1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میری پسندیدہ غزل نظم اور اشعار

'اشعار اور گانوں کے کھیل' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏5 دسمبر 2016۔

  1. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    مت پوچھو یہ عشق کیسے ہوتا ہے :
    بس جو رلاتا ہے اسی کے گلے لگ کر
    رونے کا جی چاہتا ہے​
  2. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    ذرا سا عشق کا بھی اس میں دخل ہے

    ورنہ کوئی حسین ، مکمل حسیں نہیں
    ہوتا ۔۔۔
  3. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    ھربات جانتے ھوئے بھی دل مانتا نہ تھا
    ھم جانے اعتبار کے کس مرحلے میں تھے

    وصل و فراق دونوں ھیں اِک جیسے ناگزیر
    کُچھ لطف اُس کے قُرب میں، کُچھ فاصلے میں تھے​
  4. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:

    سُنو، وہ جب ستاتا ہے
    کہا، دل ڈوب جاتا ہے
    کہا، دل ڈوبتا ہے کب؟
    ...بتایا، جب ستاتا ہے
    کہو، کب پھول کھلتے ہیں؟
    کہا، جب مُسکراتا ہے
    دھڑکتا ہے کہو دل کب؟
    کہا، جب پاس آتا ہے
    کہو، دل میں ہے کیا اس کے؟
    کہا، وہ کب بتاتا ہے
    سُنو، برہم سا ہے شاید؟
    کہا، یونہی بناتا ہے
    کہا، کچھ تو ہوا ہوگا؟
    کہا، وہ آزماتا ہے
    بُری شے عشق ہے کیونکر؟
    کہا، شب بھر جگاتاہے
    کہو، وہ بزم کیسی تھی؟
    کہا، وہ کب بلاتا ہے
    کہو، اس سے بچھڑنے کی؟
    بچھڑنا کس کو بھاتا ہے؟
    کہو، ملنے کی خواہش ہے؟
    کہا، بےدرد ناتہ ہے
    بتاؤ راکھ میں ہے کیا ؟
    ستارہ جھلملاتا ہے
    لرز جاتی ہیں کب پلکیں‌؟
    نظر وہ جب جماتا ہے
    ٹھہر جاتی ہے دھڑکن کب؟
    نظر سے جب گِراتا ہے​
  5. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    خواهئشوں کے جنگل میں
    رات کی جستجو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر
    کچھ چوڑیاں خریدی ہیں.....
    دل بلا کا وحشی تھا
    دل سے گفتگو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں........
    چوڑیوں سے خود سوچو
    کیا ہمارا کوئی رشتہ تھا ؟؟
    یا کوئی تعلق؟؟
    پھر بھی شہر_جاناں میں
    قتل _آرزو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں........
    کچھ لباس لینا تھے
    اور کچھ کتابیں بھی
    کچھ ضروری چیزیں تھیں
    اپنی سب ضرورتوں کا
    اس برس لہو کر کے
    ہم نے اسکی خاطر کچھ
    چوڑیاں خریدی ہیں
    19379426_1447841028572470_3164724777789161472_n.jpg
  6. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    آؤ !! جانچ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    درد کے ترازو پر ۔۔۔۔۔۔۔
    کِس کے غم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تک ہیں ؟
    شِدتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تک ہیں ؟
    کچھ عزیز لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پوچھنا تو پڑتا ہے
    ! آج کل محبّت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قیمتیں کہاں تک ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟؟
    ایک شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلے آؤ !!
    کُھل کے حالِ دل کہہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کون جانے سانسوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مہلتیں کہاں تک ہیں​
  7. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    کبھی صحرا تیرا لہجہ، کبھی بارش تیری باتیں
    کبھی ٹھنڈا تیرا لہجہ، کبھی آتش تیری باتیں

    یہی شیرینی و تلخی طبیعت سیر کرتی ہے
    کبھی کڑوا تیرا لہجہ، کبھی کشمش تیری باتیں

    نہیں کوئی طبیبِ دل ستم مائل تیرے جیسا
    کبھی پھایا ترا لہجہ، کبھی سوزش تیری باتیں
    ۔
    اندھیرا ہے اگر ڈوبے، اگر اُبھرے تو سورج ہے
    کبھی کورا تیرا لہجہ، کبھی دانش تیری باتیں
    ۔
    بھڑکتی بجھتی ہے پل پل چراغِ زندگی کی لَو
    کبھی رسیا تیرا لہجہ، کبھی رنجش تیری باتیں
    ۔
    متاعِ زیست ہے سفیر، یہی غربت یہی دولت
    کبھی کاسہ تیرا لہجہ، کبھی بخشش تری باتیں
  8. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    حدودِ ذات کے صحرا میں کیوں گنواؤ مجھے
    تمہارا خواب ھوں تم تو نہ بھول جاؤ مجھے

    تمام عمر کا حاصل ھے بے رخی ھی سہی
    زھے نصیب مقدر کو سونپ جاؤ مجھے

    میں معجزہ ھوں وفاؤں کی بیکرانی کا
    ابھی ھے وقت ابھی اور آزماؤ مجھے

    یہ کیسا جبر ھے حدِ نگاہ بھی تم ھو
    نظر اٹھا کے جو دیکھوں نظر نہ آؤ مجھے

    ادا جعفری
  9. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    کوئی حد نہیں ہے کمال کی
    کوئی حد نہیں ہے جمال کی

    وہی قرب و دور کی منزلیں
    وہی شام خواب خیال کی

    نہ مجھے ہی اس کا پتہ کوئی
    نہ اسے خبر میرے حال کی

    یہ جواب میری صدا کا ہے
    کہ صدا ہے اس کے سوال کی

    یہ نمازِ عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    وہ قیامتیں جو گزر گئیں
    تھی امانتیں کئ سال کی

    ہے منیر تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    منیر نیازی
  10. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,340
    موصول پسندیدگیاں:
    1,294
    ملک کا جھنڈا:
    رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسے
    لگنے دے ایک اور بھی ضربِ شدید اُ سے

    جی ہاں ! وہ اِک چراغ جو سُورج تھا رات کا
    تاریکیوں نے مِل کے کِیا ہے شہید اُسے

    فاقے نہ جُھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں
    آفت میں ڈال دے نہ یہ بحرانِ عید اُسے

    فرطِ خُوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے
    آرام سے سناؤ سحر کی نوید اُسے

    ہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خُود بھی تھا
    پھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اُسے

    بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دِکھا!
    سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اُسے

    مدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اُٹھا!
    وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اُسے

    مشکُوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہوا
    جعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اُسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیدل حیدری

اس صفحے کو مشتہر کریں