1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میری پسندیدہ غزل نظم اور اشعار

'اشعار اور گانوں کے کھیل' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏5 دسمبر 2016۔

  1. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    مت پوچھو یہ عشق کیسے ہوتا ہے :
    بس جو رلاتا ہے اسی کے گلے لگ کر
    رونے کا جی چاہتا ہے​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    ذرا سا عشق کا بھی اس میں دخل ہے

    ورنہ کوئی حسین ، مکمل حسیں نہیں
    ہوتا ۔۔۔
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    ھربات جانتے ھوئے بھی دل مانتا نہ تھا
    ھم جانے اعتبار کے کس مرحلے میں تھے

    وصل و فراق دونوں ھیں اِک جیسے ناگزیر
    کُچھ لطف اُس کے قُرب میں، کُچھ فاصلے میں تھے​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:

    سُنو، وہ جب ستاتا ہے
    کہا، دل ڈوب جاتا ہے
    کہا، دل ڈوبتا ہے کب؟
    ...بتایا، جب ستاتا ہے
    کہو، کب پھول کھلتے ہیں؟
    کہا، جب مُسکراتا ہے
    دھڑکتا ہے کہو دل کب؟
    کہا، جب پاس آتا ہے
    کہو، دل میں ہے کیا اس کے؟
    کہا، وہ کب بتاتا ہے
    سُنو، برہم سا ہے شاید؟
    کہا، یونہی بناتا ہے
    کہا، کچھ تو ہوا ہوگا؟
    کہا، وہ آزماتا ہے
    بُری شے عشق ہے کیونکر؟
    کہا، شب بھر جگاتاہے
    کہو، وہ بزم کیسی تھی؟
    کہا، وہ کب بلاتا ہے
    کہو، اس سے بچھڑنے کی؟
    بچھڑنا کس کو بھاتا ہے؟
    کہو، ملنے کی خواہش ہے؟
    کہا، بےدرد ناتہ ہے
    بتاؤ راکھ میں ہے کیا ؟
    ستارہ جھلملاتا ہے
    لرز جاتی ہیں کب پلکیں‌؟
    نظر وہ جب جماتا ہے
    ٹھہر جاتی ہے دھڑکن کب؟
    نظر سے جب گِراتا ہے​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    خواهئشوں کے جنگل میں
    رات کی جستجو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر
    کچھ چوڑیاں خریدی ہیں.....
    دل بلا کا وحشی تھا
    دل سے گفتگو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں........
    چوڑیوں سے خود سوچو
    کیا ہمارا کوئی رشتہ تھا ؟؟
    یا کوئی تعلق؟؟
    پھر بھی شہر_جاناں میں
    قتل _آرزو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں........
    کچھ لباس لینا تھے
    اور کچھ کتابیں بھی
    کچھ ضروری چیزیں تھیں
    اپنی سب ضرورتوں کا
    اس برس لہو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں
    19379426_1447841028572470_3164724777789161472_n.jpg
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    آؤ !! جانچ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    درد کے ترازو پر ۔۔۔۔۔۔۔
    کِس کے غم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تک ہیں ؟
    شِدتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تک ہیں ؟
    کچھ عزیز لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پوچھنا تو پڑتا ہے
    ! آج کل محبّت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قیمتیں کہاں تک ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟؟
    ایک شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلے آؤ !!
    کُھل کے حالِ دل کہہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کون جانے سانسوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مہلتیں کہاں تک ہیں​
  7. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    کبھی صحرا تیرا لہجہ، کبھی بارش تیری باتیں
    کبھی ٹھنڈا تیرا لہجہ، کبھی آتش تیری باتیں

    یہی شیرینی و تلخی طبیعت سیر کرتی ہے
    کبھی کڑوا تیرا لہجہ، کبھی کشمش تیری باتیں

    نہیں کوئی طبیبِ دل ستم مائل تیرے جیسا
    کبھی پھایا ترا لہجہ، کبھی سوزش تیری باتیں
    ۔
    اندھیرا ہے اگر ڈوبے، اگر اُبھرے تو سورج ہے
    کبھی کورا تیرا لہجہ، کبھی دانش تیری باتیں
    ۔
    بھڑکتی بجھتی ہے پل پل چراغِ زندگی کی لَو
    کبھی رسیا تیرا لہجہ، کبھی رنجش تیری باتیں
    ۔
    متاعِ زیست ہے سفیر، یہی غربت یہی دولت
    کبھی کاسہ تیرا لہجہ، کبھی بخشش تری باتیں
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    حدودِ ذات کے صحرا میں کیوں گنواؤ مجھے
    تمہارا خواب ھوں تم تو نہ بھول جاؤ مجھے

    تمام عمر کا حاصل ھے بے رخی ھی سہی
    زھے نصیب مقدر کو سونپ جاؤ مجھے

    میں معجزہ ھوں وفاؤں کی بیکرانی کا
    ابھی ھے وقت ابھی اور آزماؤ مجھے

    یہ کیسا جبر ھے حدِ نگاہ بھی تم ھو
    نظر اٹھا کے جو دیکھوں نظر نہ آؤ مجھے

    ادا جعفری
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی حد نہیں ہے کمال کی
    کوئی حد نہیں ہے جمال کی

    وہی قرب و دور کی منزلیں
    وہی شام خواب خیال کی

    نہ مجھے ہی اس کا پتہ کوئی
    نہ اسے خبر میرے حال کی

    یہ جواب میری صدا کا ہے
    کہ صدا ہے اس کے سوال کی

    یہ نمازِ عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    وہ قیامتیں جو گزر گئیں
    تھی امانتیں کئ سال کی

    ہے منیر تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    منیر نیازی
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسے
    لگنے دے ایک اور بھی ضربِ شدید اُ سے

    جی ہاں ! وہ اِک چراغ جو سُورج تھا رات کا
    تاریکیوں نے مِل کے کِیا ہے شہید اُسے

    فاقے نہ جُھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں
    آفت میں ڈال دے نہ یہ بحرانِ عید اُسے

    فرطِ خُوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے
    آرام سے سناؤ سحر کی نوید اُسے

    ہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خُود بھی تھا
    پھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اُسے

    بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دِکھا!
    سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اُسے

    مدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اُٹھا!
    وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اُسے

    مشکُوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہوا
    جعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اُسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیدل حیدری
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    میں کالی کلوٹی پگلی سی
    تو چِٹا سوہنا یار پیا
    میں منگ منگ منگتی گلی گلی
    تو صاحبِ دستار پیا
    میرا اندر باہر مندا گندا
    تو سر تا پا نکھار پیا
    میری جند تڑپے میری جاں تڑپے
    تو روح کا ہے قرار پیا
    میں ڈرتی سہمی تھر تھر کانپوں
    تو دو دھاری تلوار پیا
    تو عشق کی گدی پر بیٹھا
    میں بھٹکوں ھر ھر دوار پیا
    مجھے کنیز بنا کر اپنا لے
    بن میرا بھی خریدار پیا ۔۔
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    مے کشی کا لطف تنہائی میں کیا، کچھ بھی نہیں
    یار پہلو میں نہ ہو جب تک، مزا کچھ بھی نہیں

    تم رہو پہلو میں میرے، میں تمہیں دیکھا کروں
    حسرتِ دل اے صنم، اِس کے سوا کچھ بھی نہیں

    حضرتِ دل کی بدولت میری رسوائی ہوئی
    اس کا شکوہ آپ سے اے دلربا کچھ بھی نہیں

    قسمتِ بد دیکھئے، پُوچھا جو اُس نے حالِ دل
    باندھ کے ہاتھوں کومیں نے کہہ دیا، کچھ بھی نہیں

    آپ ہی تو چھیڑ کرپُوچھا ہمارا حالِ دل
    بولے پھرمنھ پھیرکے، ہم نے سُنا کچھ بھی نہیں

    کوچہؑ الفت میں انساں دیکھ کے رکھے قدم
    ابتدا اچھی ہے اِس کی، انتہا کچھ بھی نہیں

    حسین باندی شباب بنارسی
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    وہ جس کی سانس پہ تحریر تھی حیات میری
    اُسی کا حُکم ہے _____ اب رابطہ نہیں کرنا!!
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    رکھاتھا اسکو غلاف روح میں سبھال کر محسن
    وہ زخم بھی توکسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آشنا کا تھا​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی صلح کرا دے زندگی کی الجھنوں سے
    بڑی طلب ہے ہمیں بھی آج مسکرانے کی
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺲ ﺭﮦ ﭼﻠﺘﮯ
    ﮨﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ
    ﺍﻥ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﭼﮭﻮﭦ ﮔﺌﮯ
    ﺍﻥ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﯾﺎﺭﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ
    ﺟﻮ ﺍﮎ ﺍﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ
    ﺟﺲ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﮯ ﺟﺲ ﺳﻤﺖ ﮔﺌﮯ
    ﯾﻮﮞ ﭘﺎﺅﮞ ﻟﮩﻮﻟﮩﺎﻥ ﮨﻮﺋﮯ
    ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ
    ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﺭﯾﺖ ﺭﭼﺎﺋﯽ ﮨﮯ
    ﯾﮧ ﻣﮩﻨﺪﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮨﮯ
    ﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻗﺤﻂ ﻭﻓﺎ
    ﮐﺎ ﻧﺎﺣﻖ ﭼﺮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ
    ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﻮ ﺩﮬﻮ ﮈﺍﻟﻮ !
    ﯾﮧ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ
    ﺳﻮ ﺭﺳﺘﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﭨﯿﮟ ﮔﮯ
    ﺗﻢ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ
    ﺳﻮ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻧﺸﺘﺮ ﭨﻮﭨﯿﮟ ﮔﮯ

