1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نابینا لوگ آخر کیا دیکھتے ہیں؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏15 جنوری 2020 at 3:20 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,859
    موصول پسندیدگیاں:
    302
    ملک کا جھنڈا:
    نابینا لوگ آخر کیا دیکھتے ہیں؟
    طیب رضا عابدی
    بینائی رکھنے والوں کے لیے یہ بات حیران کن ہوتی ہے کہ آخر نابینا لوگ کیا دیکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک نابینا شخص یہ سوچتا ہے کہ کیا بصارت سے محروم دیگر لوگوں کا تجربہ بھی وہی ہے جو اس کا ہے۔ یہ سوال کہ ’’نابینا لوگ کیا دیکھتے ہیں؟‘‘ کا کوئی ایک جواب نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نابینا پن کے مختلف درجات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دماغ ہے جو معلومات کو ’’دیکھتا‘‘ ہے لہٰذا اس سارے عمل میں یہ بات بہت اہم ہے کہ بصارت سے محروم شخص کے پاس کبھی آنکھوں کا نور بھی تھا۔ پیدائشی نابینا پن: اس بارے میں پہلے اُن لوگوں کے بارے میں بیان کرنا ضروری ہے جو پیدائشی نابینا ہیں۔ ایسے لوگ کچھ نہیں دیکھتے۔ یہ کہنا کہ پیدائشی نابینا کو سیاہ رنگ نظر آتا ہے، بالکل غلط ہے، کیونکہ ایسے لوگوں کو بصارت کی حس کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک رنگ کا دوسرے سے تقابل کر سکیں۔ اس کے مقابلے میں وہ نابینا آدمی جو پہلے بصارت رکھتا تھا، اس کا معاملہ مختلف ہے۔ بصارت رکھنے والا اسے یوں سمجھ سکتا ہے۔ وہ ایک آنکھ بند کر لے اور کھلی آنکھ کا استعمال کرے اور پھر کسی ایک چیز پر فوکس کرے۔ اس دوران بند آنکھ سے کیا نظر آتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ایسے نابینا فرد کی نظر اتنی ہوتی ہے جتنا کہنی سے دکھائی دیتا ہے۔ مکمل نابینا ہو جانا: جو لوگ مکمل طور پر بصارت سے محروم ہو چکے ہیں ان کے تجربات مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اب مکمل اندھیرے کے سوا کچھ نہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جیسے وہ ایک غار میں ہیں۔ کچھ لوگوں کو ہلکی چمک نظر آتی ہے۔ کچھ لوگوںکو واضح طور پر کچھ بصری التباس نظر آتے ہیں جن کی مدد سے وہ اشکال کو پہچان لیتے ہیں۔ فنکشنل بلائنڈنس: مکمل نابینا پن کے علاوہ ایک ایسا مرض بھی ہے جس میں کسی جسمانی سبب کے بغیر فرد بصارت سے محروم ہو جاتاہے۔ انگریزی میں اسے فنکشنل بلائنڈنس کہا جاتاہے۔ ہر ملک میں اس کی تعریف ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ اس کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ امریکا میں اس سے مراد وہ بصری خرابی ہے جس میں اچھی آنکھ کی نظر بہترین عینک لگانے کے باوجود /200 20 سے کم ہو۔ خیال رہے کہ عام نظر 20/20 کی ہوتی ہے جس کا ایک مطلب ہے کہ 20 فٹ کے فاصلے سے فرد چیزوں کو دیکھ سکتا ہے۔جو لوگ بھی کبھی اس طرح کے نابینا پن کا شکار ہوتے ہیں، وہ کیا دیکھتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس مرض کی شدت کتنی ہے۔ قانونی نابینا: کچھ نابینا ایسے ہیں جنہیں قانونی طور پر نابینا کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ بڑی چیزیں اور لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ مکمل طور پر ان کے فوکس میں نہیں آتیں۔ ایسے لوگ رنگوں کو دیکھ سکتے ہیں یا پھر انہیں کچھ فاصلے سے یہ رنگ نظر آ سکتے ہیں۔ وہ اپنے چہرے کے سامنے اپنی انگلیاں بھی گن سکتے ہیں۔ دوسری صورتوں میں رنگوں کو دیکھنے کی صلاحیت ختم بھی ہو سکتی ہے یا پھر جو نظر آئے وہ دھندلا ہو سکتاہے۔ یہ تجربہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بینائی سے محروم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا ادراک بہت کمزور ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو تصویر مکمل طور پر نظر نہیں آتی۔ لیکن جب روشنی ہو یا نہ ہو تو وہ آپ کو بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کیا دیکھا اور وہ کتنا دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ نابینا لوگ ایک مخصوص حد تک ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ حد تک وہ چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ روشنی کی بصارت: بصارت کی ایک اور قسم وہ ہے جس میں تصویریں نہیں نظر آتیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ لوگ روشنی کے آنے اور جانے کی خبر دے سکتے ہوں۔ سُرنگی نظر: اس میں نظر ایک دائرے میں محدود ہوتی ہے، اس دائرے میں چیزیں درست دکھائی دیتی ہیں لیکن آس پاس کی چیزیں نظر نہیں آتیں۔ کیا نابینا خواب دیکھتے ہیں؟: یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ خواب میں نابینا لوگ وہ رنگ نہیں دیکھ سکتے جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھے ہوتے۔ وہ شخص جس کی بصارت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے وہ ابتدا میں جو خواب دیکھے گا وہ اس کو بالکل صاف نظر آئیں گے۔ وہ لوگ جن کی نظر کمزور ہے اور وہ درست نمبر کی عینک استعمال کرتے ہیں وہ بالکل صحیح طور پر خواب دیکھ سکتے ہیں اور ان کو اس سلسلے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں آتا۔ یا تو خواب مکمل فوکس میں ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ سب کچھ اس تجربے پر منحصر ہے جو وقت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ میں 1923ء میں ایک ریسرچ میں ایسے چوہوں کو پالا گیا جن کے جسم میں دیکھنے کی صلاحیت نہ تھی۔ یہ تحقیق ہارورڈ یونیورسٹی کے گریجویشن کے طالب علم کلاٹیڈ کیلر نے کی۔ ان چوہوں کے بچوں کو دن اور رات کے آنے کا پتا چلا جاتا تھا۔ 80 سال بعد ان کے ہاں سائنس دانوں نے خصوصی خلیے دریافت کیے جو چوہوں اور انسانی آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خلیے روشنی کا سراغ لگاتے ہیں، اگرچہ آنکھوں کی بصارت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس طرح اس نتیجے پر پہنچنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کی ایک آنکھ روشنی قبول کر سکتی ہے تو یقینی طور پر وہ روشنی اور اندھیرے کو محسوس کر سکتا ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ، جدید تحقیقی کاموں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور نابینا لوگوں کے لیے بھی چند آسانیاں پیدا کی ہیں جو بہرحال کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جن کی بصارت بالکل ٹھیک ہے انہیں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے۔ آنکھ کا نور رکھنے والے اس نعمت پر شکرِ خداوندی ادا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں کی حفاظت پر بھی بھرپور توجہ دیں۔​
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,660
    موصول پسندیدگیاں:
    8,877
    ملک کا جھنڈا:
    عمدہ شئیرنگ
     
    intelligent086 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,859
    موصول پسندیدگیاں:
    302
    ملک کا جھنڈا:
    پسند اور رائے کا شکریہ
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں