1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا مستعفی ہونے کا اعلان

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏20 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,765
    موصول پسندیدگیاں:
    541
    ملک کا جھنڈا:
    ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا مستعفی ہونے کا اعلان
    mahatir.jpg
    کوالا لمپور: (ویب ڈیسک) ملائیشیا کے 94 سالہ وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی صدارتی کونسل میں اقتدار کے تبادلے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو، وہ نومبر میں اہم ترین ایشیا پیسیفک اکنامک کارپوریشن سمٹ سے پہلے کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا میں حکمراں اتحادی جماعت ’پاکاتان ہاراپان‘ کی صدارتی کونسل میں 21 فروری کو ہونے والے اہم اجلاس میں ملک میں اقتدار کے تبادلے کے حوالے سے غور و خوص کیا جائے گا۔

    سٹریٹ ٹائمز کے مطابق مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ کسی بھی وقت اپنا اقتدار منتقل کرنے کو تیار ہیں تاہم استعفیٰ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون اجلاس کے بعد ہی دوں گا، یہ فیصلہ عوامی انصاف پارٹی کے چیئرمین انور ابراہیم سے مشورہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

    مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ عہدہ ترک کرنے کا میرا یہ فیصلہ پرانا ہے جس کا ماضی میں تذکرہ کر چکا ہوں ، مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں اپنے تیئں جو بھی فیصلہ کریں مگر میں اپیک اجلاس کے بعد ہی مستعفی ہوں گا۔

    سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو شکست دینے کیلیے بنائے گئے انتخابی اتحاد نے فیصلہ کیا تھا کہ کامیابی کی صورت میں وزیراعظم کے عہدے پرآدھی مدت کیلیے مہاتیر محمد اور پھر بقیہ مدت کیلیے انور ابراہیم کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔

    انور ابراہیم انتخابات کے موقع پر جیل میں اسیر تھے اس لیے پہلے مہاتیر محمد کو یہ عہدہ دیا گیا جب کہ ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ انور ابراہیم کی اہلیہ کو دیا گیا۔ انور ابراہیم نے آدھی مدت کے لیے وزیراعظم بنائے جانے کی شرط پر جیل میں رہتے ہوئے انتخابی مہم چلائی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔

    انور ابراہیم کے حامی ارکان مہاتیر محمد پر اپریل 2020 کو وزیراعظم کی مدت کے دو سال پورے ہونے پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں تاہم مہاتیر محمد نے دباؤ کو مسترد کردیا جس پر 21 فروری کو صدارتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

    قبل ازیں انور ابراہیم 1993 سے 1998 کے درمیان ڈپٹی وزیراعظم کی ذمہ داری نبھاتے رہے ہیں جب کہ مہاتیر محمد اس وقت وزیراعظم تھے تاہم بعد میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس پر وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے ڈپٹی انور ابراہیم کو معزول کرکے جیل بھیج دیا تھا۔

    انور ابراہیم 2004 میں رہا ہوئے اور اپنی سیاسی جماعت کو منظم کرتے رہے جب کہ مہاتیر محمد گوشہ نشین ہوگئے۔ اس دوران انور ابراہیم اپوزیشن لیڈر کے طور پر متحرک کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ بعد ازاں 2015 میں انور ابراہیم کو ہم جنس پرستی کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    گزشتہ انتخابات کے موقع پر 2018 میں انور ابراہیم نے جیل ہی سے مہاتیر محمد سے رابطہ کیا اور انہیں انتخابی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے راضی کرلیا تاہم شرط یہ تھی کہ کامیابی صورت میں مہاتیر محمد آدھی مدت کے لیے وزیراعظم بنیں گے جب کہ اس دوران ڈپٹی وزیراعظم انور ابراہیم کی اہلیہ ہوں گی۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد سلطان نے انور ابراہیم کی باقی سزا کو معاف کردیا تھا۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں