کہ ڈاکتر طاہر القادری صاحب نے اس اسمبلی کی کرسی کو ٹھوکر مار کر استعفی کیوں دیا تھا ؟؟؟؟؟جو ڈاکٹر عبدالقدیر کو فنڈز نہیں دے رہی وہ حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کو ہماری قوم کی بھلائی اور شعور کے لئے کیسے چن لیتی کیونکہ واقعی انکی رشوتیں دھونس دھاندلیاں اور جاگیر داریاں بند ہو جانی تھیں اب بھی وقت ہے اور پکارنے والا پکار پکار کر صدا دے رہا ہے خدا کے لئے سیاست نہین ریاست بچائو خدا کے لئے جنریٹروں کی بجائے اس قوم کے مستقبل کو اندھیر ہونے سے بچائو ارے اب بھی وقت پے اسکی صدا پر لبیک کہ لو ورنہ تمھاری نسئلوں کی حالت اس سے بھی بد تر ہو گی اور ہوتی چلی جائے گی آج اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کا صلہ دے دو 1947 میں وہ تکلیف اور مشکل میں پڑے اور ہمیں آسانیاں دے گئے آج وقت ہے کہ ہم مشکلات سے ڈر کر گھروں میں دبک دبک کر اور سڑکوں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے کی بجائے ہم اس وطن عزیز اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے سڑکوں پر نکلین اور 2012 کو 1947 سمجھ کر آج قربانی دین تاکہ آنے والی نسلیں ہم پر فخر کر سکیں آو نکلو اور اس نظام کو سرعام بدل ڈالو ،،،،،،،،،،،،،،https://www.facebook.com/booksofmaraza
     
  2. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    اسلام علیکم محترم ایم اے رضا صاحب
    جھاں تک تعلق ھے 90 دن میں بجلی کا تو بات یہ تھوڑی ناممکن سی لگتی ھے
    اگر آپ کوئ حوالہ دیے دیں تو نوازش ھو گی اور ایک گذارش ھے کے ھمیں کسی سے بھی اتنی توقعات وابستہ نھیں رکھنی چاھیں جیسا کہ اہل مصر نے حسنی مبارک کے بعد نو منتخب صدر ڈاکٹر مرسی سے وابستہ کیں اور اب وھاں کے حالات وھاں کے شھریوں کے لئے پریشان کن ھیں کیوں کے مصر اب خانہ جنگی کی طرف گامذن ھے
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے اپنی قوم پر ۔
    بھٹو ، زرداری، بےنظیر مرحومہ ، نواز شریف، مشرف و ایم کیو ایم و چوہدری برادران و عمران خان وغیرہ جب بلندوبانگ نعرے لگاتے ہیں تو ہم انکے ماضی کی بدکرداری ، نااہلی کرپشن وغیرہ جانتے ہوئے بھی انکے جلسوں کو رونقیں بخشتے ہیں ان کے ووٹ بنک بھرتے ہیں اور کسی نہ کسی طور انہیں اپنا لیڈر بنا لیتے ہیں
    لیکن ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے ہونہار سائنسدان کے لیے ہم دلیلیں مانگتے ہیں
     
  4. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    کیا جو بات دیکھنے میں نا ممکن سی لگتی ھو اس کے لیے کوئ دلیل یا مثال مانگنا غلط ھے؟؟؟
    اور اگر بدکردار، چور،اور لٹیرے افراد پاکستانی عوام کو اپنے جلسوں میں جمع کر کے ووٹ حاصل کر سکتے ھیں تو ھمارے ھونہار لیڈر لوگوں کو قائل کرنے میں ناکام کیوں ھیں؟؟؟
     
  5. ایم اے رضا
    آف لائن

    ایم اے رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2006
    پیغامات:
    882
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    تمام احباب کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اس تحریر کو پڑھا اور پھر تبصرہ فرمایا لیکن محترم دلیل اس کے لئے مانگتے ہیں جس کے کام کرنے اور کردار پر شک ہو اگر ایسے ہی دلیلیں مانگنا تھیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر سے اس وقت دلیلیں کیوں نہ مانگی گئیں جب وہ ایٹم بم بنا رہا تھا کیوں نہین اسکو ٹوکا گیا کہ ڈاکٹر تمھارہ یہ دعوی صرف باتیں ہیں حقیقت نہیں اور جب ڈاکٹر صاحب نے یہ کر دکھایا ہے بنا تمھاری دلیلیں مانگنے کے تو اب کیوں اس محسن پاکستان سے دلیل مانگی جائے محترم پارس پتھر کی تاریخ یہ ہے کہ وہ جسے چھوتا ہے سونا بنا دیتا ہے بس ایسے ہی ڈاکٹر صاحب کی ذات انمول بھی ہے اور عجیب بھی
     
  6. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    عزیز دوست میرا کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ ڈاکٹر قدیر صا حب کا کردار ٹھیک نہیں یا ہمارے سیاستدان ان سے بہتر ھیں، بلاشبہ وہ ایک عظیم شخص ہیں اور مخلص پاکستانی ھیں، میں تو صرف ّعرض کر رہا تھا کہ آج کل بجلی کے حوالے سے جو بات ان کی طرف سے منسو ب کی جا رہی ھے اسکی صداقت کیا ھے۔ اور باقی بات ایٹم بم کی تو یقینی طور پر ان کی ذہانت دیکھنے کے بعد ھی ان کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا ھو گا (کیا وہ خود زبردستی سایینسدان کے طور پر آے تھے یا اپنی قابلیت ثابت کرنے کے بعد) اور آخر میں میں محسن پاکستان سے نہیں دلیل مانگ رہا نہ ھی میری اتنی اوقات ھے میں تو ان سے منسوب دعوے کے بارے دلیل مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور باقی بات جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی تو شاید ان سے میرا تعلق آپ سے بھی پرانا ھو ان جیسا نہ کوی ھے نہ ھو سکتا ھے
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,106
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: نظام بدلہ جائے گا سر عام بدلہ جائے گا

    جہاں تک خود ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبانی "ایٹم بم کی داستان" میرے مطالعے سے گذری ہے اس میں انہوں نے بالکل یہی لکھا ہے کہ انہوں نے خود حکومتِ پاکستان کو اپنی خدمات کی پیش کش کی تھی ۔ اس کام کے لیے نہ تو کوئی امتحان لیا گیا۔ نہ کوئی ٹیسٹ اور نہ ہی انہیں کسی نے سلیکٹ یا الیکٹ کیا تھا۔ انہوں نے جذبہء حب الوطنی کے تحت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیے خود کو پیش کیا تھا۔
    پھر انہوں نے پاکستان بھر سے ذہین سائنسدانوں کی ایک ٹیم اکٹھی کی ۔ اور پھر کہوٹہ پلانٹ میں‌یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ پر کام شروع کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکہ و یورپ میں جو مشینیں کروڑوں ڈالرز کی لاگت سے لگوائی گئی تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دماغ میں انکے نقشے محفوظ تھے ۔ سو انہوں نے پاکستان کے چند خرادیوں کو وہ نقشے سمجھا کر ان سے وہ مشینیں چند ہزار روپوں میں بنوا لی تھیں۔ بظاہر یہ سب کچھ ناممکن نظر آتا ہے ۔۔ لیکن جس انسان کو اللہ پاک غیر معمولی صلاحیتوں سے کسی خاص کام کی توفیق دے دے اسکے لیے ناممکن نہیں رہتا۔
    انکی خود نوشت پڑھنے کے لائق ہے۔ بندہ پڑھ کر وطن کی محبت اور ڈاکٹر خان کی عظمت کو سلام پیش کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں