1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از پیاجی, ‏19 اگست 2006۔

  1. پیاجی
    آف لائن

    پیاجی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2006
    پیغامات:
    1,094
    موصول پسندیدگیاں:
    19
    معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وس

    معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    (خُلقِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لطائف کی معراج پر ایک اچھوتا اور منفرد بیان)
    تحریر: شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

    وَلَقَداٰتَینٰکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَالقُرآنِ العَظِیم۔ (الحجر: 87) وَقَالَ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ فِی مَقَامِ آخر۔ وَالنَّجمِ اِذَا ھَوَیٰ۔

    مَاضَلَّ صَاحِبُکُم وَمَاغَوٰی۔ وَمَا یَنطِقُ عَنِ الھَوٰی۔ اِن ھُوَ اِلَّا وَحیٌ یُّوحٰی۔(النجم: 1، 4)

    ’’اے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک ہم نے آپ کو سبع مثانی عطا کی اور قرآن مجید عطا فرمایا‘‘۔ دوسری آیت مبارکہ میں فرمایا:

    ’’قسم ہے ذات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب وہ معراج سے واپس آئے۔ آپ کے رہنما نہ بھٹکے اور نہ بہکے اور وہ اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتے صرف وہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کیا جاتا ہے‘‘۔

    پہلی آیت کریمہ کا معروف اور متداول معنی جو اہل علم اور اہل تفسیر بالعموم کرتے ہیں یہ ہے کہ سبعا من المثانی سے مراد سورۃ الفاتحہ ہے کیونکہ سورہ فاتحہ سات آیتوں پر مشتمل ہے اور یہ سورت ہر نماز میں اور ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ اس لئے اسے قرآن مجید میں سبعا من المثانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ فرما دیا کہ ہم نے آپ کو قرآن مجید عطا کر دیا تو سورۃ فاتحہ تو اس کے اندر خود بخود آگئی اس لئے کہ سورہ فاتحہ بھی قرآن مجید کا ہی ایک باب، ایک سورت اور ایک جز ہے، پھر اس کو قرآن مجید کے ذکر سے الگ کیوں بیان کیا گیا؟

    بلا تشبیہہ و بلا مثال اگر آپ ایک مکان خریدیں اس کے اندر ایک بڑا شاندار ہال بھی ہو اور دس بارہ کمرے بھی ہوں، تو کوئی شخص کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں نے یہ مکان بھی خریدا اور اس کے اندر کا ہال بھی لے لیا کیونکہ جب آپ نے مکان خرید لیا تو جو کچھ اس کے اندر ہے وہ بھی خود بخود اس کے اندر شامل ہوگیا۔ مکان کے ذکر کے ساتھ اس کے اندر موجود ہال کا ذکر جو اسکا ایک جز ہے اسے الگ بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، مگر جب ہم قرآن کریم کی مذکورہ آیت میں غور کرتے ہیں تو سبع مثانی (سورۃ الفاتحہ) کا ذکر بھی ہے اور ساتھ ہی قرآن مجید کا ذکر بھی موجود ہے اور لازماً اس کی کوئی حکمت ہوگی کیونکہ رب کائنات کا کوئی بھی کام بلا حکمت نہیں ہے اور اس کا فرمان ہے وَفَوقَ کُلِّ ذِی عِلمِ عَلِیم اور اللہ پاک نے ہر صاحب علم اور صاحب حکمت والے کے اوپر صاحب علم اور صاحب حکمت بنائے ہیں، اس نے علم و حکم کے جتنے خزانے جس کو چاہے عطا کئے، ہر کسی نے اس کی اپنی تعبیرات بیان کیں مگر اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کے تصدق سے جو میری سمجھ میں آیا، اس کو بیان کر رہا ہوں۔

    اللہ پاک نے پورے قرآن مجید کے عطا کرنے کے ذکر کے ساتھ سورہ فاتحہ کی سات آیات کا بھی ذکر کیا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ نہ یہ تکرار ہے اور نہ یہ خلاف حکمت کوئی بات، دونوں (قرآن اور سورہ فاتحہ) کل اور جز کو الگ سے بیان کرنے کی بنیادی حکمت پر اہل تفسیر متفق ہیں کہ قرآن مجید مکمل علوم، معارف، عقائد، دقائق، لطائف کا ایک عظیم خزانہ ہے بلکہ ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور سورہ فاتحہ اس پورے قرآن کا خلاصہ ہے جو کچھ قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے وہ سارا سورہ فاتحہ میں خلاصتاً موجود ہے۔ پس سورہ فاتحہ خلاصہ قرآن ہے۔ گویا قرآن جن حقائق اور ہدایت کی تفصیل پر مبنی ہے سورہ فاتحہ ان حقائق کا خلاصہ ہے۔ اسی طرح سورہ فاتحہ کا بیان جن حقائق کا اجمال ہے قرآن ان حقائق کی تفصیل ہے۔

    پس معنی و مفہوم یہ ہوا کہ ’’اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو تفصیل بھی عطا کی اور اجمال/ خلاصہ بھی عطا کیا‘‘۔

    تفصیل اور اجمال سے کیا مراد ہے؟

    اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس چیز کی تفصیل اور کس کا اجمال عطا کیا؟ آیئے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    قرآن اللہ کا کلام اور کلمات الہٰیہ کا مجموعہ اور تفصیل ہے۔ پس اس تناظر میں سورہ فاتحہ کلمات الہٰیہ کے خلاصہ کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ اہل علم اور اہل کلام کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ کلام، متکلم کی صفت ہوتا ہے اور اس کے کلمات اس کی صفات ہوتے ہیں۔ پس وہ قرآن جو اللہ کے کلام کی تفصیل ہے وہ اللہ کے کلام کا مجموعہ ہونے کے باعث صفات الہٰیہ کی تفصیل ہوا لہذا قرآن مجید اللہ کی صفات کی تفصیل ہوا یعنی صفات الہٰیہ کی تفصیل اور سورہ فاتحہ اس قرآن کا خلاصہ یعنی اللہ کی صفات کا اجمال ہوئی۔

    اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ پر دو طرح کے فیض جاری فرمائے ایک فیض بصورتِ قرآن عطا کیا اور دوسرا اپنا فیض سورۃ فاتحہ کی صورت میں عطا کیا۔ جب ہم نے اپنا فیض قرآن پاک کی صورت میں دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے تمہیں اپنی صفات کا تفصیلی فیض بھی عطا کیا اور سو رہ فاتحہ کی شکل میں اپنی صفات کا اجمالی فیض بھی عطا کیا، گویا فیضان الہٰی اس کے کلمات کی تفصیل کی صورت میں بشکل قرآن تھا اور اجمال صفات الہٰیہ کا فیض بشکل فاتحہ تھا۔ جو خدا کا فیض مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں تفصیلاً دیکھنا چاہے وہ اسے بشکل قرآن دیکھ لے اور جو خدا کی صفات کا فیض ذاتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اجمالاً دیکھنا چاہے تو آئینہ سورہ فاتحہ میں دیکھ لے۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو فیضان الہٰیہ کا دو طرح کا مظہر بنا دیا گیا کہ حضور کو قرآن عطا کرکے صفاتِ الہٰیہ کا تفصیلی مظہر بھی بنا دیا اور سورہ فاتحہ عطا کرکے صفاتِ الہٰیہ کا اجمالی مظہر بھی عطا کیا اور فرمایا لوگو جنہیں صفاتِ الہٰیہ کا فیضان اجمالاً دیکھنا ہو وہ بھی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیں جنہیں تفصیلاً دیکھنا ہو وہ بھی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیں کیونکہ قرآن کا فیض بھی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے اور سورہ فاتحہ کا فیض بھی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے۔

    ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق کیسا تھا؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا، فرمایا کَانَ خُلُقُہ القُرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا۔ گذشتہ سطور میں ہم یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہونے کی بناء پر اللہ کی صفت بھی ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرما دیا قرآن حضور کا اخلاق ہے اور جب ان دونوں قضیوں کو ملایا جائے تو یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ جو اللہ کی صفات ہیں درحقیقت وہ ہی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق ہیں۔ منطق کا ایک قاعدہ ہے مثلاً جب کہا جاتا ہے کہ العالم حادث ’’عالم حادث/ عارضی ہے‘‘، وکل حادث متغیر ’’اور ہر حادث متغیر ہوتا ہے‘‘، ان دونوں جملوں میں حادث مشترک ہے تو نتیجہ (تفصیل کے لئے دیکھئے ’’سورۃ الفاتحہ اور تعمیر شخصیت‘‘ ۔۔۔شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری) نکل آیا۔ فالعالم حادث ثابت ہوا کہ عالم حادث ہے۔ اسی طرح قرآن اللہ کی صفت ہے اور ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق ہے، اب جب دونوں کو مربوط کیا جائے تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جو اللہ کی صفت ہے وہی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق ہے۔

    گویا اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو ایک ایسا آئینہ بنا دیا جس میں دو جلوے نظر آتے ہیں اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آئینہ ذات کو دیکھیں تو اس کے اندر ذات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر آتی ہے مگر صفات خدا کی نظر آتی ہیں اور یہ چیز ذہن نشین رہے کہ یہ شرک نہیں ہے بلکہ عین توحید ہے کہ ذاتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درحقیقت صفاتِ الہٰیہ موجود ہیں۔ اگر یہ شرک ہوتا تو ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی یہ نہ فرماتیں۔ جب انہوں نے کہا کہ قرآن حضور کا اخلاق ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات، صفات الہٰیہ سے متصف ہے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خُلق قرآن کیسے بنا؟؟؟

    ہر ایک شے کا ایک اصلی خُلق اور تاثیر ہوتی ہے مثلاً حکیم اور طبیب لوگ جب دوائی بناتے اور مرکب تیار کرتے ہیں تو اس میں کئی مفردات ایک خاص ترکیب اور تعداد و مقدار میں ڈالتے ہیں اور پھر ان کو ایک خاص عمل سے گزارتے ہیں۔ کئی مفردات کے ملنے سے ایک مرکب بن جاتا ہے۔ اس مرکب میں شامل ہر مفرد کی خاصیت اور اثر الگ الگ ہے مگر جب ان کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو مفردات کی سب ذاتی خاصیتیں مٹ جاتی ہیں اور مرکب اپنی خاصیت اور اثر کو ایک نئے انداز سے ظاہر کرتا ہے۔ سائنس کی زبان میں یہ کیمیائی تعامل کہلاتا ہے۔

    پس ہر چیز کی ایک خاصیت اصلی اور اصل تاثیر ہوتی ہے اسی طرح ہر بشر، ہرانسان، ہر وجود کا بحیثیت انسان اپنا خُلق اصلی ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے جب انسان کو مختلف اجزائے ترکیبی سے بنایا تو ان اجزائے ترکیبی کی بنیاد پر ہر شخص، ہر ہستی، ہر وجود کو الگ الگ اخلاق دیئے۔

    حیاتِ انسانی کا کیمیائی ارتقاء:

    قرآن مجید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء کم و بیش سات مراحل سے گزر کر تکمیل پذیر ہوا اور ان مراحل کا ذکر قرآن پاک میں مختلف مقامات پر موجود ہے وہ مراحل کیا تھے؟ آیئے قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں:

    تراب: اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اولاً تراب (مٹی) سے فرمائی ارشاد فرمایا: ھُوَ الَّذِی خَلَقَکُم مِّن تُرَابِ۔ (المومن: 67) ’’وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا‘‘۔

    مآء: دوسرا مرحلہ انسان کی تخلیق میں مآء (پانی) کا ہے۔ ارشاد فرمایا۔ وَھُوَ الَّذِی خَلَقَ مِّنَ المَآئِ بَشَرًا۔ (الفرقان: 54) ’’اور وہی ہے جس نے پانی سے آدمی کو پیدا کیا‘‘۔

    طین: تراب اور مآء کے مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کی تشکیل کا تیسرا مرحلہ طین مٹی کے گارے کا ہے یعنی مٹی اور پانی کے مل جانے سے گارا وجود میں آیا۔ ارشاد فرمایا۔ ھُوَالَّذِی خَلَقَکُم مِّن طِینِ۔ (الانعام: 2) ’’اللہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا‘‘۔

    طین لازب: طین کے بعد طین لازب کا مرحلہ آیا یعنی گارے کا گاڑھا پن زیادہ ہوگیا جسے قرآن نے یوں بیان کیا۔ اِنَّا خَلَقنَا ھُم مِّن طِینٍ لَازِبِ۔ (الصافات: 11) ’’بے شک ہم نے انہیں چپکتے گارے سے بنایا‘‘۔

    صلصال من حماء مسنون: تشکیل انسان کا پانچواں کیمیائی مرحلہ صلصال من حماء مسنون ہے یعنی جب مٹی کا گارا خشک ہوا تو اس میں بو پیدا ہوگئی۔ ارشاد فرمایا: وَلَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ مِن صَلصَالٍ مِّن حَمَاٍ مَسنُون۔ (الحجر: 26) ’’اور بے شک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دھوپ اور دیگر طبیعاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہوکر) سیاہ بو دار ہوچکا تھا‘‘۔

    صلصال کالفخار: انسانی کیمیائی تشکیل میں صلصال کالفخار (ٹھیکرے کی طرح بجنے والی مٹی) کو چھٹا درجہ حاصل ہے اس مرحلہ میں اس مٹی اور گارے کو جو اس کی اصل تھا تپایا اور جلایا گیا کہ وہ خشک ہوکر پکتا بھی گیا۔ خَلَقَ الاِنسَانَ مِن صَلصَالٍ کَالفَخَّار۔ (الرحمن: 16) ’’اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا‘‘۔

    سلالہ من طین: تشکیل انسانی کا آخری کیمیائی مرحلہ سلالہ من طین ہے یعنی اس گارے کے مصفی اور خالص نچوڑ میں سے اصل جوہر چن لیا گیا۔ ارشاد فرمایا: وَلَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ مِن سُلَالۃِ مِّن طِین۔ (المومنون: 12) ’’اور بے شک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتدا) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی‘‘۔ پس انسان کی تخلیق میں ان سات مراحل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ان میں سے ہر ایک مرحلہ اور ہر ایک شے الگ الگ خصوصیات کی حامل ہے۔

    یہ سارے خواص مل کر خواصِ بشریت بنے اور ان کا اظہار انسان میں ہونے لگا۔ جب مختلف خواص اور اثرات کا اختلاط ہوا تو ان میں توازن پیدا ہوا اور ان کی ترکیب میں فرق آیا۔ اس فرق کی بناء پر کسی پیکر انسانی میں پانی کے اثرات نے دوسرے خواص و اثرات کو مغلوب کرلیا اور کسی دوسرے پیکر انسانی میں مٹی غالب آئی، اسی طرح طین، طین لازب، صلصال من حما مسنون، صلصال کالفخار اور سلالہ من طین مختلف اجساد میں ایک دوسرے کے خواص و اثرات پر کبھی غالب آتے رہے اور کبھی مغلوب ہوتے رہے۔ الغرض خاصیتیں تو ساری تھیں مگر طبائع جدا جدا ہوتی گئیں، مزاج جدا جدا بنتے گئے، صفات جدا جدا بنتی گئیں، اخلاق جدا جدا بنتے گئے، پس جس کے خَلق یعنی تخلیق میں جس شے کا غلبہ ہوتا گیا اس کا خُلق یعنی اخلاق/ مزاج اسی طرح کا تشکیل ہوتا چلا گیا۔ اس طرح مختلف اخلاق، مزاج، طبیعیتں وجود میں آتی چلی گئیں۔ پس ان سب خواص بشری اور ان سات مراحل سے اللہ پاک نے بشریت کی تشکیل کی۔ گویا بشریت محمدی میں یہ ساتوں مرحلے موجود ہیں اور ہر ہر مرحلے کے خواص بھی ہیں۔

    بشریتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر بشریتوں سے ممتاز کیسے؟

    رب کائنات نے فرمایا اے میرے حبیب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَلَقَد اٰتَینٰکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی ہم نے آپ کو سات مکرر فیض بھی دیئے یعنی تفصیلی فیض بھی دیا اور اجمالی فیض سات آیتوں کی شکل میں بدل بدل کر دیا اور وہ سات فیض عطا کرنے کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اے محبوب آپ کی بشریت دیگر انبیاء کی طرح سات مراحل پر مشتمل ہے۔ اللہ نے فرمایا اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو فیض بھی سات بدل بدل کر دیئے اس لئے کہ آپ کی بشریت کے ہر مرحلے کو اپنے فیض سے نوازا اور اس میں موجود جو ذاتی خلق اور ذاتی خواص تھے اس کو اپنے فیض سے بدل دیا۔ بشریت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جو پانی کا دخل تھا اس کی خاصیت کو رب کائنات نے اپنے فیض صفات سے بدل دیا، اسی طرح بشریت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تراب ( مٹی) کی خاصیت کو اپنے فیض صفات سے بدل دیا، علی ھذالقیاس بشریت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طین لازب، صلصال من حماء مسنون، صلصال کاالفخار کی جملہ خاصیتوں کو اپنے صفاتی فیض سے بدل دیا اور دنیا والوں کو بتا دیا کہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بشریت تو موجود رہی مگر خواص و اثرات بشریت سے پاک ہوگئی، بشریت رہی مگر رذائل بشریت سے پاک ہوگئی، یہی وجہ تھی بشریت آپ کی بھی تھی بشریت اوروں کی بھی تھی مگر اور پیکران بشریت کے پسینے سے بو آتی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیکر بشریت کے پسینے سے خوشبو آتی، اوروں کی بشریت کا سایہ پڑتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کا سایہ نہ تھا، اوروں کی بشریت میں جراثیم تھے کہ ان کی تھوک سے بیماریاں جنم لیتیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کے لعاب دہن میں جراثیم نہ تھے بلکہ برکات تھیں اور ان سے بیماریاں دور ہوتی تھیں الغرض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کے ہر جوہر، ہر مرحلے اور ہر صفت کو اللہ نے اپنی صفات سے نوازا اور ان اشیاء کے اپنے خواص اصلی مٹا دیئے اور اپنی صفات کا عکس چڑھا دیا۔

    قرآن کریم کی جملہ آیات جیسا موقع اور امر واقعہ ہوتا اور جس خلق کا اظہار ہوتا اس موقع پر ویسی ہی آیت اترتی اور وہ آیت بھی اسی قسم کی خاص صفت الہٰیہ پر مبنی ہوتی اس آیت کا جب قلب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزول ہوتا تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی خلق مٹا دیا جاتا اور خدا کی صفت کا رنگ چڑھا دیا جاتا۔ اس طرح ایک ایک موقع پر ایک ایک آیت اللہ کی ایک ایک صفت لیکر اترتی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور پر اس کا نزول ہوتا گیا اور ہر آیت جس صفت کو لیکر آتی اس کے مقابلے میں جوطبعی خلق ہوتا تھا اس کو مٹا دیا جاتا اور خدا کی صفت کا رنگ چڑھا دیا جاتا اور جب 23 برس میں قرآن مکمل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاقی معراج پا چکے تھے۔ یہ عمل بھی تکمیل پر پہنچ چکا تھا کہ فقط ذات تو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہ گئی تھی مگر ان کی صفات سب خدا کی صفات کے رنگ میں رنگی گئی تھیں۔

    مقامِ افسوس! بدقسمتی سے آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور شان کو کم کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو موضوع بحث بنا دیا گیا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ معترضین اور گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملہ اعتراضات کا تعلق ذاتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں بلکہ صفاتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جملہ صفات کا انکار کرتے ہوئے انہیں اپنے جیسا بنانے پر بضد ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ جھگڑے بھی ختم ہوسکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ صفات پر جھگڑا کرنے والے ذرا اس بات پر تو غور کریں کہ رب کائنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملہ اخلاق و صفات اور طبعی خلق کو اپنے رنگ میں اس قدر رنگ دیا ہے کہ صفات تو محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بچی ہی نہیں اب تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جملہ صفاتِ الہٰیہ کا مظہر ہیں۔ اللہ نے ذات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جملہ صفات مٹا کر اپنی چڑھا دیں اب صفات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بحث کرنا گویا خدا کی صفات پر اعتراض کرنا ہے۔ پس اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم پر اعتراض اللہ کے علم پر اعتراض ہے، حضور کی قدرت وکمال پر بحث کرنا اللہ کے کمال پر بحث ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن پر بحث کرنا اللہ کے محاسن پر بحث کے مترادف ہے۔ جب پیکرِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود ہر ہر چیز کا ذاتی خلق مٹایا، اللہ رب العزت نے اپنی صفت کا رنگ دیا اور یہ عمل مکمل ہوا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق خدا کی صفات بن گیا تب اللہ نے اعلان کر دیا:

    اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیم۔ ’’میرے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ خلق عظیم پر فائز ہیں‘‘۔ وہ خلق عظیم پر اس لئے فائز ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق اللہ کی صفات ہیں۔ بشریت کی تشکیل کے سات مرحلے اور ہرہر مرحلے کو فیض ملا اور ہر ہر آیت نے خلق بدلا، خدا کی صفت کا خلق چڑھا دیا، یہی عمل معراج کی رات کو بھی ہوا۔ بشری مراحل کے فیض یاب کرنے کے بعد شب معراج لطائفِ مصطفٰی کو بھی فیض یاب کیا۔

    شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معراج یہ بھی تھا کہ سات لطائف میں سے ہر ہر لطیفہ کو معراج عطا کیا اور شب معراج ہر ہر لطیفہ نے فیض الہٰی پایا، لطیفہ نفس، لطیفہ قلب، لطیفہ روح، لطیفہ سِر، لطیفہ سرالسر، لطیفہ خفی اور لطیفہ اخفی میں سے ہر ایک فیض یاب ہوا۔ ولقد اتینک سبعا من المثانی۔ یعنی معراج کی رات ساتوں لطائف کو معراج ہوا۔

    لطائفِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراج۔۔۔ روحانی تفسیر:

    قرآن پاک میں ہے: وَالنَّجمِ اِذَا ھَوٰی مَاضَلَّ صَاحِبُکم وَمَاغَوٰی وَمَا یَنطِقُ عَنِ الھَوٰی اِن ھُوَ اِلَّا وَحیٌ یُّوحٰی۔

    اس آیت میں نجم سے مراد نفس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفس اقدس کی قسم کھائی جا رہی ہے قسم ہے نفس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب وہ نفسانیت سے فناء ہوا۔ ھوی کا مطلب ہے محل ظہور سے ہٹنا، غروب ہونا بھی چونکہ محل ظہور سے ہٹنا ہوتا ہے اس لئے اسے فناء بھی کہا جاتا ہے۔ نفس کا مطلع، اس کا محل ظہور نفسانیت ہے اس کی صفات اور رذائل ہیں، نفوس بھی سات ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر نفس کو بھی فیض ملا گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتوں نفسوں کو مکرر بار بار فیض ملا، نفس امارہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسلمان ہوگیا تھا اور وہ فیض الہٰی تھا، پھر نفس لوامۃ کی خاصیت بھی فیضیاب ہوئیں، ملھمہ کو بھی فیض ملا، مطمئنہ کو بھی فیض ملا، راضیہ کو بھی فیض ملا، مرضیہ کو بھی فیض ملا، کاملہ کو بھی فیض ملا، فرمایا قسم ہے آپ کے نفس مبارک کی جب وہ فناء ہوگیا، اب فناء ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نفس رہا ہی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے نفس کو مسلمان کرلیا نفس تو موجود ہے مگر اماریت کے حال پر موجود نہیں رہا، وہ بری خصلتوں کے حال پر موجود نہیں رہا، اس کو میں نے تابع اور مطیع بنا دیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفس بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع رہا تو فرمایا والنجم اذا ھوی قسم ہے آپ کے نفس اطہر کی جب وہ اپنی صفات سے فناء ہوگیا، اپنے محل ظہور سے زائل ہوا، غروب ہوا یعنی اپنی صفات نفسانیت سے فناء ہوگیا گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفس مبارک تو رہا مگر نفسانیت نہ رہی، وہ لوگ جو بشر اور بشریت پر جھگڑا کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ آپ بشر تو رہے مگر بشریت نہ رہی یعنی اس کے جو منفی خصائل تھے اس سے پاک ہوگئے۔

    یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سورج کی دھوپ میں چلتے تو ان کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا اس لئے کہ جس کے پار روشنی گزر جائے وہ چیز شفاف اور لطیف ہوتی ہے اس کا سایہ نہیں ہوتا اور جو چیز لطیف نہ ہو ثقیل، کثیف ہو اس میں سے روشنی نہیں گزرتی، ہمارے وجود کثیف ہیں، جب سورج کی دھوپ ہم پر پڑتی ہے ہمارے کثیف وجودوں میں سے نہیں نکل سکتی اس لئے سایہ پڑتا ہے۔ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر جسم اطہر سورج کی روشنی سے بھی لطیف تر تھا اس پر جب روشنی پڑتی تھی، جسم اطہر لطیف ہونے کے باعث روشنی آرپار گزر جاتی تھی۔ وجود بشری تھا مگر سایہ نہ پڑتا کیونکہ روشنی سے بھی زیادہ لطیف تھا گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت ہماری روشنیوں سے بھی لطیف تر، سبعا من المثانی کے فیوض کی بدولت خواص بدل گئے، اگر وہ اپنے خواص رکھتے تو سب کچھ ہوتا مگر چونکہ خواص بدل گئے رنگ بدل گئے رنگ اور چڑھ گیا اس لئے تقاضے بھی بدل گئے۔ خدا قسم کھا رہا ہے اذا ھوی کہ جو نفس رہا مگر نفسانیت سے فناء ہوگیا، نفس رہا مگر نفسانیت نہ رہی۔

    ماضل صاحبکم وما غوی آپ کے صاحب، آپ کے رہبر آپ کے رہنما، آپ کے محبوب نہ بھٹکے اور نہ بہکے۔ بھٹکے بھی نہیں۔۔۔ کیسے؟؟

    وقوف مع النفس رہا یعنی نفس ساتھ تھا مگر چونکہ نفسانیت سے فناء ہوگیا تھا اس لئے نفس رکھتے ہوئے بھی کبھی نفس کے اثر میں بھٹک نہ سکے، نفس ہوتے ہوئے بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھٹکانے کے قابل نہ رہا اس لئے کبھی بھٹک نہ سکے۔ وما غوی اور نہ کبھی بہکے۔۔۔کیسے؟

    بہکنا چھوٹی چیز ہے جبکہ بھٹکنا بڑی چیز ہے۔ بہکنا، ہلکے سے میلان سے بھی ہوتا ہے اور یہ قلب کی خاصیت ہے کہ بندہ ادھر جھک گیا ادھر جھک گیا اور جبکہ ن
     
  2. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    آمین ثم آمین!

    بہت بہت شکریہ پیا جی! آپ کی تحریروں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو مِلتا ہے۔ اللہ آپ کو جزا دے۔
     
  3. سموکر
    آف لائن

    سموکر ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    859
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    اتنی اچھی تحریر پر آپ کا شکریہ
     
  4. لاڈلا
    آف لائن

    لاڈلا ممبر

    شمولیت:
    ‏5 نومبر 2006
    پیغامات:
    15
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    خوبصورت

    اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام معراج کی صحیح اور حقیقی معرفت عطا فرمائے! آمین​
     
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,577
    موصول پسندیدگیاں:
    16,886
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    [​IMG]
     
  6. ایس کاشف
    آف لائن

    ایس کاشف ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2011
    پیغامات:
    116
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    بہت خوب شکریہ
     
  7. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    بہت خوب جزاک اللہ خیر
     

اس صفحے کو مشتہر کریں