1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ملا نصیر الدین اور اسکے چٹکلے

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏25 اکتوبر 2008۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ملا نصیرالدین

    مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
    ان کے مزار کے لیے ایک دروازہ بنایا گیا اور بڑا سا تالا لگا کر اسے مضبوطی سے بند کر دیا گیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مزار کے چاروں طرف کی دیواریں غائب تھیں ، کیونکہ مُلا نے ایسا ہی چاہا تھا ۔ یہ ان کی زندگی کا آخری مذاق تھا ۔ 1907ء میں اس مزار کو دوبارہ تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے ۔

    ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی ایک دنیا آباد کیے ہوئے تھے ۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت دنیا ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔ تُرک انہیں ”حوجا“ یعنی استاد کے نام سے پکارتے ۔ ان سے وابستہ چند دلچسپ واقعات درج ذیل ہیں ۔

    * * * * * * *​
    ایک دن مُلا کو خیال آیا کہ ساری عمر گدھے کی سواری کی ہے کیوں نہ اب گدھے کو فروخت کر کے کوئی اچھی سی گھوڑی خریدی جائے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک گھوڑی کے مالک سے رابطہ کیا اور اس کی گھوڑی مول لینے کی بات کی ، گھوڑی کا مالک رضامند ہو گیا ۔ اب ملا نے سوچا کہ کثیر رقم خرچ کرنی ہے کیوں نے پہلے اس پر سواری کر کے تسلی کر لی جائے ۔ یوں وہ گھوڑی پر سوار ہو گئے ۔ اب گھوڑی نے جو برق رفتاری دکھائی تو ملا اسے سنبھال نہ سکے اور زمین پر آرہے ۔ لوگوں نے ملا سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آج تک گھوڑی پر سواری نہیں کی ۔ ملا نے جواب دیا ”اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔ میں تو آرام سے بیٹھا تھا ، یکایک کاٹھی سے آگے کھسک گیا ۔ پھر تھوڑی دور جا کر ایک شدید جھٹا لگا تو میں ذرا آگے گردن کے قریب چلا گیا ۔ لگام میرے ہاتھ میں تھی اور میں لمحہ بہ لمحہ آگے سِرکتا چلا جا رہا تھا ۔ رفتہ رفتہ میں گھوڑی کی گردن پر آگیا ۔ ابھی میں اپنے سرکنے کی وجہ پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میں نے محسوس کیا کہ گھوڑی کی لگام میرے ہاتھ میں ہے اور میں اس کےسر پر بیٹھا ہوں ۔ “
    ”اچھا پھر کیا ہوا“ ۔ لوگوں نے سوال کیا ۔
    ”ہونا کیا تھا ، اتنے میں گھوڑی ختم ہو گئی اور میں زمین پر آرہا“ ۔
    :hasna: :hasna: :hasna: :hasna:​
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ملا نصیر الدین کا گدھا

    مُلا نصیرالدین کا گدھا مر چکا تھا اور اس کے بغیر ان کی زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی تھی ۔ چنانچہ کئی مہینوں کی محنت و مشقت کے بعد کچھ رقم جمع کی اور ایک نیا گدھا خریدنے کی غرض سے بازار کا رخ کیا ۔ حسبِ منشا گدھا خریدا اور گھر کی راہ اس طرح لی کہ وہ گدھے کی رسی تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور گدھا ان کے پیچھے آرہا تھا ۔ راستے میں چند ٹھگ قسم کے لوگوں نے ملا کو گدھا لے جاتے ہوئے دیکھا تو وہ ان کے قریب ہو گئے ۔ ان میں سے ایک آدمی گدھے کے بالکل ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آہستہ سے گدھے کی گردن سے رسی نکال کر اپنی گردن میں ڈال دی اور گدھا اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیا ۔ جب ملا اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے اور مڑ کے پیچھے جو دیکھا تو چار ٹانگوں والے گدھے کی بجائے دو ٹانگوں والا گدھا نظر آیا ۔ یہ دیکھ کر ملا سخت حیران ہوئے اور کہنے لگے ”سبحان اللہ! میں نے تو گدھا خریدا تھا یہ انسان کیسے بن گیا؟“ ۔
    یہ سن کر وہ ٹھگ بولا
    ”آقائے من! میں اپنی ماں کا ادب نہیں کرتا تھا اور ہر وقت ان کے درپے آزار رہتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بددعا دی کہ تو گدھا بن جائے ۔ چنانچہ میں انسان سے گدھا بن گیا تو میری ماں نے مجھے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا ۔ کئی سال سے میں گدھے کی زندگی بسر کر رہا تھا ۔ آج خوش قسمتی سے آپ نے مجھے خرید لیا اور آپ کی روحانیت کی برکت سے میں دوبارہ آدمی بن گیا۔“ یہ کہہ کر اس نے ملا کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور بہت عقیدت کا اظہار کیا ۔
    ملا کو یہ بات بہت پسند آئی ۔ وفورِ مسرت میں نصیحت فرماتے ہوئے کہنے لگے ” اچھا اب جاؤ اور اپنی ماں کی خدمت کرو ۔ کبھی اس کے ساتھ گستاخی نہ کرنا “ ۔
    ٹھگ ملا کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو گیا ۔ دوسرے دن ملا نے کسی سے کچھ رقم ادھا لی اور پھر گدھا خریدنے بازار میں پہنچ گئے ۔ ان کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ وہی گدھا ایک جگہ بندھا کھڑا ہے جو انہوں نے کل خریدا تھا ۔ چنانچہ وہ اس گدھے کے قریب گئے اور اس کے کان میں کہنے لگے ” لگتا ہے تم نے میری نصیحت پر عمل نہیں کیا اس لیے پھر گدھے بن گئے ہو “ ۔
     
  3. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    خوب اچھی شئیرنگ ھے
     
  4. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ۔
    ۔
    دلچسپ !!!
    ۔
    ۔
    شکریہ۔
     
  5. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    نعیم بھائی ،!!!!!!
    بہت ھی زبردست آپکی شئیربگ ھے، مجھے بچپن میں ایسی ھی کہانیاں بہت پسند تھیں، اور والد صاحب اکثر ایسی ھی کہانیاں بہت سنایا کرتے تھے، خاص کر مجھے شیخ چلی اور ملا دو پیازہ اور بیربل کی کہانیاں بھی بہت ھی زیادہ پسند تھیں،!!!!!

    خوش رھین،!!!!!
     
  6. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    وہ ادبی زمانہ تھا سید جی
     
  7. زرداری
    آف لائن

    زرداری ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اکتوبر 2008
    پیغامات:
    263
    موصول پسندیدگیاں:
    12
    پیارے ہم وطنو !!
    قدیم ادب کو زندہ رکھنے پر مابدولت سب کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ :dilphool:
     
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    پسندیدگی کا شکریہ :dilphool:
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    نادر خان سرگروہ بھائی ۔ پسندیدگی کا شکریہ
    آپ جیسے صاحبانِ فن و ادب کی حوصلہ افزائی اعزاز سے کم نہیں ہوتی :dilphool:
     
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ سید بھائی ۔ واقعی ان کہانیوں اور چٹکلوں کے اندر بھی تہذیب، تمدن، اخلاقی رکھ رکھاؤ کی جھلک نظر آتی تھی۔
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    خوشی صاحبہ ۔ آپ کی بات نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آج ہم لوگوں کی وجہ سے
    " وہ ادبی زمانہ " نہیں رہا۔
    اسکا مطلب قصور ہمارا اپنا ہوا۔
    اگر آج بھی ہم تہذیب، تمدن، ادب و اخلاق، شائستگی ، تحمل و بردباری جیسی خصوصیات اپنے اندر پیدا کرلیں
    تو اسی ادبی زمانے کی یاد تازہ ہوسکتی ہے۔
    اور اس " ہم " کا آغاز سب سے پہلے خود اپنی ذات سے ہوتا ہے۔
    اسلیے سب سے پہلے تو خود مجھی کو سنورنا چاہیے۔
     
  12. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    جی بہت سچی اور اچھی بات کی ھے آپ نے :mashallah:
    اللہ تعالی ہم سب کو اپنے آپ کو سنوارنے کی صلاحیت سے نوازے
     
  13. طارق راحیل
    آف لائن

    طارق راحیل ممبر

    شمولیت:
    ‏18 ستمبر 2007
    پیغامات:
    413
    موصول پسندیدگیاں:
    14
    ملک کا جھنڈا:
    بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  14. عامررشید
    آف لائن

    عامررشید ممبر

    شمولیت:
    ‏13 دسمبر 2008
    پیغامات:
    8
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ایک بار مئلا نصیرالدین کو عدالت کا قاذی بنا دیا گیا
    آپ کے پاس چوری کا ایک مقدمھ آیا
    چور نے کہا جناب میں نے چوری نہیں کی
    مئلا نے کہا بات تو تمہاری ٹھیک لگتی ھے
    مدعی بولا جناب یہ جھوٹ بولتا ھے
    مئلا بولے تمہاری بات میں بھی وزن ھے
    وکیل بولا جناب کسی ایک کی بات درست ھے
    آپ بولے بات تمہاری بھی ٹھیک ھے :nose:
     
  15. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    :201: :201: :201: :201: :201:
    بات آپ کی بھی ٹھیک ھے :201: :201: :201:
     
  16. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    عامر رشید بھائی ۔ :201: شئیرنگ کا شکریہ :201:

    آتے رہا کریں :dilphool:
     
  17. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    :201: بہت مزیدار حکایت ہے۔ :201:
     
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ :a191:
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ملا نصير الدين اور مرغی

    ايک دفعہ ملا نصير الدين نے ديکھا کہ بازار میں ايک جگہ بھيڑ لگي ہوئي ہے اور طوطے کا مول تول ہورہا ہے۔ ديکھتے ہي ديکھتے وہ طوطا مہنگے داموں فروخت ہوگيا سمجھ لیں آج کے زمانے کے حساب سے کوئي پانچ ہزار روپے ميں۔
    ملا نے جانوروں اور پرندوں کي يہ آؤ بھگت ديکھي تو دوسرے دن اپني مرغي لے کر اسی بازار میں جا کھڑے ہوۓ ۔کسي نے ان کي مرغي کي قيمت سو سوا سو سے زيادہ نہ لگائي۔ ملا ناراض ہوۓ ۔ بلند آواز میں کہنے لگے : " کل ايک معمولي قدروقيمت اور ہلکے وزن کا طوطا ميري مرغي سے کئی گنا زيادہ قيمت ميں خريدا گيا اور ميري مرغي کي يہ بے توقيري؟ "

    کسي نے کہا “ملا جي وہ طوطا بولتا تھا”
    ملا جي نے جھٹ جواب دیا ” تو کيا ہوا ۔ ميري مرغي کی خوبی یہ ہے کہ یہ سوچتي ہے؟” :soch:
     
  20. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    :hasna: بہت خوب ۔ مزیدار حکایت ہے :hasna:
     
  21. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ایک دفعہ ملا نصیر الدین اخروٹ کے درخت کے پاس سے گذرے، اخروٹ کھانے کی دل میں آئی ۔
    درخت پر ایک اخروٹ کا نشانہ لے کر پتھر مارا، پتھر اخروٹ کو لگا ، وہ ٹوٹا لیکن اچٹ کر غائب ہوگیا۔۔

    ملا نے فوراً کہا:
    ”سبحان اﷲ! ہر چیز موت سے بھاگتی ہے۔“
     
  22. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    ملا نصیرالدین خود کافی وجیہہ و شکیل تھے جبکہ انکی بیوی خوبصورت نہ تھی ۔
    ایک روز بیوی کو غور سے دیکھ کر ملا کہنے لگے :
    "بیگم " تم بھی جنتی ہو اور میں بھی جنتی ۔ "
    بیوی نے پوچھا " یہ اندازہ کیسے لگایا ؟‌"
    ملا نصیر الدین بولے
    " اس لیے کہ جب تم مجھے دیکھتی ہو تو اﷲ کا شکر ادا کرتی ہو جب میں تمہیں دیکھتا ہوں تو صبر کرتا ہوں "
     
  23. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    :mashallah: :mashallah: :mashallah: کیا جوڑی ھے
     
  24. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب نعیم بھائی، !!!!!!!! :a180: :a180: :a180: :a165: :a165: :a165:
    واقعی،!!!!!! کیا خوب،!!!!! دونوں میاں بیوی نے کس طرح آپس میں صبر و شکر کا اہتمام کیا ھوا تھا،!!!!!
     
  25. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    خوشی جی اور سید بھائی ۔
    پسندیدگی کا شکریہ ۔ :dilphool:
     
  26. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    :hasna: ملا ہی کیا ۔ آج بھی معاشرے میں ایسے " صبر و شکر " کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ :hasna:
     
  27. راشد احمد
    آف لائن

    راشد احمد ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جنوری 2009
    پیغامات:
    2,457
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    بہت خوب نعیم بھائی :hasna: :hasna:
     
  28. نیلو
    آف لائن

    نیلو ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اپریل 2009
    پیغامات:
    1,399
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    :hasna: :happy: بہت اچھا ہے :happy: :hasna:
     
  29. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    :hasna: ملا ہی کیا ۔ آج بھی معاشرے میں ایسے " صبر و شکر " کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ :hasna:[/quote:277jtjnc]



    ہاہاہاہاہاہا خوب نور بہنا
     
  30. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    نور العین بہن، راشد بھائی ۔ نیلو صاحبہ اور خوشی صاحبہ ۔
    :a191: پسندیدگی کا شکریہ ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں