1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

مریخ کے باسی

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏30 مئی 2017۔

  1. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    233
    موصول پسندیدگیاں:
    188
    ملک کا جھنڈا:
    مریخ کے باسی


    upload_2017-5-30_12-4-31.jpeg

    اٹھارویں اور اُنیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہونے والا جدید سائنس کا سفر کئی عشروں کے بعد اُنیسویں صدی کے وسط میں اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ خچروں، گدھوں، اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرنے والوں کو “مستقبل کے گھوڑے” میسر آ گئے۔

    پہیہ تو خیر کافی صدیوں پہلے ہی بنا لیا گیا تھا، شائد سمیری تہذیب یا کہ پھر اُس سے بھی بہت پہلے، لیکن اس پہیہ گاڑی کو انجن میسر نہ تھا۔

    اب انجن بنا لیا گیا گھوڑا گاڑی میں گھوڑے کی جگہ انجن فٹ کر کے ایک نئی جدت دنیا کے سامنے پیش کی گئی جسے بہت سراہا گیا۔

    سمندروں میں تیرتے جہاز تو پہلے بھی موجود تھے لیکن اب انجن کی آمد کے بعد چپوؤں کی جگہ انجن نے سنبھال لی ۔ انسان بہتر سے بہترین کی جانب پیش قدمی کئے چلا جا رہا تھا۔

    ہواؤں میں اُڑنے کا تو صدیوں سے خواہش مند تھا ہی، بارہ سو سال پہلے ایک مسلم سائنسدان عباس ابن فرناس پہلا انسان تھا، جس نے غرناطہ کے ایک مینار سے پرواز کی لیکن اُس کے گیارہ سو سال بعد امریکہ کے رائٹ برادران، اورویل اور ولبر رائیٹ ، نے اس خواب کو تعبیر دی۔


    رائٹ برادران مشکل سے تین چار جماعت تک پڑھے ہوئے تھے اور جو اپنے گھرانے کا گزر بسر سائیکلیں فروخت کر کے کیا کرتے تھے۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ عقل کسی کی میراث نہیں ہوتی۔ اورویل پرندوں کی مانند ہواؤں میں اُڑنے کا شوقین تھا وہ خوابوں میں خود کو پرندوں کی مانند اُڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ خواب اُنہی کے پورے ہوتے ہیں جو خواب دیکھنے کے بعد اُن کو عملی جامہ پہنانے کی جستجو میں جُت جاتے ہیں۔ اورویل نے سب سے پہلے اپنے بھائی ولبر رائیٹ کو اپنا ہمنوا بنایا اور پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اپنے دن رات ایک کر دیے۔ پھر وہ گھڑی آن پہنچی جب دسمبر 1903ء میں ولبر رائیٹ نے اپنے بھائی سے ٹاس جیت کر چند سیکنڈوں کی پہلی فلائٹ لی اور ایک نئی تاریخ رقم کر دی ۔


    یوں ہواؤں کے دوش پر سفر کی صدیوں پرانی انسانی خواہش حقیقت کا روپ دھار گئی۔ ہوائی جہاز بن گئے، فاصلے سمٹ گئے، دوریاں قربتوں میں بدل گئیں۔ جب تمام فاصلے سمٹ گئے تو پھر چندا ماموں دور کھڑے کیوں مسکرا تے رہتے؟

    اب انسانی دل ودماغ میں چاند کو مسخر کر لینے کے خواب مچلنے لگے۔ راکٹ انڈسٹری میں بھی صدیوں سے کام ہوتا چلا آیا ہے۔ چین کے سونگ خاندان کے حکمرانوں نے اپنے ادوار میں راکٹ سازی میں بے انتہا کام کئے اور لال تیر کے نام سے ایک راکٹ تیر بنایا جسے 1230ء یا 1232ء میں ایک جنگ میں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا لیکن جدید راکٹ انڈسٹری کو اصل جدت سترہویں صدی عیسوی میں حیدر علی والی میسور اور اُن کے بیٹے سلطان فتح علی المعروف ٹیپو سلطان کے دور میں ملی۔ ٹیپو سلطان ہی اصل میں آج کے جدید راکٹ کے بانی ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد انگریز فوج نے اس جدید راکٹ پر ریسرچ کی۔ انگریز آرمی کے ایک آفیسر وول وچ کے بیٹے ولیم کون گریو نے آرسنل لیبارٹری کے اندر “میسورین راکٹ” پر ریسرچ کے بعد اسے مزید جدت دی۔ اس جدید ڈیزائن کے حامل راکٹ کو جو 14 سے 15 کلو گرام وار ہیڈ کا حامل دھماکا خیز لے جانے کی اہلیت رکھتا تھا، انگریز آرمی نے مشہور زمانہ فرانسیسی فاتح نپولین بونا پارٹ کے خلاف پہلی مرتبہ 1812ء میں استعمال کیا۔


    پھر راکٹ انڈسٹری پر مسلسل کام ہوتا چلا گیا، انگریز، روسی اور جرمن سائنسدانوں نے اس میں بے پناہ مہارت حاصل کیں لیکن جرمن اپنے ادوار میں اس شعبے میں بہت آگے نکل گئے۔ جن کے ایک سائنسدان ورنہر وون براؤن جو کہ انٹون ڈیکسلر اور ایڈولف ہٹلر کی نازی پارٹی کے ایک اہم رکن تصور کئے جاتے تھے، نے جرمنوں کے لئے انتہائی تباہ کن راکٹ بنائے لیکن کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ورنہر وون براؤن ناراض ہو کر اپنے پندرہ سے بیس ساتھیوں کے ساتھ امریکہ چلے گئے جہاں بعد میں مزید سینکڑوں کی تعداد میں جرمن انجینئرز اُن کے ساتھ اکٹھے ہوئے اور امریکی صدر ٹرومین کی اجازت سے اگست 1946ء میں سرد جنگ کے دوران روس پر برتری حاصل کرنے کے لئے جدید بلاسٹک میزائل کی بنیاد رکھی ۔


    ایروسپیس ٹیکنالوجی ناسا میں پہلے ہی اپنا کام کر رہی تھی لیکن ورنہر وون براؤن کی جدید میزائل ٹیکنالوجی نے اس انڈسٹری کو نئی جہت عطا کی۔ جنہوں نے امریکی اسپیس مشن کے لئے”جیوپیٹرز” سیریز کے جدید میزائل تخلیق کئے اور “جونو ون” بنایا جس کے ذریعے ناسا نے 1958ء میں پہلی مرتبہ سیٹیلائٹ لانچ کیا۔ بعد میں ورنہر وون براؤن نے ناسا کے لئے”سیٹرن سیریز” کے راکٹ لانچ کئے ۔ 1963ء کی شروعات میں ناسا نے پروفیسر ورنہر وون براؤن کی سربراہی میں اپالو مشن تشکیل دیا اور پھر وہ گھڑی آ گئی جب حضرت انسان نے چاند پر اپنا قدم رنجہ فرمایا اور یوں اسے بھی مسخر کر لیا۔


    اب انسان مریخ کے فراق میں ہے۔ حضرت انسان نے کھربوں ڈالر خرچ کر دیے اس ترقی کو حاصل کرنے کی خاطر، اب کھربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں مریخ کو تسخیر کر لینے کے لئے، وہاں زندگی کے آثار معلوم کرنے کے لئے، لیکن شائد دنیا کے تمام سائنسدان اس حقیقت سے واقف ہی نہیں کہ مریخ سیارے کا ایک حصہ ہماری آج کی دنیا میں ہی موجود ہے۔ جہاں نہ پانی ہے، نہ گیس ، نہ بجلی ، مٹی کے ویران ٹیلے ایک دوسرے کا منہ چڑاتے نظر آتے ہیں لیکن ہمارے حکمران اُن سے دس گناہ زیادہ ذہین ثابت ہوئے۔ سب کچھ لپیٹ کر، لوٹ کر، بغیر کچھ بھی خرچ کئے دنیا کے سامنے مریخ کا منظر نامہ پیش کر دیا اور پھر یقین کریں کہ دنیا کے اس حصے میں زندگی کے آثار بھی جابجا ملیں گے۔ کہاں تلاش کر رہے ہیں یہ لوگ مریخ پر زندگی؟ آئیں یہاں موجود ہیں مریخ کے باسی۔ اگر آپ کو یقین نہیں آ رہا تو آئیں مجھ سے ملیں، میں اس اس مریخ کا ایک باسی ہوں۔

    تحریر: خالد ایم خان

    30 مئی 2017

اس صفحے کو مشتہر کریں