1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مزاح نامہ

'قہقہے، ہنسی اور مسکراہٹیں' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالجبار, ‏11 جون 2006۔

  1. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    85,786
    موصول پسندیدگیاں:
    19,524
    ملک کا جھنڈا:
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    57,410
    موصول پسندیدگیاں:
    10,200
    ملک کا جھنڈا:
    قلّاں ؟؟؟
    پاکستانی55 اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    21,501
    موصول پسندیدگیاں:
    6,893
    ملک کا جھنڈا:
    مراد "قل شریف" :)
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    ختم سوئم
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    مغل بادشاہ کا دربار لگا ہے کہ اچانک.....................

    ایک لڑکی بھاگتی ہوئی آئی اور بولی
    جہاں پناں جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں
    شہزادہ سلیم: عرض کیا جائے
    لڑکی: جہاں پناں کالج میں ایک لڑکا لائن مارتا ہے
    شہزادہ سلیم : اس کی یہ ہمت ہمارے ہوتے ہوئے وہ لائن مارتا ہے
    لڑکی: کیا مطلب آپ کا؟
    شہزادہ سلیم: ہمارا مطلب ہے کہ اس کی یہ مجال کہ لائن مارتا ہے کہاں لائن مارتا ہے
    لڑکی: وہ میری کتاب پر لائن مارتا ہے کبھی پین سے، کبھی پینسل سے، کبھی مارکر سے
    شہزادہ سلیم : shocked
    لڑکی:Rocks

    ابے یار کس قسم کی لڑکیاں آ رہی ہیں یہ دربار میں باہر نکالو اس کو
    حسن رضا، نعیم اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ریختہ
    آف لائن

    ریختہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 جولائی 2014
    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    ملک کا جھنڈا:
    حسن پر اعتبار حد کر دی
    آپ نے بھی فگارؔ حد کر دی
  7. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    ایک صاحب صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھتے تھے..گندگی کو اپنے قریب بھٹکنے نہیں دیتے تھے..لوگ بھی ان کی اس صاف صفائی کے معترف تھے.. آہستہ آہستہ وہ خود کو دنیا کا پاک ترین آدمی سمجھنے لگے..خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک روز بیت الخلا میں تھوڑی سی گندگی اس کے ہاتھ کی انگلی پر لگی..بہت پریشان ہوئے..لوگوں نے سمجھایا کہ بھئی صابن سے ہاتھ دھولو تو ہاتھ پاک ہوجائے گا..مگر وہ بضد تھے کہ اب یہ انگلی ناپاک ہے اسے کاٹنا چاہئے..اس ارادے پر عمل درامد کرنے کیلئے اس نے ایک لوہار سے رجوع کیا کہ اس کی انگلی کاٹ دے.. لوہار نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ انگلی مت کاٹیں مگر ان پر پاکیزکی کا دھن سوار تھا کہ اب اس ناپاک کو خود سے الگ کئے بغیر نہیں جائے گا.. بالآخر لوہار نے کہا ٹھیک ہے میں آپ کی انگلی کاٹ دوں گا مگر اس شرط پر کہ کاٹنے سے پہلے ایک ہتھوڑا لگاؤں گا..انہوں نے یہ شرط منظور کیا اور لوہار سامان لے کر آگیا.. لوہار نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک سنگ پر رکھا اور زور سے ایک ہتھوڑا اس انگلی پر دے مار.. صاحب کی چیخ نکل گئی اور جھٹ سے انگلی اپنے منہ میں ڈال دیا.. لوہار نے مسکرا کر پوچھا " کیوں حضرت! اب تو زبان بھی ناپاک ہوگئی آپ کہیں تو اسے بھی کاٹ دوں"؟
    نعیم اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    اس دنیا میں سب سے عظیم قربانیاں انسان نے خاوند بننے کے لیے دیں...
    جتنے عاشقوں نے جانیں دیں، بادشاہوں اور سامراہوں سے ٹکریں لیں، تاج ٹھکرائے، دودھ کی نہریں نکالیں صرف اور صرف خاوند بننے کے لیے.....
    P:p:
    (ڈاکٹر یونس بٹ)
    حسن رضا، سعدیہ اور نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,313
    موصول پسندیدگیاں:
    336
    ملک کا جھنڈا:
    ہااہاہاہہاہاہاہاہاہہاہااہاہایاہہاییہیہہہییہہییہیہہیہیہیہیہیہیہیہیہیہی
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    57,410
    موصول پسندیدگیاں:
    10,200
    ملک کا جھنڈا:
    حالانکہ ان سب "بھولوں" کو یہ نہیں پتہ کہ " اصل قربانیاں " خاوند بننے کے بعد شروع ہوتی ہیں :takar:
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    ہرروز کے مرنے سے بہتر ایک دن کا مرنا ہے
  12. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    124,515
    موصول پسندیدگیاں:
    13,617
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
    تحریر: حافظ مظفر محسن طنزو مزاح

    واہ ۔۔۔ میاں نمونہ
    اندر مٹی باہر چونا
    [​IMG]جب پہلی بار انسان کا تربوز کے پاس سے گزر ہوا ہو گا تو اس نے خوف کے مارے ۔۔۔ تر ۔۔۔ تا تا ۔۔۔ تا تا ۔۔۔تر ۔۔۔ بوز کہہ ڈالا ہو گایعنی اس تربوز کو بڑے بلکہ بہت بڑے سائز کی ’’تر‘‘ سمجھ لیا ہو گا مگر جب اس نے اس دھوکے باز پھل کو کھول کر دیکھا ہو گا ۔۔۔ انگلیاں آپس میں میٹھے سے چپک جانے کے بعد چاٹی ہوں گی ۔۔۔ تو وہ پھر تر تر ۔۔۔ تا تا ۔۔۔ تر تر ۔۔۔ بوز کہہ کر اچھل پڑا ہو گا ۔۔۔ گاڑھا سبز اور اندر سے لال سرخ ۔۔۔ کیا کہنے اس ذائقے دار ۔۔۔ جو سو فیصد پانی ہے ۔۔۔ آپ چبانے کی کوشش کریں وہ منہ میں بکھر کر اِدھر اُدھر چلا جائے گا اور بالکل قابو میں نہیں آئے گا ۔۔۔ آپ نے آجکل ٹی وی چینلز پر کئی بڑے بڑے ’’ہدوانے‘‘ بھی آپس میں الجھتے ہوئے دیکھے ہوں گے ۔۔۔ وہ بھی اک دوسرے کے ہاتھ نہیں آتے اِدھر اُدھر نکل جاتے ہیں ۔۔۔ آپ کو یقیناًپتہ ہو گا ۔۔۔ کہ پنجابی میں تربوز کو ’’ہدوانہ‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔ پچھلے دنوں سعد رفیق بے چارے کی بھی خاں صاحب کے ہاتھوں خوب شامت آئی رہی ۔۔۔ خان صاحب کی دیکھا دیکھی اب گھروں میں ٹی وی دیکھتے بچوں کی خوب حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ وہ بھی آپس میں اِنہی لائنوں پر لڑتے ہیں، الجھتے ہیں اور بور نہیں ہوتے، بُرا نہیں مناتے، انجوائے کرتے ہیں ’’اؤئے‘‘ کہنے پر شرمندہ نہیں ہوتے ’’اؤئے‘‘ کہلا کر بھی شرمندہ نہیں ہوتے ۔۔۔ ’’دِس اِز پارٹ آف دی گیم ۔۔۔ بوائے‘‘ ۔۔۔ آجکل کے انسانوں کی طرح تربوز مزید چکر بازی بھی جب چاہے کر جاتا ہے ۔۔۔ آپ بڑے اعتماد کے ساتھ دس بارہ ۔۔۔ یا پندرہ بیس کلو کا تربوز خریدیں ۔۔۔ اتنا وزن دار تربوز محبت میں اٹھائیں ۔۔۔ شدید گرمی میں اسے کھا جانے کے تصور سے خوش ہوں ۔۔۔ ہونٹوں پہ زبان پھیریں اور گھر جا کے بڑے اہتمام کے ساتھ کاٹیں ۔۔۔ جیسے اچانک لائٹ بند ہو جانے پر ۔۔۔ غیر ارادی طور پر بچوں کے منہ سے نکلتا ہے ۔۔۔ ’’ہاؤ‘‘ ۔۔۔ ایسے ہی کچا اور اندر سے لال کی بجائے سفید تربوز دیکھ کے سب کے منہ سے نکلتا ہے ۔۔۔ ’’جاؤ‘‘ یعنی اپنا اپنا جاؤ ۔۔۔ کام کرو ۔۔۔ یہ تو تربوز کی بجائے ۔۔۔ ’’کدو‘‘ نکل آیا ہے ۔۔۔ لیکن اس پندرہ بیس کلو کے کدو کو آپ بطورِ سالن پکا نہیں سکتے ۔۔۔ ڈاکٹر مومن لطیفؔ کہتے ہیں کہ ہم دیر تک اپنے بچپن میں تربوز کو ہاتھی کا انڈہ سمجھتے رہے اور حیرت زدہ ہوتے رہے ۔۔۔
    ان انسانی رشتوں کی طرح جو سیدھے چلتے چلتے ۔۔۔ اچانک راستہ بدل لیتے ہیں ۔۔۔ منہ بھی موڑ لیتے ہیں ۔۔۔ سارے بندھن توڑ لیتے ہیں اور پھر پہچانتے بھی نہیں ۔۔۔ غلطی کر کے اپنی غلطی مانتے بھی نہیں ۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ مرزا غالب نے اس دھوکہ باز پھل کی شان میں ایک بھی شعر نہیں لکھا ۔۔۔ شعر تو ویسے انہوں نے پسندیدہ پھل آم کے لئے بھی شاید نہیں لکھا ۔۔۔ جس کے مرزا غالب عاشق تھے ۔۔۔ مرزا غالب کے بعد دیر تک آم بھی اداس پھرتا رہا ۔۔۔ ایسا قدر دان کہاں ۔۔۔ ؟
    آج دوبئی سے خالد بھُٹہ صاحب آئے تھے ۔۔۔ اُن کے سامنے بھی تربوز اور آم کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی ۔۔۔ بولے ۔۔۔ یارو، تربوز سے یاد آیا ۔۔۔ ایک دفعہ آپ نے چائنہ سے گنجے پن کے علاج کے لیے لوشن منگوایا تھا ۔۔۔ جس کے ساتھ ہدایات جاری کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ یہ لوشن انگلی سے سر پر مت لگائیں ورنہ انگلی پر بھی بال اُگ آئیں گے ۔۔۔ ایسے ہی ہماری دوبئی والی بھابھی صاحبہ بھی سارا دن اے۔سی چلا کے سوئی رہتی ہیں ۔۔۔ بھابھی بھیاء اور ان کی اکلوتی اولاد یعنی ایک گیارہ سال کا بچہ، موٹاپے نے زندگی برباد کر دی ہے کوئی دوا نہیں ایجاد ہوئی ۔۔۔ ایک مرغا (روسٹ) منگواتے ہیں ۔۔۔ مرغا بھی ذلیل ہوتا اور کھانے والے بھی ۔۔۔ اس قدر آرام دہ زندگی ۔۔۔ ’’پھول کر کپا ہو گئے ہیں ۔۔۔ سبز رنگ کے کپڑے پہن لیں تو ۔۔۔ مت پوچھےئے ۔۔۔ میں سمجھ گیا ۔۔۔ بات پھلوں کی ہو رہی تھی کہاں آم اور کہاں بے چارہ تربوز ۔۔۔ کہاں دوبئی میں رہنے والی نہایت خوشحال زندگی گزارنے والی بہت بڑی بڑی عورتیں اور کہاں ہمارے ہاں کی بیویاں ۔۔۔ دن بھر محنت ۔۔۔ خاوند بچوں کی خوب خدمت لیکن ۔۔۔ خاوند کی جھاڑیں جھڑکیاں اور ضدی پن ۔۔۔ مگر جدید تعلیم کے حصول نے موبائل فون کی آمد ۔۔۔ انٹرنیٹ کی طاقت سے یہاں بھی نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے ۔۔۔ آپ بازار میں جائیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کے لیے خواتین خریداری کرتی دکھائی دیں گی ۔۔۔ گاڑیاں چلاتی عورتیں اب شہروں میں آپ کو عام ملیں گی ۔۔۔ اچھی تبدیلی ہے ۔۔۔ بہر حال ابھی مزید تبدیلی کی گنجائش ہے ۔۔۔ ’’عورت راج‘‘ کی طرف خاصی تندی سے چلتا جا رہا ہے ہمارا معاشرہ ۔۔۔ مرد اگر اِسی طرح تھوڑی دیر مزید سوئے رہے تو پانی سر سے گزر جائے گا ۔۔۔ ویسے جہاں جہاں پانی سروں سے گزر چکا ہے وہاں کی صورتحال میں نے اپنی اس نظم میں بیان کی ہے ۔۔۔ آپ بھی ملاحظہ کریں اور خود کو کسی جگہ فٹ کرنے کی کوشش کریں مزہ آ جائے گا ۔۔۔ ؂
    دو دھاری تلوار سمجھ کر بیوی کو
    پھولوں کی مہکار سمجھ کر بیوی کو
    سونے جیسا منڈا اپنا دے ڈالا
    شہر کا بڑا سونار سمجھ کر بیوی کو
    ایسے لوگ سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں
    ڈالر پاؤنڈ دینار سمجھ کر بیوی کو
    جھکا رہا بیوی کے آگے جھکا رہا
    ہائے ’’قطب مینار‘‘ سمجھ کر بیوی کو
    حکم بجا لانے میں ہر دم جلدی کی
    ماسٹر کانٹے دار سمجھ کر بیوی کو
    بات بات پر وہ ڈانٹے اور ہم چپ
    حاکم ، زمیندار سمجھ کر بیوی کو
    در پردہ ہے نئی کہانی بھی سن لو
    سب رکھتے ہیں ہار سمجھ کر بیوی کو
    کچھ کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں محسن
    ایک سو چار بخار سمجھ کر بیوی کو
    بات چلی تھی تربوز سے آموں سے اور پہنچ گئی بیوی کے کڑوے روّیے تک تلخ باتوں تک ۔۔۔ لیکن سچ کو ہم چھپا نہیں سکتے ۔۔۔ گرمیوں میں تربوز بھی کھانا ہے اور آموں سے بھی لطف اندوز ہونا ہے ۔۔۔ بدلتے زمانے میں اب یہ نہیں ہو سکتا کہ زندگی کی گاڑی کے دو پہیے مختلف سائز کے ہوں ۔۔۔ ایک ٹرک کا پہیہ دوسری طرف بے بی سائیکل کا پہیہ ۔۔۔ اب تو ایک ہی سائز کے پہیے ہوں تو گاڑی چلے گی کیونکہ اب گاڑی گاؤں کی پگڈنڈی پر نہیں لاہور کی مال روڈ پر چلتی ہے ۔۔۔ بیوی بھی جدید دور کے ٹی۔وی چینل دیکھتی ہے اور خاوند بھی (ذرا زیادہ غور سے دیکھتا ہے) ۔۔۔
    ایک 85 سالہ شخص نے اپنے ایک دوست کو شادی کی 60 ویں سالگرہ پر بلایا ۔۔۔ وہ بار بار بیوی کو کچن سے ’’جان‘‘ یا ’’ڈارلنگ‘‘ کہہ کر بلاتا اور کچھ نہ کچھ منگواتا ۔۔۔
    دوست اس محبت بھری ادا سے بہت متاثر ہوا اور کہے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔ بولا ۔۔۔ ’’دوست! بڑی حیرت کی بات ہے، شادی کو ساٹھ سال گزرنے کے باوجود تم اپنی بیوی کو اتنے محبت بھرے ناموں سے بلاتے ہو ۔۔۔ ؟‘‘
    شوہر نے راز دارانہ انداز میں جواب دیا ۔۔۔
    ’’یار ۔۔۔ کیا بتاؤں ۔۔۔ دس سال ہوئے میں بیوی کا نام بھول چکا ہوں ۔۔۔ ؟‘‘

اس صفحے کو مشتہر کریں