    فیض احمد فیض
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,534
    ملک کا جھنڈا:
    میں نے دیکھے ہیں تری آنکھ میں بکھرے ہوئے خواب،
    جبکہ ہر شخص نے پھیلا ہوا----------------- کاجل دیکھا
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:

    وہ ایک لڑکی - وہ کون ھے؟

    اداس لوگوں کی بستیوں میں
    وہ تتلیوں کو تلاش کرتی
    وہ ایک لڑکی _
    وہ گول چہرہ ، وہ کالی آنکھیں
    جو کرتی رہتی ہزار باتیں
    مزاج سادہ _ وہ دل کی اچھی
    وہ ایک لڑکی _

    ساری باتیں وہ دل کی مانے
    وہی کرے وہ ، جو دل میں ٹھانے
    کوئی نا جانے _ کیا اس کی مرضی
    وہ ایک لڑکی _

    وہ چاہتوں کے سراب دیکھے
    محبتوں کے وہ خواب دیکھے
    وہ خود سمندر مگر ہے پیاسی
    وہ ایک لڑکی _

    وہ دوستی کے نصاب جانے
    وہ جانتی ہے عہد نبھانے
    وہ اچھی دوست وہ اچھی ساتھی
    وہ ایک لڑکی _

    وہ جام چاہت کا پینا چاہے
    وہ اپنے مرضی سے جینا چاہے
    مگر ہے ڈرتی _ مگر ہے ڈرتی
    وہ ایک لڑکی _

    محبتوں کا جو فلسفہ ہے
    وہ جانتی ہے _ اسے پتہ ہے
    وہ پھر بھی رہتی ڈری ڈری سی
    وہ ایک لڑکی _

    وہ جھوٹے لوگوں کو سچا سمجھے
    وہ ساری دنیا کو اچھا سمجھے
    وہ کتنی سادی _ وہ کتنی پگلی
    وہ ایک لڑکی _

    (¯`[​IMG]♥´¯) .
    ´*.¸.•´[​IMG]♥‿[​IMG]↗⁀☆​
    ناصر إقبال اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,204
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    پروفیسر غیاث متین کی نثری نظم ’’تم بھی عجیب‘‘

    کبوتر بھی
    آسمان میں منڈلاتے ہوئے
    گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
    اپنے پر باندھ لیتے ہیں
    اور کابک میں بیٹھے ہوئے
    غٹرغوں ، غٹرغوں …
    خیر جانے دو
    تم بھی عجیب پرندے ہو
    کسی بھی موسم میں
    پانی پر
    اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے
    ناصر إقبال، حنا شیخ 2 اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:
    ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہیۓ، اور محتاط پاسِ وفا چاہیۓ
    زندگی دشمنوں میں بھی کٹ جاۓ گی، آدمی میں ذرا حوصلہ چاہیۓ

    ہم کو منزل شناسی پہ بھی ناز ہے، اور ہم آشنائے حوادث بھی ہیں
    جوئے خوں سے گزرنا پڑے بھی تو کیا، جستجو کو تو اک راستا چاہیۓ

    اپنے ماتھے پہ بل ڈال کر تم ہمیں، شیش محلوں کے اندر سے جھڑکی نہ دو
    ہم بھکاری نہیں ہیں کہ ٹل جائیں گے، ہم کو اپنی وفا کا صلہ چاہیۓ

    تم نے آرائشِ گلستاں کے لئے، ہم سے کچھ خون مانگا تھا مدت ہوئی
    تم سے خیرات تو ہم نہیں مانگتے، ہم کو اُس خون کا خوں بہا چاہیۓ

    ہم کو ہر موڑ پر دوست ملتے رہے، ہم کبھی راہِ منزل میں تنہا نہ تھے
    کل غمِ دوست تھا اب غمِ زیست ہے، آشنا کو تو اک آشنا چاہیۓ

    میری مانو تو اک بات تم سے کہوں، یہ نیا دور ہے اس کا کیا ٹھیک ہے
    دوستوں سے ملو محفلوں میں مگر، آستینوں کا بھی جائزہ چاہیۓ

    حد سے بڑھ کر محبت مناسب نہیں، اس میں اندیشۂ بد گمانی بھی ہے
    دشمنوں سے تعلق تو ہے ہی غلط، دوستوں میں بھی کچھ فاصلہ چاہیۓ

    جرمِ بے باک گوئی کی پاداش میں، زہر اقبالؔ کو تلخیوں کا ملا
    اُس نے اِس زہر کو ہی سخن کر لیا، اس زمانے میں اب اور کیا چاہیۓ

    (اقبالؔ عظیم)​
    ناصر إقبال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:
    شمعِ دل شمعِ تمنا نہ جلا، مان بھی جا
    تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا، مان بھی جا

    ایسی دنیا میں جنوں، ایسے زمانے میں وفا
    اس طرح خود کو تماشا نہ بنا، مان بھی جا

    کب تلک ساتھ ترا دیں گے یہ دھندلے سائے
    دیکھ نادان نہ بن، ہوش میں آ، مان بھی جا

    زندگی میں ابھی خوشیاں بھی ہیں رعنائی بھی
    زندگی سے ابھی دامن نہ چھڑا، مان بھی جا

    شہر پھر شہر ہے یاں جی تو بہل جاتا ہے
    شہر کو چھوڑ کے صحرا کو نہ جا، مان بھی جا

    (شہر یار)​
    ناصر إقبال اور زنیرہ عقیل .نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,204
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    ہر کوئی د ل کی ہتھیلی پہ صحر ا رکھے

    کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

    عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا

    اے میری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

    ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا

    کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

    دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

    کسی اور کا ہونا دے نہ اپنا ر کھے

    ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر

    جا، خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے

    یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فرازؔ

    ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

    احمد فرازؔ
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:

    وہ ایک پل ہی سہی، جس میں تم میسر ہو
    اُس ایک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں
    .
    Wo aik pal hi sahi jis mein tum muyasir ho
    Us aik pal se ziada to zindagi bhi nahi​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:
    ہوں عجیب کشمکش میں، ہوئی زندگی پرائی
    میرے پاس تیری یادیں، تیرے پاس بے وفائی

    میرے دل کو تو نے چھینا، میری پریت جگ نے لوٹی
    میرا دل بھی ہے پرایا، میری پریت بھی پرائی

    تجھے خواب ہی میں ‌دیکھوں، یہ بھرم بھی آج ٹوٹا
    تیرے خواب کیسے دیکھوں‌، مجھے نیند ہی نہ ‌آئی​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:
    تیرے نثار ساقیا، جتنی پیوں پلائے جا
    مست نظر کا واسطہ، مست مجھے بنائے جا

    تجھ کو کسی سے عرض کیا، بجلی کہیں گرائے جا
    دل جلے یا جگر جلے، تو یونہی مسکراۓ جا

    سامنے میرے آ کے دیکھ، رخ سے نقاب ہٹا کے دیکھ
    ِخرمنِ دل ہے منتظر، برقِ نظر گراۓ جا

    وفائے بدنصیب کو، بخشا ہے تو نے درد جو
    ہے کوئی اس کی بھی دوا، اتنا ذرا بتائے جا​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,204
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں
    زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں

    تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
    راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں

    آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ
    آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں

    ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو
    تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں
    ناصر إقبال اور حنا شیخ 2 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:

    وہ کھیل کھیل میں ------ ہوتا گیا محتاط
    ہنسی ہنسی میں ہم اپنے حواس کھو بیٹھے​
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:
    واہ
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    3,204
    موصول پسندیدگیاں:
    2,097
    ملک کا جھنڈا:
    شکر کر داغ دل کا اے غافل
    کس کو دیتے ہیں دیدۂ بیدار
    ناصر إقبال اور حنا شیخ 2 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. حنا شیخ 2
    آف لائن

    حنا شیخ 2 ممبر

    شمولیت:
    ‏6 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    2,154
    موصول پسندیدگیاں:
    583
    ملک کا جھنڈا:

    کیا کہہ کے عندلیب چمن سے گذر گئی
    کیا سن لیا گُلوں نے کہ رنگت بدل گئی

    ایسا کہاں رفیق ، جو دیتا قلق کے ساتھ
    اک جان تھی سو وقت پہ وہ بھی نکل گئی
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں