1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

میرا چھوٹا سا تعارف

'میں کون ہوں؟' میں موضوعات آغاز کردہ از شازیہ سعید, ‏11 فروری 2026۔

  1. شازیہ سعید
    آف لائن

    شازیہ سعید ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2012
    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    ملک کا جھنڈا:
    میں شاذیہ سعید پیشے سے صحافی، ولاگر،ریڈیو پرڈیوسر، لکھاری ہوں۔ 2009 سے کام کر ہی ہوں۔ بہت سے اداروں سے وابسطہ رہی لیکن روزنامہ نوائے وقت سے تاحال وابسطہ ہوں۔
    کبھی سب ایڈیٹر بن کر خبریں کاٹیں، بنائیں، ترتیب دیں اور کبھی اوورسیز صفحہ کی انچارج رہی۔ وقت بدلہ اور میں جا پہنچی سنڈے میگزین میں جہاں صحیح معنوں میں لکھاری ہونے کا تمغہ ملا۔ کون سی ایسی فیلڈ ہے جس میں میرے انچارج نے مجھے سٹوری کے لئے بھیجا نہ ہو۔ کبھی دیکھو تو صحت کے حوالے سے لکھ رہی ہوں کبھی دیکھو تو صنعت و تجارت میں سر کھپا رہی ہوں۔ لو جی بچوں کا صفحہ بھی مل گیا۔ ابھی سیاستدانوں کے انٹرویو بھی کرنے جا رہی ہوں۔ لو جی سوشل اشوز کی تو بھرمار ہی ہو گئی ہے۔ کبھی صنعت کے صفحہ تو کبھی اوورسیز کے صفحہ کی انچارج بن گئی ہوں۔ سنڈے میگزین میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میرا لکھا ہوا فیچر نوائے وقت کی مینجنگ ڈائریکٹر کو اتنا پسند آیا کہ پورے صفحہ پر تعریفوں کے پل باندھ دیے اور یہ انچارج کو کیا سوجی کے کہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں تالیاں بجوا دیں۔ میں خوش بھی تھی اور شرما بھی رہی تھی لیکن چہرے سے ظاہر نہ ہونے دیا۔ اب تو شوبز میں بھی ہاتھ لگوا دیا انچارج نے اور کیا کیا آرٹیکل نہیں لکھے۔
    وقت گزرا ہوا بدلہ میں پہنچی گورمے خواتین میگزین میں۔ وقت کم رہا یہاں لیکن جو سیکھا مزا آگیا۔ نیٹ ورکنگ یہی سے سیکھی وہ بھی ایک مہینے میں۔
    ابھی میں جا پہنچی ہوں بچوں کے میگزین پھول میں لیکن مجھے یہاں مزا نہیں آیا انچارج اچھا نہیں ملا۔ اوپر سے زبردستی بھیجا گیا تھا۔ البتہ یہاں ایک بچے کو استاد بنایا اور گرافک ڈیزائننگ سیکھی کچھ عرصہ میں زیادہ چیزیں سر کے اوپر سے گزریں البتہ ڈیزائننگ سیکھی لی تھی۔ آج بھی کورل ڈرا کو مس کرتی ہوں البتہ استعمال میں موبائل کی ایڈیٹنگ ایپس آگیں ہیں۔
    اب وقت مجھے لاہور کی سب سے بڑی لائبریری قائد اعظم لائبریری کھینچ لایا ہے۔ یہاں میں نے بہت کام کیا۔ یہاں سے میں پی آر او مشہور ہوئی۔ میں نے یہاں سے بھی بہت کچھ سیکھا۔
    پھر زندگی کا وقت مجھے ایک پنجابی ادارے میں کھینچ لایا جہاں شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں یہاں بس نہیں پاؤں گی۔ پنجابی خر دماغ ہوتے ہیں اور ماحول بھی اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن وقت نے بتایا کہ اس ادارے سے تو لمبی رفاقت نکل آئی ہے۔ 2012 میں ساتھ جڑا تھا جہاں میری آواز لوگوں کے کانوں میں رس گھولتی تھی، پھر 2017 میں پرڈیوسر بنی تو لگا کہ شائد مجھے یہی کرنا تھا۔پھر 2019 میں تین سال کے کنٹریکٹ میں بندھی اور 2022میں پکی سیٹ لبھ گئی اور یہ سلسلہ ماشاللہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ یہاں کمیونیکیشن، ڈیلنگ، مارکیٹنگ، رائٹنگ، ایڈیٹنگ، پروگرامنگ،مینیجنگ اور نجانے کیا کیا سیکھا اور ابھی تک سیکھ رہی ہوں۔
    الحمدللہ۔ اللہ نے بڑا فضل کیا ہے جو ضابطہ حیات چل رہی ہے۔

    اگر لگے کہ میں نے لکھنے میں کچھ کمی یا زیادتی کی ہے تو بتائیے گا ضرور۔

    شاذیہ سعید
     

اس صفحے کو مشتہر کریں