1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

منگولوں کا یورپ پر وار

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏10 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,402
    موصول پسندیدگیاں:
    188
    ملک کا جھنڈا:
    منگولوں کا یورپ پر وار
    [​IMG]
    مارک کارٹ رائٹ

    روس اور مشرقی یورپ پر منگولوں کے حملے 1223ء میں شروع ہوئے۔ اس کے بعد 1237ء اور 1242ء کے درمیان انہوں نے بڑی جنگی مہمات انجام دیں۔ منگول اچانک منظر نامے پر آئے اور جلد انہیں ’’شیطانی گھڑ سوار‘‘ کہا جانے لگا۔ وہ یکے بعد دیگرے کامیابیاں حاصل کرتے گئے اور مغرب میں پولینڈ کے شہر وروکلا تک جا پہنچے۔ انہوں نے تبلیسی، کیو اور ولادی میر جیسے معروف شہروں پر قبضہ کیا اور دریائے ڈنوب تک گئے۔ انہوں نے ہنگری کے شہروں بوڈا، پیسٹ اور گران کو تہ و بالا کیا۔ روس اور نہ ہی بڑی یورپی طاقتیں منگولوں کی پانچ بڑی جنگی مہمات کے خلاف مؤثر انداز میں منظم ہو پائیں۔ وہ منگولوں کے تیز رفتار گھڑ سواروں، منجنیقوں اور دہشت پھیلانے کی حکمت عملی کا مقابلہ نہ کر پائیں۔ مشرقی اور وسطی یورپ کے دیگر علاقے اس لیے بچ گئے کہ اوغدائی خان (دورِ حکمرانی 1229ء تا 1241ئ) وفات پا گیا جس کے سبب منگول پسپا ہو گئے۔ بہت زیادہ اموات اور تباہی کے باوجود ان حملوں کے کچھ مستقل ثقافتی فائدے بھی ہوئے کیونکہ اس طرح مشرقی اور مغربی دنیائیں بالآخر ایک دوسرے سے ملیں۔ مغربی سیاح مشرقی ایشیا کا سفر کرنے لگے، اس خطے کا جسے پہلے عفریتوں کی دیومالائی سرزمین خیال کیا جاتا تھا۔ یورپ کے بارے میں چینیوں کے خیالات بھی اسی قسم کے تھے۔ یورپ پر منگولوں کے حملوں کے بعد دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پُرتشدد اورقریب ہو گئی۔ اوغدائی خان: اوغدائی خان 1229ء میں منگول سلطنت کا حکمران بنا۔ اسے یہ حکمرانی ایشیا کے قابل ذکر علاقے پر قابض اپنے والد چنگیز خان (دورِ حکمرانی 1206ء تا 1227ئ) سے ورثے میں ملی۔ تخت سنبھالتے ہیں نئے خان کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہوا: اول، شاہی خزانہ خالی تھا اور فوج کی وفاداری کے لیے مال چاہیے تھا، دوم، منگولوں نے بہت سی فوجوں کو شکست دی تھی اور بہت سے حکمرانوں کو تخت سے اتارا تھا لیکن ریاستی ڈھانچے یا بیوروکریسی کے سلسلے میں کمزور تھے، جس کی مدد سے فتح کیے گئے علاقوں پر وہ مؤثر حکمرانی کر سکتے تھے۔ اوغدائی خان کو احساس ہوا کہ دوسرے مسئلے کو حل کرنے اور مقبوضہ علاقوں میں ٹیکس نافذ کرنے سے وہ پہلا مسئلہ بھی حل کر لے گا۔ اس منصوبے کو مختلف علاقوں کا انتظام سنبھالنے والے اور مقامی سطح پر ٹیکس جمع کرنے والے وزرا اور اہلکاروں کے سامنے پیش کیا گیا۔ قراقرم میں (1235ء میں) ایک نیا دارالحکومت بنایا گیا، زیادہ ٹھوس ریاستی ڈھانچہ اور مستقل آمدنی کو یقینی بنانے کے بعد خان نے اپنی سلطنت کو مزید پھیلانے کی جانب توجہ دی۔ منگول چین کو ہمیشہ سب سے قیمتی اور اعلیٰ ترین انعام سمجھتے رہے تھے۔ 1230ء میں چین دو بڑی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا: شمال میں جورچن جِن ریاست اور جنوب میں سانگ بادشاہت (960ء تا 1279ئ)۔ 1230ء سے 1234ء تک کی مہمات میں جِن ریاست منہدم ہو گئی لیکن سانگ بادشاہت کی بربادی کومؤخر کر دیا گیا۔ اس کے بجائے اوغدائی نے اپنا رخ مغرب کی جانب کر لیا۔ مغرب میں فتوحات: چنگیز خان کی فوجوں نے پورے مغربی ایشیا کو ڈھیر کیا تھا، بحیرہ کیسپین کے گرد چکر لگایا تھا، یہاں تک کہ کالکا میں روسی فوج کو 1223ء میں شکست دے ڈالی تھی لیکن ان علاقوں کی ریاستیں اب خراج دینے سے ہچکچا رہی تھیں۔ 1230ء کی دہائی میں سلطنتِ خوارزم اوغدائی خان کے غیظ و غضب کا شکار رہی۔ 1235ء میں شمالی عراق پر حملہ کر دیا گیا۔ منگولوں کی فوجیں ایک کے بعد دوسری کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 1238ء میں آذربائیجان، جارجیا اور آرمینیا میںگھس گئیں۔ انہوں نے خطے کے قلعہ نما شہروں کو برباد کر ڈالا، تبلیسی جیسے شہر کو تاراج کیا اور مقامی شہزادوں سے خراج لینے لگے۔ 1236ء سے یورو ایشیا اور مشرقی یورپ میں ہونے والی کثیر جہتی جنگی مہم کے دوران فوج کا ایک حصہ قازقستان اور ازبکستان کی طرف بڑھا اور شکست دیتا ہوا 1237-8ء کے سرما میں دریائے وولگا کے آس پاس روسی ریاستوں پر حملہ آور ہوا۔ منگولوں کو وہاں کے میدان اور سردی سے جم جانے والے دریا پسند آئے، کیونکہ یہ ان کے اپنے علاقوں جیسے تھے جہاں ان کے گھوڑے دوڑنے کے عادی تھے۔ 1237ء میں 16 سے 21 دسمبر تک ریازان کے شہر کا محاصرہ ہوا۔ اس کی بدقسمتی کا احوال ایک دستاویز میں کچھ یوں ہے: ’’تاتاریوں نے ریازان پر قبضہ کر لیا … اور سارے شہر کو جلا ڈالا، اور شہزادہ یوری اور اس کی شہزادی کو مار ڈالا، مردوں، عورتوں اور بچوں، راہبوں، رہباؤں اور مذہبی پیشواؤں میں سے بعض کو تلواروں سے اور بعض کو تیروں سے ڈھیر کیا اور آگ میں پھینک دیا۔‘‘ ریازان میں جو ہوا، منگولوں نے ایسا بار بار کیا اور کسی قسم کا رحم نہ کھایا۔ روسی ریاستیں، جن کے مابین طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی، مشکل کی اس گھڑی میں بھی اکٹھی نہ ہو پائیں۔ پھر ماسکو کے جلنے کی باری تھی۔ اس کے بعد 1238ء میں سوزڈال کی اور آخر میں قلعہ نما دارالحکومت ولادی میر کا محاصرہ ہوا۔ گرینڈ ڈیوک یوری دوم اپنے بیوی اور بیٹوںکو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا۔ فوج اکٹھی کرنے کے بعد شہر کو بچانے کے لیے لوٹا۔ لیکن سات فروری کو منگول اس پر قبضہ کر چکے تھے۔ 23 مارچ 1238ء کو طویل مزاحمت کے بعد ایک اور شہر ٹورشوک پر قبضہ ہوا۔ نووگوروڈ بچ گیا۔ بہار کا موسم آن پہنچا تھا، منگول فوج واپس ہوئی اور بحراسود کے شمال کی جانب چلی گئی۔ 1239ء میں منگول یوکرین کی طرف بڑھے، پولووٹسائیوں کو شکست دی اور چھ دسمبر 1240ء کو ایک مختصر محاصرے کے بعد کیو پر قبضہ کر لیا۔ دیگر علاقوں کی طرح یہاں کے باسیوں کا نصیب بھی موت بنی۔ یہاں سے پوپ کے ایلچی جیووانی ڈی پیانو کا ایک قافلہ چھ برس بعد گزرا اور اپنے مشاہدات یوں پیش کیے: ’’جب ہم اس سرزمین سے گزر رہے تھے تو ہمیں بے شمار انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں زمین پر پڑی ہوئی ملیں۔ کیو بہت بڑا اور گنجان آباد تھا، لیکن اب یہاں تقریباً کچھ باقی نہیں بچا۔‘‘ کیو سے فوجیں گالیشیا اور پوڈولیا اور مشرقی یورپ کی جانب مڑیں۔ فوج کا ایک حصہ شمال مغرب کی طرف بڑھا اور پولینڈ پر حملہ آور ہوا۔ وہ بوہیمیا اور موراویا سے ہوتا ہوا ہنگری پر حملہ آور ہوا۔ دوسرا حصہ جنوب کی طرف بڑھا اور ٹراسیلوانیا، مالڈووا اور ولیکیا پر چڑھ دوڑا۔ ہنگری کو بنیادی ہدف بنایا گیا کیونکہ یہاں گھاس کے میدان تھے اور منگول اپنے گھوڑوں کے لیے اسے بہترین خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں یہاں سے مغربی یورپ پر دھاوا بولا جا سکتا تھا۔ پولینڈ کے قصبوں کو جلایا گیا ۔ عظیم شہر کراکو پر بآسانی قبضہ کر لیا گیا کیونکہ منگولوں کی قتل عام اور لوٹ مار کی ریت کو جانتے ہوئے اسے خالی کر دیا گیا تھا۔ ایک اور شہر بریسلاؤ پر حملہ ہونے کے ڈر سے لوگوں نے خود ہی شہر جلا ڈالا اور ایک قلعے میں پناہ لے لی۔ شہر کو مہلت تب ملی جب منگول کمانڈروں کو اطلاع آئی کہ پولینڈ کی فوج ہنری دی پائس کی قیادت میں جمع ہو رہی ہے۔ اس فوج میں پوستانی، جرمن، ٹیوٹانی نائٹس اور دیگر شامل تھے۔ نو اپریل کو منگول فوج ان کے پاس پہنچی۔ اس نے حسب روایت پسپائی کا ناٹک کیا۔ پھر آس پاس کے پودوں کو آگ لگا کر دھوئیں میں چھپ کر وار کیا۔ منگولوں نے مخالفین کو ایک بار پھر زیر کر لیا۔ ہنری مارا گیا اور اس کے سر کو نیزے کی نوک پر سرعام گھمایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں منگول جنگجوؤں نے اپنے مخالفین کے کٹے کانوں کی 9 بوریاں بھریں۔ جس وقت پولینڈ منگولوں کے وار سہہ رہا تھا ہنگری بھی نشانہ بنا ہوا تھا۔ 1241ء میں اس پر کثیر جہتی حملہ ہوا۔ ہنگری کی فوج نے بادشاہ بیلا چہارم کی قیادت میں کھلے علاقے میں مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ غالباً بادشاہ بیلا کے پاس اس وقت یورپ کی بہترین فوج تھی لیکن اسے داخلی مسائل کا سامنا تھا۔ 10-11 اپریل کو اسے جنگِ موہی میں شکست ہوئی۔ 1241 ء میں بڈا اور پسٹ دونوں روند ڈالے گئے۔ لیکن منگولوں کے لیے انعام گران تھا جو خطے کا سب سے بڑا اور امیر شہر تھا۔ یہ شہر بھی ان کے ہاتھ آیا۔ اس کے بعد منگول وینر نیوٹاٹ تک جا پہنچے۔ وہاں آسٹریا کے ڈیوک فریڈرک دوم کی قیادت میں موجود فوج نے منگولوں کو وقفہ لینے کی طرف مائل کیا۔ اس دوران ایک اور منگول فوج کروشیا میں بیلا کی جانب بڑھی اور راستے میں زغرب کو برباد کر ڈالا، اب یہ بوسنیا اور البانیہ کی طرف مڑی ۔ حملوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک خبر کے بعد منگول واپس ہوئے۔اس واپسی کا سبب دشمن سے مقابلہ یا شکست نہیں بلکہ اوغدائی خان کی موت تھی ۔ وہ 11 دسمبر 1241ء کو مرا اور اب روایت کے مطابق منگول قبائل کے ایک نئے خان کا انتخاب ہونا تھا۔ واپسی کی ایک اور وجہ شاید اپنے آبائی علاقے سے فاصلے کا بڑھنا تھا جس کے باعث اپنے مرکز سے ابلاغ مشکل تر ہو گیا۔ اوغدائی کی موت کے بعد مقامی رہنماؤں میں چپقلش کی فضا پھر قائم ہو گئی تھی اس لیے بھی مہم کا جاری رہنا دشوار تھا۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں