1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

معراج النبی (ص) پر اعتراضات کا علمی محاکمہ

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از برادر, ‏2 اگست 2007۔

  1. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    معراج النبی (ص) : اعتراضات کا علمی محاکمہ
    خطاب : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
    ترتیب و تدوین : محمد یوسف منہاجین​


    یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ معجزہ معراج اتنا محیر العقول ہے کہ اس کا کوئی پہلو حیطہ ادراک میں نہیں آسکتا اور یہاں عقل کو اظہارِ عجز کے سوا کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

    واقعہ معراج کی تفصیلات ہزارہا کتبِ حدیث وسیر میں بکھری پڑی ہیں اور جب تک دقت نظر سے ان کا مطالعہ نہ کیا جائے حقیقت معراج کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ومحال ہے یہاں ہم ان شبہات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیں گے جو کم علمی اور قلت مطالعہ کی بنا پر واقعہ معراج کے بارے میں بعض لوگوں کے ذہنوں میں وارد ہوتے ہیں۔ ان شبہات کا علمی جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایمان وایقان کی روشنی غبار تشکیک کی ردائے بے شعور کی دستبرد سے محفوظ رہے۔

    پہلا شبہ : معراج جسمانی یا روحانی؟

    سب سے بڑا شبہ نفسِ معراج کے بارے میں اکثر لوگوں کو اس امر میں ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معراج جسمانی تھا یا روحانی اور مقامی تھا۔ دوسرے لفظوں میں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسم اطہر کے ساتھ عالمِ آب وگل سے عالم افلاک میں تشریف لے گئے تھے یا محض خواب کی حالت میں روحانی طور پر معراج ہوئی؟ یہ شبہ اس لئے ہوا کہ لوگوں نے قرآن وحدیث میں درج کردہ واقعہ معراج کی تفصیلات پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنی محدود اور ناقص عقل وفہم کی کسوٹی پر اسے پرکھنے کی کوشش کی اور چونکہ ان کے وضع کردہ عقل وفہم کے پیمانوں پر اس کی تفصیلات پوری نہ اترتی تھیں اس لئے ان کا ذہن معراجِ جسمانی کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے لگا اور انہوں نے اس واقعہ کو روحانی اور مقامی معراج سے تعبیر کر کے اس حقیقت سے صرف نظر کر لیا کہ معجزہ تو وہ خرق عادت واقعہ ہوتا ہے جس کی عقلی توجیہہ سرے سے ناممکن ہو اور واقعہ معراج وہ عظیم ترین معجزہ ہے عقل جس کا ادراک کرنے سے یکسر قاصر ہے۔

    جسمانی معراج کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ حالت خواب کی واردات ہوتی تو کفارو مشرکین مکہ اسے ماننے سے کبھی پس وپیش نہ کرتے۔ ان کا تو انکار ہی اس بنا پر تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے جسم اطہر کے ساتھ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور افلاک پر جانا ان کی عقل وفہم سے بالا تر تھا۔ خوابی کیفیات پر انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔

    دوسرا شبہ : انتہائے سفر معراج؟

    معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دوسرا شبہ لوگوں کو اس بارے میں ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منتہائے سفر کیا تھا؟ کسی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان تک پہنچ کر واپس لوٹ آئے، بعض کے نزدیک آپ سدرۃ المنتھیٰ تک گئے اور بعض نے آپ کا عرش معلٰے اور اس سے ماوراء عالم لامکاں تک عروج اور ذات خداوندی کے بے حجاب دیدار کو تسلیم کیا ہے۔ اس اختلاف اور شبے کی ایک وجہ بادی النظر میں یہ ہے کہ اس واقعہ کو قرآن حکیم اور احادیث میں کہیں اجمال اور کہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ قرآنی اسلوب رمز وایما اور پیرایہ بیان صراحت کی بجائے کنایہ کا انداز لئے ہوئے ہے۔ اس کی شرح تفسیر کی ہزارہا کتب میں ہے جس تک رسائی کے لئے ورق گردانی اور دیدہ ریزی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔

    واقعہ معراج کے تذکرے میں کہیں حقیقت اور کہیں مجاز کا رنگ جھلکتا ہے۔ اس بارے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ احکام ہمیشہ عبارت النص سے ہی مستنبط نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کے اخذ کرنے کے مختلف اسالیب ہیں جن کو قرآن وسنت پر گہری نظر رکھے بغیر سمجھنا از بس مشکل ہے۔ اس کے نتیجے میں شبہات کا وارد ہونا کوئی بعید از فہم بات نہیں۔

    تیسرا شبہ : معراج کی غرض و غایت

    واقعہ معراج کی تفہیم میں تیسرا شبہ بعض اہل علم کو یہ وارد ہوا کہ معراج کی غرض وغایت کیا تھی؟ اور اس کے پیچھے کون سے مقاصد کار فرما تھے؟ اس سلسلے میں اربابِ فکر و نظر کے درمیان خاصہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ معراج کی شب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس ہستی کے دیدار سے شاد کام ہو کر دنیائے ارضی کی طرف لوٹے؟ کسی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سدرۃ المنتھی پر جبرئیل کو اپنی اصل شکل وصورت میں دیکھا۔ بعض کے نزدیک معراج کا مقصد ذات باری تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ اور اس کا بے حجاب دیدار تھا۔ ان تین شبہات اور اختلافی نقطہ ہائے نظر پر ہم مختصراً گفتگو کریں گے تاکہ واقعہ معراج کی عظمت کے صحیح خدوخال اجاگر ہو سکیں۔

    امر واقع یہ ہے کہ انسانی عقل وشعور کے ارتقاء اور سائنسی ایجادات وانکشافات کے نتیجے میں جن علمی، استخراجی اور استقرائی رویوں نے جنم لیا ہے ان سے واقعات معراج کے زمانی ومکانی پہلوؤں کو سمجھنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے اور جوں جوں علم و دانش کی روشنی پھیلے گی قلوب و اذہان پر واقعہ معراج کی حقیقت اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ آشکار ہوتی جائے گی۔

    تفسیر وحدیث کی چند کتابوں کے مطالعہ پر اکتفا کر لینے سے معراج کی حقیقت کو سمجھ لینے کا دعویٰ خام خیالی ہے اس کی تفصیلات کے لئے بیسیوں کتابوں کو کھنگالنا پڑے گا۔ قلتِ مطالعہ کی بنا پر واقعہ معراج کی عظمت کو جھٹلانا انصاف و دانشمندی کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    آیات معراج کی تفسیر و توضیح​


    قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! سفر معراج کے دوران ماضل صاحبکم وما غوی تمہارے آقا و مولا نہ بہکے اور نہ بھٹکے ہی بلکہ سارے سفر کو بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ طے کیا جیسے پہلے ہی تمام مراحل و مدارجِ سفر سے آگاہ ہوں۔ پھر ارشاد فرمایا وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْھَوَى وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی خواہش سے کچھ بولتا ہی نہیں بلکہ اس کی ہر بات سراسر وحی الٰہی ہوتی ہے۔ مزید ارشاد ہوا علمہ شدید القوی اس نے علم سیکھنے کے لئے کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا بلکہ اس نے علم زبردست قوت رکھنے والے رب سے حاصل کیا۔ اسے علم اور اسرار الٰہیہ کے تمام خزانے براہ راست عطا کئے گئے۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بلندی اور علو مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وھو بالافق الاعلی وہ بلندیوں کی انتہا پر تھا۔ جس کے آگے کوئی کنارہ اور حد نہیں۔ جب خدا کی ذات اپنی صفاتی تجلیات کے ساتھ اس کے قریب آئی تو ثم دنی ارشاد ہوا اور پھر اس سے زیادہ قرب کو فتدلی کہہ کر ظاہر کیا۔ پھر ارشاد ہوا فکان قاب قوسین او ادنی یعنی پھر وہ اتنا قریب ہوا کہ دونوں کے درمیان دو کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ قرب ووصال کی اس انتہائی منزل پر دونوں کی ملاقات ہوئی اور قرب کی اس انتہا کو پہنچ کر فاوحی الی عبدہ مااوحی اپنے خاص بندے کی طرف وحی کی جو کی۔ اس کی خبر وحی کرنے والے کو ہے یا اسے ہے جسے وحی کی گئی کسی اور کو اس کی کوئی خبر نہیں کہ رازو نیاز کی باتوں میں محب اور محبوب کے سوا کوئی تیسرا شامل نہ تھا۔ پھر فرمایا مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاَى اس رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ بچشم سر دیکھا دل نے اس کے کو نہیں جھٹلایا یعنی دیدار خداوندی کے معاملے میں آنکھ نے جو کچھ دیکھا دل نے اس دیکھنے کی تصدیق کی اور ان کے بارے میں جو روایت میں جھگڑا کرتے ہیں، وعید فرمائی گئی کہ اَفَتُمَارُونَاُ عَلَى مَا يَرَى تم اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ اس نے کس کا دیدار کیا۔ پھر دیکھنا صرف ایک بار نہ تھا وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرَى اس نے دوسری مرتبہ اسے دیکھا۔ یہ دیکھنا ایسا ہی تھا جیسے دم رخصت بچھڑنے سے پہلے کوئی محبوب کو مڑمڑ کر دیکھتا ہے اور یہ دیکھنا عِندَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوَى سدرہ المنتھیٰ کے قریب تھا۔ پہلی مرتبہ جلوہ محبوب قاب قوسین پر دیکھا اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتھی پرجس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جب منظر یہ تھا کہ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَۃَ مَا يَغْشَى سدرہ کو ڈھانپنے والی چیزوں نے ڈھانپ لیا تھا۔ گویا فرشتوں کا انبوہ کثیر سدرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى یہ دیکھنا ایسا تھا کہ نہ اس کی آنکھ بھٹکی نہ جھپکی نہ حد سے بڑھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  2. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    واقعہ معراج کو کم وبیش اٹھائیس صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور بعض کے نزدیک چونتیس نے روایت کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی حافظ ابن کثیر رضی اللہ عنہ نے اپنی تفسیر میں رقم کئے ہیں۔ مختلف علماء تفسیر نے ان راویان معراج کی تائید کی ہے وہ خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہوں نے واقعہ معراج خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ فیضِ ترجمان سے سنا ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔

    اختلاف روایات کا سبب

    واقعہ معراج کی روایات میں اختلاف کی توجیہہ ایک مثال پر غور کرنے سے بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ وہ یوں کہ فرض کیجئے ایک سیاح جہاں گرد اطراف واکناف عالم میں گھوم پھر کر وطن واپس لوٹا ہے۔ جس کے دوران قدرتی مناظر کے علاوہ اس نے کارخانوں، ملوں، سرکاری دفاتر، تعلیمی درس گاہوں غرضیکہ زندگی کے مختلف النوع شعبوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ اس عالمی مطالعاتی دورے (Study Tour) کے بعد کیا آپ اس سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے ہر ملنے والے سے اپنے دورے کی جملہ تفصیلات من وعن بیان کر دے گا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں بلکہ وہ ہر ایک سے اس کے ذوق، علمی استعداد اور سوجھ بوجھ کے مطابق بات کرے گا۔ اگر وہ کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتا ہے جسے کسی ملک کی صنعتی ترقی میں دلچسپی ہے تو اس سے بات چیت میں وہ اس ملک کے کارخانوں، فیکٹریوں اور صنعتی، یونٹوں مزدوروں اور ان کے مسائل کا ذکر تفصیل سے کرے گا اور دوسری بہت سی باتیں جو غیر متعلقہ ہوں گی نظر انداز کر دے گا۔ اسی طرح ایک ماہر تعلیم تعلیمی درس گاہوں، لائبریریوں اور مختلف شعبہ ہائے تعلیم کے اساتذہ کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ کسی ڈاکٹر سے بات چیت میں وہ وہاں کی ڈسپنسریوں، ہسپتالوں اور مروجہ طریقہ ہائے علاج کا ذکر کرے گا اور دیگر غیر ضروری باتوں کے تذکرے سے اجتناب کرے گا۔ الغرض ہر ایک سے اس کی گفتگو کا دائرہ اس کے ذوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلتا رہے گا اور ہر مجلس میں وہ کوئی نئی سے نئی بات کا تذکرہ کرے گا۔ چنانچہ اگر مختلف افراد اس سے مختلف موضوعات پر انٹرویو کریں تو ان کی بیان کردہ بہت سی باتوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں۔ ہر ایک اپنی عقل اور سوجھ بوجھ کے مطابق واقعات اس سے منسوب کرے گا اور ان میں اختلاف کا در آنا کوئی غیر فطری بات نہ ہو گی۔

    اس فرضی تمثیل سے واقعہ معراج کے بارے میں جو اختلاف بادی النظر میں دکھائی دیتے ہیں ان کی حقیقت غور کرنے سے عیاں ہو جائے گی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعہ معراج کی تفصیلات بیسیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بیان فرمائیں۔ کفار مکہ کو بھی اس واقعہ سے آگاہ کیا گیا لیکن انداز بیان اور تفصیلات کی نوعیت موقع محل کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے۔ کفار و مشرکین سے واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے ان سے بیت المقدس کے سفر کی جزئیات بیان کر دی جاتیں اور مالاء الاعلی اور دیگر آسمانی مشاہدات کو عمداً نہ بیان کیا جاتا۔ عام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے معراج کی تفصیلات ان کی ذہنی استعداد کو پیش نظر رکھ کر بیان کی جاتیں لیکن اگر ذکر معراج چہار یار سے چھڑ جاتا تو انہیں بہت سی ایسی راز ونیاز کی باتوں سے آگاہ کر دیا جاتا جو سر مجلس نہ کی جاتیں۔ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات تھی کہ کسی کو پہلے آسمان اور کسی کو ساتوں آسمان کی باتیں بتا دی جاتیں۔ بعض شناسائے حریمِ نبوت ایسے بھی تھے جنہیں سدرۃ المنتھیٰ اور قاب قوسین کے اسرار ورموز سے بھی آگاہ کر دیا جاتا۔ اس سے مترشح ہوا کہ نکات معراج ہرایک کی اقتضائے طبیعت کو دیکھ کر بیان کئے جاتے تھے۔

    دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر​

    اسی طرح واقعہ معراج کی تفصیلات بیان کرنے والے راویوں نے اپنے اپنے فہم اور نقطہ نگاہ سے واقعہ معراج کو روایت کیا۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ معراج کی کڑیاں کبھی تو ایک دوسرے سے ملتی نظر آتی ہیں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا چکا ہے یہ اس لئے ہے کہ ہمارا علم محدود اور غیر مکمل ہے۔ مختلف احادیث کو ایک دوسرے سے متعارض قرار دینے والے کسی نام نہاد تضاد کو رفع کرنے کی سعی نامشکور میں اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ واقعہ معراج کی عظمت ہی مجروح ہو کر رہ جاتی ہے۔


    سفر معراج رب کائنات کی قدرت کاملہ کا مظہر​


    معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔ قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ پر اِستعجاب کیسا؟

    واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ذات کو ہر کمزوری، عیب اور سقم سے پاک قرار دے کر معراج کو اپنی طاقت اور قدرت کاملہ سے منسوب کر رہا ہے لہٰذا یہ بحث کہ رؤیت باری تعالیٰ کس طرح ممکن ہے خود خالقِ مطلق کی قدرت و اختیار کے دائرے کو زیر بحث لانے کے مترادف ہو گا لیکن خدا کی قدرت و طاقت کا اندازہ انسان کے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ اگر واقعہ معراج کی صحت کی کسوٹی انسان کی طاقت و قدرت ہو تو پھر یہ سارا معاملہ انسان کی دسترس اور دائرہ اختیار سے باہر ہے لیکن جہاں خدا کی قدرت اور اختیار کی بات آ جائے تو پھر اس واقعہ کی مختلف جہتوں سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

    قرآن و حدیث کی روایات کی من مانی تاویل سے واقعہ معراج کی عظمت سے روگردانی کا پہلو نکلتا ہے۔ معجزہ معراج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے سے ممکن و ناممکن کی لایعنی بحث کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ پھر بیت المقدس کے سفر، آسمانوں اور عالمِ اُخروی کے مشاہدات کی عقلی توجیہہ ذہن میں ان گنت سوال چھوڑ جاتی ہے۔ معجزہ تو ہے ہی وہ خرق عادت واقعہ جو عقل میں نہ آ سکے۔ اسے دلیل نبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بنابریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزے کا انکار سارے معجزات کا انکار اور خود رسالت کا انکار سمجھا جائے گا۔

    رؤیتِ باری پر متفق علیہ حدیث​


    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

    انکم سترون ربکم عيانا۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم 6998)

    ’’بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے،،۔

    حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا :

    انکم سترون ربکم يوم القيامۃ کما ترون القمر ھذا. ( سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنۃ، رقم : 4729)

    ’’تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو،،۔

    اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشادات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بمطابق ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کے لئے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا۔

    دولتِ دیدارِ الٰہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے مختص تھی​


    یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجہ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا۔

    امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے۔

    ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىO فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنَىO (النجم، 53 : 8 - 9)

    ’’پھر قریب ہوا (اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) پھر زیادہ قریب ہوا (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے) تو دو کمانوں کی مقدار (نزدیک) ہوئے بلکہ اس سے (بھی) زیادہ قریب،،۔

    ارشاد ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں۔ اس کے بعد فرمایا۔

    مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاَىO (النجم، 53 : 11)

    ’’قلب مبارک نے اس کے خلاف نہ کہا جو (چشم اقدس نے) دیکھا،، o

    قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  3. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    قرآن میں دیدارِ الہی کا تذکرہ

    قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا۔

    اَفَتُمَارُونَہُ عَلَى مَا يَرَىO (النجم، 53 : 12)

    ’’کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا،، o

    سرور دوجہاں، ہادی انس و جاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرَىO (النجم، 53 : 13)

    ’’اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوہ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)o،،

    بارگاہِ خداوندی میں مسلسل حاضری​


    جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک سے وصال و دیدار کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد سفلی دنیا کی طرف لوٹے تو اللہ جل مجدہ کی طرف سے امت کے لئے پچاس نمازوں اور چھ ماہ کے روزوں کا تحفہ لائے۔ راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ان کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صورتحال سے مطلع فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصرار کر کے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار رب تعالیٰ کے ہاں بھیجتے رہے یہاں تک کہ آپ نے 9 مرتبہ ذات باری تعالیٰ سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تخفیف فرما کر پانچ نمازیں اور ایک ماہ کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید تخفیف کے بارے میں اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب دسویں مرتبہ رب کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو مرتبہ دیدار اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مبارک جو دیدارِ الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئیں، کائنات سماوی کا ایک ایک نقش جن میں ثبت ہے، کتاب زندگی کے سرورق کا وہ جلی عنوان ہے جو ان گنت کائناتی سچائیوں کے انکشاف کا نقیب ہے، انہیں چشمان مبارک کے تصدق میں کائنات رنگ و بو میں رعنائیوں کے جھرمٹ اترتے ہیں، انہی چشمان مقدس میں موسیٰ علیہ السلام کی آرزو، انوار و تجلیات الہٰیہ کی صورت میں جاگزیں ہے اور یہی چشمان مقدس سدرۃ المنتہیٰ کے جمال کی عینی شاہد ہیں۔

    کلام ربانی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے حوصلے، اعتماد، ہمت اور عزم و یقین کے باعث اس ارشاد ربانی کا مصداق ٹھہریں۔

    مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىO (النجم، 53 : 17)

    اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)o

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بصارت اس درجہ طاقت و وسعت کی حامل تھی کہ شب معراج مشاہدہ حق کے وقت اس میں نہ صرف اضمحلال واقع نہ ہوا بلکہ وہ کمال ہوش کے ساتھ مشاہدہ جمال میں محو رہی۔

    حضرت سہل بن عبداللہ التستری رضی اللہ عنہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

    شاھد نفسہ والی مشاھدتھا و انما کان مشاھدا ربہ تعالی بشاھد ما يظہر عليہ من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل. (روح المعانی، 27 : 54)

    اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے۔

    اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تجلی الہٰی کی ایک جھلک بھی برداشت نہ کر سکے اور صفاتی تجلی کی انعکاسی شعاع کے اثر سے آپ علیہ السلام کا خرمن ہوش جل گیا۔

    کسی صاحب نظر نے بصارت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بصارت موسیٰ علیہ السلام سے کیا خوبصورت موازنہ کیا ہے۔

    موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات
    تو عین ذات می نگری در تبسمی​

    قرآن آگے چل کر رؤیت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر بایں الفاظ کرتا ہے۔

    لَقَدْ رَاَى مِنْ آيَاتِ رَبِّہِ الْكُبْرَىO (النجم، 53 : 18)

    بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیںo

    حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشمان مقدس نے اللہ رب العزت کا بے حجاب نظارہ کیا۔ اب اس کے بعد وہ کونسی چیز ہو گی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم بینا سے پوشیدہ رہی ہو گی۔ یہی چشم بینا کائنات کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ماضی، حال کے علاوہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات اور تغیرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک پر روز روشن کی طرح واضح اور نمایاں تھے۔

    قلبِ مصطفی (ص) نے تجلیاتِ الہٰیہ کی تصدیق کی​


    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے :

    مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاَىO (النجم، 53 : 11)

    ’’(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھاo،، o

    سفرِ مراجعت


    معراج سے واپسی کا سفر براق پر طے ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی راہ سے حرم کعبہ میں تشریف لائے۔ رات کی وہی تاریکی تھی جب آپ بستر پر محو استراحت ہوئے۔ وہ ایک لمحہ جو کائنات ارضی و سماوی کی زمانی و مکانی وسعتوں کو محیط تھا اپنے دامن میں معراج کی عظمتوں اور رفعتوں کو سمیٹے ہوئے تھا۔

    سفر معراج پر روانہ ہونا بھی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے اور سفر معراج سے مراجعت یعنی اس کرہ ارضی کی طرف واپسی بھی شوکت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظہر ہے۔ جن عجائبات کا آپ نے اس سفر میں مشاہدہ کیا وہ بھی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے تھے۔ سفر معراج سے عروج آدم خاکی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ علوم جدیدہ نے جن کائناتی سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے ان میں سفر معراج بھی شامل ہے۔ اگر تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے کہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مقدسہ کی تلاش ہی جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد ہے۔ دنیا اس حقیقت کا بلاواسطہ اعتراف نہیں کرے گی کہ آج کا انسان اپنی تمام آزاد خیالی کے سفلی اور علاقائی تعصبات سے دامن نہیں چھڑا سکا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی اور انسانی بنیادوں پر جس وسیع معاشرے کی بنیاد رکھی تھی دنیا شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر ان اہداف کے حصول کے لئے مصروف عمل ہے۔ اگر سفر معراج کو جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم معجزہ کے محض ایک پہلو کا اعتراف ہو گا لیکن جوں جوں سائنس ترقی کرے گی ذہن انسانی میں تحقیق و جستجو کے نئے نئے دروازے کھلیں گے توں توں سفر معراج کے حوالے سے ان گنت کائناتی پیچیدگیاں خودبخود حل ہوتی جائیں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ زندہ معجزہ اللہ رب العزت کی قدرت مطلقہ کا مظہر بن کر شاہراہ حیات کا وہ سنگ میل ثابت ہو گا کہ جسے بوسہ دیئے بغیر ارتقاء کے سفر پر روانہ ہونے والا انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے گا۔ سفر معراج عروج آدم خاکی کا وہ دروازہ ہے جس میں داخل ہوئے بغیر انسان پتھر اور دھات کے زمانے کی طرف تو لوٹ سکتا ہے ارتقاء کی سیڑھی کے پہلے زینے پر بھی قدم نہیں رکھ سکتا۔



    وما علینا الا البلغ المبین​
     
  4. پیاجی
    آف لائن

    پیاجی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2006
    پیغامات:
    1,094
    موصول پسندیدگیاں:
    19
    محترم برادر صاحب، بہت ہی پیارا مضمون پوسٹ کیا ہے آپ نے ہماری اردو کے صارفین کے لئے۔ جن لوگوں کو معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے غلط فہمیاں ہیں یقینا وہ دور ہوجائیں گی۔
     
  5. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    برادر صاحب! آپ نے بہت ہی پیارا مضمون ارسال کِیا۔

    سبحان اللہ و جزاک اللہ
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاءاللہ برادر بھائی ۔ رجب المرجب کے مہینہ میں معراج النبی :saw: کی نسبت سے ایسا ایمان افروز مضمون ارسال کرنے پر بہت بہت مبارکباد قبول فرمائیں۔

    اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی اکرم :saw: کے ساتھ نسبتِ حُبی اور نسبتِ غلامی عطا فرمائے۔ آمین
     
  7. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    ماشاءاللہ برادر صاحب ۔ بہت عمدہ مضمون ہے
     
  8. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    سبحان اللٌہ، برادر بھائی،!!! کیا خوبصورت تحریر ھے
     
  9. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    سبحان اللہ ۔ جزاک اللہ برادر بھائی ۔ کیا ایمان افروز تحریر ہے۔ ماشاءاللہ
     
  10. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    برادر بھائی ۔ اتنا معیاری اور علمی مضمون ارسال کرنے پر دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
     
  11. مجیب منصور
    آف لائن

    مجیب منصور ناظم

    شمولیت:
    ‏13 جون 2007
    پیغامات:
    3,149
    موصول پسندیدگیاں:
    70
    ملک کا جھنڈا:
    پیاری سی تحریر پیش کی آپ نے

    برادر صاحب بلا مبالغہ ایمان کو تازہ کرنے والی پیاری سی تحریر پیش کی آپ نے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں